انسان فری مارکیٹ کے شکنجے میں



نیاز سواتی
niaz.swati.71@gmail.com

بحیثیت انسان ،ہم زمان و مکان کے قیدی ہیں۔انسان نے ماحول اور تاریخ کو ہمیشہ مٔوثر ترین عوامل کی حیثیت سے جانا ہی۔ ہم جس ماحول میں رہتے ہیں ،اس سے ماوراکسی تصور یا عمل کا خیال بھی ہمارے لیے محال ہوتا ہے ۔بجلی کی ایجاد آج سے تقریبا سو سال قبل ہوئی مگر دورِ جدید کے انسان کے لیے بجلی کے بغیر زندگی کا تصور ناممکن نہیں تو مشکل ضرورہی۔ اسی طرح فری مارکیٹ کی معیشت کا تصور بھی انیسویں صدی کی پیداوار ہے مگر دور جدید میں ہمارے لیے فری مارکیٹ اور اس کے اداروں کے بغیر زندگی کا تصور اسی طرح ناممکن ہے جس طرح بجلی کے بغیر روزمرہ کی زندگی کا خیال ۔ آج بینکوں ،انشورنس کمپنیوں ، اسٹاک ایکسچینج ،کریڈٹ کارڈز اور اسی طرح زر کے بازار (Financial Market )کے اداروں کے بغیر جدید زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ فری مارکیٹ اور اس کے ادارے انسانی معاشرے کی حقیقی ضرورت ہیں اور نہ ہی یہ بات درست ہے کہ فری مارکیٹ اور اس کے اداروں کا ارتقا فطری ہی۔
f انسانی معاشرے اور خود مختار مارکیٹ کا باہمی تعلق ایک عجیب سا رشتہ ہی۔ ہماری روزمرہ کی زندگی میں مارکیٹ کے اداروں اور اشتہاربازی کے ذریعے اس کی تصویر کشی اس انداز میں کی جاتی ہے کہ گویا انسانی معاشرہ اورفری مارکیٹ، ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم اور معاون کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ بظاہرمحسوس بھی ایسا ہی ہوتا ہے مگر انسانی معاشروں اور صنعتی انقلاب کے بعد سے اب تک کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ انسانی معاشرے اور مارکیٹ کے مفادات ایک دوسرے کی ضد ثابت ہوئے ہیں ۔انسانی معاشروں میں تبدیلیوں کا مطالعہ کرنے والااہم ترین اور مغرب میں مسلمہ حیثیت رکھنے مفکرکارل پولانی (Karl Polanyi) ہی۔
پولانی اپنی معرکۃ الآراء تصنیف (The Great Transformation) میںان دونوں اداروں کے تعلق بیان کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ انسانی تاریخ میں خود مختار مارکیٹ ،انسان اور اور اس کے ماحول کو نقصان پہنچائے بغیر ایک لمحہ بھی زندہ نہیں رہی اور نہ ہی ایسا ممکن ہی۔ مارکیٹ انسان کو نہ صرف طبعی طور پر نقصان پہنچاتی ہے بلکہ انسان کے ارد گرد موجود ماحول کو تبدیل کرکے اسے تباہی سے دو چا ر کردیتی ہی۔ انسانی معاشرے بلآخر اپنے اس مستقل نقصان کا ادراک کرلیتے ہیں اور فری مارکیٹ کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
