جدیدیت کیا ہے ؟



نیاز سواتی
niaz.swati.71@gmail.com

”جدیدیت“کالفظ ’انگرےزی اصطلاح ”ماڈرنٹی“(Modernity)کے اردو متبادل کے طور پر استعمال کیا جارہاہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ایک زبان کی کسی اصطلاح کا بعینہ مفہوم کسی دوسری زبان کا کوئی ایک لفظ مکمل طو پر ادا نہیں کرسکتا، خاص طور پر ایسی اصطلاحات جو اپنا خا ص تاریخی ، سماجی اور تہذیبی پس منظر رکھتی ہیں ،عام طور پر ناقابل ترجمہ ہوتی ہیں ۔ کسی اجنبی زبان کے الفاظ و اصطلاحات کا مطلب معلوم کرنے کا عام اور سادہ طریقہ یہ ہے کہ اپنی زبان میں اس لفظ کا متبادل اور ہم معنی لفظ تلاش کیا جائے۔ بدقسمتی سے ےہ طریقہ علمی حلقوں اور خصوصًافلسفےانہ موضوعات اور اصطلاحات کی تفہیم کے ضمن میں غیر معتبر قرار پایاہی۔ تہذیبی و تاریخی تصورات کا اصل زبان میں باقاعدہ اور دقت نظر سے مطالعہ کیے بغیر محض سادہ ترجمے کی بنیاد پر استعمال، ان تصورات کی تفہیم کو نہ صرف مشکل بنا سکتاہے بلکہ مزید پیچیدگی اور غلط فہمیوں کا باعث بن سکتاہے۔ فرڈی نینڈڈی سوسیئر(Ferdinand de Saussure)نے لسانی نظام کو ایک معاشرتی عمل کے طور پر تسلیم کیا ہے ۔اس کے پیش کردہ تصور (Langue) کے مطابق زبان کے داخلی اصول اور شعریات ایک طویل عرصے بعد وضع ہوتے ہیں ۔ ہر زبان اپنے داخل میں نشانات و علامات اور تصورات کی الگ دنیا اور پس منظر رکھتی ہے ۔ ۱ تاریخ، جغرافیہ اور تہذیب کے اختلاف کے سبب زبانیں ہرجذبے کے بیان کے لیے اپنامختلف اور منفرد پیرایہ ¿ اظہار کھتی ہیں ۔خوشی اور غم کے تجربات اور واقعات کی روانی سے فہم اخذ کرنے کا انداز ہر زبان کا جدا ہے۔ کسی زبان میں ترجمے کے ذریعے اصل زبان کے متن کے بارے میں جو معلومات مہیا ہوتی ہیں وہ بالواسطہ ہوتی ہیں اور ان پرکلیتًا انحصار نہیں کیا جا سکتا ، ترجمے کے الفاظ اور جملے اگر اصل عبارت سے قریب ہوں تب بھی وہ زیادہ سے زیادہ جزوی مطابقت ظاہر کر تے ہیں۔ وٹگنسٹائن کا کہنا ہے کہ کسی مخصوص طرز زندگی یا تصور کااس کی زبان کے باہر سے تجزیہ ناممکن ہے ،اسے صرف اندر سے ،اس کی اپنی اصطلاحات اور لفظیات کی رو سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ۲
آج کل کی زباں زدِعام اصطلاحات ،بیسک ہیومن رائٹس، کانسٹی ٹیوشن، فریڈم اور ڈیمو کریسی کو بالترتیب بنیادی انسانی حقوق ، دستور، آزادی اور جمہوریت کی شکل میں ترجمے کے ذریعے اپنا لیا گیا ہے مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ان مفاہیم پر محض سادہ ترجمے کی بناپر حکم لگانا عمومًاغلط فہمیوں کی بنیاد بنتا ہے۔ ۳ جدیدیت کی اصطلاح کے ساتھ بھی یہی معاملہ درپیش ہے ۔ اس طرح کی مغربی اصطلاحات ہمارے سیاق وسباق اورتہذیب و ثقافت میں استعمال نہیں ہوئیں اور نہ ہی یہ اصطلاحات ہمارے تاریخی اور علمی شعور کا حصہ ہیںلہٰذا ن کی تفہیم دقت نظر اور تاریخی تناظر کے ادراک کے بغیر نامکمل رہے گی ۔ ۴ جدیدیت کی اصطلاح یورپ میں نشاة الثانیہ کے دوران پرورش پانے والی ایک بہت بڑی تبدیلی کی مظہر ہے جو اٹھارہویں صدی میں عروج پر پہنچی نہ کہ اسلامی تہذیب سے برآمد ہونے والی اصطلاح ،مگر اس کے مفہوم کے تعین کے وقت انتہائی سادگی سے اسے محض ”نئی چیز “کے مترادف سمجھا جاتا ہے ۔اس ”نئی چیز “ کے مفہوم میں ترقی یافتہ فطری ،غیراقداری(Value Neutral) اور بہتر‘ہونے کے تمام معانی طے شدہ سمجھے جاتے ہیں ۔جدیدیت کی جنم بھومی یعنی یورپ کی تاریخ بتاتی ہے کہ ماڈرنٹی یا روشن خیالی کوئی نیا، فطری اور ترقی یافتہ تصور نہیں اور نہ ہی یہ کوئی غیر اقداری تصور و اصطلاح ہے بلکہ قدیم ترین یونانی تہذیب کے تصور انسان ،تصور تہذیب اور تصور کائنات طرف مراجعت اور اس کے نئے سرے سے احیاءکا نام جدیدیت ہے۔
آگے بڑھنے سے پیش تر یہاںوسیع البنیادجدیدیت (Modernity) ،جمالیاتی جدیدیت (Modernisim) اور تجدید
کاری(Modernization) میں فرق کی وضاحت ضروری ہے ۔یورپ میں قرون وسطیٰ (Middle Ages) کے بعد مذہب سے بغاوت کے نتیجے میں جنم لینے والی حاوی فکر یاذریعہ ¿ علم (Episteme) نے تین فروعات کی شکل میں اپنا ظہور کیا ۔
۱۔ وسیع تر جدیدیت (Modernity)
۲۔ جمالیاتی جدیدیت (Modernism)
۳۔ تجدید کاری(Modernization)
نشاة الثانیہ کے بعد مغر ب کی فکر میں پیدا ہونے والی بنیا دی تبدیلی کا نام وسیع تر جدیدیت ہے ۔ تجدید کاری (Modernization) اور جمالیاتی جدیدیت (Modernism) ، وسیع اور ہمہ گیر جدیدیت(Modernity)سے پھوٹنے والی شاخیں ہیں ۔ ۵
