یورپ میں تہذیبی تصادم : ماضی، حال اور مستقبل



نیاز سواتی
niazhussain.swati@yahoo.com

یورپی اقوام نے اپنے نوآبادیات قائم کرنے کے لیے جو جنگیں لڑیں وہ عام طور پر ان کی سرحدوں سے بہت دورلڑی گئیں ۔ ان جنگوں کے تمام ترمنفی اثرات توایشیاءاور افریقہ کی مفتوحہ قوموں نے برداشت کیے مگر یورپ ا ن جنگوں کے نتیجے میں خوش حالی کی نئی منزلیں سر کرنے لگا۔یورپ میں ہونے والی سائنسی پیش رفت کو نوآبادیات سے آنے والے دولت اور غلاموں کے دریاﺅں نے بلند معیارِ زندگی کے اوج پر پہنچادیا۔
نوآبادیاتی لوٹ مار کے کا یہ دور تقریباََ سو سال تک جاری رہا ۔ اس کے بعد یورپی اقوام نوآبادیات میں اپنی باقاعدہ موجودگی لا حا صل محسوس کرنے لگیں ۔ اس نئی سوچ کے پس پشت چند حقائق تھے۔ سب سے پہلی بات تو ےہ تھی کہ دو عظےم جنگوںمےںبے تہاشاافرادی قوت اور وسائل جھونک دےنے کے بعد ےورپ کے لئے اپنی طویل وعریض نو آبادیات پر قبضہ برقرار رکھنا مشکل تھا۔دوسری بات یہ تھی کہ اپنے استعماری قبضے کے دوران ےورپی اقوام اپنے غلام ملکوں مےں اےک اےسا مقتدر طبقہ پےدا کر چکی تھےں جو ےورپ کے نظرےات اور طرز زندگی کو نہ صرف خود اختےار کر چکا تھا بلکہ ان مغربی نظرےات اور طرز زندگی کو اپنے ہم وطنوں پر نافز کرنے کے لئے تہہ دل سے تےار ہوچکا تھا۔
اس ضمن مےں ایک اہم بات یہ ہے کہ اب یورپی استحصال کی شکل بدل چکی تھی۔ یورپی استعماری طاقتوں کی جگہ اب کثےر القومی کمپنےاں لے چکی تھیں۔ اب آزادی کے لباس میں استحصال کی ایک نئی شکل تیار ہو چکی تھی۔ مزے کی بات ےہ تھی کہ اس نئی غلامی پر غلام قومیں بھی بصد مسرت تیار تھیں۔
نوآبادیاتی طاقتوں میں کامیاب ترین ممالک برطانیہ اور فرانس رہے البتہ برطانیہ کا پلڑا بھاری رہا۔برطانوی اقتدار میں سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھا ۔ افریقہ سے ہانگ کانگ تک ےونےن جےک لہرا رہا تھا۔استعماری غلبہ اور نوآبادیات کی کثرت کے لحاظ سے جو یورپی ممالک جس قدر کامیاب رہے اس کے مثبت اثرات بھی انہوں نے اسی طرح سمیٹے اور نوآبادیات بنانے کے تلخ نتائج کا سامنہ بھی کیا۔
برطانیہ نے دنیا کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا ۔ برطانیہ نے اپنی نوآبادیات کو آزادی دینے کے بعد بھی آزاد نہیں ہونے دیا بلکہ اپنے سابقہ غلام ممالک کی ایک دولت مشترکہ تشکیل دے دی۔اس دولت مشترکہ کے ذریعے برصغیر اور افریقہ کے غلام ملکوں کے باشندوں نے تعلیم، مستقل سکونت اور کاروبار کے لئے برطانیہ کا رخ کیا۔اس طرح برصغیر اور شمالی افریقہ کے باشندوں کی اےک بڑی تعداد برطانیہ پہنچ گئی، ادھر پاکستان میں منگلا ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں آبادی کا انخلاءہوا۔میر پور کی آبادی کو برطانیہ نے اپنے ہاں قبول کر لیا۔ان تاریخی واقعات نے برطانیہ کے یک قومی ملک کوکثیر لسانی ملک میں تبدیل کر دیا۔آہستہ آہستہ برطانیہ میں دیگر اقوام کا تناسب حیرت انگیز طور پر بڑھنے لگا۔
اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ ماضی کے آبادی سے بھرپور یورپ کی ہیئت بھی بدلنا شروع ہوگئی۔ اب ہر عام برطانوی بڑے خاندان اور اس کی اقدار کے بجائے معیار زندگی کو ترجیح دےنے لگا۔ البتہ برصغیر اور افریقہ سے برطانیہ آنے والی برادریوںخاص طور پر مسلم برادری نے اپنی تہذیب، خاندان اور اقدار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا اور بڑی حد تک اسے محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ برطانیہ کی مسلم کمیونٹی کی طرف سے اپنی اقدار سے متعلق رہنے کی روش نے آہستہ آہستہ اپنے نتائج ظاہر کرنا شروع کےے۔ برطانیہ کے شہر بتدریج کثیر نسلی اور کثیر لسانی شہروں مےں تبدیل ہونے لگے۔ برطانیہ میں گوری نسل کے خاندان مختصر ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ خود خاندان کا ادارہ ہی تیزی سے زوال کے مراحل طے کرنے لگا۔ ہم جنس پرستی اور بے راہ روی کے رجحانات نے اس زوال کو مزید گہرا کیا۔ برطانیہ میں آباد مسلمانوں نے اپنے آبائی وطن سے تعلق کو ختم نہ کیا بلکہ نئی نسل کے رشتے بھی اپنے ہی آبائی ممالک میں کرنے کی وجہ سے ان ممالک سے نوجوان نسل بڑی تعداد میں برطانیہ پہنچنے لگی۔اس پرمستزادےہ کہ قبولیت اسلام کے مغربی رجحان سے برطانیہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