~ اس طرح کی کوششوں کا منفی پہلو یہ ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی انسانی معاشرہ اپنے اس نقصان کو بھانپتے ہوئے مارکیٹ کی سرگرمیوں کو محدودکرنے کی سعی کرتا ہے تو ایسی ہر کوشش، صنعتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن کر اس معاشرے کوبدنظمی سے دوچار کردیتی ہی۔ اس طرح مارکیٹ کے دائرے میںرہتے ہوئے اصلاح احوال کی یہ کوشش ، معاشرے کو ایک اور پہلو سے نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہی۔انسانی معاشروں اور خودمختار مارکیٹ کے باہمی تعلق کی یہ نوعیت ان دونوں کو ایک ایسے خلفشار سے دوچار کرتی ہے ۔ جس کے نتیجے میں خود مختار مارکیٹ کی سرپرستی کرنے والا معاشرہ خود تباہی سے دوچار ہوجاتا ہے ۔ پولانی کے الفاظ میں:
Our thesis is that the idea of a self-adjusting market implied a stark utopia. Such an institution could not exist for any length of time without annihilating the human and natural substance of society; it would have physically destroyed man and transformed his surroundings into a wilderness. Inevitably, society took measures to protect itself, but whatever measures it took impaired the self-regulation of the market, disorganized industrial life, and thus endangered society in yet another way. It was this dilemma which forced the development of the market system into a definite groove and finally disrupted the social organization based upon it. (1)
فاضل مصنف کے اس نظریے کے تناظر میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میںہونے والی تیز رفتار صنعتی ترقی نے جن ہو ل ناک اور لاحل ماحولیاتی مسائل کوجنم دیا ہے انہوںنے دنیا بھر کے سنجیدہ اذہان کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے کیونکہ اس تیز رفتار صنعتی ترقی نے دنیا کے وجود کو خطرے سے دو چا ر کردیا ہی۔دنیا نے جب بھی اس صورت حال کا ادراک کرکے صنعتی ترقی کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے تو ایسی ہر کوشش کے نتیجے میں معیار زندگی میںاضافے اور سرمائے کی بڑھوتری (ccumulation of Capital) کا عمل سست ہوتاہے جس کے نتیجے میں سرمائے اور صنعتی ترقی کو آئیڈیل سمجھنے والے معاشرے مزید ابتری کا شکارہوتے ہیں ۔
۹۰۰۲ ء میں کوپن ہیگن میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس بھی اسی لیے ناکامی سے دوچار ہوگئی کہ ترقی یافتہ ممالک امریکہ ،چین اور یورپی ممالک نے دنیا کو تباہی کی طرف لے جانے والی صنعتی ترقی کی رفتار کم کرنے سے صاف انکار کردیاکیونکہ صنعتی ترقی میں کمی کا مطلب معیار ِزندگی میں کمی ہے جس کے باعث مارکیٹ اور سرمائے کی بنیاد پر کھڑے ہوئے جدید معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جا ئیں گی۔آج دنیا کو انسانی فلاح اور مارکیٹ کے مفادات میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا ہی۔
