”سرسید : عالم اسلام میں جدیدیت کا داعی اعظم“



niazhussain.swati@yahoo.com

مریم جمیلہ
ترجمہ: نیاز سواتی
سر سید احمد خان۷۱ اکتوبر ۷۱۸۱ءکو دہلی کے ایک مذہبی خاندان میں پیدا ہوئے آپ کی تربیت قدیم اورروایتی خطوط پر ہوئی مگر سرسید عر بی اور فارسی کی تعلیم کی طرف رغبت نہیں رکھتے تھے چنانچہ جیسے ہی موقع ملا آپ نے عربی و فارسی کی تعلیم ترک کردی اپنی جوانی کے ایام آپ نے بے فکری میں گزارے ان دنوں رقص و موسیقی کی محفلوں سے آپ وقتا فوقتا لطف اندو ز ہوتے رہے۔اپنے والد کے انتقال کے بعد آپ کو ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت مل گئی۔اس ملازمت کے بعد آ پ سب جج کے طو رپر مقرر کئے گئے اس حیثیت میں آپ نے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دیں۔
۹۲سال کی عمر میں سرسید کو احساس ہو اکہ وہ دینی علم جو نوجوانی کے لاابالی پن اور نیم دلی سے پڑھنے کی وجہ سے حاصل نہیں کرسکے اسے اب بہترین ہم عصر علماءکی مددسے حاصل کیا جائے۔ اس طرح اپنے فرصت کے لمحات میں سر سید نے اپنی دینی تحریروں کاآغاز کیا۔ اسی دور میں سرسید نے سیرت طیبہﷺ مرتب کی۔ یہ تحریر ا راسخ العقیدگی کے اظہار کے باوصف اپنے مواد اور اسلوب کی بناءپر ایک درمیانے درجے کی تحریر ثابت ہوئی۔
۷۴۸۱ءمیں سرسید نے دہلی کی عمارات اور تاریخی شخصیات پر اپنی تصنیف آثار الصنا دید کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ یہ کتاب جس عالمانہ شان اور دقت نظر کی حامل ہے حیرت انگیز طور پر سرسید کی مذہبی کتابیں اس سے تہی دامن نظر آتی ہیں ۔چند سال بعد آثارالصنا دید کو فرانسیسی میں ترجمہ کیاگیا۔۴۵۸۱ءمیں یہ کتاب دوبارہ اشاعت پذیر ہوئی۔۳۶۸۱ءمیںسر سید کو لندن کی رائل ایشیاٹک سوسائٹی کی اعزازی رکنیت دی گئی۔ اس کتاب کا جائزہ لیتے ہوئے مرزاغالب نے تبصرہ کیاکہ سرسید کواسلامی تہذیب کے عہد رفتہ کے خواب دیکھنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے انگریزی ثقافت اور تہذیب کا مطالعہ کرناچاہئے۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ سرسید نے اس مشورے کو قبول کرکے حرزجاں بنالیا۔
۷۵۸۱ءکی بغاوت کی ناکامی اور اس کے بعد برصغیر پر برطانوی تسلط کی تکمیل سے سرسید اس نتیجے پر پہنچے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی نجات کا دارومدار انگریزی آقاﺅں سے تعاون و دوستی اور ان کی تہذیب و ثقافت اپنالےنے مےں ہے۔ سر سےد نے طے کر لےا کہ وہ مسلمانان ہند اور انگریزوں کے درمیان ترجمان کا کردار ادا کریں گے ۔ اپنے اس کردار کو نبھاتے ہوئے سرسےد نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مسلمانوں اور عےسائےت کے درمےان پائی جانے والی مخاصمت کی اسلام مےں کوئی گنجائش نہےں کےوں کہ دنےا کے تمام مذاہب سے زےادہ اسلام حضرت عےسیٰ علےہ اسلام کی تعظےم کرتا ہے اورسرسید کی تعلےمات نے انگرےزوں کو یہ بھی ےقےن دلاےا کہ اسلام ہمےں اس بات کی تعلےم دےتا ہے کہ اگر ارادئہ خداوندی کے تحت مسلمان کسی اےسی قوم کے ماتحت آجائےں جو ہمےں مذہبی آزادی، انصاف پر مبنی قوانےن، امن و انصاف ، جان و مال کا تحفظ فراہم کرے جےسا کہ انگرےزفی الوقت ہندوستان مےں کررہے ہےں تو ہم پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ان انگرےزوں کے فرماں بردار اور وفا دار بن کر رہےں۔ اپنی اسی سےاسی وفاداری کی دےن سے مطابقت ظاہر کرنے کے لئے سر سےد نے حضرت ےوسف علےہ اسلام کی مثال پےش کرکے بتاےا کہ انہوں نے کس طرح فرعون مصر کی خدمت اور فرماں برداری مےں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جب کہ وہ مسلم بھی نہ تھا۔
برطانوی استعمار کی خدمت کی لگن نے سرسےد کو مجبور کےا کہ وہ باقاعدہ دستاوےز کی شکل مےں ان ہندوستانی مسلمانوں کا تذکرہ مرتب کرےں جو تاج برطانےہ کے وفادار ہےں ۔ سرسےد نے لکھا ©”مےں تذکرہ کروں گا ان انعامات و اعزازات کا جو ہماری عادلانہ اور منصفانہ حکومت کے طرف وفادار مسلمانوں کو عطا کئے گئے۔ یہ سب مےں اس لئے کہوں گا تاکہ ہماری فلاحی حکومت کی سخاوت، انصاف اور سرپرستی کی بہتر تفہےم مسلم رعاےا کے لئے ممکن ہو سکے۔ ممکن ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد مسلمانان ہند اس نعمت عظمیٰ (حکومت برطانےہ) کے شکر گزار بن سکےں۔” (دی ریفارمزاینڈ ریلجئس آئیڈیاز آف سرسید احمد خان ،شیخ محمد اشرف، صفحہ نمبر ۶۲)
برطانوی تہذےب و ثقافت مےں مسلمانان ہند کے انجذاب کے عمل کی سر پرستی کرتے ہوئے سرسےد کو محسوس ہوا کہ اس راہ مےں حائل بعض سماجی رکاوٹوں کا ہٹانا بہت ضروری ہے۔ اس موقع پر سر سےد نے اپنا وہ مشہور فتویٰ دےا جس کے مطابق مسلمان اور عےسائی ساتھ مل کر کھانا کھا سکتے ہےں۔ ےہاں انہوں نے قرآن پاک کی اس آےت کا حوالہ بھی دےا جس کے مطابق اہل کتاب کا کھانا مسلمانوں کے لئے جائز ہے۔ مگر سر سےد اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے مشکل مےں پڑ گئے جب ان سے اےک ہی دستر خوان پر حرام اور حلال گوشت کی موجودگی مےں مسلمانوں کے مطلوبہ طرز عمل کے بارے مےں پوچھا گےا۔ سرسےد نے ضروری سمجھا کہ اےک ضعےف حدےث کی وساطت سے ثابت کرےں کہ اہل کتاب کے ہاتھوں مارا گےا جانور مسلمانوں کے لئے حلال ہے چاہے اسے ذبح نہ کےا گےاہو۔
