لیاقت علی خان کا قتل



نیاز سواتی
niazhussain.swati@yahoo.com

ہماری تاریخ عظیم شخصیات کے پراسرار قتل اورقومی سانحات سے پر ہے مگرستم ظریفی یہ ہے کہ اس قسم کے قتل اور قومی سانحات کی تفصیلی تحقیقات اور ان کے نتائج سے ہم آج تک لاعلم ہیں۔کچھ عرصہ پریس اور عوام میں اس طرح کے موضوعات زبان ِ زد عام رہتے ہیں ۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ نامعلوم ہاتھ تمام تر تحقیقات کار خ موڑدیتے ہیں یا ان تحقیقات کے نتائج سے قوم کو بے بہرہ رکھا جاتا ہے ۔ اس کا نتیجہ ہے قوم یکے بعد دیگرے ایسے سانحات کا سامنا کرتی رہتی ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب زادہ لیاقت علی خان کا قتل بھی ان ہی سانحات کا حصٓہ ہے ۔
پاکستان اپنے قیام سے ہی ایسے کئی مسائل سے دوچار تھا جن میں سے ایک بھی مسئلہ ایک مستحکم ملک کے چولیں ہلادینے کے لیے کافی ہے ۔ ناجائزسر حدی حد بندی ، مسئلہ کشمیر، مہاجرین کی مسلسل آمد ،اثاثوں کی غیر منصفانہ تقسیم اور قومی خزانے کی کمزور حالت سے دوچار ملک کو اپنے قیام کے تھوڑے ہی عرصے بعد قائداعظم اور قائد ملت جیسی عظیم ہستیوں سے محروم ہونا پڑا ۔قائداعظم کے انتقال کی طرح قائد ملت کے بے وقت قتل نے پاکستان کی تاریخ پر دوررس اثرات مرتب کیے ۔ ان اثرات کا شاخسانہ ہے کہ آج تک ملک مستحکم حکومت سے محروم ہے۔
یہ 16 اکتوبر1951کا دن تھا جب اس قوم کے باسیوں نے یہ روح فرسا خبر سنی کہ ملک کے پہلے وزیراعظم اور تحریک پاکستان کے نمایاں ترین قائد لیاقت علی خان کو راول پنڈی کے جلسہ ¿ عام میں گولیاں مارکرشہید کردیا گیاہے۔ اس قتل کو شروع ہی سے سازش کے پردوں میں چھپالینے والا امر یہ تھا کہ لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر کو باوجود قابو پالینے کے پولیس اہل کاروںنے قتل کردیا ۔ اس طرح اس سازش کا اہم ترین ثبوت فوراََ تلف کردیا گیا۔ شروع میں افواہیں گشت کرنے لگیں کہ یہ قتل انتہا پسند خاکسار تحریک کا کام ہے مگر بعد کی تحقیقات نے اس بات کی نفی کردی ۔ سید اکبر خان افغانستان کے صوبے خوست کا رہنے والا تھا جس کے والد کانام ببرک خان تھا۔ سید اکبر اور اس کے بھائی نے مل کر اپنے صوبے میں برطانوی حکومت کے خلاف شورش برپاکردی مگر جلد ہی اسے دبادیا گیا۔ سید اکبر اور اس کے بھائی دونوں فرار ہوگئے ، کچھ عرصے کے بعد ان دونوں بھائیوں نے برطانوی حکومت کے سامنے رضاکارانہ گرفتاری پیش کردی ۔ برطانوی حکومت نے ان دونوں بھائیوں کو ہزارہ کے شہر ایبٹ آباد میں سکونت فراہم کرکے ان کی پنشن مقرر کردی اور ان کی نقل وحرکت کو ایبٹ آباد تک محدود کردیا۔جہاں سے پراسرار طورپر سید اکبر نے راول پنڈی پہنچ کر قتل کی واردات کردی۔
24اپریل 1952کو حکومت پاکستان نے اس سانحے کی تحقیقات کی رپورٹ کا خلاصہ شائع کیا ۔ یہ رپورٹ ابہام اور نتیجہ خیزی کے فقدان کی وجہ سے ملک گیر پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنی ۔ اس رپورٹ کی اشاعت نے حکومت پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ پورے ملک میں یہ تائثر عام ہوگیا کہ حکومت لیاقت علی خان کے قتل کے اہم حقائق پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک عام تائثر یہ بھی تھا کہ حکومت اس قتل کے تمام تر حقائق سے آگاہ ہے مگر ان حقائق کے انکشاف میں چند نادیدہ قوتیں مزاحم ہیں۔
