’’ مغرب سے مکالمہ ‘‘



اسلام اور مغرب کے مابین تہذیبی اختلافات نے تصادم کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس جنگ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے انسانی جانوں کے اتلاف کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ جنگ میں زندہ بچ جانے والے افراد پر پڑنے والے مضر نفسیاتی اثرات اور ہجرت کی صعوبتیں اس پر مستزاد ہیں۔ اس صورتحال نے جنگ کے دونوں فریقوں یعنی اسلام و مغربی معاشروں کے سنجیدہ اذہان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس تصادم سے مسلم امہ زخم زخم ہے تو مغربی معاشرے بھی محفوظ نہیں رہے۔ عراق اور افغانستان سے واپس جانے والے فوجیوں کے تابوت، زخمی فوجی اور پر بڑھتے ہوئے جنگی ا خراجات نے مغربی معاشروں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ مغربی معاشروں میں پائی جانے والی آزادانہ فضا اب ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔ مشہور امریکی مصنف اور صحافی امریکہ کو پولیس اسٹیٹ قرار دے رہے ہیں ۔ ان جنگوں کی طوالت اور جنگی اخراجات کے نتیجے میں مغربی عوام کی سہولتوں میں کمی نے ان جنگوں سے بیزاری کو جنم دیا ہے۔ دوسری طرف مسلم معاشرے چوں کے ان جنگوں کے اصل متاثرین میں سے ہیں لہذا یہاں مکالمے کی اہمیت پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔
اسلام اور مغرب کے مابین مکالمے کی شدید ضرورت اور بظاہر ہموار فضا کے باوجود اس مکالمے کی عدم موجودگی حیران کن محسوس ہوتی ہے مگر معاملے کا بغور جائزہ لیا جائے تو صورت ھال سمجھ میں آنے لگتی ہے اور اس مکالمے کی رکاوٹوں کا ادراک ممکن ہو جاتا ہے۔ اس مکالمے کے ضمن میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ مکالمہ وہاں ممکن ہوتا ہے جہاں دونوں فریقوں کے مابین بنیادی امور مشترکہ ہوں اور اختلافات کی بنیادیں گہری نہ ہوں۔ اسلام اور مغرب کے درمیان بنیادی تصورات یعنی تصورِ انسان، تصور کائنات اور تہذیبی اقدار میں اس قدر اختلاف ہے کہ یہ دونوں شجر اپنی جڑوں سے شاخوں تک ایک دوسرے کی مکمل ضد ہیں۔ اس لئے یہاں دو طرفہ بات چیت(Dialogue)ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے البتہ یک طرفہ گفتگو (Monologue) یعنی دعوت کی کامیابی کا امکان ضرور موجود ہے کہ یا تو مسلمان مغربی تہذیب اور اقدار کو اپنالیں یا پھر مغربی معاشرے دعوت کے نتیجے میں اسلام قبول کر لیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب جدید مسلم دانش وروں نے مغرب کی بنیادی آدرشوں کو نہ صرف یہ کہ اپنا لیا ہے بلکہ”آئیڈیا لائزڈ”بھی کر لیا ہے تو مغرب اسلام سے کیوں مذاکرات کرے جب کہ عالم اسلام نے مادر پدر آزادی (Freedom)، انسانی حقوق (Human Rights)، جمہوریت(Democracy)، سرمایہ داری(Capitalism)، ترقی (Development) اور مساوات (Equality)کے مغربی تصورات کو قبول کر لیا ہے تو مغرب اسلام سے مکالمہ کرنے کے بجائے اپنی تہذیبی اقدار کو مسلم معاشروں پر پربہ زور بازو کیوں نہ نافذ کرے اور مغرب اس وقت یہی کر رہا ہے۔افغانستان جیسے ممالک میں یہ کام جنگ کے ذریعے ہو رہا ہے تو پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک میں دوستی کے پر دے میں اور پردہ بھی وہ جس کے متعلق شاعر نے کہا:
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
مغرب ایسے گروہوں سے مکالمے کا قائل ہے جومغرب کی عسکری طاقت کو اپنے نظرئیے ، طرز زندگی اور ایمانی جذبے کے ذریعے چیلنج کردے اور مغرب اپنی ٹیکنالوجیکل برتری کے باوجود اس گروہ کے مقابلے میں شکست سے دو چار ہوجائے۔ حالہ تاریخ میں یہ صورت حال افغانستان میں موجود ہے۔ افغان قوم نے مغرب کی تین مختلف سپر پاورزیعنی برطانیہ، روس اور امریکہ کو جنگ کے میدان میں شکست دے کر یا تو مکالمے پر مجبور کر دیا یا پھر علی الاعلان شکست تسلیم کرنے کی راہ دکھا دی۔
