تہذیب اور تہذیبوں کا تصادم



نیازسواتی
niazhussain.swati@yahoo.com
”تہذیبوں کا تصادم“ کی اصطلاح نے پروفیسر سیموئیل ہن ٹنگٹن کی مشہور زمانہ کتاب The Clash of Civilizationکے ذریعے دنیا بھر کو متوجہ کر لیا مگر اہل نظر جانتے ہیں کہ ہن ٹنگٹن سے تقریبا َگیارہ برس قبل مشہور یہودی مورّخ برنارڈ لیوس اپنی کتابA Middle East Mosaic میں اسلام اور مغربی تہذیب کے درمیان ٹکراﺅ کا تجزیہ کر چکا تھا۔ برنارڈ لیوس بھی اس میدان میں پہلا مفکر نہ تھا ۔ برنارڈ لیوس سے قبل برطانوی مفکر آرنلڈ ٹائن بی کے لیکچرز پر مشتمل کتابThe World And The Westاس موضوع کا احا طہ کر چکی تھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ برنارڈ لیوس اور ٹائن بی کی زبان علمی ہے اور سیموئیل ہن ٹنگٹن کا انداز نسبتا عام فہم ہے۔”تہذیبوں کا تصادم” وہ حقیقت ہے جس کا وجود سیموئیل ہن ٹنگٹن کی شہرہ آفاق تصنیف The Clash of Civilizationکی رونمائی سے صدےوں قبل تا امروز موجود ہے اور مستقبل میں بھی اس جنگ کے خاتمے کے امکانات ناپید ہیں۔ اس تہذیبی تصادم کے ابتدائی نشانات یورپی نو آبادیات کے قیام اور صلیبی جنگوں کی تاریخ میں موجود ہیں۔ اس سے پہلے کہ تہذیب اور اس کی بنیادوں کے متعلق ابتدائی گفتگو کا آغاز کیا جائے زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ تہذیبی تصادم کی موجود صورت حال کا اجمالی جائزہ لے لیا جا ئے ۔
اس وقت تہذیبی تصادم کی صورت محض یہ نہیں کہ مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے چند ممالک باہم بر سر پیکار ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر معاملہ یہ ہے کہ مشرق و مغرب کے ممالک اپنی جغرافیائی حدود میں تہذیبی تصادم سے دو چار ہیں۔ مسلم ممالک کے اندر مغربی و اسلامی تہذیب کے علم بردار سیکولر اور اسلامی گروہوں کی شکل میں آمنے سامنے ہیں تو یورپی ممالک اپنی آبادی میں موجو د ایسی مسلم برادی کے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں جو اپنی تہذیب و ثقافت اور اقدار پر اصرار کر رہی ہے اور یورپی تہذیب ،اس کی اقدار اور معاشرے میں مکمل ادغام سے عملاََ انکار کر رہی ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ نہ صرف عام یورپی باشندے بلکہ یورپی دانش وروں اور طبقہ اشرافیہ کی بھی ایک مخصوص تعداداسلامی تہذیب کی نہ صرف ہمنوائی کر رہے بلکہ اس نظریئے کو عملا قبول بھی کر رہی ہے۔ برطانوی خاتون صحافی ایوون رڈلی، سابق برطانوی وزیراعظم ایسکوتھ کا پوتا جوناتھن برٹ (موجودہ یحییٰ جو بی بی سی کے سابق ڈائریکٹر بھی رہے ہیں) ، مشہور برطانوی صحافی ٹونی بلیئرکی سالی Lauren Booth اور ان جیسے دیگر نو مسلم اب یورپ کے کسی ملک میں اجنبی نہیں رہے۔
یورپی ممالک کے اندر تیزی سے کم ہوتی ہوئی مقامی آبادی اور ان ممالک میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ڈیوز بری اور بلیک برن جیسے بے شمار مسلم اکثریتی شہروں کو جنم دیا ہے جہاں مسلم ثقافت مغربی تہذیب پر غالب نظر آتی ہے۔یورپ میں پیدا ہونے والی مسلمانوں کی نئی نسل ایشیاءاور افریقہ سے آنے والے اپنے آباءکی طرح معذرت خواہانہ رویّے کی حامل نہیں بلکہ اپنی تہذیبی اقدار پر اصرار کرتے ہوئے اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتی ہے۔ فرانس میں جن دو ہزار خواتین نے پردے پر پابندی کے بعد بھی نقاب پہننے پر اصرار کیا ہے وہ مقامی فرنچ نو مسلم خواتین ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب مغربی دنیا نے اسلامی تہذیب کو حقارت سے دیکھنے کی روش ترک کرکے ایک زندہ چیلنج کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ پردہ کرنا یا نہ کرنا اب تک کسی عورت کا ذاتی فیصلہ سمجھا جاتا تھا مگر اب اس مسئلے کو فرانس کی پارلیمنٹ طے کر رہی ہے۔ کسی عبادت گاہ کی عمارت کیسی ہونی چاہئے اور کیسی نہیں ہونی چاہئے اس طرح کے مسائل ہر جگہ ہر مذہب کے ماننے والے خود طے کر تے ہیں مگر سوئزرلینڈ کی پارلیمنٹ نے یہ مسئلہ بھی ریفرنڈم کے زریعے طے کرکے سوئزرلینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی لگادی ہے۔ کسی ریاست میں کون سا قانونی اور معاشرتی ڈھانچہ بہتر رہے گا یہ سوال ہر دور میں ہر ریاست نے خود طے کیا ہے مگر آج امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں نے ان مسائل کا حل اپنے ذمے لے لیا ہے۔
دوسری طرف دنیا بھر میں اسلامی تہذیب کے علم بردار،مسلم دانش وراور خود مغربی ممالک میں موجود مقامی اور غیر مقامی مسلم اپنی تہذیب اور اس کی اقدار پر زور دے کر مغربی تہذیب کو چیلنج کر رہے ہیں۔اس صورت حال نے سوچنے سمجھنے والے افراد کے ذہنوں میں تہذیبی تصادم کے بارے میں چند بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ تہذیب کیا ہوتی ہے؟ ایک تہذیب کس طرح دوسری تہذیب سے مختلف ہوتی ہے؟ دنیا میں موجود تہذیبیں کس طرح ایک دوسرے سے معاون یا متصادم ہیں؟ کیا تہذیبی تصادم ایک وقتی صورت حال ہے؟ اس تہذیبی جنگ میں کون کس ہتھیار سے مسلح ہے؟ تہذیبوں کے تصادم کے اہم ترین کردار کون کون ہیں؟ کس تہذیب کی جیت کے امکانات ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس تہذیبی تصادم کا انجام کیا ہوگا؟آئیے سب سے پہلے اس بنیادی سوال کا جائزہ لیں کہ تہذیب ہوتی کیاہے؟
تہذیب کے ضمن میںایک غلط فہمی یہ ہے کہ کچھ لوگ تہذیب اور تہذیب کے مظاہر میں فرق نہیں سمجھتے اور تہذیبوں کے مظاہر مثلا رسم رواج ،لباس اور رہن سہن کے معاملات کے فرق کو تہذیبی اختلاف قرار دیتے ہیں ۔یہ لوگ تہذیبی اختلاف کو شلوار یا پینٹ اور میز یا دستر خوان کے اختلاف سے پہچانتے ہیں مگر یہ ایک سطحی موازنہ ہے۔ یہ سب تہذیب کے مظاہر اور تفصیلات ہیں۔ تہذیب کی بنیاد اس کے چند اساسی نظریات ہوا کرتے ہیں۔ تہذیب اپنے تصور کائنات (World View)اور تصور خالق اور تصور انسان سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ تصورات اور ان پر مشتمل تہذیب ،ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ عقیدہ جب فکرو عمل میں ڈھلتا ہے تو چند مظاہر سامنے آتے ہیں۔ یہی مظاہر “تہذیب” کہلا تے ہیں۔ عقائد کی درستی یا خرابی کا اندازہ تہذیبی مظاہر سے ہوتا ہے۔ اس لئے تہذیب ایک اعتبار سے عقائد کا اظہارہے اور عقائد تہذیب کا باطن ہیں ۔ عقائد اور تہذیب میں بیج اور درخت کا تعلق ہے ۔ تہذیب اپنے بنیادی عقائد اور ان کے مظاہر پر مشتمل ہوتی ہے۔