اپرےل ۹۶۸۱ ء مےں سرسےد نے برطانےہ جانے کا ارادہ کےا تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے دےکھ سکےں کہ انگرےزوں نے کن ذرائع سے طاقت حاصل کی تاکہ وہ اپنے ہم وطنوں کو بھی اسی طرح ترقی کی راہ پر گامزن کر سکےں۔ سرسےد ےہ دےکھ کر انتہائی متاثر ہوئے کہ انگرےزوں کی مسلمانوں پر برتری نہ صرف تعلےم، سائنس اور ٹےکنالوجی کے مےدان مےں ہے بلکہ سماجی، اخلاقی اور روحانی طور پر بھی و ہ برتر ہےں۔ ۵۱ اکتوبر ۹۶۸۱ ء مےں انہوں نے لندن سے اپنے گھر اےک خط روانہ کےا جس مےں سرسےد نے فرماےا “انگرےزوں کی خوشامد سے ہٹ کر مےں سچ سچ ےہ بات کہہ سکتا ہوں کہ برصغےر کے باشندے خواہ وہ اعلیٰ مرتبے کے حامل ہوں یاپست طبقات سے متعلق، تاجر ہوں ےا چھوٹے دکاندار ، پڑھے لکھے ہو ں ےا ان پڑھ ، انگرےزوں کے سامنے تعلےم، تہذےب اور راست بازی کے حوالے سے ان کی حےثےت اےک ناپاک جانور کی سی ہے جو کبھی اےک عمدہ آدمی نہےں کہلاسکتا۔ انگرےز اس بات مےں حق بجانب ہےں کہ ہندوستان مےں وہ ہمےں جاہل اور وحشی سمجھےں۔ جو کچھ مےں ےہاںدےکھ چکا ہوں اور جو دےکھ رہا ہوں وہ برصغےر کے باشندوں کے وہم و گمان سے بھی ماورا ہے۔عزت نفس کے احساس کے اےک مہلک پردے نے مسلم برادری کے ذہن کو اپنی گرفت مےں لے رکھاہے۔ مسلمان قرو ن ا ولی
کے قصوں کو ےاد کرتے ہےں اور سمجھتے ہےں کہ دنےا مےں ان کا کوئی ثانی نہےں۔ ان کے مقابلے مےں ترکی اور مصر کے مسلم روز بروز دنےا مےں زےادہ سے زےادہ مہذب ہورہے ہےں۔ جب تک جدےد تعلےم کا عوام مےں فروغ اس سلسلے میں فضاءسازگار نہ کردے یہ کسی ہندوستانی کے لئے ممکن ہی نہےںکہ وہ مہذب وباوقار کہلاسکے۔“
سرسےد اس بات پر پختہ ےقےن رکھتے تھے کہ اسلام کا اےک سچے اور انسان دوست مذہب کی صورت مےں اس کا ڈھلنا اور تہذےب و ترقی سے اس کی مطابقت ممکن ہے اگر اےسے تمام نظرےات اور رسومات کو ترک کردےا جائے جو جدےد دور سے متصادم اوردقیانوسی ہےں۔
ان مقاصد کے حصول کے لئے ضروری تھا کہ مسلمانان ہند مےں اےک جدےد تعلےم ےافتہ اور ماڈرن طبقہ پےدا کےا جائے لہذا سر سےد نے ۷۸۸۱ء مےں اےک اسکول کی بنےاد رکھی جہاں اردو، عربی،فارسی اور دےگر مقامی زبانوں کو جدےد تعلےم کے لئے نا مناسب خےال کرتے ہوئے سر سےد نے اس بات پر اصرار کےا کہ انگرےزی زبان ہی واحد ذرےعہ تعلےم ہوگی۔یہ اسکول۰۲۹۱ئ میں یونی ورسٹی کی حیثیت اختیار کرگیا۔
سرسےد احمد خان معذرت خواہانہ روےے کے حامل جدےدےت پسندوں کے قائد ہےں۔ آپ کے معذرت خواہانہ خےالات کی اےک جھلک ذیل میں ملاحظہ فرمائےں۔
۱۔ تعدد ازدواج ےعنی اےک سے زےادہ بےوےاں رکھنا اسلام کی روح کے منافی ہے اور تعددازدواج کی اجازت نہےں دی جاسکتی سوائے چند استثنائی صورتوں کے۔
۲۔ اسلام نے ہر قسم کی غلامی ممنوع قراردی ہے حتیٰ کہ سر سےد نے جنگی قےدےوں کی غلامی کو بھی ممنوع قرار دےا حالاں کہ شرےعہ نے اس کی اجازت دی ہے۔
۳۔ جدےد بےنک،اور ان کے ذرےعے طے پانے والے کاروباری معاملات، قرضے اور بےن الاقوامی تجارت جو جدےد معاشےات کی بنےادوں پر استوار ہےںاورباوجود اس کے کہ ےہ سب سودی معاملات ہےں مگر ےہ سودی معاملات باقاعدہ طور پر”ربائ” کی ذےل مےں نہےں آتے اس طرح ےہ سب معاملات سودی ہونے کے باوجود قرآن سے متصادم نہےں۔
