سیکولرزم اور اسلام: چندبنیادی سوالات

نیازسواتی
niaz.swati.71@gmail.com
سیکولرزم اور اسلام: چندبنیادی سوالات
جدیددور میں نت نئے نظریات مختلف رنگوںسامنے آرہے ہیں۔یہ نیرنگی بسا اوقات نگاہوں کو خیرہ کردیتی ہے مگریہ جدید نظریات آپس میں خواہ کتنا بھی اختلاف رکھتے ہوں ان کے ڈانڈے بلاواسطہ یا بالواسطہ سیکولرزم سے ہی جا ملتے ہیں ۔ سرمایہ داری،کمیونزم ، قوم پرستی اور فاشزم نیز تمام جدید و قدیم پردوں میں نہاں تمام تر ازم اسی بنیادی نظریے کے مرہون ِمنت ہیں ۔اس نظریے کے بنیادی نکات مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ ریاست سمیت تمام معاشرتی اداروں کو مذہب سے لاتعلق ہونا چاہیے ۔ (۱)
۲۔ انسانوں کے آپس میں تعلقات کی تنظیم کس طرح ہو،انسانوں کے باہمی تعلقات اجتماعی سطح پر کس طرح تشکیل دیے جائیں مذہب کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے ۔
۳۔ مذہب کواس بات سے بھی لاتعلق رہنا چاہیے کہ معاشرتی اداروں کی باہمی ترتیب (HIRARCHI) کیا ہوگی۔

اگر ان تمام اصولوں کو مان لیا جائے تو مذہب کسی فرد کا نجی معاملہ رہ جاتا ہے ۔ اس طرح ہماری زندگی دوبڑے حصوں میںتقسیم ہو جا تی ہے ۔ایک نجی زندگی(Private Life) اور دوسری اجتماعی زندگی(Public Life) ۔نجی زندگی میں ہر فرد کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے کری۔ چاہے تو کوئی جوا کھیلے ،زنا کرے یا اپنے رب کی عبادت کرے یہ اس کا ذاتی معاملہ ہوگا۔اس زندگی میں انسان کی ہر قسم کی سرگرمی کو یکساں سمجھا جائے گا۔اس کے مقابلے میں پبلک لائف سے مراد انسان کی زندگی کا وہ حصہ ہے جو وہ دوسروں کے ساتھ گزارتا ہے ۔ واضح رہے کہ ایک خاندان کے افراد کی باہمی زندگی بھی پبلک لائف سمجھی جائے گی کیونکہ ان کے تعلقات کو منضبط کرنے کے لیے جس قانون کی ضرورت پڑے گی وہ تو پبلک لاء ہوگالہٰذا میاں بیوی ،والدین اور اولادکے تعلقات بھی پبلک لائف کا ہی حصہ قرار پائیں گی۔
سیکولرزم سے وابستہ افراد کے خیال میں فردکی ذاتی یا گھریلو زندگی مذہبی معاشرے میں پابندیوں کا شکار ہوتی ہے مگر سیکولر معاشروں میںفرد کی نجی زندگی پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی ۔یہ بات سراسر خلافِ واقعہ ہے ۔کسی بھی انسانی معاشرے میں ایسے گھر کی تعمیرکی اجازت نہیں دی جاتی جس میں ایک منزل سے اترکردوسری منزل پرجانے کے لیے سیڑھیوں کے ساتھ ساتھ گڑھے بھی رکھے جائیں تاکہ گھر کا ہر فرد اپنی مرضی کے حساب سے چاہے تو سیڑھیاں استعمال کرلے اور چاہے تو گڑھے کے ذریعے کودکر نچلی منزلوں کی طرف رواں دواں ہو
جا ئے اور نہ ہی بجلی کے بورڈ کے ساتھ کرنٹ کے تارکھلے چھوڑے جاتے ہیں کہ افراد خانہ میں سے کوئی چاہے تو بجلی کا بٹن دباکر پنکھا چلا لے یا چاہے تو بجلی کے کھلے تاروں سے کھیل کر تازہ تازہ کرنٹ کے مزے اڑائے ۔ دنیا کی کوئی معاشرت کسی فرد کو اپنے گھر میں کچرا ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی ، اس لیے کہ معاشرے میں فرد کی ذاتی زندگی ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی ہوتی ہے ۔افراد کی نجی زندگی ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہی۔
