ترقی کیاہے؟



نیاز سواتی
niazhussain.swati@yahoo.com

تاریخی پس منظر :
ترقی ایک ایسی وسیع اصطلاح ہے جو اپنے اند ر کئی پہلو رکھتی ہے ، روحانی ترقی ، اخلاقی ترقی ، معاشرتی ترقی ،علمی ترقی اور مادی ترقی اس اصطلاح کے اہم پہلو ہیں ۔ ترقی ویسے تو ماضی، حال اور مستقبل ہر زمانے اور ہر تہذیب اور معاشرے کاموضوع رہاہے مگرہر تہذیب نے اپنی اپنی مابعدالطبیعیات کے مطابق ترقی کے کسی میدان کو اپنا یا ۔اسلامی تاریخ میں مادی ترقی کو زیادہ جگہ نہ مل سکی ۔ یہی حال دیگر انبیاءعلیہ السلام کی تہذیبوںکی بھی رہا البتہ یورپ میں عیسائیت کے زوال یورپی نشاة ثانیہ کے بعد مادی ترقی کو مقصد زندگی کی حیثیت حاصل ہوئی۔ اسی مادی ترقی کی خاطر یورپی اقوام دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ مادی ترقی سے مالامال ہونے کی خاطر نکل کھڑے ہوئیں۔دیگر اقوام کی لوٹ مار پر مشتمل اس ترقی کی دوڑ نے یورپی اقوام کو باہمی حسد میں مبتلا کیا جس کا نتیجہ دو عالم گیر جنگوں کی صورت میں نکلا ۔ یہ تھا ترقی کا پہلازینہ جس پر قدم رکھتے ہی کروڑوں افراد موت کے منہ میں چلے گئے اور ایک ایسے انسانی المیے نے جنم لیاجو گزشتہ تمام انسانی تہذیبوں میں ناپید رہا۔ اسی لئے مورخین ان عالمی جنگوں سے پہلے اور بعد کے یورپ کی تاریخ کو دو الگ الگ ادوار میں تقسیم کرتے ہیں ۔
برصغیر کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انگریزوں کے مکمل تسلط(۷۵۸۱ئ) تک مادی ترقی مسلم اور ہندو دونوں تہذیبوں میں بار نہ پاسکی۔ البتہ انگریزوں کے تسلط کا دائرہ مکمل ہونے کے بعد ہندوﺅں میں راج رام موہن رائے اور مسلمانوں میں سرسید ما دی ترقی کے علم بردار قرار پائے (ڈاکٹر انور سدید ، اردو ادب کی تحریکیں صفحہ نمبر ۰۶۲)۔ برصغیر میں انگریزوں کے نوآبادیاتی تسلط نے ہمہ جہت تبدیلیاںاور مسائل پیدا کئے مگر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ان انگریزی قابضین سے ہمارے تعلق کی صورت کیاہو۔ برصغیر کے علما ءنے اس پرفتن دور میںاسلامی علمیت کو بچانے میں کامیاب رہے اوراور براہ راست تصادم سے بھی گریزاں رہے ، اس کے برخلاف سرسید اور ان کے رفقاءنے برطانوی آقاﺅں کے تسلط کی تکمیل اور ۷۵۸۱ ءکی جنگ آزادی کی ناکامی سے یہ سبق لیا کہ اب انگریز سرکار برصغیر سے جانے والی نہیں لہذااس سے زیادہ سے زیادہ تعاون کرکے اسے اپنے حق میں رام کرلیا جائے تاکہ مسلمانوں کے مادی مفادات محفوظ رہیں اور ترقی کی دوڑ میں مسلمانان ہند کہیں پیچھے نہ رہ جائیں ۔ اس ترقی کو پانے کے لئے سب سے موئثرراستہ یہ تجویز کیا گیا کہ مسلمانان ہند مغربی علوم اور انگریزی تعلیم زیادہ زیادہ حاصل کریں تاکہ ترقی کی دوڑمیں ہم دیگر اقوام کو پیچھے چھوڑدیں ۔سرسید نے اپنے ان خیالات کو کبھی راز نہیں رکھا ۔ سرسید نے کہا :
”جو شخص قومی ہمدردی سے اور دور اندیشی سے غور کرے گا وہ جانے گا کہ ہندوستان کی ترقی ، کیا علمی اور کیا اخلاقی ، صرف مغربی علوم میں اعلی درجہ کی ترقی حاصل کرنے پر منحصر ہے۔ اگر ہم اپنی اصلی ترقی چاہتے ہیں ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی مادری زبان تک بھول جائےں ، تمام مشرقی علوم کو نسیامنسیا کردیں ، ہماری زبان یورپ کی اعلی زبانوں میں سے انگلش یا فرنچ ہوجائے، یورپ ہی کے ترقی یافتہ علوم دن رات ہمارے دست و پا ہوں ، ہمارے دماغ یورپین خیالات سے (بجز مذہب کے ) لبریز ہوں ، ہم اپنی قدر ، اپنی عزت کی قدر خود آپ کرنی سیکھیں ، ہم گورنمنٹ انگریزی کے ہمیشہ خیر خواہ رہیں اور اس اپنامحسن و مربی سمجھیں “۔ (مقالات سرسید جلد ۵، صفحہ ۶۶)
