سرفراز شاہ اور ریمنڈ ڈیوس



نیاز سواتی
niazhussain.swati@yahoo.com

۸جون کو پاکستان رینجرز سندھ کے اہل کاروں نے سرفراز شاہ نامی نوجوان کو کلفٹن کے بے نظیر پارک میں گولیاںمارکر موت کے گھاٹ اتاردیا۔پولیس نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں اسے ڈکیتی اور مقابلے کا رنگ دیا مگر کچھ دیر بعد چاروں طرف پھیل جانے والی موقعہ¿ واردات کی وڈیو نے اس مقابلے کا پول کھول دیا ۔ اس وڈیو میں صاف نظر آرہا ہے کہ سرفراز شا ہ و ڈیو کے آغاز سے اپنی موت تک رینجرز کے بہادر اہل کاروں سے معافی مانگ رہا ہے مگر یہ بہادر سورما اسے معاف کرنے پر تیار نہ تھے ۔ سرفراز شاہ کو چاروں طرف سے رینجرز کے جوانوں نے گھیر کر گولیوں کا نشانہ بنادیا ۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی ۔ اس غیر مسلح نوجوان کو گھیر کر گولیاں مارنے کے منظر کے بعد وڈیو کا سب سے دل خراش منظر شروع ہوتا ہے جو ہر دردمند انسان اور خاص طور پر جوان بچوں کے والدین کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ اس منظر میں نظر یہ آرہاہے کہ رینجرز کی گولیاں کھانے کے بعد سرفراز کے جسم سے خون ابل رہاہے اور سرفراز مسلسل رینجرز کے اہل کاروں کی منت سماجت کررہاہے کہ اسے اسپتال لے جایا جائے مگر رینجرز کے بہادر سورما اس کی لاش کے چاروں طرف فاتحانہ انداز میں ٹہل رہے ہیں ۔ خون کی روانی جاری رہتی ہے، سرفراز اپنے بہتے خون کو روکنے کی کوشش میں ناکامی پر روتا اور چلاتا ہے ۔یہاں تک کہ زندگی کی بازی موقع پر ہی ہار گیا۔
رینجرز نے سرفراز کو ڈکیتی اور قتل کا مجرم قرار د یا اورموقف اختیار کیا کہ سرفراز بے نظیر پارک میں موبائل چھین رہا تھا ۔یہ ہمارے حفاظتی اداروں کی روزمرہ کی کہانیاں ہیں جو اس طرح کی وارداتوں کی ہر ایف آئی آر میں باآسانی دیکھی جاسکتی ہیں۔اگر رینجرز کے اس موقف کو درست بھی مان لیا جائے کہ سرفراز کسی سے موبائل چھین رہا تھا تب بھی چند سوالات حل طلب ہیں ۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ موقع واردات پر ملزمان کوقتل کردینے کا اختیار کس اتھارٹی نے رینجرز کو دیا ہے؟ اگرایسا اختیار دے دیا گیا ہے تو ملک کی عدالتوں کا مصرف کیا ہے ؟اگر ملکی عدالتیں بے کار ہیں تو رینجرز نے کون سا تیر مارلیاہے؟ ۲۱ مئی کو جب ©©”معلوم قاتل “ کراچی کی شاہراہوں پر خون کی ہولی کھیل رہے تھے تو یہی رینجرز دم دباکر غائب ہوگئی تھی ۔ ۲۱ مئی کے عینی شاہدین نے بتایا کہ شاہراہ فیصل کی ایک گلی میں موجود رینجرز کی ایک موبائل کے عملے کو شاہراہ فیصل پر ہونے والی فائرنگ اور قتل عام کی طرف متوجہ کیا گیا تو رینجرز والوں نے بتایا کہ انہیںاپنے حکام بالا کی طرف سے اس قتل عام میں دخل دینے کے احکامات نہیں ملے۔سوال یہ ہے کہ سرفراز کو قتل کرنے کے والے اہل کاروں کو اس قتل ماورائے عدل کے احکامات کس نے دیے تھے؟
معاملے کا ایک اور پہلو سے جائزہ لیں۔کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ کیسے کیسے جوان کھا گئی ۔ پچھلے دنوں گلشن ٹاو¿ن کی یو سی ۷ کے سابق نائب ناظم جنید زاہدی کو اغواءکے بعد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا دیا گیا۔ ان کے قاتلوں کا آج تک پتہ نہیں چلا۔ طرح طرح کے نام اور فنڈ سے کام کرنے والے سول اور فوجی حساس اداروںکی یہ بے حسی کیا بتارہی ہے؟ کیا رینجرز کے حکام اس بات کا جواب
