قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند


نیاز سواتی
niaz.swati.71@gmail.com

۳جولائی ۲۱۰۲ء پاکستان کی تاریخ کا تاریک ترین دن ہی۔ٹی وی چینلز چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ قوم،فوج اور ملت کے وقارکو ایک بار پھر بیچ دیا گیاہی۔ یہ بین الاقوامی تاریخ کا عجیب ترین سودا ہے جس میں ۶۲ جوانوں کی لاشوں کو محض ایک لفظ ’’سوری‘‘ کے عوض بیچنے کے بعد بے شرمی کی یہ اطلاع وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے خودامریکی وزیر خارجہ کودیتے ہوئے مزید خوش خبری یہ دی کہ اس دلالی کے عوض پاکستان امریکی حکومت سے کوئی معاوضہ تک طلب نہیں کرے گابلکہ یہ خدمت فی سبیل اللہ انجام دی جائے گی جس کے لیے حنا ربانی کھر اور دیگر حکومتی ذمہ داران عنداللہ ماجور ہوں گے ۔اس ثواب ِ دارین اور صدقہ جاریہ کے لیے اور لوگوں کے علاوہ ہماری وزیر خارجہ کی بے تابی دیدنی تھی ۔ ع یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
ملکی و غیر ملکی چینلز نے واضح طور پربتایا کہ پاکستان وزیر خارجہ نے نیٹو سپلائی مفت میں بحال کرنے کی بات خود امریکی وزیر خارجہ سے کی ۔اس طرح کی فراخ دلانہ پیش کش کے اسرار و رموز سے محترمہ کے علاوہ کون واقف ہو سکتا ہی۔ایسے ہی ایک موقع پرجب پاکستان نے رمزی یوسف اور ایمل کانسی کو امریکہ کے حوالے کیا تھا تو نذیر نا جی کام کی بات بتا چکے ہیںمگر نقار خانے میں طوطی کی آواز بھلا کون سنتا ہے ۔دیکھیں ناجی نے کیا پرحکمت اور آفاقی بات بتائی کہ اس وقت بھی سب انگشت بدنداں رہ گئے ۔
ع امور ِ خسرواں ،خسرواں دانند
اس موقع پر قارئین سے التماس ہے کہ اس موقع پر ’’مفلسی میں آٹا گیلا‘‘، ’’مدعی سست ،گواہ چست‘‘، ’’وہی کرے قتل ،وہی لے ثواب الٹا ‘ ‘ جیسے فرسودہ محاوروں کو بھول جائیں ۔دنیا چاند پر پہنچ چکی ہی۔ دنیا کے مقروض ترین ملک کی وزیر نے یہ سخاوت چاند پر بیٹھ کر ہی کی ہی۔ چلیں محاوروں کو جانے دیں اب کچھ آجائیں گے جو کہیں گے کہ کیا برا تھا اگر ڈرون حملوں کو رکوانے کی شرط ہی منوالی جاتی ۔ کچھ کہیں گے کہ اگر قومی قرضوں کے کچھ حصے کو ہی معاف کروالیا جاتا ۔ کچھ اور بھی ستم ظریف ہیں جو اس سپلائی کے عوض عافیہ صدیقی کو یاد کرنے بیٹھ جائیں گی۔ کوئی ہے ان بے وقوفوں کو سمجھائے ایسے باتوں سے پسینہ آنے لگتا ہے جس سے میک اپ کی خرابی کا اندیشہ ہے ۔
سو نے پر سہاگہ یہ ہواکہ ہمیشہ سے استعمار کی’’ خدائی خدمت گار‘‘ یعنی خیبر پختون خواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار نے امریکی استعمار کے لیے اپنی لازوال خدمات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو سپلائی کے بحالی ہوئی تو وہ اسے مکمل تحفظ فراہم کریں گی۔ یہ کراچی اور پختوان خواہ میں پٹھانوں کی غم گسارجماعت کے بجائے کسی پختون دشمن بیان معلوم ہوتا ہے ۔مگر استعمار کے لیے اے این پی کی جاں نثاری نصف صدی کا قصہ ہے کوئی دوچار برس کی بات نہیں ۔اس سے قبل جب روس افغانستان میں پختونوں کے قتل عام میں مصروف تھا تو یہی اے این پی سرخ استعمار کی کاسہ لیسی میں مصروف تھی ۔آج صرف آقا کا نام بدلا ہے البتہ اے این پی استعمار دوستی اور پختون دشمنی کی رو ش پر مستقل مزاجی سے کاربند ہی۔لیکن آج یہ ہمارا موضوع نہیں۔