ان تمام عوامل کے نتیجے میں اب عملی صورت حال یہ ہے کہ بلیک برن اور ڈیوزبری جیسے برطانوی شہر مسلم اکثریتی شہر بن چکے ہےں۔ دیگر برطانوی شہر مثلا دارالحکومت لندن اور برمنگھم میں پورے کے پورے محلے مسلم آبادیوں پر مشتمل ہونے لگے۔
برطانیہ کی یہ صورت حال محض ایک یورپی ملک کا مسئلہ نہیں۔ فرانس، جرمنی، اٹلی، یونان اور اسپین ہر جگہ گوری نسلی خاندان کے زوال کے نتیجے میں آبادی کی کمی کا شکار ہےں۔ آبادی کی اس کمی کو بھی بر صغیر اور شمالی افریقہ کی سستی لیبر پورا کر رہی ہے۔ یہ رجحان یورپ کی گوری نسل کو مزید محدود کر رہا ہے۔ یورپ کے ڈیموگرافک چارٹ نے یورپی ماہرین سماجیات اور حکومتوں کو پریشان کردیا ہے۔ اٹلی، فرانس، جرمنی اور روس کی حکومتوں نے اس سلسلے میں چند اہم اقدامات کےے۔ ان ممالک نے بچوں کو جنم دینی والی خواتین کو دو سال کی چھٹی بمع تنخواہ اور ایک معقول رقم نقد انعام کے طور پر دینے کا اعلان کےا، مگر یہ پالیسی تین وجوہات سے ناکام رہی، پہلی وجہ یہ تھی کہ یہ تمام پرکشش مراعات ان تکالیف اور قربانیوں کا متبادل نہ بن سکیں جو ماں بننے اور اولاد کی پرورش کرنے میں درکار ہیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ مغرب میں اولاد کی ذمہ داری اٹھانے والا اور ہر حال میں اپنی جیون ساتھی کا ساتھ دینے والا مرد باقی نہ رہا۔ اس پالیسی کی ناکامی کی تیسری عملی وجہ یہ رہی کہ یورپی ممالک میں رہنے والے مسلم خاندان نے اس پالیسی سے فائدہ اٹھا کر اپنے خاندانوں کو مزید وسعت دے دی۔
اس صورت حال نے یورپی سیاست دانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سب سے پہلے سوئٹزر لینڈ نے اپنے ملک میں بڑھتی ہوئی مساجد کو ایک خطرے کے طور پر دیکھا مگر عبادت گاہوں پر پابندی بہت مشکل تھی۔ اس لیے پہلے مرحلے میں مساجد کے میناروں پر پابندی لگادی گئی۔ فرانس نے چہرے کے حجاب پر پابندی لگادی،اب اٹلی نے بھی فرانس کی تقلید کرتے ہوئے حجاب پر پابندی لگادی ہے۔ ان اقدامات نے یورپ کی مسلم آبادی میں اپنے اور اپنی اقدار کو تحفظ کا نیا احساس پیدا کیا۔ بجائے اس کے کہ یورپ اپنی آبادی میں فطری خود کفالت کے لےے معاشی اقدار کے غلبے، معیار زندگی کی بڑھتی ہوئی دوڑ اور ہم جنس پرستی کے رجحانات کو ترک کرکے خاندانی اور اخلاقی اقدار کو ترجیح دینے کی کوشش کرے، اس نے اپنی ہی مسلم آبادی کی خلاف ایک سرد جنگ چھیڑ کر صورت حال کو مزید گھمبیر کردیا۔
یورپ کو اس صورت حال نے یورپ کو آبادی میں کمی کے ساتھ ساتھ خالصتََا یورپی اقدار سے بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ خاص طور پر فرانس میں حجاب پر پابندی نے یورپ کی بنیادی قدر یعنی آزادی(Freedom) کو سخت نقصان پہنچایا۔ خود یورپ کے سنجیدہ سیکولر طبقے نے سوال اٹھایا کہ اگر فرانس نے خواتین کو زبردستی حجاب سے محروم کر دیا تو فرانس کی لبرل حکومت اور افغانستان کی طالبان انتظامےہ میں کےا فرق رہ جائے گا۔ اگر طالبان زبردستی حجاب کروا کر انتہا پسند قرار پاتے ہےں تو زبردستی حجاب اتروانے والی فرانس کی لبرل حکومت انتہا پسندی کے الزام سے کیسے بچ سکتی ہے؟ کیا یورپ میں ہٹلر کی نسل پرستی کا دور واپس آرہا ہے؟ اس یورپی صورتحال کے کیا نتائج نکلیں گے اور جمہوری ،تعلیم یافتہ اور مہذب یورپ اس صورت حال سے کیسے عہدہ برآ ہوگا۔ ان سوالا ت کے جواب نہ صرف تاریخی ہوںگے بلکہ اک نئی تاریخ بھی رقم کریں گے۔ مغربی دنیا کو جلد یا بدیر ان سوالات کو حل کرنا ہوگا کیونکہ تہذیبی تصادم کی یہ صورت حال اپنے اندر مثبت اور منفی دونوں قسم کے ان گنت امکانات رکھتی ہے۔

2 responses to this post.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s