دیناپسند کریں گے کہ کراچی میں تعینات ہزاروں رینجرز اہل کاروں کی موجودگی میں ٹارگٹ کلنگ جاری رہنے کی وجہ کیا ہے؟ سرفراز کو تاک تاک کے نشانہ مارنے والے رینجرزکے اہل کار پی این ایس مہران میں حملہ آور ہونے والوں کو مارنے میں کیوں ناکام رہے جب کہ ان سور مانشانہ بازوںکی وہاں اشد ضرورت تھی ۔ رینجرز کی کراچی میں افادیت کیا ہے ؟ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ لاہور کی شاہراہ پر دو پاکستانیوں کو قتل کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو قانون نافذ کرنے والوں نے موقع پر قتل کرنے کے بجائے تمام تر سہولیات کیوں فراہم کیں؟ سب جانتے ہیں کہ ریمنڈ ڈیو س کوموقع واردات پر قتل کرنے کے بجائے جیل میں مقدمہ چلانے سے لے کر ملک سے فرار کرانے تک تمام تر آسانیاں فراہم کی گئیں۔
آج ہمیں یہ بات طے کرنی ہے کہ کیا واقعی ہمارے ملک کا عدالتی نظام ناکام ہوچکا ہے ؟ اگرواقعی ایسا ہے تو کیا عدالتی اختیارات قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حساس ایجنسیوں کو دے دیے گئے ہیں؟ بظاہرایسا ہی محسوس ہوتا ہے ورنہ ملک میں لوگوں کو غائب کرنے کے واقعات تسلسل سے رونما نہ ہوتے اور نہ ریمنڈ ڈیوس اتنی آسانی سے امریکہ پہنچ سکتا ۔ قومی اسمبلی میں دی جانے والی ان کیمرہ بریفنگ میں آئی ایس آئی چیف نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ انہوں نے ہی ملک کی سیاسی قیادت کو ریمنڈ ڈیوس کا معاملہ طے کرنے کا کہا تھا ۔اس مشورے پر ملک کی فرمانبردار سیاسی قیادت نے فوراََ عمل کیا ۔ جس ملک کی جیلوں میں سال ہا سال سے بے گناہ قیدی سڑ رہے ہیں وہاں پنجاب اور وفاقی حکومت کی پھرتی کا یہ عالم تھا کہ دونوں حکومتوں نے راتوں رات ریمنڈ ڈیوس کے تمام لواحقین کو عدالت میں پیش بھی کردیا اور دیت کے تمام تر معاملات بھی طے کردیے ۔پاتال میں خبریں نکال کر لانے والے نیوز چینل تک اس پیش رفت سے بے خبر رہے ۔
رینجرز کے قاتل اہل کاروں نے ہماری عدالتوں کیا افادیت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔ ہمارے ہاںماتحت عدالتوں کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ سیاسی پس منظر کے حامل جرائم پیشہ افراد کو سزائیں دینے میں ناکام ہیں۔ مشہور زمانہ ٹارگٹ کلرعدالتوں سے ضمانت پر رہاہوجاتے ہیں بقیہ عدم ثبوت اور سرکاری وکیلوں کی عدم دل چسپی کی بناءپر چھوٹ جاتے ہیں۔ اگر ہمارے ملک کی ماتحت عدالتوں کی یہ کمزوری دور نہیں کی جاتی تو طویل جدوجہد کے بعد بحال ہونے والی عدلیہ کی کیا افادیت مشکوک ہو جائے گی اور ملک میں کسی متبادل عدالتی نظام کے مطالبے کو غیر منطقی نہیں کہا جاسکے گا۔کچھ حلقوں کاکہنا ہے کہ ہمارے عدالتی نظام کی ناکامی پورے نظام کی ناکامی کی علامت ہے اورنظام کی تبدیل اب وقت کی آواز ہے ۔اللہ کرے کہ یہ تبدیلی پرامن ہو ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s