قائد اعظم ایک سیکولر رہنما



نیازسواتی
niazhussain.swati@yahoo.com
قائد اعظم ایک سیکولر رہنما
تصویر جتنی بڑی ہوتی ہے اسے اسی قدر فاصلے سے دیکھنا پڑتا ہے ، قائداعظم برعظیم کی تاریخ کی وہ عظیم ترین شخصیت ہیں جن کے جامع کمالات کا جائزہ شاید ان کے اپنے دور میں ممکن نہ تھا ۔قائداعظم کو ان کی شخصیت کی عظمت کے حوالے سے قدرے فاصلے سے دیکھنا پڑتا ہے۔ ارسطو کا کہنا ہے کہ کسی چیز کا جائزہ اس وقت تک نہیں لیاجاسکتا جب تک کہ اس کی تمام تر تفصیلات و اثرات سامنے نہ آجائیں ۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو آج پاکستان ،تحریک پاکستان اور قائداعظم کی خدمات کے جائزے کا مناسب ترین وقت آپہنچا ہے۔ قوموں کی تاریخ میں شان دار کامیابیاں اور حادثات اچانک رونما نہیں ہواکرتے بلکہ ان سب کی بنیا د ماضی میں رکھی جاچکی ہوتی ہے۔ اپنے ارد گرد کا جائزہ لیں، یورپ کی سائنسی و صنعتی ترقی اور وہیں دو عظیم جنگوں کا برپا ہونا کئی صدیوں کے ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے دوچار برس کی بات نہیں۔اسی طرح پاکستان کے موجودہ حالات بھی ہمارے تاریخی تسلسل کے ثمرات ہیں ۔
دنیا میں بہت کم ایسے قائدین پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے عام سیاسی مسائل سے ہٹ کر کسی نظریہ کی بنیا د پر ایک ریاست کے قیام کی جدوجہد کی ہو اور ایسے قائدین کی تعداد تو بہت کم ہے جنہوں نے اپنی اس جدوجہد میں کامیابی کواپنی زندگی میں ایک ریاست کی شکل میں وجودپذیر ہوتے ہوئے دیکھ لیا ہو ۔ قائداعظم اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنیاد پر نہ صرف ایک ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوئے بلکہ اس ریاست کے پہلے سربراہ بھی قرار پائے ۔اس تاریخ ساز شخصیت کا ارتقائی جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قائداعظم ہمیشہ سے دوقومی نظریے کے حامی نہیں رہے بلکہ اپنی سیاسی زندگی کے آغاز میں آپ دادا بھائی نوروجی ، سرفیروز شاہ مہتا اور سب سے بڑھ کر گوپال کرشنا گوکلے سے متائثر تھے۔ یہ تمام لوگ لبرل جمہوریت نواز،دستوریت پسند (Constitutionalst) اور انڈین قوم پرستوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح ، محمد علی جناح اور ابوالکلام آزاد مسلمانان برّعظیم کے ابھرتے ہوئے رہنما تھے جنہوں نے انگریزوں سے مکمل اور غیر مشروط وفاداری کی اس روایت کو توڑا جسے سرسیّد قائم کرگئے تھے۔
۶۰۹۱ءمیں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا مگر مسلم لیگ کی قدامت پرستانہ اور متذبذب پالیسیوں کی وجہ سے قائداعظم نے اس تنظیم میں کوئی کشش محسوس نہ کی۔یہ صورت حال ۳۱۹۱ءتک قائم رہی جب تک کہ مسلم لیگ نے دستور میں ترمیم کرتے ہوئے اپنے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے ”برصغیر کے لیے ایک ایسے مناسب نظام کا قیام جو خود مختاری کی ضمانت دیتا ہو“ نہ قرار دے دیا۔