حیرت انگیز امریکی ”آمش قوم“



نیازسواتی
niazhussain.swati@yahoo.com
حیرت انگیز امریکی ”آمش قوم“
ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے کئے ممالک میں بجلی کابحران عوام کو سڑکوں پر لے آیا ہے، ہر قسم کی ٹیکنالوجی اور بجلی سے بے نیاز ایک امریکی گروہ کا وجود ناقابل یقین معلوم ہوتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے ۔ اس امریکی فرقہ کے پیرو کاربڑی تعداد میں پنسلوانیا کی ریاست میں رہائش پذیر ہیں ۔ آمش کے نام سے مشہور اس فرقے کے عقائد اور طرز زندگی اپنے اندر حیرت کے نت نئے باب رکھتی ہے۔ 1972میں آمش قوم کا معا ملہ اس وقت سامنے آیا جب اس قوم نے اپنے نوجوانوں لڑکوں اور لڑکیوں کو آٹھویںجماعت کے بعد اسکول جانے سے روک دیا۔ یہ لازمی تعلیم کے امریکی قانون کی خلاف ورزی تھی۔پنسلوانیا ریاست کی اعلی ٰ ترین عدالت نے آمش قوم کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے آمش طلبہ و طالبات کے والدین کو 5ڈالر فی کس جرمانے کی سزا دی ۔ آمش قوم کے بزرگوں نے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ۔سپریم کورٹ نے مقدمے کی تفصیلی سماعت کے بعد آمش قوم کو درست قرار دیا۔
اس عدالتی فیصلے کے اہم نکات آمش لوگوں کے طرز زندگی اور ان کے عقائد کی بہتر ین تفسیرہیں۔ اس فیصلے میں کہا گیا کہ
٭ آمش لوگ امریکہ میں مقیم سوئزر لینڈ سے تعلق رکھنے والا وہ عیسائی فرقہ ہے جو عیسیٰ ؑ کے دور کی سادہ اور فطر ت سے قریب طرز زندگی کونہ صرف مثالی قرار دیتا ہے بلکہ اس طرز زندگی کو عملی طور اپناتے ہوئے بھی ہے۔عیسائیت پر پختہ یقین، فطر ی اور سادہ زندگی، زراعت،ڈیری فارمنگ اور اس سے متعلقہ کاروبار پر انحصار ان کی زندگی کا بنیادی نقطہ ہے۔
٭ اسکول کی تعلیم سائنسی کامیابیوں، ذاتی خواہشات کی تسکین ، مقابلے کی فضاءاور دیگر طلبہ و طالبات کے ساتھ میل جول پر مشتمل ہے ۔ اس کے مقابلے میں آمش برادری غیر رسمی اور عملی تعلیم کے ذریعے چالاکی کے بجائے اچھائی، تکنیکی علوم کے بجائے دانش،ذاتی ترقی کے بجائے برادری کی ترقی اور دنیا سے جڑنے کے بجائے دنیا سے بے رغبتی کی روش پر عمل پیرا ہے۔
٭ ایک مرتبہ جب آمش بچے بنیادی تعلیم کی اہم مہارتیں یعنی مطالعہ، لکھنا اور بنیادی حساب سیکھ لیتے ہیں تو آمش برادری اپنے بچوں کو یہ سب مہارتیں عملی زندگی میں آزمانے کا موقع دیتی ہے۔ اسی دوران آمش بچے اپنے برادری اور عقیدے سے گہری وابستگی اختیار کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ رضاکارانہ بنیادوں پر ہوتا ہے۔ اگر عمر کے اس حصے میں آمش نوجوان اپنی برادری کا طرز زندگی ترک کرنا چاہیں تو وہ ایسا بھی کرسکتے ہیں مگر نوے90فیصد سے زیادہ آمش نوجوان لڑکیا ں اور لڑکے اپنے آمش طر ز زندگی کو ہی اختیار کرتے ہیں۔