سرسید جن دو بڑی غلط فہمیوں کا شکار رہے ان میں سے ایک یہ تھی کہ تاج برطانیہ کا اقتدار ہمیشہ ہندوستان میں قائم رہے گا ۔اس پہلے مغالطے کاابطال تو تقسیم ہند سے ہی ظاہر ہوگیا ۔ مگر دوسری غلط فہمی کہ ”مادی ترقی ہی ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔“ آج بھی ازالہ چاہتی ہے۔ آئیے اس غلط فہمی کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ترقی کے اس تصور کی بنیادیں کہاں ہیں ۔یہ تصو ربہر حال دین حنیف کا نصب العین نہیں ، اگر مادی ترقی دین کا مقصود ہوتی اسلامی تاریخ میں اس کی بین مثالیں ملتیں او ر علماءحق سب سے زیادہ اس کے شناسااور معتقدہوتے مگر عملی صورت حال یہ ہے کہ اسی مادی ترقی میں رکاوٹ کی بناءپر جدیدیت زدہ طبقہ علماءکو رجعت پسند قرار دیتا ہے اور علماءکے ہاں بھی مادی ترقی کے بجائے قناعت ، فکر آخرت ، دنیا کو حقیر جاننا اور الفقر کو فخر سمجھنے کی روش اور مضامین تو ملتے ہیں مگر مادی ترقی کے مضامین نہیں ملتے ،خیر القرون کی روشن مثالیں توبلاشبہ ابدی مینارہ نورہیں مگر برصغیر کے اکابرعلماءکی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے توبھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ عارف بااللہ حضرت اشرف علی تھانوی رحمةاللہ علیہ اپنے وظیفے میں اضافہ شدہ رقم یہ کہہ کر واپس لوٹادیتے ہیں کہ مجھ سے پہلی والی تنخواہ خرچ نہیں ہوتی تو میں اضافی تنخواہ لے کر کیا کروں گا ۔پس ثا بت ہوا کہ اس غیر فطری مادی ترقی کی ہماری علمیت میں گنجائش موجود نہیں ۔ دنیا کی تاریخ میں اولین اور بھرپور سائنسی ومادی ترقی پہلے مسلم اسپین ( اندلس) اور پھر مغربی یورپ میں ہوئی ۔یورپ کی ترقی کے نتائج و عواقب کی ایک جھلک تو نوآباتی نظام اور دو عالم گیر جنگوں کی صور ت تو دنیا نے دیکھ لی اب اندلس مسلم اسپین میں ہونے والی مادی ترقی کا جائزہ لیں ۔اندلس میں مسلمانوں کی آمد اور فتح اپنے اندر مادی اسباب و ترقی سے بے نیازی کی روشن تاریخ رکھتی ہے ۔ طارق بن زیادنے اپنی تمام تر مادی کم زوری کے باوجود توکل الی اللہ کے اسلحے سے ہسپانیہ کو فتح کرلیا مگر بعد کے مسلم حکمران اور عوام سائنسی و مادی ترقی کا عروج پانے کی دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑنے لگے ۔ مگر یہ سائنسی و مادی ترقی اپنی تمام تر شان و شوکت کے باوجود اندلس کے زوال کو نہ روک سکی اور آٹھ سو سال کی حکومت کے بعد مسلمان اسی ترقی یافتہ اندلس کو چھوڑ کر فرار پر مجبور ہوئے۔ آخر کیوں ؟ کیا انہوں اس وقت تک کی مادی ترقی کے عروج کو چھونہیں لیا تھا ؟ اگر مادی ترقی اسپین کی عظیم الشان سلطنت کو آٹھ سو سالہ اقتدار کے باوجود نہ روک سکے تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کا عروج وزوال مادی ترقی سے قطع نظر اپنے جدا قوانین رکھتا ہے۔
ترقی اور قتل عام :