ایسا شخص جسے کسی قسم کی پابندی قبول نہ ہو جنگل میں جاکر رہنا چاہیے ۔معاشرہ انسانی تعلقات کا نام ہے جو برابرایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے اثر قبول بھی کرتے ہیں ۔سیکولر معاشروں میں بھی خودکشی پرقانونی پابندی عائد ہوتی ہی۔ اگر نجی معاملات فرد کی مرضی پر منحصر ہیں تو خودکشی کو تو سرے سے ممنوع ہونا ہی نہیںہونابلکہ ایسے زبردست عمل کو تو سراہنا چاہیے کہ اس طرح ایک انسان نے اپنی ذاتی آزادی کو صحیح معنوں میں استعمال کرکے تمام غموں سے نجات پالیتا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مذہبی و سیکولر کسی معاشرے میں بھی خودکشی کی اجازت نہیں دی جاتی۔آج پوری سیکولر دنیا میں واحد سوئٹزر لینڈایک ایسا ملک ہے جہاں خودکشی کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ ملکی و غیر ملکی عوام کو خود کشی میں مدددینے حتیٰ کہ اپنی چاردیواری میں خودکشی کروانے کے باقاعدہ اسپتال موجود ہیں۔(1)
دوسری بات یہ ہے کہ یہ خیال عین اسلام کی ضدہے کہ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہے ۔ اسلام نے مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار نہیں دیا ۔مسلمان کو ذاتی زندگی میں بھی اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جسے اللہ نے منع کردیا ہو۔اسلامی ریاست لوگوں کی رضا کی مکلف نہیں بلکہ وہ صرف احکامات ِ الٰہی کی پابند ہی۔ اسی لیے اسلامی معاشرت اور ریاست میں زنا بالرضا کی بھی اسی طرح ممانعت ہے جیسی کہ زنا بالجبر کی حالاں کہ سیکولر نقطہ نگا ہ سے زنا بالرضا دو افراد کا ذاتی معاملہ ہی۔
* تیسری بات یہ ہے کہ سیکولر زم نے ریاستی سطح پردوصورتوں میں اپنا ظہور کیا ہے ۔ایک سرمایہ دارانہ ریاست اور دوسری سوشلسٹ ریاست ۔حقیقی اور عظیم سوشلسٹ ریاستیں روس اور چین سرمایہ دارانہ نظام کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بعد سوشلسٹ نظام ِ زندگی پر خود کش حملہ کرنے کے بعد اپنا اور اس نظام کا خاتمہ کرکے سرمایہ دارانہ ریاستوں میں تبدیل ہوچکی ہیںدوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت کا غالب نظریہ (Dominant Discourse) بلاشبہ سرمایہ داری ہے لہٰذا یہاں کمیونسٹ سیکولر ریاستوں سے صرف ِ نظر کرتے ہوئے محض سرمایہ دارانہ سیکولر ریاستوں کو ہی زیر بحث لایا جائے گا۔
r سرمایہ دارانہ سیکولر ریاستوں میں ایسا نہیں ہوتا کہ ریاست اپنا کوئی نظریہ زندگی نہیں رکھتی ۔سیکولرزم ،آزادی، سرمایہ داری ، جمہوریت اور مارکیٹ اکانومی وہ پانچ بنیادی ستون ہیںجن پر سرمایہ دارانہ ریاست کی عمارت کھڑی ہوتی ہی۔ یہی سرمایہ دارانہ مذہب کے وہ چار بنیادی ارکان ہیں جن کی خلاف ورزی جرم ہی۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ سیکولر نظام بھی ایک مذہب ہے جس کے ہوتے ہوئے سیکولر ریاست کسی اور مذہب کا چراغ جلنے نہیں دیتی۔ سرمایہ داری کے علاوہ باقی تمام مذاہب کو فرد کا نجی معاملہ قرار دے کر سرمایہ داری کے واحد مذہب کو سرکاری مذہب کے طورپر پرورش کیا جاتا ہی۔