نیٹو سپلائی سے لاپرواہ ریاست کے تمام ستونوں نے اس کے سنگین مضمرات پر غور نہیں کیا۔نیٹو سپلائی کاروٹ صوبہ خیبراور بلوچستان کے علاقوں پر مشتمل ہے ۔ یہ دونوں صوبے شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہیں لہٰذا نیٹو سپلائی نہ پہلے کبھی محفوظ تھی نہ آئندہ محفوظ ہوسکے گی۔اس کی بحالی کے فیصلے کے نتیجے میں جب بھی نیٹو کے ٹرالرز پر حملے ہوں گے تو امریکہ ان کے تحفظ کے لیے اپنے انتظام پر زور دے گا۔اس طرح ارض پاک میں امریکی پنجے مزید مضبوط ہوں گی۔جو حکومتی کارپردازقومی سلامتی کے ادارے اس وقت نیٹو سپلائی پر خاموش ہیں وہ نیٹو سپلائی کے تحفظ کے لیے امریکی فوجوں کی آمد بھی کچھ نہ کرسکیں گی۔یہ چیز ہمارے ملک میں خود کش حملہ آوروں کی نئی کھیپ تیار کرے گی اور عدم استحکام سے دوچار پاکستان مشکلات کے نئے گرداب میں پھنس جائے گا۔
@ پرویز مشرف سے آج تک مغرب کے سامنے ہمارا ’’سوفٹ امیج ‘‘بنانے کی کوششوں کا وہی نتیجہ نکلا جو یورپی یونین میں داخلے کے لیے ترکی کی جدجہد کا ، دونوں کوششیں واضح ناکامی سے دوچارہوگئیں ۔حالانکہ اس سوفٹ امیج کے لیے ہم نے یو ٹرن لے کر پوری افغان ملت کو اپنا دشمن بنالیا ۔دنیا کے سفارتی آداب کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغان سفیر عبدالسلام ضعیف کے امریکا کے حوالے کردیا پورے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کردیا ۔ لو ڈشیڈنگ کی شکار قوم تک چائنا اور ایران کی بجلی محض امریکی خوش نودی کی خاطر نہ جانے دی ۔ مگر ہمارے سوفٹ امیج کی بحالی کی بات ہنوز دلی دوراست ۔
ایک ایسے وقت میں جب افغانستان میں امریکی حکمت عملی ناکامی سے دوچار ہی۔ افغانستان پر حملہ آور ہونے والی ہر سپر طاقت کی طرح امریکہ خوداس دلدل سے نجات کا راستہ تلاش کررہا ہے نیٹو سپلائی کی بحالی امریکی افواج کے لیے آکسیجن سلنڈر کا کام کرے گی۔ اگرچہ جاں بلب امریکی مریض افواج تادیر اس سلنڈر کے سہارے جی نہیں سکیں گی تاہم تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرانے والی ہے ۔ افغانستان سے شکست کھانے والی سپر طاقتیں تادیر اپنی حیثیت برقرار نہ رکھ سکیں ۔ تاریخ کے اس عمل کو تادیر روکا نہیں جاسکے گا مگرامریکی بوٹوں کی ٹو چاٹنے کے باوجود ہمیں دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ملکی عدم استحکام ،انفرااسٹرکچر کی تباہی ،دہشت گردی اور اخراجات میں بے پناہ اضافے کے علاوہ کچھ نہ ملا ۔ نیٹو سپلائی کی بحالی ریاستِ پاکستان کو امت ِ مسلمہ اور خود اپنی قوم کی نظروں میں گرادے گی اور معصوم مغرب بھی خوش نہ ہوسکے گا۔
ع وہ بھی کہتے ہیں کہ بے ننگ و نام ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s