اس رپورٹ کی اشاعت نے پورے ملک میں بے اطمینانی اور تشویش کی لہر دوڑادی۔ اس معاملے میں کراچی قومی امنگوں کا ترجمان ثابت ہوا۔ کراچی کے اردو روزنامہ ”انجام“ کے مدیر صدیق وہاب نے کراچی مسلم لیگ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر اس قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا اور اس قتل کے حقائق کی پردہ پوشی کا مجرم قرار دیا۔ اس تقریر کے بعد صدیق وہاب کو گرفتار کرلیا گیا۔ اسی دن بیگم رعنا لیاقت نے حکومت کی اس رپورٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا©”اس رپورٹ کو پڑھ کر ہر شخص یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ آخر اس قتل کے اہم ترین سوالات کو اس رپورٹ میں کیوں نظر انداز کیا گیاہے؟“ ان سوالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ قتل سید اکبر کا ذاتی فعل تھا یا کسی گہری سازش کا نتیجہ؟ اب یہ قوم کا فرض ہے کہ اس قتل کے پس کردہ کرداروں کو بے نقاب کرے۔
اس موقع پر یہ تائثر عام ہوگیا کہ لیاقت علی خان کے قتل میں صوبائی و مرکزی حکومتوں یا اسٹبلشمنٹ کی کوئی اہم ترین شخصیت ملوث ہے۔ لیا قت علی خان کے قتل کی تحقیقات پر متعین انسپکٹر جنرل آف پولیس سرکاری طیارے میں جاں بحق ہوگئے۔اس پراسرا ر موت نے شکوک و شبہات کے نئے سلسلے کو جنم دیا۔اس وقت کی اپوزیشن کے قائد اور جناح عوامی لیگ کے سربراہ حسین شہید سہروردی نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ پنجاب حکومت کو اس پراسرار قتل کی سازش کے تہہ تک پہنچ کر حقائق معلوم کرے۔ اس حادثے کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکشاف کیا کہ لیاقت علی خان قتل کیس کی اہم ترین دستاویز اس حادثے میں انسپکٹر جنر ل آف پولیس کے ہمراہ تھیں ضائع ہوگئیںہیں۔اس صورت حال نے لیاقت علی خان قتل کیس کے گرد سازش کے تانے بانے کو واضح کیا۔قوم نے اس مشکوک حادثے کے ذریعے جانا کہ کوئی اعلیٰ ترین حکومتی شخصیت لیاقت علی خان قتل کیس کے حقائق کو سامنے نہیں آنے دینا چاہتی۔ اس سلسلے میں راول پنڈی کے ایس ایس پی خان نجف خان (یہ اس وقت ڈی آئی جی کی حیثیت میں کام کررہے تھے)کی مثال بھی خاصی اہم تھی ۔ خان نجف خان وزیراعظم کے حفاظتی امور کے ذمہ دار تھے ۔ انہیں اپنی ذمے داری میں کوتاہی کے الزام پر مبنی چارج شیٹ جاری کی گئی مگر وقتی طور پر معطل کرنے کے علاوہ کوئی سزا
نہ دی گئی۔کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ خان نجف خان کے کردار پر زور دے کر اس سازش کے اہم کرداروں کو بچالیا گیا ہے۔
