پلاسٹک کی تباہ کاریاں



نیاز سواتی
niazhussain.swati@yahoo.com

ٹوتھ برش سے شاپنگ بیگ، بال پین سے بریف کیس اور گاڑی کے اسٹیرنگ سے پائیدان تک تمام چیزیں ہم پلاسٹک سے بنی ہوئی ہیں استعمال کررہے ہیں۔ دوکانوں پر رنگارنگ اور شفاف ہر طرح کے شاپنگ بیگ کی بہار ہے۔ پلاسٹک کی اشیاءکے بغیر جدید زندگی کا تصور محال ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو پلاسٹک کی اشیاءکی اہمیت تقریباً بجلی کے برابر ہو چکی ہے۔ ٹھنڈے مشروبات، دوائیوں ، منرل واٹرکی بوتلوں اور بچوں کے فیڈر تک کونسی چیز ہے جو پلاسٹک کی محتا ج نہیں مگر پلاسٹک اس رنگارنگ اور پُر بہار دنیا کی پشت پر اس کا و ہ تاریک چہرہ ہے جس کی نشان دہی سائنس دان بر س ہا برس سے کررہے تھے مگر حالیہ دنوں میں عالمی خبررساں ایجنسیوں رائٹراور سی این این نے اس موضوع پر جو خبریں اور تفصیلات جاری کی ہیں انہوں نے مشرق و مغرب میں کہرام مچا دیا ہے۔
امریکہ اور یورپ میں پلاسٹک کے زہریلے اثرات کے بارے تحقیقاتی رپورٹوں کا انبار جمع ہوچکا ہے۔ صرف امریکہ میں ہونے والی۰۰۲ سے زائد تحقیقات نے پلاسٹک کے لازمی جزو یعنی اسفینول اے(BPA) کے انسانی جسم پر تباہ کن اثرات کی واضح نشان دہی کی ہے۔ رائٹر نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ امریکہ میں کئے جانے والے پیشاب کے ۳۹ فی صد تجزیوں میں اس نقصان رساں کیمیکل کی موجودگی ثابت ہوگئی ہے ۷۰۰۲ءمیں۸۳ ماہرین کی زیر نگرانی ہونے والی ایک تحقیق کے دوران عام حالات میں استعمال کی جانے والی پلاسٹک سے بھی کم مقدار استعمال کرانے پر تجربہ گاہوں میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ پلاسٹک کا یہ منحوس جزو کینسر،دماغی امراض ،تھائی رائڈاور دیگر غدوروں کے عدم توازن اور جنسی بیماریوں کابراہ راست سبب ہے۔ جانوروں پر ہونے والی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بی پی ا ے نامی یہ کیمیکل مستقل بنیادوں پر ڈی این اے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ۷۰۰۲ء میں امریکہ سائنسدانوں نے اس کیمیکل کا زیادہ وسعت سے جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔اس مرتبہ ۰۰۵۱ امریکیوں پر پلاسٹک کے استعمال کا جائزہ لینے پر پتہ چلا کہ بی پی اے کا تعلق دل کے امراض سے بھی ہے۔ اسی گروپ نے ۸۰۰۲ء میں دوبارہ انہی تحقیقات کو دہرایا کی جن کے نتائج نے گذشتہ تحقیقات کی تصدیق کردی۔
بی پی اے سے ہمارے تعلق کی سب سے خطر ناک نوعیت ڈبوں میں بند غذا ، مشروبات اور دودھ کا استعمال ہے کینیڈا میں ٹھنڈے مشروبات میں بی پی اے کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے حالانکہ کینیڈا اپنے سخت ماحولیاتی قوانین اور آلودگی کی کم ترین سطح کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے اگر وہاں مشروبات میں پلاسٹک شامل ہوسکتا ہے تو پاکستان میں میں تیار ہونے والے مشروبات کا حال بتانے کی ضرورت نہیں۔دراصل مشروبات کے دھاتی ڈبوں میں پلاسٹک کی ایک تہہ اندر کی طرف لگائی جاتی ہے تاکہ مشروب اوردھات میں فاصلہ رہے، پلاسٹک کی دیہی تہہ آہستہ آہستہ بی پی اے کی خاص مقدار مشروب میں شامل کرتی رہتی ہے۔اس معاملے کاسب سے خطر ناک پہلو یہ ہے کہ شیر خوار بچوں کے تمام فیڈر پلاسٹک کے بنے ہوتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ بیماریوں کے خلاف مدافعت کی قوت بچوں اور وہ بھی شیر خوار بچوں میں کم ہوتی ہے مگر شروع دن سے ہی ان شیر خوار بچوں کو اس نقصان دہ کیمیکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
