مدارس دینیہ اور امریکی جال



نیازسواتی
niazhussain.swati@yahoo.com

امریکی حکومت اور دانش وروں کو اس سوال نے پریشان کررکھا ہے کہ آخر دنیا ان سے اس قدر نفرت کیوں کرتی ہے؟ حالانکہ وہ عراق کو صدام کی آمریت سے نجات دلاکر جمہوریت سے منور کرچکے ہیں ۔اگر اس عمل میں نو دس لاکھ مسلمان مرگئے تو کیا ہوا ۔ اسی طرح افغانستان کو طالبان کی آمرانہ حکومت سے نجات دلاکر حامد کرزئی محترم کی روشن خیال اور اعتدال پسند جموری حکومت سے مالامال کرچکے ہیں ۔ ان دانش وروں کے معصومیت سے لبریز سوالات یہ بھی ہیں کہ جاپان کے جزائر پر امریکی اڈوں پر موجود امریکی فوجیوں کے ہاتھوں چند جاپانی خواتین کی آبروریزی سے آخرایسی کون سی قیامت آگئی کہ امریکہ کا شکریہ اداکرنے کے بجائے ان جاپانی جزائر سے امریکی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جارہاہے ،آخر دنیا اتنی ناشکری کیوں ہوگئی ہے؟
امریکی تھنک ٹینکس اور محکمہ دفاع کو مختلف قسم کی تحقیقات اور مشاہدات کے بعد اندازہ ہوا کہ پوری دنیا میں اسلامی تہذیب اور اس کے احیاءکے نگہبان اور محرک علماءکرام،مدارس دینیہ اور تحریکات اسلامی ہیں ،لہذا اب مختلف امریکی تھنک ٹینکس کے پردے میں امریکی محکمہ دفاع پینٹا گان ،مدارس اور تحریکات اسلامی کو اپنی توجہ کا مرکز بناچکا ہے۔ افغانستان اورعراق میں کوڑو ں کی بارش کرنے کے بعد پاکستا ن اور دیگر اسلامی ممالک کے علماءپر توڑوں کی بارش کی جارہی ہے۔ بقول امام احمد بن حنبل رحمةاللہ علیہ کے کہ حکمرانوں کے توڑوں (دولت) کی بارش ان کے کوڑوں کی بارش سے زیادہ خطرناک ہے۔
امت مسلمہ کے تناظر میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے Carrot and stick کی پالیسی اپناتے ہوئے پہلے تو مدارس عربیہ کو دہشت گردی کے اڈے قراردے کر ملک بھر کے راسخ العقیدہ مدارس دینیہ پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کروایا تو دوسری طرف امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان اپنے اہم ترین تھنک ٹینک ”انسٹی ٹیوٹ آف اینالیسز“ کے ساتھی ادارے ”انٹرنیشل سینٹر فار ریلیجن اینڈ ڈپلومیسی “ کی ہمراہی میں اسلامی علمیت کے سب سے بڑے مراکز یعنی مدارس دینیہ کو اسی طرح روشن خیال اور اعتدال پسند بنانے کے لئے اسی طرح کوشاں ہے جیساکہ پرویزی حکومت کی لائق ترین خاتون وزیر محترمہ زبیدہ جلال نے میٹرک کے دینیات کے نصاب سے آیات جہاد کا اخراج کرکے اسے” معتدل “بنایا تھا ۔ بہرحال مدرارس عربیہ کو امریکی پالیسی کے تابع کرنے کے شرم ناک عمل کا آغاز ہوچکاہے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ICRD نامی اس ادارے نے جامعہ بنوریہ سائٹ اور جامعہ کراچی کے ڈین فیکلٹی آف آرٹس ڈاکٹر اسلم میمن اور سابق ڈین اسلامک اسٹڈیز ڈاکٹر عبدالرشید (مذکورہ ادارے کے پاکستان میں ایجنٹ) کی سازش کے ذریعے علماءکو جامعہ کراچی کی سند کی ترغیب دلا کر مدارس کے معلم خواتین و حضرات کے لئے دس روزہ ورکشاپس کا انعقاد کیا ہے۔ اب تک اس سلسلے میں دس ورکشاپس منعقد ہوچکی ہیں ۔
اس امریکی کا باقاعدہ تعار ف یہ ہے کہ اس کا نام ”انٹرنیشل سینٹر فار ریلےجن اینڈ ڈپلومیسی “ ہے ۔ یہ نام ہی بتانے کے لئے کافی ہے کہ
اس ادارے کا مقصد امریکی ریاست کو دنیا بھر میں مذہب (اسلام ) کی طرف درپیش چیلنجز کا حل نکالنا ہے۔ اس بات کی مزید وضاحت اس ادارے کے نصب العین سے ہوتی ہے جو اس ادارے کی باقاعدہ ویب سائٹ پر درج ہے اس نصب العین کے مطابق اس ادارے کا مقصد وجود ان (امریکی) مسائل سے نبردآزما ہونے کے لئے مذاہب کو استعمال کرنا ہے جو روایتی سفارت کاری کی حدود سے متجاوز ہوں
اصل الفاظ ملاحظہ ہوں :
The Centre mission is to address identity-base conflicts that exceed the reach of traditional diplomacy by incorporating religion as a part of solution.