امریکہ میں آنے والے تازہ ترین معاشی بحران کے دوران امریکی ریاست نے ناکام ہونے والے بینکوںکویا تو قومی ملکیت میں لے لیایعنی (Nationalized)کر لیا یا انہیں فراخ دلانہ امداد دے کر سرمایہ دارانہ نظام کو سہارا دینے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ایک طرف تو نظریات و مذاہب کے ضمن میں اپنی غیرجانب داری کا پردہ چاک کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کو ریاستی مذہب قراردے دیااور دوسری طرف فری مارکیٹ اکانومی کی’’ فری ‘‘ ہونے کا بھرم بھی کھول دیا ۔اگرامریکہ کی ریاست نظریات اور مذاہب کے معاملے میں غیر جانب دارہوتی تویقینا معاشی بحران میں غیر جانب دار رہ کر فری مارکیٹ اور اس کے اداروں کو اپنے قدموں پر خود کھڑا ہونے کا موقع دیتی ۔اس کے بجائے امریکی ریاست نے نہ صرف خود امریکی اسٹاک ایکس چینج اور بینکوں کو سہارا دیا بلکہ چین اور سعودی عرب جیسے ممالک کو بھی مجبور کیا کہ وہ امریکی معیشت کو بحران سے نکالنے کی ناکام کوشش میں مالی امدادفراہم کریں۔
اب یورپ کے معاشی بحران نے اسپین ،یونان کے بعد جس طرح اٹلی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اس نے سرمایہ دارانہ نظام کے متعلق بنیادی مباحث کو دوبارہ جنم دے کر اس کی افادیت کو مشکوک بنا دیا ہے ۔ سرما یہ دارانہ نظام کی اس کھلی ناکامی کے باوجودان ریاستوں کے اسی نظام پر اصرار نے ثابت کردیا کہ سرمایہ دارانہ نظام سیکولر نظام ریاست میں ایمان کا درجہ رکھتا ہے نہ کہ اختیار (ption)کا۔ دوسری طرف اس بحران میں غیر جانب دار رہنے کے بجائے فرانس اور جرمنی کی سیکولرریاستوں نے ہزاروں ارب یورو کی امداد دے کر ان ممالک کو بحران سے نکلنے میں مدد دینے کی ناکام کوشش کی ۔اگر جرمنی اور فرانس کی سرمایہ دارانہ ریاستیں نظریاتی حدود میں غیر جانب دارہیں تو انہیں سرمایہ داری کی اس شکست و ریخت سے لاتعلق رہنا چاہیے ۔ ان ریاستوں کی اس مربّیانہ نہ مداخلت نے ثابت کیا کہ سرمایہ دارانہ سیکولر ریاست غیر جانب دار نہیں بلکہ ایک خاص مذہب یعنی سرمایہ داری پرپختہ یقین رکھتی ہیں جس کا خدا صرف اور صرف سرمایہ (Capital) ہوتا ہی۔
چوتھی بات یہ ہے کہ اگر اس کائنات کا کوئی خالق اور مالک ہے یا نہیں ؟ اگر اس کائنات کا کوئی فرماں رواں اور حقیقی حاکم ِ ہے ہی نہیں تو اس سے نجی زندگی میں بھی تعلق رکھنے کا کیا فائدہ ؟ اور اگر واقعی کوئی ایسا خالق ،مالک ،فرماں رواں اور حاکم ِحقیقی موجود ہے تویہ اس حاکم سے کھلی بغاوت ہوگی کہ ہم اس اسے صرف اپنی ذاتی زندگی تک محدود کرکے باقی تمام زندگی سرمائے کی پرستش اور اور سرمایہ دارانہ اداروں کی پرورش میں لگا دیں۔