ابوالکلام آزاد: برصغیر میں سیکولرزم کاعلمبردار



نیاز سواتی
niazhussain.swati@yahoo.com

مصنفہ: مریم جمیلہ
مترجم: نیاز سواتی
”مسلمانوں کی ایک بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ اسلام کو ایک مکمل بند نظام کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ایک ایسا نظام جو نہ صرف بیرونی سچائی کے لئے اپنا دروازہ بند رکھتا ہے بلکہ اپنے عقیدے سے باہر کے لوگوں کے لئے بھی ایک بند نظام ہی ثابت ہوتا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں سے ہمیں ایک بڑی امید اس بات کی ہے کہ وہ اس نظام بندشوں کو کھول دیں گے۔۔۔۔ جس کے نتیجے میں انسانیت اور دیگر مذاہب سے بھائی چارے کی جدوجہد کو فروغ ملے گا۔“ (اسلام ان ماڈرن ہسٹری ،ولفریڈ کانٹ ویل اسمتھ، پرنسٹن یونی ورسٹی پریس، ۷۵۹۱ ، صفحہ نمبر ۰۹۲)
”سیاسی اقتدار اور سماجی نظم ماضی میں اسلام کا مرکزی سوال رہا ہے۔ اس سوال کا جواب واضح اور قطعی طور پر ہاں یا نہیں میں دیاگیا۔ یا تو مسلمان سیاسی اقتدار کے حامل ہوتے ہیں یا نہیں ۔سیاسی اقتدار میں مسلمانوںنے کبھی باہر کے افراد کو شامل و شریک نہیں کیا ۔۔۔اسلا م کے صحیح تصور کے مطابق ایک خاص سماجی ڈھانچے کی تشکیل اور ایک ایسی اجتماعیت کی تشکیل جو اسلام کے قوانین کے تابع ہو ، ’مقاصدشریعہ‘ میںشامل ہے۔ یہ ہی وہ تصور ہے جو برصغیر میںناکام اور غیر دانش مند ثابت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ “
(محولہ بالا )
یہ ہے ہندومسلم تعلقات کے بارے ایک ممتاز مستشرق کا تبصرہ اور وہ شخص جس نے اس غلط تجزئیے کو دل کی گہرائیوں سے قبول کیا مولانا ابولکلام آزاد ہیں ، وہی ابولکلام آزاد جو ہندوستانی قومیت اور سیکولرزم کی بنیاد پر ہندومسلم اتحاد کے علم بردار قرار پائے۔
مولانا ابولکلام آزادکو ایک خالص اسلامی ماحول میں پرورش پانے کا موقع ملا ، آپ کے والد مولانا خیرالدین،عربی وفارسی کی کئی کتابوں کے مصنف اور ایک اعلیٰ پائے کے عالم تھے ،جن کے معتقد اور شاگرد ہندوستان کے ہر گوشے میں موجود تھے۔ ۷۵۸۱ءکی بغاوت ناکام ہونے کے بعد خیرالدین دیگر ہزاروں افراد کی طرح دہلی چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ۔ آپ کے ایک شاگرد نے آپ کو عرب پہنچانے کے انتظام مکمل کئے ، چنانچہ آپ نے مکہ مکرمیں پناہ لی ۔ مکہ میں مولانا خیرالدین کی شادی مکہ کی متقی ، معزز ،عالمہ اورذہین ترین خاتون سے ہوئی۔ یہ وہ گھرانہ تھا جہاں ابوالکلام نے ۸۸۸۱ ء میں جنم لیا۔ چونکہ ابولکلام کی والدئہ محترمہ عربی زبان کی عالمہ تھیں لہٰذا ابولکلام کو کسی مکتبہ میںجانے کی ضرورت نہیںپڑی ۔ ابولکلام ابتدائی تعلیم اپنے والدین اور والد صاحب کے دوست علماءکے زیر سایہ مکمل ہوئی ۔ ۸۹۸۱ءمیں مولانا خیرالدین کے ایک معتمد شاگرد نے انہیں فوری طور پرہندوستان آنے کی درخواست کی، جسے مولانا نے شرف قبولیت بخشا ۔ ہندوستان واپس آکر آپ نے کلکتہ میں رہائش اختیار کی ۔یہاں نجی اتالیق کی زیر نگرانی ابولکلام نے عربی ، فارسی ،فلسفہ ، منطق، حساب ،جغرافیہ اور تاریخ کی تعلیم حاصل کی۔ عام طور پر اس درجے کی تعلیم کے لئے ۴۱ سال سے زائد کا عرصہ درکار ہوتا ہے مگر اپنی طبعی ذہانت کی بناءپر ابولکلام نے یہ نصابی تعلیم چار سال سے بھی کم عرصے میں حاصل کرلی۔ مولانا خیرالدین برطانوی استعمار کے مکروہ چہرے سے خوب واقف تھے لہٰذا وہ اس استعمار کی بنیاد یعنی مغربی تہذیب کے سخت ترین دشمن قرار پائے۔ انگریزی تعلیم اور سرسید کی پیش کردہ ماڈرن اسلامی تشریحات دونوں کو مولانا خیرالدین نے مردود قرار دیا۔
ابوالکلام آزاد ایک علمی نابغہ تھے ، آپ نے صرف ۲۱ سال کی عمر میں امام غزالی کی سوانح تحریر کرنے کی خواہش کا اظہار کیااور صرف سولہ سال کی عمر میں آپ عالم دین قرار پائے۔۴۱ سال کی عمر میں آپ صحافت کی جانے پہچانے گئے ۔ ۴۰۹۱ءمیں جب آپ بہ مشکل ۶۱ سال کی عمر میں تھے تو انجمن حمایت اسلام لاہور نے آپ کو اپنے سالانہ جلسے سے خطاب کرنے کے لئے مدعو کیا ۔ آپ کے خطبے کا موضوع ”دین کی عقلی بنیادیں “ تھا۔ اس تقریر کے سامعین میں ڈپٹی نذیر احمد ، الطاف حسین حالی اور علامہ اقبال جیسے مشاہیر موجود تھے۔ آزاد کی اس تقریر نے آپ کی شہرت ہندوستان کے کونے کونے میں پہنچادی ۔ حالی نے آپ کو جوان جسم کا تجربہ کار دماغ قرار دیا۔
بچپن اور بلوغت کے دوران ابوالکلام یہ سوچتے رہے یہ انہیں اپنے زندگی میں کیا بڑا کام کرنا چاہیے۔ بہرحال اسلام کے مستقبل اور برصغیر کی مسلم برادری کی مدد جیسے مسائل نے ابوالکلام کے ذہن پر قبضہ کرلیا ،بلآخر ۲۱۹۱ء میں آپ نے ”الہلال“ نامی اردو کے ہفتہ وار رسالے کا اجراءکیا ۔ یہ رسالہ اتحاد بین المسلمین اور برطانوی استعمار کے مکروہ عزائم اور سازشوں پرمستقل نکتہ چینی کے اعتبار سے امت مسلمہ کے متعلق جمال الدین کے ”العروةالوثقیٰ“ کی یاد دلاتا تھا ۔ صحافت کے میدان میں ابوالکلام نے اپنی ادبی صلاحیت کا لوہا منوالیا ۔ ”الہلال “ میں اپنی موئثر ،رواں اور ادبی شان کی حامل نثر کے ذریعے آزاد نے علی گڑھ اور اس کے قائم کردہ نظریات کے خلاف مہم چلائی ۔ آزاد نے جدید مغربی تعلیم اور مغربی تہذیب کے دیگر مظاہر کا کماحقہ محاکمہ کیا۔ جب آزاد سے پوچھا جاتا کہ وہ ہندوستانی سیاست کے انتہاپسندوں کی اتباع کریں گے یا معتدل مزاج سیاسی عناصر کا ؟ تو آزاد اس بات کا مضحکہ اڑاتے ہوئے واضح کرتے کہ ایک مسلمان کس طرح اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی وضع کردہ راہ کے علاوہ کسی انسان کی اتباع کیسے کرسکتا ہے؟ آپ نے دیگر مسلمانوںکو بھی یہی راہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ بوالکلام کی اس استقامت نے برصغیر میں احیائے اسلام کے امکانات کو روشن کرکے علی گڑھ کے معذرت خواہانہ رویے اور اسلام کو ماڈرن ازم کے تابع کرنے کی فکر کو بھی کم زور کیا۔
