کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے



نیازسواتی
niazhussain.swati@yahoo.com
یہ بڑے عجیب دن تھے ۔پڑوسی ملک افغانستان میں آگ وآہن کی بارش جاری تھی ۔ڈیزی کٹر، بوبی ٹریپ ، کارپٹ بومبنگ اور طالبان حکومت کے خاتمے کی چیختی سنسنی خیز خبروں کے شور سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی ۔ ایسے میں پرویزی حکومت ”سب سے پہلے پاکستان “کا راگ الاپتے ہوئے نہ صرف برادر مسلم ملک افغانستان کی تباہی پرنہ صرف خاموش تھی بلکہ امریکہ کی انٹیلی جنس اورلاجسٹکس سپورٹ میں مصروف تھی۔ کابل کی اسلامی حکومت کے ہمدرد طعنوں کی زد میں تھے ۔ برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے افغانستان کو اکیلا چھوڑنے پر پرویزی حکومت کوداددینے کے لئے پاکستان کا دورہ فرمایا ۔ حکومت نے حسب رویت اپنے برطانوی آقا کا شان دار استقبال کیا ۔ لیکن ٹونی صاحب نے کمال مہارت سے پرویزی حکومت کے چہرے پر کالک ملتے ہوئے فرمایا ”پاکستانی حکومت کا شکریہ جس نے طالبان اور القائدہ کے خلاف ہمارے پیش کردہ ثبوت تسلیم کرلئے ورنہ انہیں عدالت میں ثابت کرنا بہت مشکل تھا ۔“ یادش بخیر ! انہی دنوں جرمن وزیراعظم گیرہا ڈ شرڈور نے بھی پاکستان کا دورہ کیا ۔جگہ جگہ اپنے خوب صورت دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے شرڈور نے فرمایا ”ہم پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔“ بہر حال اس جنگ میں حصہ ڈالنے والا کوئی یورپی حکمران بشمول شرڈور صاحب محترم ،اپنا اگلا الیکشن نہ جیت سکا۔ اسپین ، فرانس اور برطانیہ میں ایک ہی تصویر دکھائی دی ۔ اب جب اپنے لالے پڑے ہوں تو پاکستان یا پرویز مشرف کو ن یاد رکھتا ۔اب ایسا بھی نہیں تھا کہ ایک فون کال پر غیروں کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہونے والا جنرل اپنے ہم وطنوں سے بھی ڈر جاتا ۔یہ روشن خیال جنرل اپنے ہم وطنوں پر فاسفورس بم استعمال کرنے سے بھی نہ چوکا ۔ سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگانے والا یہ بہادر سورما آج پاکستان کا رخ کرنے سے بھی خوف زدہ ہے۔ دروغ برگردن راوی اسلام آباد سے اشرف بھائی نے اطلاع دی ہے کہ چک شہزاد کے بنگلے سے مسلسل ایک ہی صدا آرہی ہے۔
ع کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے
پچھلے دنوں محترم شیر افگن صاحب کا بیان حیرت انگیز بیان نظر سے گزرا فرماتے ہیں کہ مشرف اب بھی واپس آکر اقتدار سنبھال سکتے ہیں ۔ اس خبر پر حیرت کے بجائے عمران خان صاحب نے ارشاد فرمایا کہ مشرف حکومت اس شخص کے دل کے علاج پر خوامخواہ پچیس لاکھ روپے خرچ کئے اگر صرف پانچ لاکھ روپے شیر افگن کے دماغ کے علاج پر خرچ کئے جاتے تو پوری قوم کا بھلا ہوتا ۔ آگے حد ادب ہے اور ویسے بھی یہ دو نیازیوں کا معاملہ ہے ہم کیا کہہ سکتے ہیں ۔ان دنوں کا جب کابل کی اسلامی حکومت نے وہاں سے انخلاءکا فیصلہ کیا تودنیا بھر کے ٹی وی چینلوں اور امریکی فوج کے ساتھ بی بی سی کے نامہ نگار (اب یاد تو نہیں ہے پر نام تھا بھلاسا !) کو کابل میں داخل ہوتے ہوئے دکھا یاجارہاتھا یہ نامہ نگار بار بار کہہ رہا تھا It is the end of Taliban. لیکن افغانوں کی تاریخ سے باخبر لوگ جانتے تھے کہ بے شک پہلے ہی ہلے میں ہر استعماری طاقت نے افغانستان میں داخل ہوکر قبضہ کرلیا مگر یہ قبضہ تادیر برقرار نہیں رکھا جاسکا ۔کوئی یہا ں اپنی پوری فوج گنواکر نکلا تو کوئی ان سے جنگ کرکے خود ہی ٹوٹ پھوٹ گیا ۔غالب نے شاید افغانوں کے لیے ہی کہا تھا:
ع جو تیری بزم سے نکلا سوپریشاں نکلا
اب آٹھ سالہ جنگ کے اختتام پر امریکہ کے جنرل ،امن اور مذاکرات جےسے خوب صورت الفاظ کا استعمال سیکھ رہے ہیں ، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کا اصل جھگڑا تو القائدہ سے تھا طالبان تو بہت اچھے ہیں ، امن اور مذاکرات ہی آخری حل ہے۔ غور سے دیکھیں کہیں تاریخ اپنے آپ کو تو نہیں دہرارہی ۔ لبنان پر اسرائیلی حملے کو جائز قرار دے کر حزب اللہ اور حماس کے خاتمے کے منتظر مغربی ممالک نے لبنان کو اکیلا چھوڑدیا اور مرے کو مارے شاہ مدار یہ کہ امریکی ڈکٹیشن کی منتظر رہنے والی ”اوہ آئی سی“ نے جنگ کے سترہ دن بعد ہنگامی اجلاس طلب کرکے جنگ کی صورت حال پر غور شروع کیا ۔ بہر حال جب اسرائیل کی شکست نوشتہ دیوار بن گئی تو امریکہ اور یورپی یونین سمیت پورا استعمار اسرائیل کا پشت پناہ بن کریا امن یا امن کی صدائیں دینے لگا ۔
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
ہمیں یا د ہے سب ذرا ذرا
خیر امریکہ ، اسرائیل کی طرح اپنے میدان جنگ سے جغرافیائی طورپر قریب نہ تھا لہٰذا وہاں تک اس جنگ کے اثرات کچھ دیرمیں پہنچے مگر اب نوبت بہ ایں جا رسید کہ طالبان کے ہاتھوں جہنم واصل ہونے والے امریکی فوجیوں سے زیادہ تعداد ان فوجیوں کی ہے جو خودکشی کے راستے کو پسند کررہے ہیں ۔ میدان جنگ کے فوجیوں کی بڑی تعداد نفسیاتی مریض بن رہی ہے۔ امریکی معیشت کو لگنے والے جھٹکے اس پر مستزاد ہیں۔ تازہ خبریں یہ ہیں کہ افغان صوبہ نورستان کا فوجی ہوائی اڈہ چھوڑ کر امریکی فوج فرار ہوچکی ہے ۔ خوست کے زیر تعمیر ہوائی اڈہ شاید اپنی افتتاحی تقریب کبھی نہ دیکھ سکے گا کیوں کہ امریکہ کی بہادر افواج اس کی حفاظت سے قاصر ہیں۔ یہ وقت بھی آنا تھا کہ یورپی یونین کی بیش تراقوام کےافغان جنگ سے الگ ہونے کے بعد مجبورا َامریکہ نے روس سے یہاں فوجیں بھیجنے کی اپیل کی جو روس نے سابقہ تلخ تجربے کی بنیاد پر رد کرتے ہوئے امریکہ کو بھی یہاں سے بحفاظت نکلنے کا مشورہ دیا ۔ حال ہی میں ممتاز گوریلا کمانڈر گلبدین حکمت یار نے امریکہ کو پیش کش کی ہے کہ اگر امریکہ افغانستان سے انخلاءکا ٹائم ٹیبل دے تو اس کی افواج کی بحفاظت واپسی کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔ اب امریکہ کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ ہماری اصل دشمنی تو القایدہ سے تھی “طالبان ” تو ایک زمینی حقیقت ہیں۔ اب اسامہ بن لادن کی شہادت اورالقائدہ کے کمزور پڑجانے کے بعد ہمیں افغانستان سے نکل جانا چاہیے ۔ امریکہ اب صرف ”اچھے طالبان “ کی طرف سے ایسی ہی فراخ دلانہ پیش کش کا منتظر ہے۔ بس پھر لوٹ کے بدھو گھر کو جائیں گے ۔ لیکن میں سوچ رہاہوں کہ ہمارے ملک کے انگریزی اخبارات کا کیا بنے گا جنہوں نے افغان طالبان کو عالمی دہشت گرد ، جاہل ،اجڈ اور نجانے کیا کیا کہہ رکھا تھا اب تو روشن خیال اور اعتدال پسند امریکی پریس نے بھی طالبان سے ہٹ کر محض القائدکو فوکس کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہیں ناقابل شکست قرار دیاہے ۔
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s