دنیا کی دیگر اقوام سے قطع نظرکیا ایک مسلم کا یہ طرز عمل منطقی ہوگا کہ وہ ایمان تو قادر مطلق اور رب العالمین پر رکھے مگر اسے اجتماعی زندگی کے تمام اداروںسے خارج کرکے گھر کے ایک کونے میں بند کردی۔اس طرز عمل سے توصاف ظاہر ہورہا ہے کہ سیکولر نظریہ خود انسان کو’’ خدا‘‘ قرار دینے کا مذہب ہے نہ کہ ذاتی زندگی میں خدا پر یقین رکھنے والانظریہ۔ایسے بے اختیار خدا کوجس کی حدود اور قیود بھی بندے طے کریں گھر کے اندر بھی کوئی کیوں مانے گا؟
اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ذاتی اور اجتماعی زندگی کی یہ تقسیم کس نے کی ہی؟اگر خود مالکِ کائنات نے یہ تقسیم کی ہے تو اس امر کی اطلاع سیکولر حضرات کو کیسے ہوئی؟ایک کروڑ کا یہ سوال ذریعہ علم (Epistemology) کا ہے ۔ اس اہم ترین معاملے کی کوئی سندتو ہونی چاہیے ۔اور اگر یہ تقسیم محض مغربی تہذیب کی عطا کردہ ہے تو ہمیں صاف صاف بتادیا جائے کہ سیکولرزم کا پرچار کرنے والے در اصل مغربی تہذیب پر ایمان لانے والے ہیں اور اس قدر اہم معاملے میں بھی آزادی سے اپنی راہ منتخب کرنے کے بجائے مغربی تہذیب اور سرمایہ داری کے غلام ہیں۔
آخری اور اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ فرد اپنی ذاتی زندگی میں تو اللہ کا بندہ ہو مگر ایسے سب افراد مل کر معاشرہ اور معاشرتی ادارے (مثلاََ حکومت ) تشکیل دیں اور قانون بنائیں تو اللہ کے بندے نہ رہیں بلکہ سرمایہ داری کے بندے بن جائیں ۔یہ اسی طرح ہے کہ ایک سائنس دان کسی کیمیائی تجربہ گاہ کے ایک جار میں مالیکیولز تو جمع کرے آکسیجن کے مگر وہ سب مالیکیول مل کر گندھک کا تیزاب تشکیل دے دیں ۔یہ تو انگور کی بیل سے تربوز ملنے کی توقع ہے جو محض دیوانہ ہی کرسکتا ہی۔ ایک ایسا خداجو مجھے محلے ،شہر،تعلیمی ادارے ،حکومت اور اس کے اداروںجنگ و امن غرض کسی معاملے میں میری رہنمائی نہیں کرسکتا اس کی مجھے صرف ذاتی زندگی میں بھی کیا
ضرورت ہی؟ نعوذ باللہ کیا ایک قادرمطلق خدااس طرح کی رہنمائی فراہم نہیں کرتا یا مجھے اس کی رہنمائی پر اعتبار نہیں دونوں صورتیںہی بعید از عقل ہیں۔
سیکولرز م کے منطقی نتائج
سیکولرزم کی جنم بھومی یورپ اور اس سے متائثرہ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ مندرجہ ذیل نتائج سیکولرزم کے نفاذ کا لازمی ردّعمل ہیں۔

۱) مشرقی و مغربی یورپ سے مذہب کا معاشرے کے بعد ذاتی زندگیوں سے بھی اخراج
۳) خاندان کا زوال
ٍ ۲) مذہب کے اجتماعی زندگی سے اخراج کے بعدانسانی قتل عام، جرائم اور خودکشی کی شرح میں حیرت انگیز اضافہ
۴) مذہب کے زوال کے بعد مغربی معاشروں میں انسان کی تنہائی
1. http://www.thefreedictionary.com/secularism
2. http://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/europe/switzerland/5369613/Swiss-suicide-clinic-helped
sed-man-die.html
.http://www.youtube.com/watch?v=52fJRnhDjmo&feature=related

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s