حق گوئی کی پاداش میں نہ صرف ”الہلال“ کو بندکردیا گیا بلکہ ابولکلام بھی پابند سلاسل کردئیے گئے۔ آخر کار ۰۲۹۱ء کو مولانا کی رہائی عمل میں آئی ۔ یہ وقت مولاناکی زندگی میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بعینہ اسی وقت ابولکلام نے اپنے مذہبی افکار سے پیچھے ہٹتے ہوئے برصغیر کی مسلم برادری کے مستقبل کو محور بنا لیا ،جس نے اس سے قبل ان کے اصولی موقف میں کبھی بار نہ پایا تھا ۔ اب ابوالکلام برصغیر میں احیائے اسلام میں کسی دل چسپی کا اظہار نہ کرتے بلکہ آزاد سیکولر مقاصد کے حامل ہندومسلم اتحاد کے علم بردار بن کر سامنے آتے ہیں ۔ ابوالکلام آزاد کا کہنا تھا :
”میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ مذہب کا احیاءبے حد ضروری ہے مگر سماجی سطح پر ایسا کرنا ترقی سے منہ موڑنے کے مترادف ہوگا ۔“
۰۳ مارچ ۲۶۹۱ ء کو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے مریم جمیلہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھا:
”۰۲۹۱ ء ۔ ا۲۹۱ ء کے زمانے تک مولانا ابوالکلام آزاد احیائے اسلام اور تحریک خلافت کے پرجوش حمایتیوں میں شامل تھے مگر اس کے بعد مولانا اپنے اس موقف کے متضاد قول فعل کی تکرار کرتے ہیں ۔ اس یک لخت تبدیلی پر بعض افراد کو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ وہی ابوالکلام ہیں ،ایسے لوگ آنکھیں ملتے ہوئے انہیں دیکھتے کہ یہ وہی ابوالکلام ہیں یا کوئی بالکل نئی شخصیت ! اب ابوالکلام سو فی صد ایک ہندوستانی قوم پرست کا روپ اختیار کرلیتے ہیں جو ہندوﺅں مسلمانوں کو ایک قوم کی شکل دینا چاہتا ہے۔ اب ابوالکلام بعض ہندو فلسفیوں کے پیش کردہ ”وحدت ادیان“ اور ڈارون کے نظریہ ارتقاءکو پوری طرح اپنی فکر کا حصہ بنالیتے ہیں ۔ ابوالکلام کے ان افکار تازہ کا نقش ان کی تفسیر قرآن میں صاف صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ “
ابوالکلام سمجھتے تھے کہ مسلمانان ہند کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ ہندوستانی قومیت اور سیکولرزم کو قبول کرلیں لہٰذا اہنہوں نے کانگریس میں شمولیت اکتیا کی اور بہت جلد مہاتما گاندھا کے قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جانے لگے۔
”حصول آزادی اور اس کی جدہجہد کے لئے میں مکمل طور پر مہاتما گاندھی کے افکار سے متفق ہوں ۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہندوستان مسلح جدوجہد سے آزادی کی منزل حاصل نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس راہ کو اختیار کرنے کا مشورہ دیا جاسکتا ہے۔ ہندوستان صرف پرامن احتجاج کے ذریعے ہی آزادی حاصل کرسکتا ہے۔ اس طرح حاصل کی گئی فتح دراصل دنیا میں اخلاقی طاقت کی برتری کی ایک یادگارمثال بنے گی۔ “ [ Mahadev Desai, Maulana Abul Kalam Azad, George Allen &Unwin, London, 1941, p.82.]