٭ امریکی عدالت نے قراردیا کہ اسکول کی تعلیم کے دوران غیر آمش اساتذہ اور جدید طرز تعلیم، آمش طلبہ اور ان کی برادری کے درمیان ایک رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
آمش امور کے ماہرجون ہوسٹ ٹیٹلرJohn Hostetlerنے عدالت کو بتایا کہ امریکی اسکول نصاب، ماحول اور اپنے طریقہ کار کے لحاظ سے آمش تعلیمات سے متضاد ہیں۔ ان اسکولوں میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں مقابلے کی فضاءاور طلبہ و طالبات کا اکٹھا رہنا آمش تعلیمات کے خلاف ہے ۔ آمش قوم کے افراد دنیاوی معاملات میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے بجائے ایک دوسرے کی مدد پر یقین رکھتے ہیں۔ آمش ابتدائی تعلیم پر اس لئے اعتراض نہیں کرتے کہ اس طرح بچے بائبل کی تعلیمات، زراعت اور کاروبار کے بارے آسانی سے جاننے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ اس ابتدائی تعلیم کے ذریعے وہ ایک اچھے پر امن شہری بننے کے علاوہ غیر آمش لوگوں سے برتاﺅکرنا بھی سیکھتے ہیں۔ یہ ابتدائی تعلیم انہیں دنیاوی مستقبل(Career) کے سہانے خوابوں سے وابستہ نہیں کرتی۔ اس ابتدائی تعلیم کے بعد آمش طرز زندگی قبول کرنے والے نوجوان لڑکیاں اور لڑکے اپنے مذہبی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آمش قوم کا خیال ہے کہ اعلیٰ تعلیم ،بلند معیار زندگی اورحرص و ہوس کی عمومی فضاءکو جنم دیتی ہے جو برادرانہ اخوت اور بھائی چارے کے خلاف ہے۔
عام عیسائی فرقوں کے برعکس آمش فرقے کے لوگ اپنے بچوں کو پیدائش کے وقت بپتسمہ دینے کے بجائے سولہ سال کی عمر میں بپتسمہ دیتے ہیں۔ اس رسم کی وجہ سے بھی آمش دیگر عیسائی فرقوں سے منفرد ہیں ۔بپتسمہ دینے کے مختلف طریقے اور دیگر چند اختلافات کے سبب یورپ میں یہ عیسائی فرقہ دیگر فرقوں کے عتاب کا شکار رہا۔ یہ لوگ یورپ کے ایک شہر سے دوسرے شہر دربدر پھرتے رہے مگر انجیل سے مضبوط تعلق اور عیسیٰ ؑ اور ان کے دور سے شدید محبت کی زنجیر نے انہیں باہم متحد رکھا۔
اٹھارہویں صدی کے دوران ولیم پین William Penn کی دعوت پر بےش تر آمش سوئزر لینڈ سے امریکی ریاست پنسلوانیامنتقل ہوگئے جہاں انہیں اپنے عقیدے اور طرز زندگی کو بروئے کار لانے کی مکمل آزادی نصیب ہوئی۔
آمش قوم اطاعت، عاجزی اور سادہ طرز زندگی کوا پنے مذہبی شعار میں شامل سمجھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عقیدہ آپ کی عملی زندگی میں نظر آنا چاہے نہ محض پروپیگنڈہ میں۔ آمش اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عقیدے کا اظہار نہ صرف عبادات بلکہ روزمرّہ کی زندگی میں ہوتا ہے۔
