” معیار زندگی اور خودکشی”



نیاز سواتی
niazhussain.swati@yahoo.com

ہر لحظہ بدلتی کائنات ایک ایسی حقیقت ہے جس کی ترجمانی سائنس دانوں، شاعروں اور ادیبوں نے اپنے اپنے انداز میں کی ہے ۔ اردو کے مشہور شاعر نے اس حقیقت کوجس طرح چند الفاظ میں سمیٹا ہے وہ انداز قابل داد ہے ۔ شاعر کا کہنا ہے :

ع ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں

اس بدلتی ہوئی دنیا میں وہ بات جس پر تمام اہل دانش متفق رہے ہیںانسانی عظمت کے سوا کوئی اورنہیں ۔اہل دانش کے ایک گروہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کہا تو دوسرے گروہ نے دنیا کی ہر چیز کو انسان کا خادم قرار دیا۔ کسی نے اسے عظیم ہستی قرار دے کر اسے ترغیب دی کہ وہ دنیا کے تمام وسائل اور مخلوقات کو اپنے تصرف میں لے آئے ۔ کسی نے اسے بعد از خدا وجود قرار دیا تو کسی نے اسے سب سے بالاتر ہستی قرار دے کر اس کائنات کو انسان مرکز (Human Centric) ٹھہرایا۔غرض تمام مفکرین نے عظمت انسان کا اعتراف کیاہے ۔
عظمت انسانی محض دانش وروں کا خیال نہیں بلکہ انسان تمام شعبہ ہائے زندگی میں اپنی ذہانت اور طاقت کے ذریعے اپنی برتری کا سکّہ منوا چکاہے ۔آج سائنسی ایجادات کی حیرت انگیز دنیا اورفنون لطیفہ کی جدتوں نے سب کو حیران کردیا ہے ۔ گزشتہ چار دہائیوں کی سائنسی ترقی نے انسان اور اس کے ماحول کو بدل کر رکھ دیا ہے۔اگر آج سے سو سال قبل فوت ہوجانے والے کسی فرد کو زندہ کرکے خلائی جہاز، انٹر نیٹ ،موبائل فون کے کمالات کا مشاہدہ کروایا جائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ شخص حیرت سے دوبارہ انتقال کرجائے ۔ یہ تمام تر انسانی ترقی جہاں عملی روپ اختیار کرتی ہے وہ مقام بلند معیار زندگی کا حصول ہے ۔ یہ وہ منزل ہے جسے عوام و خواص نے اپنا نصب العین قرار دے دیاہے ۔ بلند معیارزندگی کے حامل افراد اپنے ماحول میں دیگر افراد کے لیے آئیڈیل قرار پاگئے ہیں ۔ بظاہر محسوس بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ بلند معیار زندگی پالینے والے مسرت اور پرتعیش زندگی کے ابدی سفر پر گامزن ہیں۔ مگر جدید دور کی ایک تلخ حقیقت نے اس خوش فہمی کی تردید کردی ہے۔ وہ حقیقت جو بلند معیار زندگی اور حقیقی خوشی کے باہمی تعلق کو چیلنج کرتی ہے وہ ترقی یافتہ اور امیر ترین مغربی ممالک میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ عالمی پیمانے پرخود کشی کے مصدقہ اعدادو شمار بتاتے ہیںکہ خود کشی کی بلند ترین شرح بھی انہی ممالک میں پائی جاتی ہے جو فی کس آمدنی اور بلند معیار زندگی کی بلندیوں کو چھورہے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر جاپان ، سوئٹزر لینڈ ،ڈنمارک ، ناروے اور سوئیڈن ان ممالک میں سرفہرست ہیں۔

مشہور امریکی مصنف ڈیل کارنیگی چین کے غریب مزدوروں کو دن بھر ہنستے مسکراتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گیاتھااور غربت کے باوجود ان کی خوشی کی کوئی مادی توجیہہ نہ بیان کرسکا ۔کارنیگی اپنے سفر عرب کی روداد لکھتے ہوئے صحرائی طوفان کے دوران ہونے والے نقصان پر بدوﺅں کے دو لفظی ردعمل یعنی ” ھٰذا مکتوب “ (یہ نقصان مقدر تھا)کا فلسفہ جان کر حد درجہ متائثر ہوا۔مختصر یہ کہ مشکل حالات اور ذہنی پریشانی میں دو ہی چیزیں انسان کو سہارا دے سکتی ہیں ایک مذہب اور دوسرا خاندان ۔ آج یہی دو ادارے مغرب میں اپنے زوال کی انتہا کو چھو رہے ہیں ۔آج بیرونی طلبہ کو مغربی یونی ورسٹیوں کے جس شعبے میں نسبتََا آسانی سے داخلہ ملتا ہے وہ شعبہ نفسیاتی علاج کا ہے کیوں کہ مغرب میں خاندان کے ادارے کے زوال اور مذہب سے بے گانگی کے نتیجے میں فرد تنہا ہوگیا ہے ۔

کینیڈا سے تعلق رکھنے والی نوجوان نسل کی شاعرہ (Avril Romana Lavigne) نے مغربی نوجوانوں کی اس تنہائی کی عکاسی انتہائی اداسی کے ماحول میں کرکے مغرب میں فرد کی اس تنہائی کو واضح کیا ہے۔ اس صورت حال نے نفسیاتی امراض اور خود کشی کے رجحان میں شدید اضافہ کر دیا ہے لہٰذا ڈیپریشن کی ادویات کی فروخت نئی بلندیوں کو چھورہی ہے ۔ ٹائم میگزین کے پیش کردہ سروے رپورٹ کے اعداد شمار بتاتے ہیں کہ یورپ کی اسی فی صد آبادی نے اپنے آپ کو کسی بھی مذہب سے لاتعلق قرار دیا ہے۔ ایسے میں محض فی کس آمدنی اور معیار زندگی میں اضافے سے صورت بہتر نہیں ہوسکتی ۔ورنہ امیر ترین یورپی ممالک کے شہری زندگی پر خودکشی کو ترجیح نہ دیتے۔معیار زندگی کی دوڑ میں خود زندگی ہی کا خاتمہ ہورہاہے۔مشہور جرمن نیطشی نے خدا کی موت کا اعلان کیا تھا (نعوذ باللہ )مگر آج خود کشی کا بڑھتا ہوا تناسب خود انسان کی موت کا ببانگ دہل اعلان کررہاہے۔ کوئی ہے اس آواز کو سننے والا۔۔۔۔

2 responses to this post.

  1. Posted by A.RAQUIB MAZHAR on جولائی 23, 2012 at 9:45 شام

    مضمون بہت عمدہ ہے، اس طرح کے موضوعات کو علمی انداز میں بڑے پیمانے پر اٹھانے کی ضرورت ہے

    جواب دیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s