۲۲۹۱ ءمیں مہاتما گاندھی کی طرف سے ”تحریک خلافت “ کے خاتمے کے اعلان کے بعد اور فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کے جانی نقصان سے اغماض برتنے پر کانگریس کے اراکین کی اکثریت اس جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی، مولانا محمد علی جوہر ، ان کے بھائی شوکت علی اور خود قائداعظم کانگریس کی حقیقت جان کر یکے بعد دیگرے مستعفی ہوگئے ۔ایسے موقع پر ابوالکلام نہ صرف یہ کہ کانگریس میں موجود رہے بلکہ اس کے بعد تقریباً دودہائیوں تک کانگریس کے صدر رہے ۔ ابوالکلام کو تاریخ کانگریس اور ہندوﺅں کے ترجمان کی حیثیت سے جانتی ہے۔
”مسٹر جناح کا الزام ہے کہ کانگریس نے مسلم دشمنی کی طے شدہ پالیسی اختیار کرلی ہے اور وہ اسلامی ثقافت کو تباہ کرنا چاہتی ہے ،مسلمانوں کی دینی سماجی زندگی میں دخل اندازی کرتی ہے اور مسلمانوں کے سیاسی اور معاشی کو ہمیشہ پیروں تلے روندتی ہے۔ میں اس سے پہلے بھی وضاحت کرچکا ہوں اور اب پھر پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں کہ کانگریس کی وزارتوں کے خلاف یہ سب الزامات بے بنیاد ہیں اور یہ کہنا تو جھوٹ کا پلندہ ہوگا کہ کانگریس ایک مسلم دشمن جماعت ہے جو مسلمانان ہند کے دینی، سماجی اور معاشی حقوق کو روندکر آگے بڑھتی ہے ۔ اگر مسٹر جناح اور ان کے ساتھی سمجھتے ہیں کہ ایسی باتیں کرکے ہو مسلمانوں کو فاےدہ پہنچارہے ہیں تو میں ان سے ان سے انتہائی عاجزی سے کہوں گا کہ وہ بالکل اس کے برخلاف کررہے ہیں اور اگر ہو مسلمانان ہند کی واقع خدمت کرنا چاہتے ہیں تو اپنی سمت جلد از جلد تبدیل کرلیں ،مسلمانان ہند کے حق میں وقت کی صدا بھی یہی ہے۔ “ (حوالہ سابقہ صفحہ ۲۵۱ تا ۵۵۱)
تقسیم کے بعد سے اپنے انتقال یعنی ۵۸۹۱ ءتک مولانا بھارت کے وزیر تعلیم رہے اور اس دوران انہوں نے مسلمانان بھارت کو اسلام کی بنیادوں کے قریب کرنے کی کوئی ادنیٰ سے کوشش بھی نہیں کی بلکہ اس کے برعکس انہوں نے لاطینی زبان کے حروف تہجی کو اردو اور دیگر مقامی زبانوں کے حروف تہجی قرار دینے جےسی مغربیانہ سوچ کی سرپرستی کی۔ آزاد نے خاندانی منصوبہ بندی کی بھارتی حکومت کی مہم کو بھی اپنی حمایت سے نوازا۔
”ضبط ولادت ایک مکمل سماجی اور حیاتیاتی مسئلہ ہے اور اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ اسلامی قانون اس معاملے میں کوئی دخل دے۔ اگر ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ قوم کے حق میں اس کا اختیار کرنا ضرہری ہے تو اس کے حق میں اپنا فیصلہ دے سکتے ہیں۔ “
(”اسلام اور خاندانی منصوبہ بندی “ ابو شہاب رفیع اللہ ، پاکستان ٹائمز،مورخہ ۲ دسمبر ۶۶۹۱ ئ)
ابوالکلام قیام پاکستان کی مخالفت میں برصغیر کے قائدین میں سب سے آگے رہے۔ اپنے اس موقف کو جائز ثابت کرتے ہوئے ابوالکلام واضح کرتے ہیں :