قائداعظم سمجھتے تھے کہ ہندو مسلم اتحاد کے بغیر برطانوی حکمرانوں سے کسی مطالبے کی منظوری ناممکن ہے ۔دیگر عوامل کے علاوہ قائداعظم کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں کانگریس اور مسلم لیگ نے ۶۱۹۱ئ میں “میثاق لکھنﺅ” پر دستخط کیے جس کی رو سے صوبوں میں اکثریت کی حامل ذمہ دار حکومتوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ قائداعظم کی ماہرانہ سفارت کاری نے کانگریس کو مسلمانوں کے لئے جدا گانہ انتخابات پر رضامند کر کے ایک سنگ میل طے کرلیا۔ ہندو مسلم اتحاد کے لئے قائداعظم کی مخلصانہ کوششوں کو ہندوستان کے تمام حلقوں میں سراہا گیا۔ گوپال کرشنا گوکلے نے قائداعظم کو “ہندو مسلم اتحاد کا سفیر “قرار دیا۔ قائداعظم کو ملنے والے اس خطاب کو ہندوستان کی مشہور شاعرہ بلبل ہند سروجنی نائیڈو نے عوامی شہرت عطا کی۔
ہندو مسلم اتحاد کے سیکولر ایجنڈے نے نہ صرف قائداعظم کو قبولیت عامہ عطا کی بلکہ قائداعظم نے اپنے آپ کو دونوں قوموں کے لئے ایک قابل قبول اور غیر جانب دار قائد کی حیثیت میں محسوس کیا مگر ہندوستان کی سیاست میں ایک ڈرامائی تبدیلی جنوبی افریقہ سے موہن داس کرم چند گاندھی کی آمد کے ذریعے ہوئی۔ گاندھی نے ہندوستان کی سیاست میں مذہب کو ایک موئثر محرک کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہندوستان میں ایک عوامی تحریک اٹھا کر انگریز کو دیس نکالا دیا جاسکے۔ اس مقصد کے لئے گاندھی نے عدم تشددکی پالیسی اور رولیٹ ایکٹ کی مخالفت کے ذریعے ہندوستان کی سیاست میں بالاتر مقام حاصل کر لیا ۔اس دوران مولانا محمد علی جوہر اور گاندھی نے حکومت کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا آغاز کیا۔ ان دونوں حضرات نے عوام کو برطانوی سامراج کے خلاف متحرک کرنے کے لیے مذہب کو استعما ل کرنا شروع کر دیا۔ قائداعظم نے ان دونوں حضرات کو متنبہ کیا کہ سیاست میں مذہب کا استعمال ہندوستان میں موجود مذہبی رواداری اور برطانوی سامراج کے خلاف عدم تعاون کی تحریک دونوں کو تباہ کر دیگا اور یہ سب کچھ ہندوستان کی مفاد کے خلاف ہوگا۔ قائداعظم کی یہ تنبیہ صدابصحراثابت ہوئی لہٰذا۰۲۹۱ئ ناگ پور میں ہونے والے کانگریس کے اجلاس میں قائداعظم محمد علی جناح نے کانگریس کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔
مولانا محمد علی جوہر کی قید کے دوران گاندھی نے تحریک خلافت کے دوران جنم لینے والے تشدد کو بہانہ بنا کر اس تحریک کے خاتمے کا اعلان کردیا ۔ اس اعلان نے برصغیر کے مسلم اذہان میں گاندھی کے متعلق شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ دوسری طرف مارچ ۴۲۹۱ءمیں مصطفی
کمال اتاترک کی طرف سے ازخود خلافت کے خاتمے کے اعلان نے مسلمانان برصغیر کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ۔ گاندھی اور محمد علی جوہر کی طرف سے مذہب کو سیاست میں استعمال کرنے کے نتائج وہی نکلے جن کے بارے میں قائداعظم پہلے ہی متنبہ کر چکے تھے۔ مذہب کے سیاست میں استعمال کی حکمت عملی نے ہندو مسلم اتحاد کی فضاءکو سبوتاژ کر دیا اور جلد ہی ہندوستان کی فضاءہندو مسلم فسادات سے آلودہ ہوگئی اور تناﺅ کا ماحول برصغیر کا معمول بن کر رہ گیا۔