اس حکمت عملی نے وقتی طور پر ان ممالک کو ابتری سے بچالیا ہے مگر معیار ِزندگی کوانسانی کاوشوں کاو احد مقصد بنانے کے نتیجے میں خاندان اور اس کی اقدار کے خاتمے نے ان ممالک کو آبادی کی شدید قلت سے دوچار کردیا ہے ۔ آج فری مارکیٹ اور صنعتی ترقی کی منزل کو پالینے والایورپ اور جاپان میں بوڑھے افراد کی بڑھتی ہوئے تعداد سب سے زیادہ اور بچوں اور نوجوانوں کی مسلسل کمی کا شکار ہے ۔ مارکیٹ کے ارتقاء اور معاشرتی اقدار کے زوال کے نتیجے میں ایسے معاشروں کے تباہی سے دوچار ہونے کے آثار واضح ہیں ۔مغربی معاشروں کے زوال کی ایک واضح نشانی جرائم کا بڑھتا ہوا گراف ہے ۔جرائم کی یہ بڑھتی ہوئی تعداد کیمروں کی ذریعے نگرانی کے وسیع اورترقی یافتہ نیٹ ورک کے باوجود ترقی کی طرف گامزن ہی۔ دراصل خاندانی و مذہبی اقدار فرد کو جرم اور خودکشی کی راہ اختیار کرنے سے روکتی ہیں مگر معاشی اقدار کے فروغ اور خاندانی و مذہبی اقدار کے زوال کی بناپرآج مغربی معاشروں میں جرائم اور خود کشی کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہی۔
دنیا کے ہر معاشرے میں بازار موجود رہے ہیں مگربازار کی حیثیت انسانی ضروریات کی فراہمی کے ایک آلے سے زیادہ نہ تھی ، بازار کی یہ حیثیت کہ وہ پورے معاشرے کو منضبط کرنے والا ادارہ بن جائے انسانی تاریخ میں کبھی بھی نہیں رہی۔ انسانی تاریخ میں بازار ہمیشہ معاشرے کے ذریعے منضبط کیے جاتے رہے ہیں ۔دنیا کے روایتی بازار اورمارکیٹ میں بڑا فرق بھی یہی ہے کہ مارکیٹ ،انسانی معاشروں کو منضبط کرتی ہے اور بازار، انسانوں اور انسانی اقدار کے ذریعے منضبط کیے جاتے رہے ہیں۔ آج اقدار ،انسانی معاشروں اور ان کی مابعدالطبیعیات،روایات اورخصوصیات کے ذریعے طے نہیں پاتیں بلکہ مارکیٹ یہ سب باتیں ازخود طے کرتی ہی۔مارکیٹ غیر محسوس انداز میں تہذیب ، ثقافت ،سماج اور اخلاقیات کو ہدایت دیتی ہے کہ انہیں کیسا ہونا چاہیے اور کیا کرنا چاہیے ۔
بازار اور مارکیٹ میں ایک اہم فرق یہ بھی ہے کہ بازار میں انسانی رویے زندہ ہوتے ہیں اور آلات کے مقابلے میں انسان کی وقعت زیادہ ہوتی ہی۔روایتی بازاروں میں اگر گاہک کے پاس خر یداری کے دوران کسی وجہ سے رقم کم بھی ہوجائے تب بھی سابقہ اعتبار اور گاہک اور دکان دار کے باہمی تعلق کی بنا پر سودا ممکن ہوتاہے مگر مارکیٹ میں آلات احساس مروت کو کچل دیتے ہیں۔ یہ تو تھی معاملے کی اجمالی نوعیت ،آئیے اب پولانی کے اس تجزئیے کا عملی جائزہ لیتے ہیں ۔فری مارکیٹ اور اس کے ذیلی اداروں کی پیدائش اور ارتقاء یورپ کی سرزمین پر ہوا( اگرچہ دیگر یورپی نظریات اور اداروں کی طرح مارکیٹ کا ادارہ یورپ تک محدود نہ رہا) لہٰذا مارکیٹ کے انسانی معاشرے سے تعلق اور اثرات کے مطالعے کے لیے یورپ اور خصوصا مغربی یورپ کے معاشروں کا جائزہ لینازیادہ مناسب ہوگا۔ یورپی معاشرہ ،مارکیٹائزڈ ہونے سے قبل تین قسم کی انسانی خصوصیات کا حامل تھا جو بعد میں ناپید ہوگئیں۔
۱) مذہبی اقدار
۲) خاندانی اقدار
۳) آبادی میں فطری خود کفالت