عوام نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت خود اس قتل کی تحقیقات کرے ۔ یہ مطالبہ اس وجہ سے بھی وزن رکھتاتھا کہ لیاقت علی خان وزیراعظم پاکستان تھے مگر مرکزی حکومت کا کہنا تھا کہ امن و امان صوبائی معاملہ ہے لہٰذا اس قسم کی تحقیقات صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے ۔دوسری طرف صوبہ سرحد اور پنجاب کی حکومتیں ایک دوسرے کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرانے پر بضد تھیں۔ پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ لیاقت علی خان کے قاتل سید اکبر کی نقل و حمل کو ایبٹ آباد تک محدود رکھنا سرحد حکومت کی ذمہ داری تھی جب کہ سرحد حکومت کے مطابق یہ واقعہ پنجاب حکومت کی حدود میں پیش آیا تھا ۔
اس سلسلے میں راول پنڈی سازش کیس کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔اس وقت ملک میں یہ تائثر عام ہوچلا تھا کہ راول پنڈی سازش کیس اور لیاقت علی خان قتل کیس کا منصوبہ ساز ایک ہی فرد ہے۔ اس خیال کے حامل مکتبہ ¿ فکر کا کہنا تھا کہ لیاقت علی خان راول پنڈی سازش کیس کے مجرموں کو سزائے موت دینا چاہتے تھے لہٰذا خود انہیں راستے سے ہٹانا ضروری تھا۔ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد راول پنڈی سازش کیس کے ملزمان کی رہائی سے ان خدشات کو اور زیادہ تقویت ملی۔
لیاقت علی خان کے قتل کے دوسال بعد بھی صورت حال جوں کی توں رہی۔قتل کی وجوہات کے متعلق مکمل اندھیرے میں رکھنے کی روش نے بیگم رعنا لیاقت کو یہ کہنا پر مجبور کردیا کہ یہ حیرت انگیز امر ہے کہ دو سال قبل دن دہاڑے ہزاروں لوگوں کے سامنے ہونے والے اس قتل کے سلسلے میں اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ اس قتل کی تحقیقات میں کون سا امر مانع ہے۔ اس موقع پر غیرملکی ماہرین کے ذریعے اس قتل کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا جسے حکومت نے نامنظور کردیا۔
لیاقت علی خان کا قتل اپنی مشکوک تحقیقات اور ان کے نامعلوم نتائج کی وجہ سے ملک میں اس طرح کی سازشوں کا دروازہ کھول گیا۔ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ملک سیاسی استحکام حاصل نہ کرسکا اور تھوڑے عرصے بعدپے درپے مارشل لاﺅں کی زد میں آکر دو ٹکڑے ہوگیا۔ ملک کے ایک وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک مشکوک مقدمے میں پھانسی دے دی گئی ۔وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بھائی مرتضٰی بھٹو کو ان کی بہن کی وزارت عظمیٰ میں دن دہاڑے ان کی رہائش گاہ کے قریب قتل کردیا گیا ۔ اس قتل کے بارے میں آج تک کچھ معلوم نہ ہوسکا کہ اس کے ذمہ داران کون تھے ؟ اس قتل کی تحقیقات کے لیے قابلیت اور دیانت داری کی شہرت رکھنے والے جج ناصر اسلم زاہد کا تقرر کیا گیا مگر وہ صرف اس بات کی نشاندہی کرسکے کہ مرتضیٰ کے قتل میں کوئی اعلیٰ ترین حکومتی شخصیت ملوث ہے ۔ خود وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو اس لیاقت باغ کے باہر قتل کردیا گیا جہاں لیاقت علی خان کو نشانہ بنایا گیا تھا ۔ لیاقت علی خان کی برسی ہمیںہماری قومی بے حسی غفلت اور احتساب کے فقدان کی طرف راغب کرتی رہے گی۔ کاش ہم اس قومی سانحے سے کوئی سبق حاصل کرسکتے۔

2 responses to this post.

  1. JAZAK ALLAH FOR THIS KIND ACTION.

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s