”کار کلچر“ کیا کھویا کیا پایا ؟



نیازسواتی
niazhussain.swati@yahoo.com

آئیے آج کی گفتگو ایک ایسی چیز کے بارے میں کریں جو ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی جزو بن چکی ہے ۔یہ ایک ایسی چیزہے جس کی افادیت کا ہر کوئی قائل ہے ۔ اب آپ سے کیا پردہ ؟ یہ ہماری محبوب چیز یعنی ”کار “ ہے جس کے بغیر ہر شخص بے کار ہے بلکہ بے کا ر محض ہے ۔آیئے اس چمکتی دمکتی محبوبہ کی اداﺅں کا جائزہ لیں ۔ہماری محبوبہ کار کی دلفریب ادائیں کسی قدر ہوشربا ہیں۔ مصدقہ اعداد وشمار کے مطابق صرف ایک کار کی تیاری کے دوران ایک لاکھ لیٹر میٹھا اور صاف پانی خرچ ہوتا ہے۔ دوسری طرف ورلڈ بینک کے صدر کا کہنا ہے کہ آئندہ جنگیں پانی کے مسئلے پر ہوں گی۔ گاڑی کے پرزوں کی تیاری کے دوران ہونے والے ماحولیاتی نقصانات توعام طور پرنگاہوں سے مستور رہتے ہیں ،گاڑی کے پرزوں کی تیاری کے لئے ربر پلاسٹک اور دھاتی مواد کیے پگھلاﺅ کے دوران حرارت اور زہریلی گیسوں کا زبردست اخراج ایک طرف مگر موٹر گاڑی کے چلنے کے بعد ہونے والے نقصانات اس قدر واضح ہیں کہ ان سے صرف نظر ناممکن ہوگیا ہے۔ دل تھام کے رکھیے ! اس معاملے کی تفصیلات بھی کم ہوش ربا نہیں ۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال دنیا بھرمیں ۱۲ لاکھ افرادسڑک پر حادثات کی صورت میں ہلاک ہوجاتے ہیںاور تقریبا دو کروڑ افراد اسی طرح زخمی حالت میںاسپتال پہنچائے جاتے ہیں۔ ان زخمیوں میں سے پچاس لاکھ افراد شدید زخمی ہوکر اسپتالوں میں پہنچائے جاتے ہیں ۔ ان سے زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ موٹر گاڑیوں سے پیدا ہونے والے دھوئیں سے دمے اور سانس کے دیگر امراض میں مبتلا ہو کر ۱۳ لاکھ زائد انسان موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار ان حادثات کے ہیں جن کی باقاعدہ رپورٹنگ ممکن ہوسکی ہے ۔اس طرح کے حادثات میں مرنے والوں کی تعداد ملیریا اور ذیابیطس میں مرنے والے افراد سے بھی زیا دہ ہے ۔ سڑکوں پرہونے والے حادثات ہماری زندگی کا معمول مگر ایک نظرانداز کردہ شعبہ ہیں ۔انسانی زندگی کی اس بڑے پیمانے پر ارزانی اور زخموں کی فراوانی اور اس پر ہماری غفلت بھی دیدنی ہے ۔ گاڑیوں کے حادثات میں لگنے والے زخم ، معذوریاں ،ہلاکتیں اوروہ بھی اس بڑے پیمانے پر کہ جنگوں کی معلوم تاریخ کے ریکارڈ کے مطابق آج تک ہونے تمام جنگوں میںہونے والی ہلاکتیں ملاکر بھی اس تعداد سے کم ہیں جو صرف سڑک پر ہونے والے حادثات میں ہوچکی ہیں ۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے۷ اپریل ۲۰۰۹ءکوماسکو میں ہونے والی پہلی عالمی وزارتی کانفرنس میں اپنے پیغام میں سڑک کے حادثات اور متعلقہ اموات کو ۲۰۰۹ءکا عالمی بحران قرار دیا ہے۔ مگر یہ بحران محض اس سال کا نہیں بلکہ سدابہار ہے ، پچھلی ایک دہائی کا جائزہ لیں تو یہ بحران ہر سال لاکھو ں اموات کا ذمہ دار قرار پاتاہے۔
“Each year, more than one million people are killed in traffic accidents — more than deaths from malaria or diabetes. This conference is long overdue,” UN secretary-general Ban Ki-moon said in a message at the First Global Ministerial Conference on Road Safety in Moscow.