یورپ میں ہونے والی بے مثال ترقی کے بارے میں یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ اس ترقی کی عمارت نوآبادیاتی لوٹ مار اور محکوم اقوام کے قتل عام پر تعمیر کی گئی۔ اس ترقی کی سیڑھی یعنی نوآبادیاتی لوٹ مار میں دیگر یورپی ممالک برطانیہ ، فرانس اور ہالینڈ سے پیچھے رہ جانے والی اقوام(جرمنی اور اٹلی وغیرہ) میں حسد کا جذبہ ابھرا جو دو عالم گیر جنگوں کا باعث بنا جس میں کم از کم چارکروڑ افراد لقمہ اجل بنے ۔ یہ چارکروڑ افراد ترقی پانے والے تھے یا اس کا شکار ہونے والے ؟؟ اس سوال کے جواب پر بہت سے دیگر جوابات کا انحصار ہے ۔مشہور مغربی مفکر مائیکل مین اپنی تصنیف The Dark side of Democracy میں لکھتا ہے کہ ترقی کا براہ راست تعلق جمہوریت سے اور جمہوریت دنیا میں قتل عام کے بغیر نہیں پنپ سکتی ۔ ایک اور نازک معاملہ یہ ہے کہ مغرب مادی ترقی حاصل کرنے کے فریب میں اپنے مذہب اور علمیت کا سودا کرنے یا اسے ٹھکرانے کے بعد مادی ترقی کی اس شکل کو پاسکا اس کے علاوہ مذہب کو نجی معاملہ قرار دینے کے بعد یہ منزل حاصل کی گئی۔ کیا ہم مادی ترقی کے لئے دین فطرت کی قربانی ، عالمی پیمانے پر لوٹ مار اورمحکوم اقوام کے قتل عام کے لئے تیار ہیں؟؟۔اب سوال یہ بھی ہے کہ اس لوٹ مار کے لئے ہمیں کوئی اجاز ت بھی دے گا یا نہیں ؟ ؟ جن لوگوں کو اس ترقی کے تاریخ کا علم نہیں ان کے لئے عرض ہے کہ صرف امریکہ میں نوکروڑ ریڈ انڈینز کا قتل عام اسی ترقی کو ممکن بنانے کے لئے کیا گیا، آسٹریلیا کے اصلی باشندوں (Aborginies) کو اپنے ہی ملک میں اجنبی بنا دیا گیا ،جنوبی افریقہ کے ہوٹلوں میں کتوں اور سیاہ فام انسانوں کا داخلہ ممنوع قرار پایا ۔ کروڑوں افریقی باشندوں کو غلام بنا کر یورپ اور امریکہ کی زراعت اور صنعت کابے دام کارکن بنا دیا گیا ۔ امریکہ ، افریقہ اور ایشیاءکی دولت اور خام مال کویورپ منتقل کردیا گیا ۔ اس عظیم قتل عام اور استحصال کی بنیادیں اور تاریخی حقائق عام طور پرنگاہوںسے مستور ر ہتے ہیں ۔
ترقی اور تہذیب و ثقافت :
ترقی کی کہانی کا دردناک پہلو یہ ہے کہ اس کے تصور اور عمل نے دنیا سے مختلف تہذیبوں کی رنگارنگی چھین لی ہے۔ ترقی کا یہ عمل دراصل مختلف اقوام عالم کی خوب صورت ، بھرپور اور زندہ زبانوں ، ان کی تاریخ ، ان کی ثقافت اور سب سے بڑھ کر ان کے مذہب پر
ایک حملہ ہے ۔ سوچنے سمجھنے اور تخلیق کا عمل مغربی سانچوں کا غلام ہوکر رہ گیا ہے۔ترقی کے پرچم تلے مختلف جغرافیے ، تمدن اورتہذیبوںکے افراد کو اپنے پس منظر سے کاٹ کریکساں تہذیب و ذہنیت میں ڈھالنے کا عمل بے حد خطرناک ثابت ہوا ہے۔ اس عمل نے متباد ل نظام ہائے زندگی اور ان کے تخلیقی عمل کے لامحدود امکانات سے ہمیں محروم کردیا ہے ۔المیہ یہ ہے کہ ترقی کے التباس کے نتیجے میں مغرب کائنات کی تقدیر نظر آنے لگتا ہے جس کے آئینے میں ہر تہذیب اپنی صورت گری کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے ۔ یہ تصور ترقی پذیر اقوام کو یہ یاد دلاتا ہے کہ چاہے وہ اخلاقی وتہذیبی اعتبار سے جس قدر شان دار ماضی و حال رکھتی ہوں ،وہ بہرحال ایک کم تر حالت میں موجود ہیں اور ان پیمانوں پر پورا نہیں اترتیں جو مغرب نے ان کے لئے طے کردئیے ہیں ۔ یہ احساس کمتری ان اقوام کو ایک ایسی حالت میں لے جاتا ہے جہاں نہ منزلیں ان کی اپنی ہوتی ہیں اور نہ خواب اپنے ۔ ترقی کے اس تصور کی چکاچوندسے آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہےں جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا کہ