اس ادارے کی تحسین سابقہ وموجودہ امریکی سفارت کاروں ، امریکی سیکریٹری اسٹیٹ ، کلیسا کے آرک بشپ وغیرہ سب نے کی ہے اور اس ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ
”اس بات کی ضرورت ہے کہ زیادہ سے زیادہ موئثر احتیاطی تدابیر کے ذریعے ایسے مواقع کو کم سے کم کیا جائے جو ہمیں مجبور کردیں کہ ہم اپنی اولاد کو خطرناک طریقوں کی طرف لے جائےں ۔“
(ملاحظہ ہو ادارے کی ویب سائٹhttp://www.icrd.org/ )
اس معصومانہ عمل و الفاظ کااظہار کرنے والے ادارے نے اس بات کی وضاحت اپنی پوری ویب سائٹ پر کہیں نہیں کی کہ آخر امریکی ریاست کو ایسے مواقع (افغانستان اور عراق پر فوجی حملے اور قتل عام) سے باز رکھنے کے لئے ادارے نے کیا کیا کوششیں کیں ۔ دنیا میں تصادم اور قتل عام کا اہم ترین کردار تو امریکی ریاست خود ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت بھی دنیا کی نگاہوں سے مخفی نہیں کہ دنیا میں عیسائیت ، یہودیت ، ہندوازم اور بدھ مت تو کہیں بھی امریکی حملوں کا نشانہ نہیں اور نہ اپنے دفاع پر مجبور ہے، یہ ساری کی ساری کہانی تو امت مسلمہ کی ہے جو ایک طرف امریکی فوجی حملوں اور سازش کا شکار ہے تو دوسری طرف اسلامی علمیت کے مطابق صرف اللہ کی نصرت اور مدد کے سہارے جوابی اقدام کے طور پر اسلامی تہذیب کے تحفظ کی خاطر جہاد جیسے فریضے میں مصروف ہے۔ آخر ظالم کو سمجھانے اور ظلم سے باز رکھنے کے بجائے محض مظلوم امت مسلمہ کے جسم سے روح محمد ﷺ نکال دینے کے لئے یہ ادارہ اتنا بے چین کیوںہے؟؟؟ اس ادارے نے صرف مسلمانوں کو امن اور مکالمے کا درس دینے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔پنٹاگون کی امداد پر پلنے والے یہ استعمار کے تھنک ٹینکس امریکہ کو مکالمے اور امن کا درس کیوں نہیں دیتے جب کہ امریکہ مکالمے ،امن اور مذاکرات نام کی ہر چیز کو روندتا ہوا نہ صرف عراق،افغانستان لاکھوں مسلمانوں کو قتل اور ان سے زیادہ کو اپاہج بنا چکا ہے۔ بلکہ یہ عمل اب بھی جاری ہے ۔اسی امریکہ نے عراق کے اسپتالوں میں دوائیوں کی رسد منقطع کرکے دولاکھ سے عراقی بچوں کو تڑ پ تڑپ کر مرنے پر مجبور کردیا ۔ اسی امریکہ کی طفیلی ریاست اسرائیل نے غزہ شہر کا محاصرہ کرکے آن حضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شعب ابی طالب میں محصورکرنے کی یاد تازہ
کردی ۔کہاں گئے بین المذاہب مذاکرات ،کہاں ہے نام نہاد مکالمہ (Inter Faith Dialogue) ۔ اس بین المذاہب مکالمے
کی حقیقت معلوم کرنی ہو تو غزہ میں شہداءکی ماﺅں سے ملئے جن کے معصوم بچوں کے جسموں کے چیتھڑے بتارہے ہیں کہ بین المذاہب مکالمہ محض فریب اور امت مسلمہ کی رہی سہی غیرت اور مزاحمت کے خاتمے کا عنوان ہے۔ امن کا درس محض جہا دکے خاتمے کی ناآسودہ خواہش کا نام ہے۔ امریکہ کے ہاتھوں امت مسلمہ پر ظلم کی داستان میں کہیں بارود کی بو ہے تو کہیں معصوم بچوں کے لہو کی بوندیں ہیں ،کہیں ہچکیوں اور سسکیوں کی گھٹی ہوئی آوازیں ہیں تو کہیں شہیدوں کی بیواﺅں کے بہتے آنسوﺅں کی نمکینی ہے۔ کہیں ان باحیا عورتوں کی برہنہ لاشیں ہیں جنہیں آفتاب و ماہتاب کی کرنوں کے سوا کسی غیر نے نہ دیکھا تھا ۔