ترجمہ : ”ہر سال دس لاکھ سے زیادہ انسان سڑک کے حادثات میں ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ مرنے والوں کی یہ تعداد ملیریا اور ذیابیطس سے مرنے والے افراد کی تعداد سے بھی زائد ہے ۔ اس موضوع پر ہونے والی یہ کانفرنس پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے ۔“
ایسا نہیں ہے کہ دنیا میں کسی کو اس مسئلے کا ادراک نہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم آگہی کے باجود اندھی موت کی طرف سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں اور اپنے تئیں اپنے آپ کو اس سے محفوظ سمجھتے ہیں ، آج کون سی گلی اورکو ن سا گھر ہے جہاںسڑک کے حادثے میں متائثر ہونے والاکوئی نہ کوئی فرد موجودنہ ہو ۔اس عالمگیر مسئلے کی اس عالم گیر آگہی کے باوجود اس سے چشم پوشی حیرت انگیز ہے مگرآج مشرق ومغرب میں رہنے والے ہر فرد کے سامنے ”ترقی“ کا وہ عجیب و غریب تصور ایک نصب العین کی صورت موجود ہے جس کی چکاچوند کے سامنے عامی و عالم اور جاہل یکساں رویے کا اظہار کررہے ہیں ۔ترقی کے دیگردائرے اپنے تصورات پیش کرتے ہیں اور نظر انداز ہوتے چلے جاتے ہیں کیونکہ ترقی کے اس مخصوص مادی تصورجو صنعتی ترقی سے مشروط ہے ،نے ہر تصور کی افادیت ہمارے ذہنوں میں کھودی ہے۔
ترقی کی خوب صورت اور واضح ترین شکل یعنی کار کے زیادہ تر شکار ترقی پذیر اور کم آمدنی کے حامل ممالک ہیں ۔ بان کی مون کی زبانی سنےئے۔
In addition to deaths, some 50 million people are severely injured, costing governments one to three per cent of their gross national products.
اب اگرمندرجہ بالا اقتباس پڑھ کر اگر آپ کو اردو زبان کی مشہور ترین کہاوتیں مثلا ”مرے کو مارے شاہ مدار“ اور” مفلسی میں آٹا گیلا “وغیر ہ یاد آجائیں تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں کیونکہ اگر غریب ممالک کی جی ڈی پی کا تین فی صد اگرکار کے سڑک کے حادثات میں زخمی ہونے والوں پر لگ جائے تو تعلیم وغیرہ پر جی ڈی پی کا پانچ فی صد خرچ تو ممکن ہی نہیں رہتا ،حالانکہ اسی اقوام متحدہ کا تجویزکردہ تعلیمی بجٹ یہی ہے ۔ ان نقصانات کے عقب میں ذرا ان جسمانی و روحانی تکالیف کا اندازہ لگائیے جن سے مرنے یا زخمی ہونے والوں کے افراد خانہ گزرتے ہیں تو اس کار کلچر کے حقیقی نقصانات کی ایک جھلک نظر آجائے گی جو ترقی کے مخصوص تصور نے اپنے جلو میں چھپارکھی ہے مگر دیدئہ بینا رکھنے والوں سے پوشیدہ نہیں ۔اس ترقی کی لاحاصل منزل کو پانے کے لئے اور اس کی طرف سفر جاری رکھنے کے لئے کاریا گاڑی لازم ہے مگر اس سفر اس سفر کی اس قدر جانی و مالی قیمت اداکرنے اور مسلسل اداکرتے رہنے پر ہم تیار ہیں ؟؟؟
یہا ں ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ سڑکوں کی حالت ، حفاظتی انتظامات اور حفاظتی عملے کی تربیت کی صورت حال بہتر بناکر ان حادثات سے چھٹکارہ ممکن ہے۔ مگر قابل غورامر یہ ہے کہ اس طرح ان حادثات کی تعداد صرف کم کی جاسکتی ہے یعنی ہر سا ل ایک ملین سے ہونے والی اموات کی تعداد کچھ کم ہوسکتی ہے مگر اس کا امکان بھی کم ہی ہے کیونکہ ہر طرح کی ٹوٹ پھوٹ سے ماورائے سگنل فری کوریڈورز پر ہونے والے حادثات سابقہ سڑکوںپر ہونے والے حادثات سے زیادہ مہلک ہیں ۔ اس مسئلے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کار کلچر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فضائی آلودگی تو کم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی جاتی ہے کیونکہ بہتر سڑکوں اور سگنل فری کوریڈورز نے گاڑیوں کی تعداد میں کمی نہیں بلکہ اضافہ کیا ہے اور شاید اس کا مقصد بھی یہی تھا ۔ اس مسئلے کے حل کے لئے ہونے والی کیوٹو کانفرنس کی ناکامی نے بھی اسی حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کا سدباب اسی ترقی کے تصور کی وجہ سے ممکن نہیں ۔ ترقی، بڑھتی ہوئی آلودگی ، عالمی درجہ حرارت کے بڑھنے اور ماحولیات کی تباہی پر آئندہ کسی ملاقات میں گفتگو ہوگی ۔ انشاءاللہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s