جدیدیت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان اپنی ذات سے باہرسے عائد کردہ کسی مقتدرہ کے حکم یا کسی بالاتر ہستی کے پیغام(وحی) کو تسلیم نہ کرے بلکہ ہر چیز کے حسن وقبح کا فیصلہ اپنی عقل اور تجربے کی روشنی میں کرے۔ یہ تجربہ یا تو انسان کا اپنا ہو گا یاپھر کسی اور کے تجربے کو انسان اس شرط پر قبول کرلے گا کہ وہ اسے اپنے تجربے کی بنیاد پر ردّ کرسکے ۔ ۶ جدیدیت قائم ہی اپنے بنیادی نظریے یعنی انسان پرستی پر ہے، جس کی انتقادی روح نے اسے خدا مرکز کائنات سے نکال کر انسان مرکز کائنات کا یقین دلایا۔ جدیدیت کی ساری لہریں اسی انسان پرستی کی فضاءسے گزرتی ہیں۔جدیدیت کے مخاطبے(Discourse) میں انسان کا موضوع صرف انسان اور اس کی فردیت ہے۔ ۷
جرگن ہیبرماس Jürgen Habermas) (کا خیال ہے کہ روشن خیالی کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ماضی کے کسی حوالے کی محتاج نہیں بلکہ وہ اپنا حوالہ خود ہے۔ روشن خیالی سے قبل کے تصورات اپنے جواز کے لئے کسی نہ کسی حوالے کی محتاج رہے ہیں مگر روشن خیالی نے اپنے تصورات کے لئے ماضی کا کوئی حوالہ استعمال نہیں کیا ، ہیبر ماس کے الفاظ میں:
(It has to create its own normativity out of itself.)
ترجمہ:’ ’ روشن خیالی کو اپنا جواز خود اپنے اندر سے تخلیق کر ناہے ۔ ۸
ہیبر ماس کے اس تجزیے کے علی الرغم حقیقت یہ ہے کہ روشن خیالی نے اپنا جوازقدیم ترین اور انسان پرست یونانی تہذیب میں تلاش کر لیا تھا۔ یہ جواز کیا تھا؟ یہ جوازعیسائیت کی علمیت کو رد کرکے انسان اور اس کی عقل اور تجربے کو ذریعہ ¿ علم ماننا تھا۔ اب خدا پرستی کی جگہ انسا ن پرستی نے لے لی۔ معادکے بجائے معاش قابل ترجیح قرار پائی۔ انجیل کی جگہ عقل انسانی یا سائنس ذریعہ علم قرار پائی۔انسائیکلو پیڈیا آف سوشل سائنسز کے مطابق جدیدیت نام ہے مذہب اور اس کی روایات کو سائنسی عقلیت کے تابع کرنے کا ۔ ۹ مگر یہ ساری تبدیلی دو چار برس کا قصہ نہیں بلکہ یورپ کی تاریخ میں صدیوں کے دوران انجام پذیر ہونے والا وہ عمل ہے جوچودھویں اور پندرھویں صدی کے درمیان (بطورنشاة الثانیہ) شروع ہو کرانیسویں صدی میں جدیدیت یا ماڈرنٹی کی شکل میں عروج پر جا پہنچا۔ اس دوران قدیم (عیسائیت)کو رد کرکے قدیم ترین (یونانی علمیت) کی بازیافت کی گئی۔ یہ بات نہیں کہ قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں یونانی علوم کو بھلادیا گیا تھا بلکہ حقیقت یہ تھی یونانی علوم چونکہ وحی الہٰی سے کوئی علاقہ نہیں رکھتے تھے اس لیے قرون وسطیٰ کا یورپ انہیں ثانوی اہمیت دیتا تھا اور اس دور میں اصل اہمیت مذہبی علوم کو حاصل تھی ۔ ۰۱ نشاة الثانیہ عیسائیت سے تصادم اور انسان پرستی کی بنیاد قرار پانے کے نتیجے میں اپنے اندر مذہب بیزاری کا عمومی رحجان
رکھتی تھی لہذا اس نے عیسائیت سے یونانی دور کی طرف مراجعت اختیار کرلی،اسی یونانی تہذیب کی طرف جو ،ہر معاملے کو انسان کے پیمانے سے دیکھتی تھی نہ کہ سماوی ہدایت کی کسوٹی پر ۔
جدےدیت کے سب بڑے ناقد محمد حسن عسکری نے یورپی نشا ¿ة الثانیہ کو جدیدیت کا نقطئہ آغاز قرار دیا ہے۔ ۱۱ نشا ¿ة الثانیہ (جو روشن خیالی کی بنیا د ہے) نے پہلے یورپ کی علمیت اورپھراس کی زندگی کے حقیقی پیراڈائم (Paradigm) کو تبدیل کر دیا۔نشا ¿ة الثانیہ نے روشن خیالی کو جنم دے کر ایک اہم سنگ میل طے کیا ۔اسی روشن خیالی کی کوکھ سے جدیدیت نے جنم لیا ۔ ۲۱ روشن خیالی اپنی چند خصوصیات کی وجہ سے اپنی امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی مرکزی خصوصیات انسان پرستی (Humanism)، عقلیت (Rationalism)اور انسان کی ذات سے باہر ہر قسم کے ذریعہ ¿ علم اور اتھارٹی کا انکار ہےں اور ےہی مغرب کی آزادی(Freedom)کا حقیقی مفہوم ہے ۔ یہ تینوں خصوصیات باہم مربوط اور پیوست ہیں۔انسان پرستی (Humanism)اس بات کی متقاضی ہے کہ علم کا واحد معیار انسانی عقل یا اسکے نتیجے میں تشکیل پانے والی تجربی سائنس کو ماناجائے نہ کہ وحی یا انسان کی ذات سے باہر کوئی اور ذریعہ علم ،انسان اور اس کی عقل کو سب کچھ مان لینے کے بعد یہ بھی ضروری تھا کہ انسا ن اپنے علاوہ کسی مقتدر یا بالاتر ہستی کا محتاج نہ رہے ،یہیںسے آزادی(Freedom) روشن خیالی یا جدیدیت کا نقطہ ¿ ماسکہ قرار پاتی ہے۔ ان تینوں خصوصیات کا باہمی ربط یہی ہے ۔بابائے اردو مولوی عبدالحق نے Humanism) )کی وضاحت کرتے ہوئے اسے ایسا مذہب انسانیت قرار دیا ہے جس کی رو سے انسان کی ذات کائنات کا مرکز ہے،گویا کائنات (Human Centric) ہے نہ کہ خدا مرکز (God Centric) ۔اس مسلک انسانیت کے تقاضے کیا ہیں ؟ مولوی عبدالحق کا کہنا ہے کہ عالم آخرت کے بجائے عالم طبیعی (Physical World) کا مطالعہ اور اس کی ترقی کی کوشش اس مسلک انسانیت کا تقاضہ ہے ۔ مولوی صاحب اس تصور کے مرکزی خیال کی وضاحت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں مذہب انسانیت کا پیرو کسی مافوق الادراک ہستی اور وجود (خدا، وحی فرشتے،جن،جنت اوردوزخ ) کا قائل نہیں ہوتا بلکہ انسان کی دنیاوی فلاح کی کوشش کو ذریعہ ¿ نجات سمجھتا ہے۔ ۳۱