اس صورت حال میں قائداعظم ایک نئے روپ میں سامنے آتے ہیں ۔ قائداعظم کی دوربین نگاہیں دیکھ لیتی ہیں کہ محض خیر سگالی کے جذبات اور نمائشی اقدامات برصغیر کی تقدیر نہیں بدل سکتے بلکہ ہندو مسلم مسئلے کوآئینی ،قانونی اور پائیدار بنیادوں پر حل کرنا ضروری ہے۔ اب قائداعظم مسلمانان برصغیر کی محرومیوں اور خدشات کو اپنے ۴۱ نکات کی صورت میں سامنے لاتے ہیں ۔ اس طرح آپ برصغیر کی فرقہ وارانہ فضاءمیں ٹھراﺅ لانے کی کوشش کرتے ہیں مگر ےہ کوشش ایک تاریخی دستاویز قرار پانے کے باوجود برصغیر کی فضاءکو تبدیل کرنے میں ناکام رہتی ہے۔
۶۳۹۱ء کے اواخر یا۷۳۹۱ءکی ابتداءکے انتخابات کا مرحلہ سامنے آتا ہے تو مسلم لیگ بنگال اورکچھ مسلم اقلیتی صوبوں کے علاوہ ہندوستان بھر میں زبردست شکست کا سامنا کرتی ہے۔ ہندو اکثریتی صوبوں میں قائم ہونے والی کانگریس حکومتوں نے مسلمانوں کے خلاف تعصب اور ہندو جانب داری کا رویہ اختیار کرلیتی ہیں۔ کانگریس حکومتوں کے اس مسلم دشمن روےے نے مسلمانان ہند کے ذہنوں میں اس تاثّر کو پختہ کر دیا کہ کانگریس کی حکومت کا مطلب دراصل ہندو انتہا پسندوں کا تسلط ہی ہوگا۔ دوسری جنگ عظیم کے چھڑتے ہی گورنر جنرل ہند نے ہندوستان کو بھی اس جنگ میں شامل قراردے دیا۔ ایسا کرتے ہوئے گورنر جنرل ہند نے ہندوستان کی سیاسی قیادت سے کوئی مشورہ نہیں لیا۔اس پر احتجاج کرتے ہوئے اکتوبر۹۲۹۱ءمیںکانگریس نے تمام صوبائی وزارتوں سے استعفیٰ دے دیا۔دوسرے طرف کانگریسی حکومتوں کے اقدامات سے بےزار قائداعظم نے مسلمانان ہند سے اپیل کی کہ اس دن کو “ےوم نجات”کے طور پر منایا جائے۔
کانگریس راج کے تجربے نے قائداعظم کے دل میں مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کے خیال کو جاگزیں کر دیا۔ مارچ ۰۴۹۱ءکو لاہور میں منعقد ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس نے بحیثیت سیاسی جماعت دو قومی نظرےے کومسلم لیگ کابنیادی نظریہ قرار دے دیا۔ اس اجلاس نے برصغیر کی تاریخ کو نئے سرے سے مرتب کیا۔ مسلم لیگ نے اگلے سات سال اپنی سیاست کا محور قیام پاکستان کو قرار دیا ۔ ۵۴۹۱ءمیں مسلم لیگ نے “بن کے رہے گا پاکستان”کے ایک نکاتی ایجنڈے پر انتخابات میںحصہ لیا اور مسلمانوں کے لئے مختص کی گئی تمام ۰۳ نشستوں پر بھرپور کامیابی حاصل کر لی ۔
جون ۶۴۹۱ء میں مسلم لیگ نے قیام پاکستان کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارتی مشن کے منصوبے کو منظور کر لیا، کیبنٹ کے مشن پلان کی مسلم لیگ کی طرف سے منظوری میں شمالی ہند کے مسلم رہنماﺅں کا بھی اہم کردار تھا تا کہ مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمان صوبوں کی تقسیم کے بغیرہی زیادہ سے زیادہ حقوق حاصل کر سکیں۔کیبنٹ مشن کا منصوبہ تین سطحی طرز حکومت کا خاکہ پیش کرتا تھا جس میں مرکز کو صرف تین محکمے یعنی دفاع ، خارجہ اور مواصلات (بمع ضروری مالیات) دیے گئے تھے۔اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ اس کی تجاویز میں صوبوں کی گروپنگ میں پنجاب اور بنگال جیسے مسلم اکثریتی صوبوں کو تقسیم کیے بغیر ایک دوسرے سے منسلک کرنے کی پوری پوری