پلاسٹک کااستعمال کرنے کے ماحولیاتی اثرات بھی تباہ کن ہیں۔ہمارے ہا ں ہر قسم کا کچرا بلآخردریاﺅںا ور سمندروں کی نذر کیا جاتاہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک آبی جانوروں اور مچھلیوں کے لئے سم قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مچھلیوں کی موجود ہ نسل کو نقصان پہنچانے کے علاوہ یہ کیمیکل ان کی آئندہ نسل کا خاتمہ بھی کرسکتا ہے۔ اگر ایک مرتبہ پلاسٹک بن جائے تو اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ پلاسٹک اگر استعمال میں لایا جائے تو نقصان، اگر کچرے میں پھینکا جائے تو زمینی آلودگی کابڑاسبب، جلایا جائے تو فضائی آلودگی کا باعث اور اگر سمندر میں پھینکا جائے تو سمندری حیات کے لئے زہر بن جاتا ہے۔ پلاسٹک سے ہمارے تعلق کاجائزہ لیا جائے تو صبح سویرے اس کا استعمال ٹوتھ پیسٹ کی صور ت میں ہوتا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا میں کم از کم پچاس کروڑافراد باقاعدگی سے ٹوتھ برش استعمال کرتے ہیں یہاں یہ بات بھی قابل غو رہے کہ پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کی سب سے زیادہ شرح امریکہ میں ہے جہاں صرف ۰۱ فی صد پلاسٹک دوبارہ قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔ اس ری سائیکلنگ کے دوران بھی حرارت اور گاڑھے دھوئےں کابرابر اخراج ہوتا رہتا ہے۔ باقی ۰۹ فی صد پلاسٹک بالآخر کچرے ہی کے ڈھیر میں ہی پہنچتا ہے یہ تو صرف اس ایک چیز کا جائزہ ہے جو شاید گھریلو استعمال کی چیزوں میں سب سے چھوٹی ہے ۔پلاسٹک کی تھیلوں ، برتنوں اور پیکنگ کے ڈبوں اور پلاسٹک سے بنے ہوئے برقی آلات کا استعما ل الگ ہے ۔ہمارے ہاں استعمال کے بعد یہ پلاسٹک سیوریج لائنوں کی بندش کاسب سے بڑا سبب بھی ہے۔
آخری بات یہ ہے کہ مغرب جس طرز زندگی کا عادی ہے اس میں ڈبوں میں بند خوراک ضروری ہے کیونکہ وہاںبڑی بڑی سپر مارکیٹوں نے سبزی اور گوشت وغیرہ کی محلہ کی سطح پر دوکانوں کا تقریباً خاتمہ کردیا ہے اس لئے وہاں روزانہ تازہ سبزی،گوشت اور پھل نہیں لائے جاسکتے۔ اس کے علاوہ وہاں میاں بیوی دونوں ملازمت پیشہ ہونے کے سبب اتنا وقت نہیں نکال پاتے کہ روزانہ سپر مارکیٹوں کا چکر لگا سکےں اس لئے وہاں ڈبوں میں بند غذا کو فریج میں ذخیرہ کرلیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں یہی صورتحال ہے ؟ پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی میں بھی خواتین کی بڑی تعدا دخاتونِ خانہ ہی کی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے اس طر ح ہمارے ہاں روزانہ بازار سے تازہ دودھ ، سبزی، گوشت اور پھلوں کی خریداری ممکن ہے۔ لہذا ڈبوں میں بند غذا قطعاً ہماری ضرورت نہیں لہذا ایسی غذاﺅں سے مکمل پرہیز ہی بہترہوگا۔ بچوں کے فیڈر کے لئے کانچ کے فیڈر استعمال کئے جائےں توکم نقصان ہوگا۔اس سلسلے میں دیگر متبادلات بھی ممکن ہیں ۔ ویسے بھی ماں کا اپنا دودھ بچے کے لئے بہترین غذا ہے۔ ہمیں اس بات کا بھی جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے ہاں کی ہر روایتی چیز اور طریقہ بے کار اور فرسودہ ہے؟ آخر کیوں ہم نے جراثیم کا ازخود خاتمہ کرنے والے مٹی کے برتنوں کا استعمال ترک کردیا ہے جب کہ وہ بی پی اے جیسے زہریلے اثرات سے بھی سو فی صد پاک تھے ؟ آج پانی کے تمام کولرآخر اسی پلاسٹک سے بنے ہیں جن کے زہریلے اثرات نے مغرب و مشرق کو مضطرب کررکھا ہے۔ فریج کے ٹھنڈے پانی کے انسانی معدے اور گلے پرمضر اثرات کے بارے میں ماہرین متفق ہیں ۔مگرکیا ہم مغرب سے آنے والے ہر چیز پر آمنا و صدقنا کہنے اور اپنے فطری طریقوں سے نفرت کرنے کی روش پر نظر ثانی کےلئے تیا ر ہیں ؟ اس کے ضمن میں یہ بات بہت اہم ہے کہ گلوبل ولیج اور انفارمیشن ایج کا انسان جدید طرز زندگی کی ان نقصان دہ اشیاءکے مضمرات کا جائزہ لینے سے معذور ہے اور اگر اس طرز زندگی کے نقصانات روزروشن عیاں بھی کردئیے جائیں تب بھی اس دور کا انسان ان طور طریقوں کو ترک کرنے پر تیا ر نہیں کیوں کہ مغرب کی اندھی تقلید نے تجزیہ اور فکر کی صلاحیتوں کو زنگ آلود کردیا ہے۔ نوبت بہ ایں جا رسید کہ اب جب کہ مغرب خود ان اطوار اور عادات کا جائزہ لے رہا ہے جو مغربی تہذیب کو اندھے کنویں کی طرف دھکیل رہی ہے مگر ہماری ہاں ہنوز دلی دور است کی کیفیت طاری ہے۔ مغرب کی نئے سرے سے تفہیم پر ہی ہمارے حال و مستقبل کے کئی چیلنجز کا دارومدار ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s