یورپی نشا ¿ة الثانیہ نے اپنے فکری ظہور کے ساتھ کائنات سے متعلق تصورات ہی بدل دیے ۔ قرون وسطٰی کا انسان طبیعی دنیا کو ایک مابعدالطبیعیاتی حقیقت کا ظہور قرار دیتا تھا ۔ نشا ¿ة الثانیہ نے اسے باور کرایا کہ حقیقت صرف وہی ہے جسے انسانی حواس کے ذریعے سمجھاجاسکے ۔ اس طرح غیر محسوس انداز میں مابعد الطبیعیات کے مسائل لایعنی قرار پائے اور اس دنیا (This Wrld) کو اس دنیا (That World) سے برتر قرار دیا جانے لگا۔ جدیدیت کی عقلیت پسندی ہر اس اتھارٹی اور روایت کا بطلان کرتی ہے جو عقل کی میزان پر پورا نہ اترے ۔ ۴۱ الہام کے بجائے عقل انسانی سے رائے قائم کرنا اور حقیقی علم کا ذریعہ وحی یا کسی مافوق الفطرت ہستی کو سمجھنے کے بجائے انسانی عقل کو سمجھنا عقلیت(Rationalism) کا حقیقی مفہوم ہے۔
یورپی نشا ¿ة الثانیہ سے شروع ہونے والا سفر اٹھارہویں صدی میں روشن خیالی کی منزل پر پہنچ گیا ۔ اس دوران پانچویں صدی قبل مسیح کے سوفسطائی فلسفی (Protagoras) کے اس قول (Man is the measure of all things)” انسان خودہر چیز کا پیمانہ یا معیار ہے“ کو زبردست اہمیت حاصل ہوئی ۔ انجیل، کلیسا اور پوپ کے بجائے انسانی عقل ،علم کا ذریعہ قرار پائی۔ Christopher L.C.E. Witcombeکا کہنا ہے :
“The intellectual underpinnings of modernism emerge during the Renaissance period

when, through the study of the art, poetry, philosophy, and science of ancient Greece and and Roman Humanists revived the notion that man, rather than God, is the
measure of all things”.
ترجمہ : ”جدیدیت کی علمی بنیادیں یورپی نشا ¿ة الثانیہ کے دوران یونانی اور رومی فن، شاعری، فلسفے اور سائنس کے مطالعہ کے ذریعے
سامنے آئیں۔ انسان پرستوں نے اس نظریہ کو دوبارہ زند ہ کیا کہ خدا نہیں بلکہ انسان ہی ہر چیز کو جانچنے کا معیار ہے۔“ ۵۱
یہاں ایک تاریخی غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے ، عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جدیدیت (Modernity)محض عیسائیت کے خلاف ایک رد عمل ہے جب کہ یہ حقیقت یہ ہے کہ جدیدیت (Modernity)فی نفسہ ہر مذہب اور اس کی عطا کردہ اقدار کے خلاف ایک بغاوت ہے جو مذہب خاص طور پر الہامی مذاہب کے علی الرغم اپنی علمیت ، اپنی اخلاقیات ،اپنا تصور کائنات اور سب سے بڑھ اپنا تصور انسا ن رکھتی ہے،اسی لیے Margret Marcus(حالیہ مریم جمیلہ ) نے اسے مذہب کے خلاف ایک مسلّح بغاوت قرار دیا ۔ ۶۱
“Modernism is a militant revolt against religion and the spiritual values it represents. This revolt had its seeds in the European Renaissance. ”
انسان پرستی کی وضاحت اور ترویج کے سلسلے میں جرمن فلسفی ایمانویل کانٹ(۴۰۸۱ -۴۲۷۱) نے روشن خیالی یا جدیدیت کی بہتر ین تفسیر پیش کرکے سماو ی ذریعہ ¿ علم کوجھٹلادیا اور عقل کل کے مقابلے میں ”شعور انسانی“ کوجملہ مسائل کے حل میں بنیادی اہمیت دی۔ اس کے بعد یورپی انسان نے قرون وسطیٰ کی حاوی فکر یعنی عیسائیت کو نظر انداز کرکے محض اپنی مادی خوش حالی کے لیے تسخیر کائنات کی تگ و دو شروع کی۔ کائنات میں انسان کے اس بڑھتے ہوئے اور مسلسل عمل دخل نے سیکولرزم،وجودیت(Existentialism)اور فردیت(Individualism) جیسے افکار کو فروغ دیا۔کانٹ نے اپنے مضمون Was ist Aufklärung? ” روشن خیالی کیاہے ؟ “ کے افتتاحی پیراگراف میں اس روشن خیالی کوکسی بیرونی ذریعے سے انسان کی آزادی کا عمل قراردیا ہے ۔کانٹ کا کہنا ہے :
Enlightenment is man’s emergence from his self-imposed immaturity. Immaturity is the inability to use one’s understanding without guidance from another. This immaturity is self-imposed when its cause lies not in lack of understanding, but in lack of resolve and courage to use it without guidance from another.