معرکہ خیر و شر کی تاریخ ازل تا امروز یہی ثابت کرتی ہے کہ جب بھی طاقت کسی ایسے شخص یا نظام کے ہاتھ میں مرتکز ہو جائے جو وحی الٰہی کا پابند نہ ہو تو زمین پر فساد برپا ہوتا ہے ایسی صورت میں طاقت ور فریق دلیل، مکالمے اور معقولیت کے بجانے نہ صرف اپنی طاقت پر بھروسہ کرتا ہے بلکہ اپنے موقف کے غلط ثابت ہوجانے کے باوجود ہر دلیل کا جواب طاقت سے دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں لہٰذا تاریخ سے چند مثالیں پیش کرنے پر اکتفا کروں گا۔ موسٰی علیہ السلام نے فرعون کو دلیل کے میدان میں شکست دے دی تو فرعون نے معقولیت اور استدلال کے بجائے طاقت استعمال کی مگر بالاخر اپنے بد انجام کو پہنچ کروہ رہتی دنیا کے لئے عبرت کا سامان بن گیا۔ ابراہیم علیہ السلام نے دلیل اور مکالمے کے ذریعے نمرود کو غلط ثابت کر دیا تو اس نے اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے الاؤ میں پھینک دیا مگر نصرت الٰہی نے انہیں وہاں سے بھی بحفاظت باہر نکال کر ایک بار پھر ابراہیم علیہ السلام کی اخلاقی برتری ثابت کردی تب بھی نمرود نے دلیل ماننے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ہی بہتر جانا۔
یورپ کی تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرون وسطیٰ تک یورپ بڑی حد تک عیسائیت کی تعلیمات کے ماتحت تھا۔ اس دور میں معقولیت، مکالمے اور دلیل کو کبھی رد نہیں کیا گیا مگر عیسائیت کے بتدریج زوال کے نتیجے میں یورپ مکمل طور پر سیکولر ہوگیا تو یورپی قوموں نے آپس میں بھی مکالمہ کرنا پسند نہ کیا بلکہ طاقت کو اپنا بہترین ہتھیار جانا۔ اس صورت حال نے دنیا کو یکے بعد دیگرے دو عالم گیر جنگوں سے دو چار کیا۔
مشرق وسطیٰ میں مغرب نے دلیل اور مکالمے کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کے وطن سے بے دخل کر دیا اور دنیا بھر کے یہودیوں کو دنیا بھر سے فلسطین میں جمع کر کے اسرائیل کی ناجائز ریاست کو بزور بازو قائم کر دیا۔ مغرب نے فلسطینی مقبوضہ علاقوں یعنی مغربی کنارے اور غزہ کی تحریک مزاحمت “حماس”کو پوری دنیا سے کاٹ کر دنیا کی سب سے بڑی انسانی جیل تشکیل دی۔ اس”انسانی جیل “پر اسرائیل نے سترہ دن تک بارود اور آہن کی بارش کی مگر حماس کی استقامت اور اسرائیل پر راکٹ حملوں سے بوکھلا کر مذاکرات کی میز سجائی گئی مگر شروع میں دلیل اور مکالمے کو سختی سے رد کر دیا گیا۔
9/11کے بعد امریکہ نے افغانستان کی طالبان انتظامیہ اور شیخ اسامہ کو ٹوئن ٹاور پر حملے کا مجرم گردانتے ہوئے حملے کا ارادہ ظاہر کیا تو طالبان انتظامیہ نے شیخ اسامہ کے خلاف ثبوت مانگے اور شیخ اسامہ کو کسی غیر جانب دار ملک کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ اس معقول استدلال کو رد کرتے ہوئے افغانستان کو خاک و خون میں نہلا دیا گیا۔ گزشتہ گیارہ سال سے یہ خونی کھیل جاری ہے۔ ڈیزی کٹر بموں، کارپٹ بمبنگ اور قرآن کی توہین جیسے ہتھکنڈوں کی ناکامی اور مجاہدین کی مسلسل استقامت کے بعد امریکہ نے طالبان سے مذاکرات کے لئے بے چینی کا اظہار کیا مگر شاید تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرانے والی ہے کہ سپر پاور افغانستان میں شکست کھانے کے بعد دنیا کے نقشے سے سویت یونین اور عظیم سلطنت برطانیہ کی طرح غائب ہو جاتی ہے اب ریاست ہائے امریکہ کا یہی انجام قریب ہے۔
تقدیر امم کیا ہے کچھ کہہ نہیں سکتا مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ
بر صغیر کی طرف نگاہ دوڑائیں تو کشمیر کا انسانی المیہ مکالمے اور دلیل کی عدم موجودگی اور طاقت پر بھروسے کی بہتر سے بہتر تفسیر پیش کر رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ میں لے کر گئے جہاں سے کشمیر میں استواب رائے کا فیصلہ ہوا مگر آج تک معقولیت پر مبنی اس فیصلے کو بھارت جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے فوجی طاقت کے بل پر کشمیر میں اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ کشمیر کے موضوع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی تاریخ نے مکالمے اور دلیل کے بجائے طاقت پر بھروسے کی داستان بیان کی ہے۔ پاکستان کی ملکیت قرار پانے والے دریاؤں پر بہنے والے بھارتی ڈیم، فلسطین میں جبر اََ آباد کی جانے والی ہر یہودی بستی ، افغانستان میں دم توڑتی ہر معصوم بچی ،عافیہ صدیقی کیس،گوانٹا ناموبے کا اذیت کدہ اور کشمیر سے بلند ہونے والی بہنوں کی آہ و بکا اس مکالمے کی ناکامی کا اعلان کر رہی ہے۔مغرب سے مکالمہ جرم نہیں مگر اس مکالمے کی کسی پائیدار بنیاد کا ہونا ضروری ہے۔ اس وقت مغرب مکالمے کے بجائے تصادم کی راہ پرگامزن ہے۔ یہ گھڑی فضول مکالمے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے عمل کی طلب گار ہے۔
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں پیش کر غافل کوئی عمل اگر دفتر میں ہے
تہذیبی تصادم کی اس فضامیں ایک اور قابل غور غلط فہمی یہ ہے کہ چونکہ دنیا بھر میں ہونے والے قتل و غارت گری میں مختلف مذاہب کے ماننے والے باہم برسرپیکار ہیں لہٰذا ایک عالمی بین المذاہب مکالمے (INTER FAITH DIALOGUE ) کی ضرورت ہے تاکہ بین المذاہب مفاہمت کے نتیجے میں دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔ اس خیال کی بنیا دی خامی یہ ہے کہ یہ بات حقائق بر سرزمین کے خلاف ہے۔ اس وقت دنیا کے تقریبا تمام ممالک میں حکومتوں کا ڈھانچہ سیکولر ہے اور زمام کار بھی سیکولر قوتوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس وقت دنیا میں کہیں بھی ایسی اسلامی ،عیسائی اور یہودی ریاست موجود نہیں جس نے اپنے مذہب کے ریاستی و معاشرتی سطح پر احیاء کو ممکن بنایا ہو۔ اور تو اور دنیا نظریاتی مملکت کہلانے والے دو ممالک پاکستان اور اسرائیل بھی اپنی چند مذہبی رنگ کی حامل دستوری شقوں کے باوجود عملامحض سیکولر ریاستیں ہیں ۔ ایسی صورت میں جب دنیا کے متحارب گروہ مسلم عیسائی اور یہودی بنیادوں پر متصادم ہی نہیں(بلکہ اصل جنگ سیکولر مغربی اور اسلامی تہذیب کے درمیان جاری ہے)تو بین المذاہب مکالمہ محض ایک لاحاسل ذہنی عیاشی ہی کہلاسکتا ہے۔ 
مغربی دانش ہر قسم کی مذہبی قوت اور ملامت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین نے اپنے مشیروں میں ہیبر ماس جیسے فلسفی کو شامل کیا مگر عیسائیت کی سب سے بڑی شخصیت یعنی پوپ کو شامل نہیں کیا۔ اس پر پوپ نے سخت احتجاج کیا مگر یہ احتجاج حقارت کی نگاہ سے ٹھکرا دیا گیا۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مغرب کے پس پشت کار فرما ذہن لبرل ازم یعنی مغربی تہذیب کے مخالفوں سے مذاکرات کے بجائے ان کا صفایا کرنے کا قائل ہے۔رالز کے نزدیک لبرل سرمایہ داری کے انکاری معاشرے کے لیے ایک بیماری کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کواسی طرح کچل دینا چاہیے جس طرح ہم مضر کیڑے مکوڑوں کو کچل دیتے ہیں۔ ایک اور لبرل مفکر ڈربن کے مطابق۔۔۔
”I am ready to agree any one who is liberal, if he is not liberal,
I am not going to agree with him, I am going to shoot him,”