آیئے ان تینوں خصوصیات کا یورپی معاشروں کے پس منظر میں جائزہ لیں ۔ عیسائی مذہب کا آغاز تو بلاشبہ فلسطین کے علاقے سے ہوا مگر اسے سب سے زیادہ مقبولیت یورپ اور یورپ کے زیر اثر معاشروں میں ملی۔سلطنت رومہ کی عیسائی سلطنت میں تبدیلی نے یورپ میں عیسائی مذہب کو رواج دے کریہاںکا سب سے بڑا مذہب بنادیا۔اب عیسائی مذہب اور اس کی اقدار ہر پہلو سے یورپی معاشرے کی بالادست اقدار قرار پائیں ۔ عیسائی اقدار یورپی معاشروں پر اس قدر غالب آگئیں کہ یورپی اقوام کا باہمی لسانی و جغرافیائی فرق بھی مٹ گیا حتیٰ کہ یورپ کی مختلف اقوام کے بادشاہوں کا تقرر بھی کلیسا اور پوپ کا مرہون منت ہواکرتاتھا۔یورپی نشاۃ الثانیہ کے بعدرفتہ رفتہ یورپ نے مذہبی اقدار ترک کرکے معاشی اقدار کو ترجیح دی ۔قدیم یورپ اور میں روایتی معاشروں کی طرح فرد کی آزادی ایک ایسے معاشی دائرے میں ممکن تھی جو سماجی اقدار سے منسلک تھا ۔ مارکیٹ کے ادارے کو یورپ میں عروج حاصل ہوا ۔دیگر عوامل کے علاوہ مارکیٹ کے ادارے کا عروج عیسائیت اور خاندانی اقدارکے زوال کا نشان بن گیا۔
دنیا پر مغربی کالونیوں کے قیام کے نتیجے میں معاشی اقدار پوری دنیا میں مذہبی و خاندانی اقدار کی جگہ لینے لگیں۔اب ہر انسانی عمل کو معاشی اور فوری فائدے کی میزان پر پرکھا جانے لگا نہ کہ نیکی بدی کے ابدی تصورات کی بنیاد پر۔مارکیٹ دراصل وہ مقام جہاں زیادہ سے زیادہ سرمائے کے حصول کا مقصد حاصل ہوتا ہی۔زیادہ سرمائے کے حصول کے لیے وسائل کا استعمال تو ہمیشہ سے ضروری رہاہے مگر یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ انسانوں کو بھی سرمائے کا حصول کا لیے ذریعہ قرار دیا جائے اور انسانوں کا ہر طرح سے استعمال اس سلسلے میں جائزسمجھا جا ئے ۔ روایتی انسان فطری رویوں کا حامل تھا جو گھنے سرسبز جنگلات دیکھ کر ان کے فطری حسن کوسراہتا تھا مگر یہ معاشی اقدار کے غلبے کا نتیجہ ہے کہ اب انسان ان جنگلات کو عمارتی لکڑی اور معدنیات کے گودام کے طور پر دیکھتاہی،حتیٰ کہ خاندانی و سماجی رشتوں کو بھی معاشی حوالوں سے پرکھا جانے لگا ہی۔
تبدیلی کے اس عمل میں فرد پہلے والدین کو بوجھ سمجھنے لگا اور پھر بیوی بچوں کو۔ اسی تبدیلی کا نتیجہ ہے کہ آج مغربی یورپ میں خال خال ہی کسی گورے جوڑے کے پاس بچہ نظر آتا ہے اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ یورپ کے ماہرین ِ سماجیات بتارہے ہیں کہ یورپی اقوام کی آبادی میں مسلسل کمی ،مہاجرین کی لگاتار آمداور تارکین وطن کی تیز تر شرح افزائش کی وجہ سے یورپ کی مقامی گوری نسلیں آبادی کی کمی کا شکار ہیں اور بعض ممالک کے بارے کہا جارہا ہے کہ وہاں مقامی آبادی کے اقلیت بن جانے کا امکان ہی۔ خود
برطانیہ میں ڈیوزبری (ewsbury) اور بلیک برن (Blackburn)جیسے شہروں میں انگریزی کلچر کے بجائے مسلم ثقافت غالب ہے ۔یہ اس یورپ کی صورت حال ہے جس نے اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کو امریکہ ،آسٹریلیا ،افریقہ اور ایشیاء کے کئی ملکوں میں منتقل کیا ۔ یہ سب کچھ چشم زدن میں نہیں ہوا اور نہ یہ آبادی جیسے کسی ایک عامل کے نتیجے میں ہوسکا ہے بلکہ اس کے پیچھے بہت سے تاریخی اور تہذیبی عوامل کار فر ما ہیں جن میں بازار کاایک معاشرتی ادارے سے مارکیٹ میں تبدیل ہونا اور ایک مقتدر ادارے کی حیثیت اختیار کرنا بھی ایک اہم عامل ہی۔