یہ لوگ محض جدید دنیا کے دباﺅ پر اپنا طرز زندگی بدلنے کو تیار نہیں۔امریکی سپریم کورٹ کی طرح دیگر ریاستی ادارے بھی یہ بات ماننے پر مجبور ہوگئے کہ آمش طرز زندگی کے تمام پہلو نہ صرف باہم ایک دوسرے سے منسلک ہیں بلکہ یہ سب مرکزی طور پر اپنے اس عقیدے سے منسلک ہیں کہ پیغمبر ؑ کا طرز زندگی بعد میں آنے والے کسی بھی طرز زندگی سے بہتر ہے اور ہر زمانے میںقابل عمل بھی ہے۔آمش قوم گھوڑوں اور بگھیوں کے ذریعے سفر کرتی ہے اور جدید گاڑیوں سے مکمل پرہیزکرتی ہے اگرچہ پنسلوانیا کے آمش علاقوں میں جدید گاڑیوں کے داخلے کی ممانعت کوئی باقاعدہ قانون موجود نہیں مگر مقامی پولیس افسران گھوڑوں اور بگھیوں کے علاوہ دیگر گاڑیوں کو ان علاقوں میں داخل نہیںہونے دیتے۔
آمش قوم انہی خصوصیات سے مالا مال ہے جو ماضی میں ہر مذہبی اور فطری معاشرہ کا حصہ رہی ہےں۔ سخت محنت، سادگی، بڑے خاندان، مضبوط خاندانی اکائی، ہمہ وقت گھر میں موجود رہے والی مائیں، بزرگوں کااحترام ،زراعت پر انحصار، پڑوسیوں سے گہرے خوش گوارتعلقات اورعمر بھر کامیاب ازدواجی زندگی وغیرہ ۔دور جدید کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس نے ان میں سے بیش تر اقدار کا خاتمہ کردیا ہے۔
سادہ طرز زندگی گزارنے کی روش آمش قوم کی ترجیحات سے منسلک ہے۔ ان کی ترجیحات میں مضبوط خاندانی نظام زبردست اہمیت رکھتا ہے۔ ہر فطری معاشرے کی طرح آمش معاشرہ بڑی خاندانی اکائی کا حامل ہے۔ آمش خاندان میں آنے والا ہر بچہ مبارک سمجھا جاتا ہے ۔دوسری طرف کوئی آمش بچہ( دیگر امریکی بچوں کی طرح) اس خوف کا شکار نہیں ہوتا کہ کہیں اس کے ماں باپ کی راہیں جدا نہ ہوجائیں اور نہ ہی کوئی آمش بچہ تربیت کے لیے ڈے کئیر سینٹریا نوکرانیوں کے سپرد کیا جاتا ہے۔ روایتی معاشروں کے طرح یہاں بھی گھر کا انتظام اور بچوں کی تربیت کا بڑا حصہ ماﺅں کے سپرد ہے ۔ اور باپ کماکر لانے کا ذمہ دارہے۔ یہاں مرد اور خواتین کی زندگی ایک دوسرے پر منحصر اور وابستہ ہے۔ آمش خاندان کی زرعی اراضی اور مویشیوں کی دیکھ بھال کے لئے مردوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ مشینری ،بجلی اورٹیکنالوجی کے بغیر زراعت اور ڈیر فارمنگ کی جاتی ہے۔اسی طرح آمش مرد سخت محنت اور مصروفیات کی بناءپر اپنے گھر کی ذ مہ داری کے لئے ہمہ وقت گھر میں موجود رہنے والی بیوی چاہتے ہیں تاکہ گھر داری اور بچوں کی تربیت کی طرف سے مطمئن رہ سکیں۔ آمش مرد اور عورت کی یہ مجبوری بھی انہیں ایک دوسرے سے مضبوط بندھن میں باندھ کر رکھتی ہے جبکہ بڑا خاندان اور مذہبی تعلیمات اس پر مستزاد ہیں۔ ایسا نہیں کہ آمش میاں بیوی ازواجی جھگڑوں اور اختلافات سے ناآشنا ہیں بلکہ جدید طرز زندگی کی خاندان شکن وجوہات سے دور رہنے کے سبب ان کی زندگی میں عورت اور مرد تنازعات کو خاندان کے اندر حل کرنے کا رحجان رکھتے ہیں۔