”مسلم لیگ کی پیش کردہ قیام پاکستان کی تجویز محض ایک تخیل ہے ۔ وہ لوگ جنہوں نے یہ تجویز پیش کی ہے وہ وقت، قومیت اور جدید زمانے کے خلاف جارہے ہیں ۔ ہندوﺅںاور مسلمانان ہند کے آباﺅ اجداد مشترکہ ہیں ،میں کسی ایک قوم کی برتری یا کمتری کا قائل نہیں ۔ انسانیت ایک ہی نسل سے تعلق رکھتی ہے اور ہمیں ایک دوسرے سے مل جل کر رہنا چاہیے، فطرت ہمیں ہزاروں سال پہلے ایک ہی جگہ اکٹھا کرچکی ہے۔ بے شک ہم لڑتے بھی ہیں مگر یہ لڑنا دو سگے بھائیوں کے لڑنے کے مترادف ہے یہ بالکل اسی طرح ہے جےسے انگریز ’وار آف روزز ‘ کے دوران آپس میں نبردآزما رہے مگر دونوں متحارب انگریز گروہوں نے کبھی الگ قوم ہونے پر اصرار نہیں کیا۔ گزشتہ ایک ہزار سال سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ سماجی ،روحانی ،اخلاقی اور مادّی مفادات کے تعلقات کے حامل رہے ہیں ۔ امن سے محبت رکھنے والا ہر شخص ہندو مسلم یکسانیت کا حامی ہوگا۔ مجھے سب سے زیادہ نفرت قومی مسائل کے بارے میں گروہی سوچ استعمال کرنے کے روئیے سے ہے۔ مستقبل کا جو بھی دستور ہندوستانی نمائندگان طے کریں گے اس کے مطابق ہندو اور مسلم ، اپنی حیثیت مفادات کا تعین ہندو اور مسلم شناخت کے بجائے ایک کسان ، زمین دار ، مزدور اور سرمایہ دار وغیرہ کی حیثیت سے طے کریں گے۔ “
ٍ (حوالہ سابقہ صفحہ نمبر ۰۷۱ تا ۱۷۱ )
سیکولرقومیت کے تصور کے فروغ کی شدید خواہش نے ابوالکلام کے مسلم برادری کے تصور پر برتری حاصل کرلی ۔ آپ نے اپنے عالمانہ دماغ کیصلاحیتیں سیکولر قومیت کے تصور کی مذہبی بنیادوں پر تلاش میں صرف کردیں ۔ آپ نے فرمایا:
”ایک مسلمان سیاسی جدوجہد میں کس طرح ایک ہندو کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چل سکتا ہے؟ قرآن ایک مسلم کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہو کسی عیسائی عورت سے شادی کرلے ایسی صورت میں ایک مسلم مردیقینا اپنی عیسائی بیوی سے محبت کے تعلق سے وابستہ ہوگااس طرح کوئی اوررشتہ اسے اس رشتے سے محبوب نہ ہوگا پھر اگر قرآن مسلمانوں کو غیر مسلموں سے کسی بھی قسم کے تعلق کی اجازت نہیں دیتا تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ قرآن مسلم مردوں کو یہ اجازت دیدے کہ وہ غیر مسلم عورتوں کو اپنے گھروں کی ملکہ اور تمام امور کی نگران مقرر کردیں ؟ اسی دلیل میں ہندومسلم اتحاد کا راز پوشیدہ ہے۔ “
[A.B Rajput , Maulana Abul Kalam Azad, Lion Press Lahore, 1957,p.40]
ایک جید عالم دین کی طرف سے اس معذرت خواہانہ رویے کا اظہار حیرت انگیز تھا۔شریعہ کی طرف سے دی گئی مسلم مردوں کو یہ اجازت کہ وہ اپنے عقیدے سے باہر کی خواتین سے شادی کرسکیں ایک محدود اجازت ہے۔ اس اجازت کا دائرہ اہل کتاب یعنی عیسائی اور یہودی خواتین تک محدود ہے۔ قرآن پاک مشرکہ خواتین سے کسی صورت میں شادی کی اجازت نہیں دیتا۔ ہندو بلاشبہ مشرکین کے زمرے میں داخل ہیں ۔ اسلام نے کتابیہ خواتین سے شادی کی اجازت بعض شرائط کے ساتھ ہی دی ہے مثلا ایسے گھرانے میں مرد کی فیصلہ کن حیثیت برقرار رہے گی ۔ کتابیہ ماں اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق پرورش میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی اور نہ ہی گھر میں حرام گوشت کا استعمال یا شراب نوشی ممکن ہوسکے گی۔ قرآن باربار صرف مومنین کو اپنا دوست بنانے کی ہدایت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جو شخص مومنین کو چھوڑکر کافروں کو دوست بنائے گا وہ گناہ کا مرتکب ہوگا۔ دنیا کے کوئی بھی دو مذہب ایک دوسرے سے اس قدر متضاد نہیں جتنا کہ ہندومشرکانہ عقیدہ اور توحید پرستانہ اسلامی عقیدہ مختلف باہم مختلف ہیں۔ ہندو مسلم اتحاد کو مقصد قرار دیتے ہوئے مولانا اس بات کو فراموش کرگئے کہ زندگی کے بنیادی حقائق کے بارے میں اس قدر اختلاف رکھنے والے گروہوں کے مابین تاریخ میں کبھی اتحاد ممکن نہیں ہوسکااور نہ آئندہ اس کا کو ئی امکان ہے۔
سیکولر قومیت کی خدمت اور حمایت میں مولانا کس حد تک گئے اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ نے مسلمانان ہند سے کہا کہ وہ یاد رکھیں کہ ہندوگائے کے ذبیحہ اور اس کے گوشت کے استعمال سخت رنجیدہ ہوتے ہیں اور خاص طور پر عیدالاضحی کے موقع پر گائے کی قربانی ان کی ناراضگی کا خاص سبب ہے۔ آپ نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ گائے کی قربانی کے ذبیحہ خواہ وہ ”قربانی“ کے مقدس فریضے کے لئے ہی کیوں نہ ہو بہرحال اسلام کی بنیادی تعلیمات کا حصہ نہیں ۔ اسی طرح ابوالکلام نے اپنے ہندو رفقاءکو یقین دلایا کہ کئی ایسے مسلم گزرے ہیں نہ صرف یہ کہ خود کبھی گائے کا گوشت نہیں کھایا بلکہ اپنے دوستوں کو بھی اس کے کم از کم استعمال کا مشورہ دیا۔ دراصل مولانا اس بات کی امید رکھتے تھے کہ مستقبل قریب میں ہندو اور مسلمان اس طرح کے متنازعہ رسوم اور مسائل پر قابو پالیں گے جو دونوں کو باہم جدا رکھتے ہیں ۔
ابوالکلام آزاد کے علمی کارناموں میں سب سے بڑا شاہکار ان کی تفسیرقرآن ہے ۔ اپنی اس تفسیر کے ذریعے آپ اپنی سیاسی سرگرمیوں کی مذہبی توجیح بہتر سے بہتر انداز میں بیان کرتے ہیں ۔ اس تفسیر قرآن سے ان کے نظریات کا یہ بنیادی نقطہ سامنے آتا ہے جس کے مطابق تمام مذاہب یکساں اہمیت رکھتے ہیں ۔ ان مذاہب کے درمیان اختلاف صرف ان مذاہب کے پیروکار پیدا کردیتے ہیں مولانا نے زور دے کر کہا کہ تمام مذاہب اپنے جوہر کے لحاظ سے یکساں ہیں ۔ ان کے الفاظ میں :
”مذہب کی جڑیں مختلف نہیں بلکہ ان کے پتے اور شاکین جدا جدا ہیں ،ان کی روح مختلف نہیں ۔مختلف مذاہب کی رسومات ، تقریبات یقینا جدا ہوں گی اور زمان و مکان کے اختلاف سے بھی یہ امور مختلف قرار پاتے ہیں مگر خالق کائنات نے یہ تنوع ایک زبردست حکمت کے تحت ترتیب دے رکھا ہے۔ مذہب دراصل ایک ہے،صرف اس کے بیرونی مظاہر ،رسومات اور تہوار الگ الگ قرار پاگئے ہیں جس کے نتیجے میں کسی ایک مذہب کے ماننے والے اپنے آپ کو دیگر مذاہب سے اعلیٰ وارفع خیال کرنے لگے ہیں ۔ کسی ایک مذہب کا پیروگار اپنے طریقہ کار کو دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھتا ۔ اس طرح اگر آپ کا طریقہ یا مذہب آپ کی نگاہوں میں بہترین ہے تو دیگر لوگوں خیال میں ان کا طریقہ ومذہب اعلیٰ ترین ہے۔برداشت ہی اس مسئلے کا آخری حل ہے۔ “