ترجمہ: ”روشن خیالی اس ذہنی ناپختگی سے انسان کی نجات کا نام ہے جو اس نے اپنے آپ پر خود مسلط کررکھی تھی۔ یہ ذہنی ناپختگی درصل دوسروں کی رہنمائی کے بغیر اپنی عقل و فہم کو استعمال نہ کرسکنے کی کیفیت ہے مگر اس کی وجہ انسانی عقل و فہم کا عدم وجود نہیں بلکہ انسان کے اندر اس جرا ¿ت اور پختہ ارادہ کی کمی ہے جو اسے کسی اور کی رہنمائی کے بغیر اپنی عقل استعمال کرنے کے قابل بنا سکے“۔۸۱
کانٹ کا یہ مضمون جدیدیت کی حقیقت اور اس کی حرکیات (Dynamics) پر حرف آخر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مضمون کی تفصیلا ت پڑھ کر کا نٹ کو رائدین جدیدیت کا امام ماننا پڑتا ہے ۔دور حاضر میں فرانس سے تعلق رکھنے والے بڑے مابعد جدیدی مفکر مثل فو کو نے کانٹ کے

مذکورہ مقالے کی تشریح کرتے ہوئے اس مقالے کے بارے میں لکھا ہے:
It marks the discreet entrance into the history of thought of a question that modern
philosophy has not been capable of answering, but that it has never managed to get rid of, either. And one that has been repeated in various forms for two centuries now. From Hegel through Nietzsche or Max Weber to Horkheimer or Habermas, hardly any philosophy has failed to confront this same question, directly or indirectly. What, then, is this event that is called the Aufklärung and that has determined, at least in part, what we are, what we think, and what we do today ? Let us imagine that the Berlinische Monatschrift still exists and that it is asking its readers the question: What is modern philosophy ? Perhaps we could respond with an echo: modern philosophy is the philosophy that is attempting to answer the question raised so imprudently two centuries ago: Was ist Aufklärung?
ترجمہ: ”مجھے ایسا نظر آتا ہے کہ کانٹ کا یہ مقالہ افکار کی اس دنیا میں ایک محتاط داخلے کا اظہار ہے جو ایک ایسے سوال سے متعلق ہے جس کا جواب جدید فلسفہ آج تک نہیں دے سکا اور نہ آج تک اس سوال کو حل کیا جا سکا ہے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جو گزشتہ دو صدیوں سے مختلف شکلوں میں دہرایا گیا ہے۔ ہیگل سے نےطشی یا میکس ویبر سے ہور خائمر اور ہیبر ماس تک تقریبا ہر زمانے کے فلسفی کو بلا واسطہ یا بالواسطہ اس سوال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اور یہ پھر یہ واقعہ جسے روشن خیالی کہاگیا یہ طے کرتا ہے کہ فی زمانہ ہم کیا ہیں؟ کیا سوچتے ہیں اور کیا کرتے ہیں۔ اگر یہ پوچھا جائے کہ جدید فلسفہ کیا ہے؟ تو شاید ہم پوری گونج کے ساتھ جواب دیں : © جدید فلسفہ دو صدیوں پیشتر غیر محتاط انداز سے پوچھے گئے اس سوال یعنی ’روشن خیالی کیا ہے‘ ؟کا جواب ہے“۔ ۸۱
یورپی نشا ¿ة الثانیہ سے موجودہ جدیدیت تک کا سفر تہذیبی و تاریخی تغیر کی داستان ہے ۔ مارشل برمن ) Marshall Berman) نے اس سفر کو تین حصّوں میں تقسیم کیا ہے۔ ۹۱
۱۔ ابتدائی جدیدیت (۳۵۴۱ء تا ۹۸۷۱ء )
۲۔ کلاسیکی جدیدیت (۹۸۷۱ء تا ۰۰۹۱ء )
۳۔ موجودہ جدیدیت (۰۰۹۱ء تا حال )
مغربی مفکرین کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ بیسیوں صدی کے وسط یا اختتام سے جو دور شروع ہوا ہے وہ جدیدیت ہی کا ایک حصہ ہے جسے سیال جدیدیت (Liquid Modernity) کہنا چاہیے۔ دوسری طرف مابعد جدیدیت کی فکر کے حاملین کاکہنا ہے کہ جدیدیت کا دور بیسویں صدی کے وسط میں اپنے اختتام پر پہنچ چکا ہے اور اس کے بعد جو دور شروع ہوا ہے وہ مابعد جدیدیت (Post Modernity ) کا دور ہے ۔بہرحال زیادہ تر مغربی مفکرین مو ¿خرالذکر رائے سے متفق نظر آتے ہیں۔ ۰۲