اس وقت جب کہ امریکہ مکالمے ،امن اور مذاکرات نام کی ہر چیز کو روندتا ہوا نہ صرف عراق،افغانستان لاکھوں مسلمانوں کو قتل اور ان سے زیادہ کو اپاہج بنا رہاہے۔ اسی امریکہ نے عراق کے اسپتالوں میں دوائیوں کی رسد منقطع کرکے دولاکھ سے عراقی بچوں کو تڑ پ تڑپ کر مرنے پر مجبور کردیا ۔ اسی مغرب کے ٹھیکیدار کی طفیلی ریاست اسرائیل نے غزہ شہر کا محاصرہ کرکے آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شعب ابی طالب میں محصورکرنے کی یاد تازہ کردی ۔کہاں گئے بین المذاہب مذاکرات ،کہاں ہے نام نہاد مکالمہ۔ اس مکالمے 
کی حقیقت معلوم کرنی ہو تو غزہ میں شہداء کی ماؤں سے ملیے جن کے معصوم بچوں کے جسموں کے چیتھڑے بتارہے ہیں کہ یہ مکالمہ محض فریب اور امت مسلمہ کی رہی سہی غیرت اور مزاحمت کے خاتمے کا عنوان ہے۔ امن کا درس محض جہا دکے خاتمے کی ناآسودہ خواہش کا نام ہے۔ امریکہ کے ہاتھوں امت مسلمہ پر ظلم کی داستان میں کہیں بارود کی بو ہے تو کہیں معصوم بچوں کے لہو کی بوندیں ہیں ،کہیں ہچکیوں اور سسکیوں کی گھٹی ہوئی آوازیں ہیں تو کہیں شہیدوں کی بیواؤں کے بہتے آنسوؤں کی نمکینی ہے۔ کہیں ان باحیا عورتوں کی برہنہ لاشیں ہیں جنہیں آفتاب و ماہتاب کی کرنوں کے سوا کسی غیر نے نہ دیکھا تھا ۔یہ داستاں ایک خوں چکاں تحریر ہی نہیں آتش فشاں تاریخ بھی ہے جو امریکی دہشت اور وحشت کے ہتھیاروں سے امت مسلمہ کے افق پر تحریر کی جارہی ہے۔
مکالمے کے ضمن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مکالمہ کہاں ممکن اور اس کی ضرورت کہاں ہے۔ غور سے دیکھاجائے تو زیر نظر مکالمے کے ضمن میں ہمارا رویہ مضحکہ خیز ہے۔ ہم مغرب سے ایک غیر منطقی اور بے نتیجہ مکالمے کے لیے بے چین ہیں جب کہ امت مسلمہ کے مختلف مکاتب فکر سے مکالمے کے سرے سے انکاری ہیں۔جس قدر تگ و دو اسلام و مغرب کے مکالمے ک لیے کی جارہی ہے اگر اس کا عشر عشیر بھی عالم اسلام کی تحریکات اور مزاحمتی گروہوں کے درمیان مکالمے کے لیے کی جائے تو امت مقابلے اور مکالمے دونوں کے لحاظ سے ایک بہتر پوزیشن میں آسکتی ہے۔ امت مسلمہ کے راسخ العقیدہ مکاتب فکر کے جتنے بھی فروعی اختلافات پائے جاتے ہوں، بہر حال وہ سب اللہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،قرآن و سنت ،خلافت راشدہ ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اسلامی طرززندگی کے احیاء پر متفق ہیں۔ ایسی صورت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مشترکہ امور کی بنیاد پر امت کے مختلف مکاتب فکر ، تحریکات اسلامی اور مزاحمتی گروہ باہم مکالمے کا آغاز کریں تاکہ ان سب کے درمیان پائے جانے والے جزوی اختلافات کے باوجود یہ ایک دوسرے کے معاون و مددگار بنیں ۔تحریکات اسلامی کی مشترکہ حکمت عملی مغرب مربوط ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ مغرب کی ذہنی مرعوبیت ختم کرنے میں بھی مددگار ہوگی۔اسی طرح مغربی استعمار کے گماشتوں یعنی اسرائیل اوربھارت وغیرہ کے خلاف برسرپیکار مزاحمت کاروں کے درمیان مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر عالمی استعمار کے مقابلے کی لیے مربوط عسکری حکمت عملی ترتیب جاسکے ۔
اس وقت مغرب کی طرف سے امت مسلمہ مغرب کی طرف سے سیاسی ،علمی اور عسکری ہر سطح پر چیلنج سے دوچار ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ امت اور اس کی تہذیبی اقدار کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تیار مغرب کے خلاف دنیا بھر کی اسلامی تحریکات ،مزاحمتی گروہ اور دین کے اصل وارث یعنی علماء کرام باہمی مکالمے کے ذریعے ایک دوسرے کے مددگار اور پشتی بان بنیں اور امت کو تاریخ کے اس نازک ترین دور سے نکال کر آگے لے کر جائیں ۔یہ دور اپنے تمام تر چیلنجز کے ساتھ ساتھ امکانات کی ایک لامحدود کائنات بھی رکھتا ہے۔ 