آمش خاندان جدید ٹیکنالوجی سے گریز کی وجہ سے زراعت، ڈیری فارمنگ اور ان سے وابستہ دیگر پیشوں سے منسلک ہیں۔ آمش خاندان کا ہرفرد زندگی کی جدوجہد کا شریک ہے۔ آمش گھر کے لڑکے باپ کے کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ لڑکیاں امور خانہ داری میں ماں کی مدد کرتی ہیں یہ ہمہ وقتی مشغولیت آمش معاشرے کو ذہنی امراض، جرائم اور خود کشی جیسے ان نتائج سے محفوظ رکھتی ہے جو امریکہ ، یورپ اور چین میں گھمبیر شکل اختیار کر چکے ہیں۔
امریکہ کے بیچوں بیچ آباد اس قوم کی ایک خصوصیت پیدائش سے موت تک کا اجتماعی تحفظ ہے ۔ آمش قوم کا ہر فرد اپنے آپ کو محفوظ خیال کرتا ہے ۔ اس کے باوجود کے آمش قوم ہر قسم کی سرکاری سر پرستی، تحفظ یا فلاح و بہبود اور انشورنس کو رد کرتی ہے۔ مگر ان سب باتوں کے باوجود آمش لوگوں کی املاک، جان و مال اور صحت دیگر امریکی شہریوں سے بدر جہا بہتر اور محفوظ ہیں۔ آمش قوم کا موقف یہ ہے کہ ضرورت مند افراد کو ضروریات زندگی کی فراہمی، شہریوں کا تحفظ اور فلاح و بہبود کا کام نہ تو دفتری مزاج رکھنے والے حکومتی اداروں کے سپرد کیا جاسکتا ہے اورنہ کاروباری اداروں کے بلکہ ہر فرد کو پر امن، ذمہ دار اور معاون شخصیت میں ڈھال کر معاشرتی تحفظ اور فرد کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اپنے اس موقف کو آمش قوم نے اپنے پر امن، ذمہ دار اور ایک دوسرے کے مددکار شہریوں پر مشتمل معاشرے کی تشکیل دے کر ثابت کر دیا ہے ، البتہ ایک ادارہ ایسا ہے جو آمش شہریوں کے فلاح ہ بہبود کا کام کر سکتا ہے۔ اور وہ ہے ان کا اپنا چرچ۔ آمش قوم کو انشورنس کی ضرورت اس لیے بھی ضرورت نہیں پڑتی کہ کسی بھی نقصان کی صورت میں آمش شہری کا وسیع خاندان اور چرچ اس کی مدد اس کی مدد کے لیے موجود ہے۔ آمش قوم کی خاندانی اقدار اس قدر مظبوط ہیں کہ ان کے ہاں بزرگ شہریوں کے لئے (دنیا بھر میں مروجہ) اولڈ پیپلز ہومز کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ خاندان کے تمام افراد بزرگوں کی خدمت کرتے اور در حقیقت انہیں احساس دلاتے ہیں کہ خاندا ن کو ان کی ضرورت ہے۔ جس طرح آمش خاندان میں آنے والا ہر بچہ مطلوب اور محبوب ہوتا ہے۔ اسی طرح آمش قوم کی تمام برادریوں میں بزرگوں کا احترام اور گھر میں ان کی نمایاں شخصیت ایک مشترکہ خصوصیت ہے۔
چرچ وہ سب سے اہم ادارہ ہے جس میں آمش قوم کو اپنی روایات، قومی خصوصیات اور سادہ طرز زندگی سے جوڑ رکھا ہے۔ اگر آمش قوم کا چرچ اس قدر فعال اور محترم نہ ہوتا تو ایک آمش فرد کے لئے اپنی تہذیب، تاریخ اور روایات سے منسلک رہنا اتنا آسان نہ ہوتا۔ آج آمش قوم اپنی منفرد خصوصیات اور انوکھے طرز زندگی کے سبب امریکہ میں اجنبی ہے ۔ امریکہ میں آمش قوم کے افراد ہراساں کرنے ،قتل کرنے اور ان کی بگھیوں پر پتھراﺅ جیسے واقعات ہوتے رہتے ہیں مگر ان سب کے باوجود آمش قوم اپنے عقیدے ،طرز زندگی اورتہذیب کو اپنائے ہوئے ہے۔

4 responses to this post.

  1. معلومات شیئر کرنے کا شکریہ۔۔۔

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s