یورپ میں نشا ¿ة ۱لثانیہ کے زیر اثر مندرجہ ذیل تاریخ ساز انقلابی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں۔ ۱۲
۱) مذہبی معاشرے کا لادینیت اختیار کرلینا

۲) زرعی معاشرے کی صنعتی و سرمایہ دارانہ معاشرے میںتبدیلی
۳) پوپ کے اقتدار کی جگہ قومی ریاستوں کی تشکیل مندرجہ بالا ہر تبدیلی الگ تفصیلی جائزے کی متقاضی ہے مگر یہاں ان تبدیلیوںمتعلق چند اشارے کیے جاسکیں گے ۔
۱) لادینی معاشرے کا قیام :۔
یورپ کی دو بڑی تحریکیں یعنی نشا ¿ة الثانیہ (Renaissance) اور اصلاح مذہب (Reformaion)ساتھ ساتھ چلتی ہیں ۔ ان دونوں تحریکوں کے زیر اثر مرتب ہونے والے نتائج میں سرفہرست نتیجہ یورپ کے مذہبی معاشرے کی جگہ لادینی معاشرے کا قیام ہے ۔اس کامطلب یہ ہے کہ اب یورپی معاشروں رہنمائی کے لیے مذہبی ذرایع کے بجائے عقل انسانی کو علم کے حقیقی ذریعے کے طور پر قبول کرلیا ۔یورپ کے معاشرے میں ہونے والی بقیہ بڑی بڑی تبدیلیاں اسی بنیادی تبدیلی کانتیجہ تھیں ۔
۲) صنعتی و سرمایہ دارانہ معاشرے کا قیام :۔
یورپ میں صنعتی وسرمایہ دارانہ معاشرے کے قیام کی حوصلہ افزائی قرون وسطیٰ میں ناممکن تھی کیوں قرون وسطیٰ کا مذہبی پس منظر اس کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ مذہبی یورپ فطرت اور خاندانی و معاشرتی اقدارکو اہمیت دیتا تھا جبکہ صنعتی و سرمایہ دارانہ عمل میں ان دونوں کا زوال لازی امر تھا ۔ بہرحال یورپ کے مذہبی پس منظر کے کمزور ہوتے ہی یہ معاشرتی تبدیلی یورپ اور پھر دنیا بھر کا مقدر ٹھہری ۔ انسانی زندگی کے تقریبًا ہرشعبے پر اس تبدیلی کے مثبت و منفی اثرات مرتب ہوئے ۔ سماجیات ،ماحولیات ،معاشیات اور فنون لطیفہ غرض کوئی بھی شعبہ ¿ زندگی تبدیلی کے عمل سے محفوظ نہ رہ سکا۔ آج کے جدید طرز زندگی کے مثبت و منفی اثرات کی بنا اس تبدیلی نے رکھ دی ۔
۳) قومی ریاستوں (Nation States)کا قیام :۔
نشا ¿ة الثانیہ سے قبل کے یورپ میں اگرچہ بادشاہتیں قائم تھیں مگر ان کے بادشاہ پوپ کے زیر نگرانی فعّال تھے ۔ حکمرانوں کا عزل و نصب کلیسا کی منشا ءپرمنحصر تھا ، حتٰی کہ پوپ کسی غیر اخلاقی حرکت پر بادشاہوں کو سزا دینے کا بھی مجاز تھا۔ یورپ کا ہر حکمران ، اپنی سند پوپ سے حاصل کرتا تھا ۔ یہ سب کچھ محض رسمی نہ تھابلکہ حقیقی اقتدار کلیسا ہی کا قائم تھا ۔ نشا ¿ة الثانیہ کے دوران یورپی حکمرانوں نے کلیسا کی غلامی کا طوق اتار پھینکا ۔ قومی ریاستوں کے قیام کا مرحلہ ہنوز دور تھا مگراس کی عمارت کی بنیادی اینٹ رکھی جاچکی تھی ۔ قومی ریاستوں کی جانب اس سفر نے فرد کی آزادی کے منصوبے کو مہمیز دی ۔ جدید ریاستوں کے اداروں اور تصورنے انسانی آزادی کے لیے آلہ ¿ کار کے طور پر کام کیا اور بلآخر ۸۴۶۱ئ میں یورپی طاقتوں کے مابین ہونے والے معاہدے ) (Peace of Westphalia نے اس ضمن میں اہم سنگ میل طے کرتے ہوئے قومی ریاست کی راہ ہموار کردی ۔
جمہوریت (Democracy) ، انسانی حقوق (Human Rights) اوردستوریت(Constitutionalism) جیسے تصورات کا ظہور قومی ریاست کے ارتقاءکے مرہون منت ہے۔بہر حال جدیدقومی ریاستوں کے قیام نے قوم پرستی (Nationalism) کے تصور اور اس کے ارتقاءکے ضمن میں عمل انگیز کا کام کیا۔قوم پرستی کا لازمی نتیجہ یورپی اقوام کے درمیان حسد و حرص کی فضا کو جنم دینے کا باعث ہوا۔ نوآبادیاتی دور نے اس آگ کو مزید بھڑکایا اوراپنی حرص کی تسکین کی خاطر نوآبادیات میں انسانی قتل عام سے بھی دریغ نہ کیا ۔ مائیکل مین

(Michael Mann) کاکہنا ہے :
Merderous cleasing has been moving across the world as it has modernized and democratized. Its past lay mainly among Europeans, who invented democratic
Nation-State.