8 responses to this post.

  1. جزاک اللہ نیاز صاحب، اللہ رب کریم آپ کو اس خدمت پر دنیا و آخرت میں بہترین بدلہ عطا فرمائے اور امت کو عہدِ حاضر کے چیلنجوں سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت عطا فرمائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امت کے مشترک مفاد کی خاطر سب اکٹھے ہوجائیں اور کسی سرکاری، وطنی، جماعتی، مسلکی مفاد کو آڑے نہ آنے دیں۔ اسی سے امت کی منزل جلد قریب تر ہوگی۔ ان شاء اللہ۔

    جواب دیں

  2. Posted by sallar ahmed salfi on اپریل 5, 2012 at 11:06 صبح

    sir i totally agree with u
    magar sir maqallma tou us surat main kamyaab ho ha jab dono fareeq sanjeeda hon ga magar hum daikhte hain ke jaise hi aghan taliban ne muzakraat shooro kia usa army ne jaan booj kar quran ki be hurmati kar dali ,aesi surat main tou jang hi momkin ha, aur ye hi hoa natijataan afhan taliban ne 10 saal baad shooro hone wale muzakraat na sirf khatam kar dia balke 1000 saal tak mazahmat ki dhamki bhi de dali!!! sir ab tou gou aesa lagta ha magrib ye tamam nazook mamlaat (quran aur hurmate rasool, muslim aurtoo ki qaid) jaan bouj kar kar ha taake hamara reaction check kare .

    جواب دیں

  3. Posted by ahmed ali khanani on اپریل 6, 2012 at 7:33 صبح

    plese visit
    bab-ul-islam.net
    ghazwaehind.blogspot.com.
    http://www.nawaiafghan.blogspot.com

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s