گنجائش موجود تھی۔ اس طرح کیبنٹ مشن قیام پاکستان کے ایک سنگ میل کے طورپر قابل قبول تھا ۔ بہت سے غیر جانب دار محققین کے نزدیک کیبنٹ مشن کی تجاویز برصغیر کے مسئلے کا بہترین حل پیش کرتی تھیں۔اسی لیے قائداعظم کی دوررس ذہن نے اس منصوبے کی مخالفت سے گریز کیا ۔ کانگریس کے صدر جواہر لال نہرو نے تقسیم ہند کی گنجائش دیکھ کرنہ صرف اس منصوبے کی من مانی تشریح کرنا شروع کردی اورصوبوں کی گروپنگ کی دفعات کو مکمل طور پر مسترد کردیا ۔جواہر لال نہرو کی اس ہٹ دھرمی کو مشہور کانگریسی لیڈر ابوالکلام آزاد نے بھی محسوس کیا مگر ابوالکلام اپنی ناراضگی کا فوری اظہار نہ کرسکے اور نہرو کی اس ہٹ دھرمی کو اپنے تیس سال تک خفیہ رکھے والے ان صفحات میں ظاہر کیا جو ان کی کتاب ”انڈیا ونزفریڈم “ کا حصہ تھے مگر ابوالکلام کی وصیت کے مطابق ان کے انتقال کے تیس سال کے بعد شایع کیے گئے ۔ بہر حال نہرو کے رویہ نے قائد اعظم کو مسلمانان ہند کے مستقبل کے بارے میں نے نئے خدشات میں مبتلا کردیا۔قائداعظم نے اپنے بھرپورردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیبنٹ مشن کے بارے میں اپنی منظوری واپس لے لی اور مسلمانان ہند سے اپیل کی کہ وہ ۶۱ اگست ۶۴۹۱ءکو”یوم راست اقدام“ کے طور پر منائیں۔
”راست اقدام “ کے دوران کلکتہ میں مشہور زمانہ فسادات ہوئے اورمزید یہ کہ فسادات کا یہ سلسلہ تھما نہیںبلکہ دراز ہوتا چلا گیا ۔ اس صورت نے کانگریس کے قائدین اور انگریز حکمران کو یہ واضح پیغام دیا کہ تقسیم ہند ، اب ہند کا مقدر ہے ۔کانگریس کی قیادت نے اس پیغام کو سمجھتے ہوئے بادل نخواستہ ۳ جون ۷۴۹۱ ءکے تقسیم ہند کے منصوبے کو منظور کرلیا۔یوں ۴۱ اگست ۷۴۹۱ءکو مملکتِ خدادادوجود میں آگئی ۔
پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا”آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں کہ اس ریاست ِپاکستان میں اپنے مندروں ،مسجدوںاور دیگر عبادت گاہوں میں جاسکیں……..آپ کسی بھی مذہب ،ذات اور عقیدے سے تعلق رکھ سکتے ہیں۔اس بات کا ریاست سے کوئی سروکار نہ ہوگا……. ہم ایسے دور کا آغاز کررہے ہیں جہاں کوئی ،مختلف برادریوں کے مابین کوئی تعصب اور امتیازنہ ہوگا۔ ہم اس بنیادی اصول سے اس دور کا آغاز کرتے ہیں کہ یہاں ہم سب ایک ریاست کے مساوی شہری ہیں ۔“