[ Mahadev Desai, Maulana Abul Kalam Azad, George Allen & Unwin, London,1941,p.105 ]
یہ تصور کہ تمام مذاہب یکساں اور برابر ہیں ایک ہندو نظریہ ہے جس کا کوئی جواز قرآن حکیم میں نہیں ملتا قرآن مجید میں انتہائی صراحت سے بتایا گیا ہے کہ کسی بھی صورت میں اسلام کے علاوہ عقیدہ و عمل اللہ کے ہاں مقبول نہ ہوگا۔ول فریڈ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :
”مسلمانان ہند ایک یسی صورت حال کا سامنا کررہے ہیں جو ان کے لئے بالکل نئی ہے اور ایک گہرے مسئلے کی نشان دہی کرتی ہے۔ یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ مسلمان کس طرح برابری کی بنیاد پر رہیں ۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس کا کوئی فوری حل اسلام کے پاس موجود نہیں ۔ صورت حال کی سنگینی میں مزید اضافہ اس طرح ہوتا ہے کہ ذات پات کی بنیاد پر یقین رکھنے والے ہندو بھی دیگر عقائد کے حامل افراد کے ساتھ رہنا نہیں جانتے۔“ (صفحہ ۸۸۲)
”ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمانان ہند کی دینی و دنیاوی فلاح و کامیابی کا انحصار ایک نئی قوم کی صورت میں جینے میں ہے۔۔۔۔یہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ، مشکلات کے باوجود اس تبدیلی کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس میں جہاں دیگر عوامل کارفرما رہے ہیں وہاں موئثر ترین عامل تو سیکولرزم کی کامیابی ہی رہا ہے۔ یہ کامیابی اگرچہ مکمل نہیں مگر بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ بات ثبوت کی محتاج نہیں کہ برصغیرکی مسلم برادری کی بقاءاور کامیابی مکمل طور پر ریاست کے سیکولر ہونے پر منحصر ہے۔ ابھی سیکولرزم کی جڑیں مضبوط نہیں ہوئےں مگر خاص بات یہ ہے کہ اب بہت کم ہندوستانی مسلمان ’اسلامی ریاست‘ کے تصور سے وابستہ دکھائی دیتے ہیں ۔۔۔۔۔روایتی مذہبیت کچھ بھی کہے سیکولرزم بہرحال کامیاب ہے۔ “
[Islam In The Modern History, Wilfred Cantwell Smith, Princeton University Press,1957,p.281 ]
مندرجہ بالا سطور کی اشاعت سے آج تک خوش فہمی پر مبنی اس نظرئیے کا فریب سامنے آرہاہے۔ سیکولرزم کامیاب ثابت نہ ہوسکا بلکہ اس کے برعکس عام طور پر پورے بھارت اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ’سیکولر ریاست ‘ کی طرف سے مسلمانوں کو ایذاءرسانی اورنسل کشی کامسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ابوالکلام کے بعد سیکولر بھارت کے حالات مقامی مسلمانوں کی تباہی کے آئینہ دار ہیں ۔ یہ کس قدر المناک صورت حال ہے کہ مولانا اپنی ذہانت اور جودت طبع کے باوجود سیکولرزم کے ان لازمی نتائج کی پیش بینی نہ کرسکے اور ہندوﺅں اور مسلمانوں کے باہمی تعاون اور دوستی کی سعی لاحاصل میں مصروف رہے تاکہ برصغیر کو برطانوی استعمار سے نجات دلاسکیں مگر ۔۔۔۔اس طرح برصغیر کی مسلم برادری کے آقا بدل گئے ، انگریز آقاﺅں کی جگہ ہندو استعمار نے لے لی اور بس !
مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے فرماں بردار اور ہندوﺅں کے طرف دار شاگردوں کی ایک کھیپ چھوڑی مثلا سابقہ وزیر خارجہ و تعلیم مسٹر چھاگلہ نے اپنی وزارت تعلیم کے زمانے میں ایک زبر دست مہم چلائی تاکہ مسلم پرسنل لاء، تعددازدواج، پردہ وغیرہ پر پابندی لگائی جاسکے اور مسلم خواتین کی ہندومردوں سے شادی کی راہ میں رکاوٹیں دور کی جائےں ۔ خاندانی منصوبہ بندی کی ترویج کے لئے مسٹر چھاگلہ نے اسقاط حمل کو قانونی قرار دینے اور تین سے زائد بچوں کے حامل والدین کو بانجھ بنانے کے حق میں بلند بانگ تقاریر کیں ۔ ۵۶۹۱ ءکی پاک بھارت جنگ کی نازک صورت حال میں آل انڈیا ریڈیو پر آکر مسٹر چھاگلہ نے اپنے آباﺅاجداد کے ہندو ہونے پر فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستانی مسلمانوں کی اکثریت بھی ہندی الاصل ہے لہٰذا انہیں بھی اس بات پر فخر ہونا چاہئے ۔ ۔۔۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے صدارت کا منصب سنبھالنے کے اپنے اولین صدارتی خطاب سنسکرت زبان میں کیا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین نے ایک ہندو بزرگ کو ہار پہنائے اور ان کے قدموں کو بوسہ دیا۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کی پوتی اندرا گاندھی کے بیٹے سے شادی کا ارادہ ظاہر کرچکی ہے اور اپنے اس فیصلے میں اسے ڈاکٹر صاحب کی مکمل تائید حاصل ہے۔ ڈاکٹر ذاکر کے بارے میں یہ بات سب جانتے ہیں کہ وہ ہندودیوتا ”وشنو“ کے پجاری تھے ۔ بھارت کے ایک صوبے کے وزیر اعلٰی ایم او ایچ فاروق کا یہ بیان بھی محل نظر ہے ، یہ بیان ہفتہ وار تامل رسالے ”کل کنڈو“ میں ۴۲ اگست ۷۶۹۱ ء میں اشاعت پذیر ہوا ہے۔اس بیان میں مسٹر فاروق نے ارشاد فرمایا ”ہندو دیوتا موروگا کی عبادت کے ذریعے ان پر ایک غیبی طاقت کا نزول ہواہے ۔ موروگا دیوتا نے ان کا دل جیت لیا ہے اور وہ چاہیں گے کہ ان کا بیٹا بھی اسی دیوتا کی پوجا کرے ‘ ‘۔ دیگر بھارتی رسالوں نے بھی مسٹر فاروق کی مثال سامنے رکھتے ہوئے بتایا کہ ”کئی روشن خیال مسلمانوں کی قلب ماہیت بھی سامنے آچکی ہے اوروزیر اعلٰی فاروق اس کی قابل قدر مثال ہیں ۔ “ اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلٰی مسٹر صادق کھلم کھلا ہندو فاشسٹ تنظیم جن سنگھ کی کشمیری مسلمانوں کے قتل عام میں مکمل معاونت فراہم کرتے ہیں ۔ یہ بھارتی سیکولرزم کا اصل چہرہ !

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s