ترجمہ : ”قاتلانہ نسلی صفائی پوری دنیا میں پھیل گئی کیونکہ اب یہ جدید اور جمہوری شکل اختیار کرچکی تھی۔اس نسلی صفائی کا ماضی زیادہ تر یورپی اقوام سے متعلق ہے جنھوں نے جمہوری قومی ریاست ایجاد کی۔ “ ۲۲
نوآبادیات بنانے کے عمل میں پیچھے رہ جانے والی اقوام نے بھی کچھ عرصے کے بعد انگڑائی لی اور لوٹ مار کے اس عمل میں اپنا حصہ طلب کیا۔ اس صور ت حال نے مزید پیچیدگی اختیار کی اور بلآخر یورپی اقوام اور دنیا کو دو عظیم جنگوں کا سامنا کرنا پڑا جن کے اثرات سے دنیا ، تا دیر پیچھا نہ چھڑا سکی ۔
انسان پرست نظرآنے والی جدیدیت کے مطابق سائنس، آفاقی اخلاقیات، قانون اور آرٹ اپنی اندرونی منطق کے مطابق خود مکتفی ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد سائنس، انسانی عقلیت اور آزادی کے کلچر کا انسان کی روز مرہ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے استعمال تھا ۔ جدیدیت چونکہ اپنی ایک مادی بنیاد رکھتی ہے لہذا انسان پرستی کے جدید نظریہ میںانسان کی مادی اور جبلّی خواہشات کی آزادانہ تسکین کو زبردست اہمیت حاصل ہوئی مگر انسان پرستی کا یہ مقصد بھی ایک فریب ثابت ہوا کیوں کہ جدیدیت نے انسان کی مادی خواہشات کی تسکین کرنے کے بجانے انہیں مزید بڑھانے اور مصنوعی خواہشات پیدا کرنے کی ایک پوری صنعت(اشتہار بازی) تشکیل دے کر ان کی عدم تسکین کے مزید سامان فراہم کر دیے۔ جدیدیت کی اساس پر قائم شدہ نظام میں ان مصنوعی خواہشات کی تکمیل زیادہ سے زیادہ سرمائے کے ذریعے ہی ممکن ہے لہذا اس کا براہ راست نتیجہ مغرب کی طرف سے پوری دنیا کو اپنی کالونی بنانے (Colonization) اور دو عظیم جنگوں کی صورت میں نکلا۔ جدیدیت کے اس بدیہی نتیجے نے اس کے چہرے سے انسان پرستی کی نقاب اتار پھینکی اور انسانیت نوازی کے جدیدمنصوبے کو پہلی جنگ عظیم کی تباہ کاریوں نے خس و خاشاک کی طرح بہادیا، مگر ابھی شوق کے مرحلے باقی تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد روشن خیالی اور نشا ¿ة الثانیہ کا مثالی انسان ( Man of Renaissance) دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں میں مصروف ہوگیا۔ سائنس اس کے جنگی عزائم کی آلہ ¿ کار ثابت ہوئی اخلاقیات سیاسی اور قوم پرستانہ تعصبات کی نذر ہوگئی۔ قانون طاقت ور کا حکم بن گیا۔ آرٹ حیوانی جبلّت سے مغلوب ہوگیا اور انسانی قدریں پامال ہوگئیں اور جدیدیت کا یہ شان دار منصوبہ ہیروشیما ،ناگاساکی اور یورپ کے کروڑوںدم توڑتے انسانوں اور بے رحم بارود کے بوجھ تلے ڈھیر ہوگیا ۔ اس طرح انسان پرستی کی تحریک اپنے معکوس ہدف تک پہنچ گئی ۳۲ ۔یورپ میں یہ وقت جدیدیت کے منصوبے سے عمومی بیزاری کاہے اور اس کے منصوبے پر شکوک و شبہات کے اظہار کا بھی یہی وقت ہے۔ انسان پرست کہلائے جانے والی جدیدیت کے انسان کش نتائج قوم پرستی، سرمایہ داری ، کمیونزم اور فاشزم کی شکل میں ظاہر ہوئے ۔ جدیدیت اپنے منطقی نتائج کابوجھ نہ سہار سکی اور اپنی ہی جلائی ہو آگ کی راکھ تلے دب گئی۔ جدیدیت کے بدیہی نتائج اور اس کے منصوبے کی ناکامی نے مابعد جدیدیتPost Modernity) ( کو جنم دیا ، جس نے جدیدیت کے تمام آفاقی دعوﺅں(Meta Narratives) پر سوالیہ نشان لگانے کے بعد ان کی تخریب (Deconstruction) کر کے جدیدیت کو اسی کے

دلائل سے فکری میدان میں شکست دے دی ۔اگرچہ جدیدیت کے قائم کردہ ادارے اپنی اپنی جگہ برقرار رہے مگر ان سب کی افادیت مشکوک ہوگئی ۔جدیدیت کی مرتب کردہ تاریخ اب طاقت ور مغر ب کا نقطہ ¿ نظر کہلائی جو مغرب کی تکنیکی ترقی ، سرمایہ داری اور نوآبادیاتی دو ر کا پُر فریب بیانیہ ہے ۔ اب سائنس کی معروضیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا گیا جو کل بھی جدیدیت کا سب سے موئثرہتھیا ر تھا اور آج بھی ہے ۔جدیدیت کی حیثیت ایک عقلی نظریہ کے بجائے معمے( Myth)سے زیادہ نہ رہی جدیدیت اور تجدید کاری (Modernization)کے منصوبے نے جس طرح کرہ ارض کو مجروح ومضروب کیا اس نے جدیدیت کے انسان دوست اور انسان مرکز (Human Centric)ہو نے کی حیثیت کو بھی گہنا دیا۔ جدیدیت کے بیش تر کارنامے جمہوریت، ترقی، انسانی حقوق، ٹیکنالوجی اور شہریانے کا عمل (Urbanization) اپنے نتائج کے حوالے سے ناقابل دفاع ثابت ہوئے ۔مختصر یہ کہ جدیدیت ، انسانی فلاح اور حریت و آزادی کو آگے بڑھانے کے بجائے انسانی محکومی اور تابع داری کا ایک طریقہ کار بن کر رہ گئی اور بقول (Hannah Arendt)”۔۔۔۔۔جدید دور جو انسانی تخلیقی قوت کی اتنی بے مثل اور اُمید افزاءکامرانیوں سے شروع ہوا اس کا خاتمہ اتنی لاحاصل اور مہلک ترین مجہولیت میں ہوا کہ تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ ۴۲