۴۔ قرآن پاک اور سنت ثابتہ مےں متعےن کی گئی سزائےں مثلا چور کا ہاتھ کاٹنا، زانی کا سنگ سار کرنا ےا سوکوڑے مارنا وحشےانہ اور بربرےت کی حامل ہےں اور ےہ سزائےں صرف اس قدےم معاشرے کے لئے تھےںجہاں جےلےں موجود نہ تھےں ےا ان کی کمی تھی۔
۵۔ جہاد ممنوع ہے سوائے دفاع کی انتہائی نازک صورت حال کے ۔
سرسےد کے نزدےک تعلےمات اسلام کی صداقت جانچنے کی واحد کسوٹی اس کی انےسوےں صدی کے نےچرل ازم سے مطابقت تھی۔ سرسےد کا استدلال ےہ تھا کہ اگر دےن انسانی فطرت اور فطرت مجموعی سے مطابقت رکھتا ہے تو ےہ سچا دےن ہوگا ورنہ نہےں ۔ اسلام کو
اےک سائنسی اور عقلی مذہب ثابت کرتے ہوئے انہوں نے معجزات، فرشتوں اورجنات اور بغےر باپ کے حضرت عےسیٰ ابن مرےم کی پےدائش، واقعہ معراج بطور جسمانی سفر، یوم آخرت، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا، جنت و دوزخ سب کا انکار کردیا۔ حتیٰ کہ نوبت بہ ایں جا رسید کہ سرسےد نے وحی کا تقابل کسی ذہنی مرےض کو ہونے والے اوہام اور التباسات سے کردےا۔ العیاذباللٰہ
سرسےد نے وجود باری تعالیٰ کا تصور کتاب و سنت سے اخذ کرنے کے بجائے اٹھارہوےں صدی کے فرانسےسی مفکرےن سے اخذ کےا جن کے مطابق خدا کائنات سے بہت دور اےک وجود ہے۔ جو دنےا مےں جاری وساری ناقابل تبدےل قوانےن فطرت مےںتبدےلی نہےں کرسکتا۔ لہذٰا اےسے خدا کی عبادت کا بھی کوئی جواز نہےں۔ اےسا ماورائی اور منجمد وجود ہماری معمولی سے توجہ کا بھی مستحق نہےں۔
سرسےد کے نزدےک قرآن و سنت کا اختےار محض عبادات تک محدود ہے۔ وہ آےات قرآنی اور احادےث نبوی ﷺ جو سماجی، معاشی اور ثقافتی معاملات سے متعلق ہےں ان کا اطلاق صرف زمانہ قدےم کے ا س معاشرے کے لئے تھا جہاں آپ ﷺ نے اپنی حےات طےبہ گزاری۔ یہ آےات قرآنی اور احادےث نبوی ﷺ موجودہ روشن خےال اور جدےد تہذےب کے لئے قطعا غےر مناسب ہےں۔استغفر اللٰہ ۔ بہر حال اگر مسلمان اسلام کو اےک مکمل طرز زندگی کے طور پر نہ اپنائےں تو کوئی رکاوٹ نہےں جو مغربی ثقافت کو اپنانے کی راہ مےں حائل ہو۔
ےہ بات تو بالکل واضح ہے کہ سرسےد احےاءاسلام سے قطعا کو ئی دل چسپی نہےں رکھتے تھے۔ ان کے بارے مےں زےادہ سے زےادہ ےہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ برصغےر کی مسلم برادی کی سماجی و معاشی فلاح و بہبود مےں دل چسپی اور اخلاص رکھتے تھے۔ اس معاملے مےں سر سےد کا خےال تھا کہ مسلمانان ہند جس قدر مادی ترقی حاصل کرےں گے اتنا ہی ان کی فلاح کی راہےں کھلتی چلی جائےں گی۔ سرسید نے اپنے اس خیال کی دھن میں بصیرت اور بصارت سے محروم ہوئے اور ےہ بھی نہ سوچا کہ انسانی تارےخ مےں آج تک کسی قوم نے بےرونی آقاﺅں کے تسلط مےں رہتے ہوئے ترقی کی منزل سر نہےں کی۔ غلام قومےں ذہنی ، روحانی اور مادی ترقی کی ابتدائی منزل پر ہی بےرونی آقاﺅں کے ذہنی و جسمانی تسلط سے آزادی حاصل کرکے ترقی کی بقےہ منزلےں سر کرتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادےانی نے اپنے استاد سر سےد کے نقش قدم کی بڑی کامےابی سے پےروی کی۔ غلام احمد قادےانی نے برطانوی شہنشاہیت کے لئے برپا کے گئے قتل عام کو جائز ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ جہاد فی سبےل اللٰہ کو اےک جرم قرار دےا۔ ےہ وہی شاہراہ ہے جو سر سےد کے نزدےک صراط مستقےم کا درجہ رکھتی تھی۔
برصغےر مےںاپنی جلا وطنی کے دوران جمال الدےن افغانی سرسےد سے شناسا ہوئے اور اپنی کتاب”العروة الوثقی” مےں سر سےد کے بارے مےں لکھتے ہےں۔
“برطانوی حکومت نے سرسےد احمد خان کو اےک اےسے آلے کے طور پر جانا جو مسلمانوں کو گمراہ کرسکتا ہے۔ لہذا انہوں نے سر سےد کو سراہا اور انہےں عزت دی اور علی گڑھ مےں کالج کے قےام مےں ان کی مدد کی۔ اس کالج کا نام انگرےزوں نے” مسلم ” ہی رہنے دےا
تاکہ ےہ نام مسلمانان ہند کے لئے اےک جال ثابت ہو جہاں اہل اےمان کے فرزند تشکےک اورکفر کی تعلےم پائےں۔ سرسےد احمد خان جےسے مادہ پرست تو ان ےورپی مادےت پرستوں سے بھی بد تر ہےں جنہوں نے اپنا مذہب تو چھوڑ دےا مگر اپنی حب الوطنی کوبہرحال قائم رکھا ۔ ان ےورپی مادےت پرستوں کی اپنی مادر وطن سے وابستگی اور عشق مےں کوئی کمی نہےں آئی جب کہ سر سےد احمد خان اور ان کے رفقاءنے بےرونی آقاﺅں کے تسلط کو قابل قبول بنا کر پےش کےا۔“ (حوالہ سابقہ صفحات ۱۱۱ تا ۷۱۱)
سرسےد کے بعد آنے والے جدےدےت پسندوں پر سر سےد کے اثرات کے بارے مےں صورت حال بالکل واضح ہے۔ سرسےد کے معذرت خواہانہ روےہ کی آج تک انتہائی ثابت قدمی سے تقلےد کی جارہی ہے۔ امےر علی، چراغ علی، خدا بخش، غلام احمد پروےز، خلےفہ عبدالحکےم، محمد علی لاہوری(احمدی)، سرسےد کے انہی پےروکاروں مےں شامل ہےں جنہوں نے سرسےد کے نظرےات دہرانے کے علاوہ اور کوئی کام نہےں کےا اور اگر کچھ اضافہ کےا بھی ہے تو بہت کم۔(مریم جمیلہ کی کتاب ©”اسلام اور ماڈرن ازم“ کا ایک باب )

نوٹ : سرسید کے بارے ممتازمحقق ضیاءالدین لاہوری نے دو غیر معمولی کتابیں ”حیات سرسید “ اور ”افکار سرسید“ کے نام سے مرتب کرکے سرسید کے افکار کو انہی کے الفاظ اور انہی کی تحریروں سے جمع کردیا ہے۔ان کتابوں میں سرسید کے تمام حوالے ”انڈیا آفس لندن “ کی لائبریری میں موجود سرسید کی کتابوں کی اولین اشاعتوں سے حاصل کئے گئے ہیں ۔ ان کتابوں کے مطالعے کے بغیر سرسید کی شخصیت کا تاریخی و تحقیقی جائزہ مکمل نہیں ہوسکتا ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s