یہ داستاں ایک خوں چکاں تحریر ہی نہیں آتش فشاں تاریخ بھی ہے جو امریکی دہشت اور وحشت کے ہتھیاروں سے افق پر تحریر کی جارہی ہے ۔ایسے میں جب مغربی سامراج روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے نعروں سے تائب ہوکر کھلم کھلا دہشت گردی پر اتر آیا ہے تو کیا امام المجاہدین سرورکونین ﷺ کے وارث اس مغرب کو سہا را دینے آگے بڑھیں گے ۔ ایسا منظر تو چشم فلک نے روئے زمین پرکبھی نہ دیکھا تھا ۔ انا للہ واناا لیہ راجعون ۔
بہرحال اس معاملے کا سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ ان ۰۱ روزہ ورکشاپس کا جھوٹا اور جعلی سرٹیفکٹ جاری کرنے کے لئے جامعہ کراچی کا نام استعمال کیا گیا ہے اور اس سرٹیفکٹ پر بڑی صفائی سے یہ جھوٹ درج کیا گیا ہے کہ یہ کورس ایک سمسٹر پر مشتمل ہے جب کہ جامعہ کراچی کے مروجہ طریقہ کار کے مطابق جامعہ کے کسی شعبے نے اس کورس کا نصاب تیار کیا اور نہ منظور ی کے لئے اسے اکیڈمک کونسل میں پیش کیا نہ سینڈیکیٹ نے اس کی منظوری دی ۔اسلامک اسٹڈیز فیکلٹی کو اس کورس کا سرے سے علم ہی نہیں یہ کورس محض ڈاکٹر عبدالرشید (سابق )اور ڈاکٹراسلم میمن کی ملی بھگت سے منعقد کیا گیا ۔ یہ کورس نہ تو سمسٹر کی شرائط پر پورا ترتا ہے اور نہ ہی اس کورس کا انعقاد جامعہ کراچی نے کیا ہے اور نہ ہی اس نام نہاد سمسٹر کا امتحان جامعہ کراچی میں لیا گیا ۔ مزید طرہ یہ کہ جامعہ کراچی کے اس انوکھے سرٹیفکٹ پر نہ تو وائس چانسلر محترم کے دستخط ہیں اور نہ رجسٹرار اور شعبہ امتحانات کے ناظم کے ۔ یہاں جامعہ کراچی کی انتظامیہ کے ذمے مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات نہایت ضروری ہیں۔
.1 کیا کوئی دس روزہ کورس جامعہ کرا چی میں مروجہ سمسٹر سسٹم کے مطابق ایک باقاعدہ سمسٹر کی تعریف ،مدت اور معیار پر پورا ترتا ہے؟
.2 کیا یہ دس روزہ کورس جامعہ کراچی کی حدود میں کروایا گیا تھا اگر ایسا ہے تو جامعہ کے کس شعبے میں اس کورس کی کلاسز منعقد ہوئیں ؟ اگر ایسا نہیں ہوا تو اس کورس کے سرٹیفکٹ میں یہ واضح عبارت کیو ں درج کی گئی کہ اس کورس کا انعقاد جامعہ کراچی میں کیا گیا ہے۔
.3 جامعہ کراچی سے جاری کردہ ہر سند پر وائس چانسلر محترم اور رجسٹرار جامعہ اور ناظم شعبہ امتحانات ضروری ہیں آخر اس واحد کورس میں ایسی کیا بات تھی کہ مذکورہ بالا شخصیات کے دستخطوں کے بغیر ان سرٹیفکٹس کو جاری کردیا گیا ؟یہ کورس اس قابل نہیں تھا یا معزز علمائے کرام کی توہین مقصود تھی؟؟
.4 جامعہ کراچی کے رجسٹرار آفس ، ڈین آفس ، ڈپٹی رجسٹرار آفس، اکیڈمک کونسل اور کنٹرولر آف ایگزامینیشن آفس سمیت
تمام متعلقہ ادارے اس کورس سے لاعلم ہیں سب کی متفقہ رائے ہے کہ کیسا کوئی کورس کبھی ان کے علم میں نہیں آیا نہ کبھی کسی فیکلٹی نے ایسے کسی کورس کا نصاب منظور ی کے بھیجا ہے ،کسی ڈین اور سابقہ ڈین کو اس بات کا اختیار نہیں کہ وہ اپنے دستخط سے ایسا کوئی سرٹیفکٹ جامعہ کراچی کا نام اور نشان استعمال کرکے جاری کرے۔