دیویندر اسّر نے کہا:
”جس سائنس ، عقل پرستی اور ترقی رفتا رپر جدیدیت نے اتنا اعتماد کیا تھا وہ حصول زر ، قوت ، استعماریت، استحصال ، استبداداور فنائے فطر ت کے الزا م میں بدنام ہوگئی ۔کیا کوئی تصور کرسکتا تھا کہ اس عہد کی اولین نصف صدی میںجب جدیدیت اپنے عروج پر تھی، ایک نسل کو دو عظیم جنگوں کی ہولناک تباہی سے گزرنا پڑے گا۔ فسطائیت یورپ پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے گی ۔ اشتمالیت دنیا کے ایک بڑے حصے کو بند سماج میں بدل دے گی۔ ہیرو شیما اور ناگا ساکی نیوکلیائی فنا ءکا شکار بنادیے جائیں گے۔ آفاقی صداقت، مطلق اقداراور معروضیت پر، سوالیہ نشان لگ گئے اوریہ تمام جزوی ، مقامی اور عارضی ہوگئے ۔حال انتشار کا شکار ہوگیا، مستقبل مشکوک ہوگیا اور ماضی کی جانب مراجعت شروع ہوگئی ۔ایک کے بعد ایک ادیب اور دانش ور جدیدیت کی کامرانیوں کو مشکوک سمجھنے لگے ۔تمام اقدار کا بھرم کھل گیا ۔تمام نصب العین باطل ثابت ہوئے ۔ ازالہ ¿ سحر نے نہ صرف اشتمالیت کو ہی مسترد کردیا بلکہ ایک طرح سے جدیدیت کے پورے پروجیکٹ ہی کو رد ّ کردیا ۔“ ۵۲
پروٹسٹنٹ اور جدید مغربی مفکرین نے قرون وسطیٰ (Middle Ages) یورپ کے خلاف پروپیگنڈاکرتے ہوئے اسے تاریک خیال، جاہل، فرسورہ اور پس ماندہ قرار دیا مگر قرون وسطیٰ اور جدید مغرب کا تقابل کسی طرح بھی جدید مغرب کو قرون وسطیٰ سے فائق اور بہتر ثابت نہیں کرتا بلکہ ایسا ہر تقابل قرون وسطیٰ کی یورپ پر فوقیت کو واضح کرتا ہے۔جدیدیت فی نفسہ انسان کی کلی آزادی کی داعی ہے۔ اس آزادی کے
منطقی نتائج یورپی اقوام کے درمیان طاقت اور دولت کی بڑھتی ہوئی ہوس کی صورت میں نکلے جنہوں نے پوری دنیا کو مغربی طاقتوں شکنجے میں کس کر انہیں مغرب کی کالونی بنا دیا۔ اسی ہوس کا ایک منطقی نتیجہ انسانوں کے قتل عام کی صورت میں برآمد ہوا۔امریکہ کے سرخ ہندیوں (Red Indians) اور آسڑیلیا کے قدیم باشندوں (Aborginies) کی نسلی صفائی اور دو عظیم جنگوں میں مرنے والے انسانوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچا دی گئی۔ مشہور امریکی مصنف مائیکل مین نے جدیدیت کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام پر اپنی تحقیقی تصنیف (The Dark Side of Democracy) میںجدیدیت اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی مغربی تہذیب کے انسانی قتل عام سے براہ راست تعلق کو واضح کیا ہے۔ امریکہ ، جرمنی، یوگوسلاویہ، اسرائیل اور روانڈا میں ہونے والی کروڑوں ہلاکتوں کی تفصیلات روح فرسا اور تفصیل طلب ہیں ۔ یہاں جدیدیت اور

انسانی قتل عام میں پائے جانے والے قریبی تعلق کے بارے میں چند اشارے کیے جاسکیں گے۔ اس کتاب کے دیباچے میں مصنف نے یہ معنی خیز بات کہی کہ انسانی قتل عام یا نسلی صفائی (Ethnic Cleansing) کا تعلق جدید مغربی تہذیب کے باہر سے یاکسی قدیم دور سے نہیں بلکہ یہ برائی خود اسی تہذیب کی پیدا کردہ ہے۔ مصنف کا کہناہے: ۶۲
“Evil does not arrive from outside of our civilization, from separate realm we
tempted to call “primitive”. Evil is generated from by civilization itself.”
آگے چل کر مصنف جدیدیت اور قتل عام کے باہمی تعلق کی مزیدوضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے :
“This was SS chief Heinrich Himmler, who is rightly considered as the personification of evil. Yet he and his colleague Adolf Hitler said they were only following in the American’s footsteps. As i will argue here, merderous ethnic cleansing has been a central problem of our civilization, our modernity, our conception of progress and our attempts to introduce democracy.”
ترجمہ : یہ ”ایس ایس“ کا سربراہ ہنرخ ہملر ہی تھا جسے بجاطور پر مجسم برائی قراردیاگیا۔ اس شخص اور ا س کے ساتھی اڈولف ہٹلر نے (اپنے ہاتھو ں والے قتل عام کے بارے میں) کہا”ہم دونوں اس معاملے میں امریکیوں کے نقش قدم پر چل رہے ہیں“۔ میں آگے چل کر بتاﺅں گا کہ قاتلانہ نسلی صفائی ہماری تہذیب ،جدیدیت ،تصور ترقی اور جمہوریت کو متعارف کروانے کی کوششوں کا بنیادی مسئلہ ہے۔ “ ۷۲