دنیا سرمایہ داری ،کمیونزم ،نیشلزم ،فاشزم اور طرح طرح کے ازم اپنا کر ان کے خطرناک ترین نتائج کا سامنا کرچکی ہے ۔خود مغربی دنیا میں مارکیٹ کی معیشت کے بارے میں عدم اطمینان پایا جاتاہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ مارکیٹ کی بے لگام حیثیت اور معاشرے میں اس کے کردار کا ازسرنو جائزے لیا جائی۔ تمباکو نوشی کے ذریعے سرطان اور دیگر مہلک بیاریوں کا پھیلائو ایک مسلمہ حقیقت ہے مگر مارکیٹ کے مفادات کو محفوظ رکھنے کے لیے سگریٹ کی صنعت اور مارکیٹنگ کو دنیا بھر کی حکومتیں تحفظ دیتی ہیں ۔اسی طرح پلاسٹک کی مصنوعات طرح طرح کی بیماریوں اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث ہیں مگر پلاسٹک کی صنعت پر بھی پابندی نہیں لگائی جاتی کہ مارکیٹ کے مفادات کو زک نہ پہنچے ۔آج عالمی رہنمائوں اور مفکروں کو یہ بھی طے کرلینا چاہیے کہ ان کے نزدیک انسان اور انسانی اقدار زیادہ اہم ہیں یا مارکیٹ اور اس کی معاشی اقدار ؟
دنیا میں پارلیمنٹ سے عدلیہ اور فوج تک ہر بڑے سے بڑے ادارے کے دائرہ عمل اور حدود کا باقاعدہ تعین کیا جاتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اپنے اندر خطرناک سماجی مضمرات رکھنے والی مارکیٹ پر کسی قدغن کو برداشت نہیں کیا جاتا ؟ آخر مارکیٹ اس قدر مقدس کیوں بنادی گئی ہے ؟کیا ہر معاشرتی ادارہ مارکیٹ کا
پابند ہی؟ کیا ایسا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب جدید طرززندگی ،مارکیٹ اور صنعتی ترقی پر یقین رکھنے والے ہر فرد کے ذمے ہی۔
1۔ پولانی،کارل، ’’دی گریٹ ٹرانس فارمیشن‘‘،۷۵۹۱ء ،بیکن پریس،بوسٹن
کارل پولانی کی اس تصنیف مطالعہ کے لیے مندرجہ ذیل ویب سائٹ http://uncharted.org/frownland/books/Polanyi/POLANYI%20KARL%20-%20The%20Great%20Transformation%20-%20v.1.0.html
پر موجود ہے جہاں سے اسے ڈائون لوڈ بھی کیا جاسکتا ہی۔

4 responses to this post.

  1. Posted by Amer Ibrahim on ستمبر 14, 2011 at 11:38 صبح

    بہت اچھا اور اچھوتے خیالات پہ مبنی مضمون ہے۔ فری مارکیٹ کے نصور پہ سیر حاصل کفتگو کی ہے اور معاشرے پہ اس کے اثرات کو بے لاگ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ البتہ مدمقابل تصورات پہ تقابلی جائزے کی تشنگی پرقرار رہی۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ آمین ۔ عامر ابراھیم

    جواب دیں

  2. My blog,www.naqsh-e-pa.blogspot.com, will reinforce(InshaAllah) those to whom “Dignity and Honor” means a lot. Dedicated to Muslim youth of the world, READ, JOIN and SHARE for the benefit of Muslim Ummah.

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s