خالق کائنات، کائنات ، انسان اور علم کے بارے میں مختلف نظریات و عقائد تہذیبی اختلاف کا باعث بنتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں سیکولر مغربی تہذیب، اسلامی تہذیب، ہندو تہذیب، عیسائی تہذیب، چینی تہذیب اور بدھ تہذیب سمیت کئی بڑی بڑی تہذیبیں موجود ہیں۔ اسلامی تہذیب کے علاوہ دیگر تمام تہذیبیںاپنی مخصوص ترکیب کی بنا ءپر سیکولر مغربی تہذیب سے مفاہمت اور تعاون کی راہ اپناچکی ہیں۔ عیسائیت چند صدی پیشتر ابتدائی تصادم کے بعد ہار مان چکی ہے۔ ہندو تہذیب بوجوہ ایک مکمل نظام زندگی دینے کی صلاحیت سے معذور ہے ،اس پر مستزاد یہ کہ ہندو اپنی تہذیبی اقدار پر اصرار کے بجائے مغربی اقدار کو اپنا نے میں سبقت لے جانے میں مصروف ہیں ۔ بدھ تہذیب کونظام زندگی سے کوئی سروکار نہیں ۔ البتہ چینی تہذیب میں موجود تاﺅ ازم اور کنفیوشس ازم کی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ ان تہذیبوں کے بنیاد پر آئندہ چین اور مغرب میں ٹکراﺅ ہوگا ۔ مگر یہ ممکنہ ٹکراﺅ محض مادی مفادات کی جنگ ہوگا جس کا تہذیبی اختلاف سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ خود تاﺅ ازم اور کنفیوشس ازم چند اخلاقی تعلیمات کا مجموعہ ہیں۔ اس وقت ہم جس تہذیبی تصادم کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ صرف مغربی سیکولر تہذیب اور اسلامی تہذیب کے درمیان ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے؟ سیکولر جدید مغربی تہذیب اور اسلامی تہذیب میں مفاہمت کیوں ممکن نہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔
مغربی تہذیب کے ساتھ جن قوموں کا تصادم ہوا ان میں سے تو بعض وہ تھیں جن کا کوئی مستقل تہذیب نہ تھی اور اگر تھی تو اس قدر مضبوط نہ تھی کہ کسی دوسری تہذیب کے مقابلے میں ٹھہر سکتی۔ بعض تہذیبیں مغربی تہذیب سے ہم آہنگ تھیں۔ اس صورت حال میں زیادہ تر قومیں بہت آسانی سے مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگ گئیں۔ لیکن اس ضمن میں اسلامی تہذیب کا معاملہ بالکل مختلف رہا۔ دنیا کی ہر تہذیب چار بنیادی اصولوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ مغربی تہذیب کے یہ چار بنیادی اصول مکمل طور پر اسلامی تہذیب کے مخالف واقع ہوئے ہیں ۔اس اختلاف کی وجہ سے دنیا میں اصل تہذیبی تصادم اسلامی تہذیب اور مغرب کی جدید سیکولر تہذیب کے درمیان برپا ہوا۔
دنیا کی ہر تہذیب کائنات کی تخلیق کے متعلق اپنا ایک نظریہ رکھتی ہے۔ یہ نظریہ تہذیب کی دیگر تمام تفصیلات کے طے کر دیتا ہے۔ اسی لئے دنیا کی ہر تہذیب اپنا ایک بنیادی تصوریعنی”تصور الٰہ”رکھتی ہے ۔ عیسائیت میں تین خداﺅں کا ذکر ہے تو اسلام میں واحد الٰہ کا۔ جو لوگ کسی خدا کو نہیں مانتے وہ بھی ما د ّے (Matter) انسان(Human)، فطرت(Nature)یا سرمائے (Capital) کی خدائی کے قائل ضرور ہیں۔ مختصر یہ کہ دنیا کی کوئی تہذیب تصور خدا سے خالی نہیں ۔ یہ تہذیب کا پہلا اصول ہے۔ کسی بھی تہذیب کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ کائنات کیا ہے ، انسان کی یہاں کیا حیثیت ہے جس کے لحاظ سے اس کے کردار کا تعین کیا جائے ۔انسان اس کائنات میں خدا ہے یا خدا کا بندہ ہے ،اس اصول کو خالصتاََ علمی زبان میں الٰہیات (Ontology) کا اصول کہا جاتا ہے اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب میں بھی بنیادی فرق اسی”تصور الٰہ”ہی کا ہے۔ اسلامی تہذیب میں ایک واحد الٰہ در اصل اللہ ہی کی ذات ہے جو کہ کائنات کی تخلیق کرنے والا اور اسے چلانے والا ہے۔ مغربی تہذیب کے تصور کے مطابق یہ کائنات خود بخود بغیر کسی خالق کے وجود میں آئی ہے اور کائنات نے بتدریج اور خودکار عمل کے ذریعے اپنی پیدائش اور موجودہ شکل اختیار کی ہے۔مغربی تہذیب کے مطابق انسان خود ہی پوری کائنات کا مقصود اور محور ہے جو کسی بالاتر ہستی کا پابند نہیں ہے۔
تہذیبوں کی شناخت کا دوسرا اصول یہ ہے کہ دنیا کی ہر تہذیب یقینی اور حتمی علم کا کوئی نہ کوئی شعور ضرور رکھتی ہے۔ یہ شعور بتاتا ہے کہ یقینی علم علم کہاں سے حاصل ہوتا ہے۔ اسلامی تہذیب کا ماننا ہے کہ یقینی اور حتمی علم صرف وحی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، بقیہ ذرائع سے حاصل ہونے والا علم”وحی”کی میزان پر پرکھا جائے گا۔ جدید مغربی تہذیب کا نظریہ علم یہ ہے کہ علم حتمی اور یقینی ذریعہ صرف”سائنس “ہے اور سائنس ہی ہر علم کی قدر و قیمت کا تعین کرے گا۔ علمی زبان میں اس اصول کو ذریعہ علم یاEpstimologyکہا جاتا ہے۔
تہذیب کے ضمن میں تیسرا اہم سوال یہ ہے کہ زندگی اور کائنات کیسے وجود میں آئی؟ یہEfficient Causeکا اصول کہلاتا ہے۔ یہاں اسلامی تہذیب بتاتی ہے کہ کائنات اور اس میں موجود زندگی کے وجود میں آنے کی واحد وجہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے۔ خالق کائنات نے “کُن” کہا اور کائنات اور اس میں موجود زندگی جلوہ گر ہو گئے۔ آدم علیہ اسلام پہلے دن بھی آدم ہی تھے اور آج بھی انسان اپنی ابتدائی شکل کے مطابق آدم ہی ہے۔ اس کے مقابلے میں جدید تہذیب کا اعلان ہے کہ انسان ڈارون کی تھیوری کے مطابق ایک کیڑے سے ارتقائی مراحل طے کرتا ہوا آدمی بن گیا ہے۔
دنیا کی ہر تہذیب نے انسانی تگ و دو کے نصب العین کاتعین ضرور کیاہے۔ انسان کے سامنے یہ سوال ہمیشہ اہم رہا ہے کہ اس کی ساری تگ و دو کا حاصل کیا ہے۔ وہ کو ن سا مقصد ہے جس کے لئے انسان اپنی تمام صلاحیتیں اور وقت صرف کردے۔ اسے حتمی سبب یاFinal Causeکا اصول کہا جاتا ہے۔اسلامی تہذیب اللہ کی رضااور آخرت میں نجات کو انسانی کاوشوں کا محور قرار دیتی ہے۔جدید تہذیب کے مطابق انسانی کاوشوں کا واحد مقصود مادی ترقی Progress ہے۔
جس طرح انسان اپنی خوبیوں پر اصرار کرتے ہیں اسی طرح ہر تہذیب نہ صرف خیر و شر کا اپنا نظام رکھتی ہے بلکہ اس پر اصرار بھی کرتی ہے۔ مختلف تہذیبوں کا اپنی اقدار پر یہ اصرار کسی نہ کسی مرحلے میں تہذیبی تصادم کو جنم دیتا ہے۔فرانس میں مسلم خواتین کو زبردستی پردہ کرنے سے روکا جارہاہے،اسکولوں میں طالبات کو اسکارف پہننے سے منع کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف مسلم خواتین پردہ کرنے کے حق سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ چھوٹا سا معا ملہ اس تہذیبی تصادم کاصرف ایک پہلو ہے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ اسلامی اور مغربی دونوں تہذیبیں اپنے تصورکائنات اوراقدارترک کرنے پر تیار نہیں ۔ اپنی اپنی اقدار پر یہ اصرار تہذیبوں کے تصادم کو جنم دے رہا ہے۔