قرون وسطیٰ ۰۰۵ ءسی ۰۰۵۱ ءتک کے ہزار سالہ دورپر مشتمل ہے مگر جدیدیت نے اپنے ڈھائی سو سالہ دور میں جس قدر قتل عام کیا ،قرون وسطیٰ کا انسان اپنی تمام تر تاریک خیالی اور جہالت کے با وصف اس کا عشر عشیر تک نہ کر سکا۔ خاندانی نظام و اقدار اور کرہ ارض و ماحولیات کی تباہی اس پر مستزاد ہے۔ دو رکیوں جائیں دور جدید نیٹو اور امریکی افواج نے افغانستان اور عراق میں معصوم بچوں اور عورتوں کے جس قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا ہے ان افواج کو جاہل اور تاریک خیال کون کہہ سکتا ہے مگر قتل و بربریت کی یہ تاریخ قرون وسطیٰ کے تاریک خیال، جاہل اور مذہبی انسان کے ہاتھوں نہےں بلکہ جدید ترقی یافتہ، روشن خیال ، ترقی پسند اور جمہوری مغرب کے ہاتھوں رقم کی جارہی ہے۔ دراصل قرون وسطیٰ کی ظالمانہ تصویر پیش کرنے کے بعد جدیدیت نے اپنے تمام جرائم سمیت اس تصویر کے پیچھے اپنے مکروہ چہرے کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ مگر جدیدیت کے نتائج نے ایسی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔
بلا شبہ دنیا کی ہر قو م سے اس کے بہتر اوصاف سیکھے جا سکتے ہیں مگر یہ سب ایک زندہ اور باشعور قوم اپنی خودی، تہذیب اور تاریخ کو مد نظر
رکھ کر کرتی ہے۔ اس لیے سب کا اثر قبول کرتے ہوئے بھی ایسی قوم اپنی انفرادیت کی شان میں ہی اضافہ کرتی ہے۔ یہ عمل اپنی تہذیب کے پختہ شعور کی بدولت ہی ممکن ہے۔ حالی سے لے کر حال تک ہم نے پیروی ¿ مغرب کا حق ادا کرنے کی بہتر سے بہتر سعی کی ہے۔مغرب سے جدیدیت کی آمد کے بعد سے ہم نے بھی مغربی دانش کے ہمراہ اس کی تعریف و دفاع کا حق ادا کیا ہے مگر بعد میں جب خود مغرب نے جدیدیت کے نتائج و عواقب کا جائزہ لینے کے بعد اس سے اعراض اور بیزاری کی روش اختیار کی تو ہمارے ہاں بھی جدیدیت گریز رجحان کا آغاز انہی دانشور حضرات کے ہاتھوں ہوا جو اب تک جدیدیت کے پرجوش وکیل تھے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغرب میں ہونے والی نظریاتی الٹ پلٹ نے ہم محض تماشائی اور مقلد کا کردار کب تک ادا کریں گے اور کیا پیروی ¿ مغرب کے بارے میں حالی کا مشورہ کسی آفاقی حقیقت کا آئینہ دار ہے جسے ہر حال

میں اپنانا ضروری ہے ؟ اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم اقدار ،تاریخ ،فہم اور تہذیب سے محروم محض افراد کا ایک گروہ ہیں جو مغرب سے بلند
ہونے والے ہر نعرے پر سر دھنتے رہیں ۔ اس سوال کا جواب ہمارے لیے فکر و عمل کے نئی راہوں کا تعین کرے گا۔
حوالہ جات :
۱۔ اعظمی، فہیم، ۷۹۹۱، “آرائ-۲”،مکتبہ ¿ صریر، کراچی،ص ۲۸۱
۲۔نیر، ناصر عباس، ۴۰۰۲، “جدید و مابعد جدید تنقید”، انجمن ترقی، اردو پاکستان، کراچی، ص۹۸
۳۔ منظور احمد،ڈاکٹر،۳۰۰۲، “مابعد جدیدیت” (پیش لفظ) مطبو عات نیازیہ، کراچی ، ص ۷
۴ایضًا ص۸
۵۔ نیر، ناصر عباس، ۴۰۰۲، “جدید و مابعد جدید تنقید”، انجمن ترقی، اردو پاکستان، کراچی، ص۳۲
۶۔سلیم احمد، ۹۰۰۲، “مضامینِ سلیم احمد ©”، (مرتبہ جمال پانی پتی)، اکادمی بازیافت، کراچی، ص ۱۹۲
۷۔ بدایونی، ضمیر علی،۹۹۹۱،”جدیدیت و مابعد جدیدیت”، اختر مطبوعات، کراچی،ص ۰۷۳
۸۔ہیبر ماس، جرگن(Habermass, Jurgen)،۷۸۹۱، The Philosophical Discourse of Modernity،کیمبرج، ص ۷
۹۔ سےلگ مےن آر۔اے (Selugman R.A)، ۹۵۹۱،Encyclopedia of Social Sciences،
نےوےارک، ص ۴۶۵
۰۱۔ عسکری، محمد حسن، ۷۹۹۱، “جدےدےت”، ادارہ ¿ فروغِ اسلام، لاہور، ص۹۳
۱۱۔ اےضاَ َ
۲۱۔ اعظمی، فہےم، ۷۹۹۱، “آرائ-۲”،مکتبہ ¿ صرےر، کراچی،ص۶۴۱
۳۱۔مولوی عبدالحق
۴۱۔نےر، ناصر عباس، ۴۰۰۲، “جدےد و مابعد جدےد تنقےد”، انجمن ترقی، اردو پاکستان، کراچی، ص ۱۳
۵۱۔http://witcombe.sbc.edu/modernism/roots.html
۶۱۔ مرےم جمےلہ(Maryam Jameelah)،۵۶۹۱، Islam And Modernism، محمد ےوسف خان اےنڈ سنز،
لاہور ، ص ۶۱
۷۱۔ http://www.english.upenn.edu/~mgamer/Etexts/kant.html
۸۱۔ http://foucault.info/documents/whatIsEnlightenment/foucault.whatIsEnlightenment.en.html
۹۱۔http://en.wikipedwia.org/iki/Modernity
۰۲۔ایضًا
۱۲۔ایضًا
۲۲۔ مین، مائیکل (Mann,Michael)، ۵۰۰۲ئ،The Dark Side of Democracy،کیمبرج یونی ورسٹی پریس، کیمبرج،دیباچہ ص ۹
۳۲۔بداےونی، ضمےر علی،۹۹۹۱،”جدےدےت و مابعد جدےدےت”، اختر مطبوعات، کراچی،ص ۵۷۳
۴۲۔اسّر، دےوےندر،۶۹۹۱،”مابعد جدےدےت ےا جدےدےت تحرےرثانی،”مشمو لہ ”جدےدےت کا تنقےدی تناظر” ،مرتبہ ،اشتیاق احمد،
بےت الحکمت لاہور، ص۷۱۳
۵۲۔ ایضًا ص۳۲۲
۶۲۔ مین، مائیکل (Mann,Michael)، ۵۰۰۲ئ،The Dark Side of Democracy ،کیمبرج یونی ورسٹی پریس، کیمبرج،دیباچہ ص ۹
۷۲۔ایضًاص

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s