گوروں کے دیس میں



نیاز سواتی
niaz.swati.71@gmail.com

عالم میں انتخاب اور خوابوں کا شہر لندن آج کل آتش زنی اور لوٹ مار کے ایک عجیب دور سے گزر رہاہے ۔ تاریخی اہمیت کی عمارات جلائی جارہی ہیں ۔ اس لوٹ مار کو لندن کی بہترین پولیس ،خفیہ ایجنسیاں اور گڈ گورنس حیرت اور صدمے کی ملی جلی کیفیت سے دیکھ رہی ہیں ،پوری کی پوری عمارتیں ، دکانیں اور گاڑیاں نذر آتش کی جارہی ہیں۔ بی بی سی ،سی این این ، رائٹر اور فوکس نیوز جیسے مغربی خبر رساں ادارے تیسری دنیا کے شہروں میں ہونے والے اس طرح کے واقعات کوانتہائی حقارت مگر پوری تفصیلات سے پیش کرتے ہوئے مشرقی معاشروں کی ذہنی ،علمی اور معاشی پس ماندگی کے پہلوﺅں کو نمایاںکرکے دکھاتے تھے اور اگر ایسے واقعات مسلم ممالک میں پیش آجائیں تو ان کے قلم اورفن کی جولانیاں اپنے عروج پر پہنچ جاتی تھیں۔خیر انہیں تو جانے دیجیے کہ ہمارے ہاں کی سیکولر اشرافیہ کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے، اور تو اور کراچی کی گلی کوچوں میں ہونے والے ہر چھوٹے بڑے واقعے پر لندن سیکریٹیریٹ سے بیان جاری کرنے والی قیادت بھی خاموش ہے۔ کراچی کے ساتھی بھائیوں کا کہنا ہے کہ لندن کے واقعات حضرت پیر صاحب کے قدم رنجہ کی برکت سے وقوع پذیر ہورہے ہیں۔حضرت کا کراچی کے شہریوں کے لیے ایک ماہ کا راشن جمع کرنے کا مشورہ لندن والوں کے کام آیا ۔سنا ہے پیر صاحب نے لندن کے واقعات کے پیش نظر خود بھی ایک ماہ کا راشن جمع کرلیا ہے ۔باقی رہے اللہ کا نام ۔ اس مشورے کے نتائج دیکھنے کے بعد لندن کے شہری مولانا ذوالفقار مرزا کے بیانات کو سہمی سہمی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اس سے آگے حد ادب ہے ۔
خاصے پس پیش اور میڈیا کی جانب سے گوشمالی کے بعد بلآخر ہمارے دفتر خارجہ نے بھی پاکستانی شہریوں کو برطانیہ کے سفر کے سلسلے میں احتیاط اختیار کرنے کا مشورہ دے ہی دیا ۔ ع پھر بھی گلہ ہے کہ وفادار نہیں
اس معاملے میں مغربی ممالک کے دفاتر خارجہ خاصے فعال واقع ہوئے ہیں۔ کراچی کے گلی کوچوں میں دو سبزی فروشوں کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی کے فوراََ بعد اپنے شہریوں کے پاکستان کے سفر کے سلسلے میں احتیاط کا مشورہ دے بھی ذرا بھی تاخیر نہیں کرتے ۔ اب کی بار یہ ایڈوائس جاری کرنے کا موقع ہماری وزارت خارجہ کو بھی حاصل ہوا ہے ۔ ایسے میں ہماری کئی بقراطی دانش وروں نے دل لگی کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ برطانیہ دنیا بھر کے متنازعہ معاملات میں دخل دیتے ہوئے اپنے فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیج دیتا ہے اورلندن کے واقعات میں چونکہ تین پاکستانی بھی جاں بحق ہوچکے ہیں لہٰذاپاکستانی صحافیوں اور وکلاءپر مشتمل ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن فوراََ لندن روانہ کرنا چاہیے ۔
یار لوگوں نے لندن سے بتایا ہے کہ اس وقت لندن میں کیمروں کے ذریعے نگرانی کا دنیا میں سب سے بڑا نیٹ ورک کام کررہا ہے ۔ پولیس ،خفیہ اداروں کا بہترین نظام اس پر مستزاد ہے مگرپولیس کے ہاتھوں مارک ڈگن کے واحد قتل نے اس پورے نظام کو شکست دیتے ہوئے لندن بھر میں آگ لگادی ۔ اس بھڑکتی ہوئی آگ نے دیگر برطانوی شہروں کو بھی اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے۔ لوٹ مار اور آتش زنی کے یہ مناظر جمہوریت کی ماں، سوفی صد تعلیم یافتہ اور مہذب برطانیہ کے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ نائجیریا میں ہوتا تو بات قابل فہم تھی مگر ہمارے آقا کے لندن میں ۔۔۔ کہیں یہ سب کچھ برطانیہ کی Divide & Rule کی پالیسی کی مکافات تو نہیں ؟؟
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے اندر نسلی امتیاز کی پالیسی ، عالمی کساد بازاری کے اثرات اور لندن کی مختلف برادریوں کے درمیان سماجی حیثیت کا فرق اور عمومی بے روزگاری ان فسادات کے بنیادی عوامل ہیں۔برطانیہ میں موجود نسلی تفریق اور منافرت اور ایشیائی و افریقی برادریوں میں پائی جانے والی غربت نے ان ہنگاموں کے درمیان راہ پالی ہے۔پچھلے دنوں برطانوی جامعات میں طلبہ کی فیسوں میں اضافے نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ۔ سرمایہ دارانہ نظام نے یورپی ممالک میں اشتراکی نظریات کی روک تھام کے لیے بہتر سماجی سہولیات اور الاﺅنسز متعارف کروائے یہاں تک کہ اسکنڈے نیویا کے ممالک نے فلاحی مملکتوں کا نظام اپنا لیا مگر اب اشتراکیت کا خطرہ ٹل جانے اور عالمی کساد بازاری کی وجہ سے ماضی کی سہولیات مہیاکرنا اب سرمایہ دارانہ نظام کے لیے درد سر بن چکاہے۔ اس لیے آہستہ آہستہ ایسی تمام سہولیات واپس لی جارہی ہیں۔مغرب میں واحد مقصدِحیات یعنی بلند معیار ِزندگی کا حصول اب ایک خواب بنتا جارہاہے ۔ ایسے میں بے چینی کا پھیلنا لازمی ہے۔
اردو کے بے مثل مزاح نگار مشتاق احمد یوسفی نے اپنے ایک دفتری ساتھی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ صاحب انگریزوں سے اس حد تک مرعوب تھے کہ انہیں بشری تقاضوں سے ماوراءسمجھتے تھے، یہاں تک کہ ملکہ برطانیہ کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو یہ صاحب ہفتوں منہ چھپائے پھرے کہ یہ کیاہوگیا ! کچھ ایسا ہی حال ان دنوں ہمارے مغرب زدہ اشرافیہ کا ہے جو یورپ کے سرمایہ دارانہ معاشروں کو ہر خامی سے بالاتر سمجھتے تھے مگر لندن کے فسادات نے ان نظریات کا پول کھول دیا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s