5 responses to this post.

  1. Posted by AbdusSalam on فروری 4, 2012 at 8:27 صبح

    السلام علیکم۔۔
    محترم نیاز صاحب۔ اس موضوع پر ایک بہت ہی اہم نکتہ چھوٹ گیا ہے۔ اس وقت اور پچھلی ایک صدی سے سوشیل سائنس کے حوالے سے اسلام اور مغرب کا کلیاش چل رہا ہے۔ واضح طور پر یہ سوال سامنے ہے کہ۔۔ فرد اور معاشرے کے درمیان حقوق اور ذمہ داری کا توازن کس طرح قائم کیا جائے۔ اس طرح مرد اور عورت کے درمیان حقوق کے درمیان کس طرح توازن قائم کیا جائے۔ یہ بات تھوڑی بہت دوسرے نکتے میں آپ نے بیان کردی ہے۔ لیکن یہ بہت ناکافی ہے۔ باقی تین نکات میں بہت بڑے اختلاف کے باوجود جھگڑا نہیں ہے۔ لیکن اس معاملے میں باقاعدہ اور واضح جھگڑا موجود ہے۔

    جواب دیں

  2. Posted by Dr.Fazlur Rahman on فروری 12, 2012 at 2:22 صبح

    Assalam o Alaikum
    I really enjoyed your brief note on a very important and a live issue . One can see glimpses of this approach in the recent ISAF invasion of Afghanistan. If one goes through the stories of captives of Guantanamo bey, wherein at certain places the US forces were asking the captives about the whereabouts of Mehdi. Very interestingly, they were telling that We have come to face him and to kill him. The question is: Is there any chance of compromise of these civilizations? For me there is “No”chance of compromise. Afghanistan is determining the Destiny of Western Civilization and the ultimes destiny is obvious, i.e., decay of West in the hands of people wearing long shirts and turbans. The newly reverted Muslims are the real representatives of Isam and are in a better position to evaluate the real face of West and to confront it scholastically. They are doing so by their determination and patience.I agree with the points raised above by someone above. Please also write on the stauts of relations/rights of man and/in the society, Status of Women and man in the current scenario, there is need of re definition of these. The West has tried to re define it, however, this re definition is an exploitation of man and woman in the hands of Capitalism.
    Regards

    جواب دیں

  3. Posted by Tariq on مارچ 2, 2012 at 4:44 شام

    Assalam Alykum
    very nice Niaz bhai.

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s