جیسا کہ اس مضمون کی ابتدا ءمیں بتایا گیا تھا کہ قائداعظم کی سیاسی زندگی کا آغاز سیکولر اور جمہوریت اور دستور پسند افراد کے درمیان میں ہوا ، خاص طور پر گوپال کرشنا گوکلے تو قائداعظم کے پسندیدہ ترین لیڈروں میں شامل تھے ۔قائداعظم آزادی ہند کے سیکولر ایجنڈے پر ہندو اور مسلم دونوںمذاہب کے ماننے والوں کا اتحاد چاہتے تھے اور مگر یہ ہندو قیادت کا متعصبانہ رویہ تھا جس نے قائد کو اپنے انسانیت نوازی کے سیکولر ایجنڈے سے مسلم قوم پرستی کی طرف راغب کیا اور قائداعظم جو گاندھی اور محمدعلی جوہر کو مذہب کو سیاسی معاملات میں ملوث کرنے کے بھیانک نتائج سے منتبہ کرتے تھے ،بلآخر خودمسلم قوم پرستی کے سیاسی ہدف کے حصول کے لیے مذہب کو استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے اور تحریک پاکستان کے دوران انہیں احساس ہوا کہ برصغیر ،یورپ کے مقابلے میں مختلف تہذیب ،تاریخ اور ثقافت رکھتا ہے جہاں مذہب زندگی کے ہر معاملے ایک توانا قوت ہے لہٰذا انہوں نے مذہبی اصولوں ،نظریات اور علامات کو نہ صرف اس تحریک کے دوران استعمال کیا بلکہ اپنے نپی تلی تقاریر میں اسلامی نظام کے قیام کو مقصد قرار دینے کے واضح اشارے بھی دیے ۔یہ سب کچھ قیام پاکستان تک جاری رہا ،یہاں تک قائداعظم نے اپنی مندرجہ بالا تقریر کی جس نے قائداعظم کی ابتدائی سیاسی تربیت کے دوران پڑنے والے سیکولر نقوش کو واضح کیا ۔
قیام پاکستان خلافت اسلامیہ کے قیام کے بجائے برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کے حصول کی جدوجہد کی تحریک تھی ۔اسی لیے تقسیم ہند کے ایجنڈے کو جب مسلم لیگ کے اجلاس میں پیش کیا گیا تو چوہدری خلیق الزمان اور شمالی ہند کے دیگر مسلم رہنماﺅںنے اس منصوبے کو صوبوں کی تقسیم کے حوالے سے ناقابل قبول قرار دیا کیوں کہ اس فارمولے میں اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے حقوق کی کوئی ضمانت موجودنہ تھی بلکہ تحریک پاکستان میں بھرپور شرکت کی وجہ سے مستقبل میں ان مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کا مستقبل تاریک نظر آرہاتھا اور بعد کی تاریخ نے ان خدشات کی تصدیق بھی کردی ۔ بہر حال اس اجلاس کے دوران قائداعظم کی طرف تقسیم ہند کے ناقص منصوبے کی قبولیت پر اس قدر تنقید کی گئی کہ قائداعظم نے بلآخر کہا کہ ان حالات میں تویہی ممکن تھااور دوسری صورت یہ ہے کہ تقسیم کے پورے منصوبے کو مسترد کردیاجائے مگر یہ رائے اکثریت نے نامنظور کردی ۔

مختصر یہ کہ ۱۱ اگست کی تقریر میں قائداعظم نے اپنے سیکولر نظریات کا بھرپور اظہار کیا مگر اب فرق صرف یہ تھا کہ قائداعظم گوپال کرشنا گوگلے،سرفیروز مہتا اور دادابھائی نوروجی جیسے انڈین قوم پرستوںکے بجائے پاکستان کے مسلم قوم پرستوں سے مخاطب تھے۔برصغیر کا کوئی ہندو لیڈر اگر ہندو اکثریت کے مذہبی جذبات کا استعمال کرکے ایک ہندو اکثریتی سیکولر مملکت کا قیام عمل میں لاتا تو یہ بات قدرے قابل قبول ہوتی کیوں کہ ہندو مذہب نظام زندگی دینے کی صلاحیت سے محروم ہے اور عقائد کاایک مجموعہ ہے مگر ایک مسلم لیڈر کی جانب سے ایسی روش یقینا حیرت انگیز قرار پاتی ہے کیوں کہ اسلام ایک مکمل طرز زندگی ہے جسے کسی دوسرے طرز زندگی مثلاََ سیکولر زم سے نظام ِحیات مستعارلینے کی ضرورت نہیں ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s