.5 مصدقہ ذرائع نے بتایا ہے اس کورس کا انعقاد جامعہ کراچی کے بجائے سائٹ میںواقع بنوریہ ریسٹورنٹ میں کیا گیا ۔ کیا جامعہ کراچی نے شہر کے مختلف ہوٹلوں میں منعقدہ کورسز کی سند جاری کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے؟ اگر ایسا ہے تواس پالیسی کا باقاعدہ اعلان کیوں نہیں کیا گیا تاکہ اس قسم کے کورسز منعقد کرنے والے دیگر ادارے بھی مستفید ہوں ۔
یہاں کچھ سوالات علماءکرام کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں تاکہ ازراہ کرم علماءصحیح صورت حال کی وضاحت کریں تاکہ یہ اس مکمل فراڈ کے معاملے سے علماءکرام کی بریت واضح ہوسکے ۔
.1 جامعہ بنوریہ سائٹ میں امریکی عہدیدران کی مسلسل اور مشکوک آمد کے بارے میں علماءکرام پہلے ہی اپنے تحفظات رکھتے ہیں ، اب ایک امریکی ادارے (ICRD) کی سرپرستی میں ایک ایسے کورس کا انعقاد (جس کے درپردہ اور ظاہر ی مقاصد بھی امریکی ڈپلومیسی کا اظہار ہیں ) کیا معنی رکھتا ہے؟
.2 اس کورس کے بارے میںعینی شاہد ین علماءکرام نے بتایا ہے کہ اس کورس کے دوران ایک ہی کمرئہ جماعت میں مرد علماءکرام اور خواتین معلمات کو لیکچرز دئیے گئے بنوریہ ریسٹورنٹ میں جہاں عام مرد گاہکوں کے خوردونوش کا انتظام ہے وہیں مردوں کے درمیان چند میزیں لگاکر خواتین معلمات کو بٹھا کر چائے پلائی گئی اور مرد ویٹروں نے ان خواتین معلمات کو چائے پیش کی۔ کیا یہ بات درست ہے ؟ اگر ایسا ہی ہے تو کیا یہ اکابردیوبند اور سلف صالحین کا طریقہ ہے یا امریکی خواہشات کی عملی عکاسی ؟ کیا علماءاس قسم کی مخلوط تعلیم کی اجازت اپنے مدارس دینیہ میں دینا پسند کریں گے؟
.3 کیا علماءکے کورس کے لئے بنوریہ ریسٹورنٹ کے بجائے جامعہ بنوریہ سائٹ بہتر جگہ نہ تھی ؟ ایک مغربی ہوٹل میں مغربی ثقافت کے ذریعے نوجوان معلمات اور معلمین کو آزاد بنانے ،لبرل ماحول میں رہنے اور اختلاط کے ذریعے ایک دوسرے سے ہم آنگ بنانے اور کے اس منصوبے کا مقصد واضح ہے کہ خواتین ومرد معلمین کے تشخص اور کردار کو داغ دار کرکے لبرالائزڈ کیا جائے ۔ ڈاکٹر عبدالرشید نے ان تمام مراحل کی خواتین کی موجودگی میںاپنے ذاتی کیمرے سے تصویر کشی کی اور اپنے آقا ادارے کو لکھا کہ میں نے دینی مدارس کے معلمین کو کم ازکم اتنا لبرل کردیا ہے کہ وہ مخلوط کورس میں شرکت پر آمادہ ہوگئے ۔
.4 اگر مدارس دینیہ نے قال اللہ و قال الرسول کی تعلیم اور ورثةالانبیا علیہم السلام کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بجائے امریکی اداروں کی ڈکٹیشن کے مطابق لائحہ عمل ترتیب دینا گوارہ کرلیا ہے۔؟
.5 کیا مدارس دینیہ کی نازک ذمہ داری اور مقام کے پیش نظر فتنوں کے اس دور میں امریکی جال سے بچ کر چلنے کی روش بہتر
نہ ہوگی جب کہ مدارس دینیہ اسلام کے تحفظ کا واحد ادارہ بن چکے ہیں۔
.6 کیا فرماتے ہیںعلماءدین شرع متین مدارس عربیہ میں امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثررسوخ کے بارے میں جب کہ امریکہ کی مسلم دشمنی اور یہود و ہنود پرستی روزروشن کی طرح عیا ں ہو چکی ہو؟
.7 کیا کسی سامراجی ادارے کی حقیقت جانے بغیر علماءکرام اور مدارس عربیہ کے اساتذہ کو امریکہ پالیسی کے گھن چکر میں
لانا مستحسن کام ہوگا ؟؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s