ع یہ صناعی مگرجھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
اس طرح اس پری پیکر حسینہ کے خبث باطن کا اندازہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ سرسید کی کوتاہ نظری تھی کہ وہ اپنے رفقاءسمیت باجماعت اس مادی ترقی اور ظاہری دنیا کے فریب کا شکار ہوئے کاش ایسا نہ ہوا ہوتا !! خیر سرسید تو عقلیت کی گمراہی کے اس گڑھے میں جاگرے جہاں سے انہیں قرآن مجید بھی کلام الہی کی جگہ کلام محمد ﷺ نظر آنے لگا معاذاللہ ۔بہرحال مسلمانان ہند کی بڑی تعداد سرسید کے نظریات سے اتفاق نہ رکھنے کے باوجود ان کے پیش کردہ ”ترقی“ کے نظریہ سے ضرور مسحور ہوئی۔
ع ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
سب اسی زلف کے اسیر ہوئے
ترقی کے اس نعرے نے بیک جنبش لب دنیا کے عوام کی اکثریت کو غیر ترقی یافتہ ، پسماندہ اور جاہل قرار دےدیا۔ اس ”غیر ترقی یافتہ “دنیا کے عوام اپنی رنگارنگ ثقافت ، زبان ، جغرافیہ، تاریخی پس منظر اور مذاہب کے باوجود ایک ہی لاٹھی سے ہانک دئیے گئے ۔ اپنے طے کردہ اہداف کے بجائے دنیا کی اقوام اب مغربی دنیا کے طے کردہ ہدف ”ترقی“کی طرف گامزن ہوئی ۔
ترقی اور استحصال :
اب آیئے ترقی کا حالیہ تاریخ میں جائزہ لیں ۔ مادی ترقی کے تصور نے اپنی قدامت کے باوجود ”ترقی یافتہ“ او ر ”ترقی پذیر“ کی اصطلاحات ایک نئے اور استحصالی روپ میں ۹۴۹۱ءمیں نومنتخب امیرکی صدر ایس ٹرومین کی بحیثیت صدر پہلی تقریر سے برآمد ہوئےں ۔ اس تقریر کے بہت دوررس اثرات مرتب ہوئے ۔ اپنی اس تقریر میں صدر ٹرومین نے واضح طور پر اعلان کیا کہ امریک کو ئی نوآبادیاتی ارادے نہیں رکھتا مگر ہوا یہ کہ مشرقی اقوام نوآبادیاتی استحصال سے کسی حد تک آزاد ہوکر بھی غلامی کے نئے مغربی جال کا شکار ربنی اور اب دنیا نئے نوآبادیاتی نظام کا منظر دیکھنے لگی ۔ اس وقت یورپی اقوام دنیا کی تاریخ کی دوبدترین جنگیں لڑنے کے بعد بے حال ہوچکی تھیں جبکہ امریکہ ان جنگوں میں سب سے کم متائثر ہوا تھا ۔ ترقی کو بنیادی نصب العین قرار دیتے ہوئے امریکی صدر نے دنیا کو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دو اقسام میں تقسیم کرکے دراصل امریکی بالادستی کی راہ ہموار کردی ۔ امریکی برتری اس قدر واضح تھی کہ یورپ کے صنعتی ممالک امریکہ سے ترقی کی دوڑمیں بہت پیچھے تھے۔ بہرحال اب وقت نے ثابت کیا کہ یہ دوڑ دنیا کو تباہی کے کنارے پہنچاچکی ہے۔ امریکی و یورپی اقوام اور اقوامتحدہ اپنے دعوﺅں کے باوجود غریب ممالک کی حالت میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرسکیں بلکہ مغربی اقوام کی لوٹ مار اور تسلط کو نت نئے بہانوں سے وسعت دینے میں کامیاب رہیں ۔خود اقوام متحدہ کی رپورٹیں بھی مشرقی ممالک کی حالت میں کسی بنیادی تبدیلی کی نشان دہی نہ کرسکیں البتہ ترقی کے روزافزوں تباہ کن اثرات کی کہا نی تو ماحولیات کی تباہی اور جانوروں کی انواع کے معدوم ہونے سے صاف ظاہر ہوگئی ہے اور ہر دیدئہ بینا اس تباہی کا مشاہدہ کررہی ہے ۔ حد یہ ہے کہ اس ترقی کے ثمرات سمیٹنے کا وقت آیا تو مغرب میں اس ترقی کی وجہ سے ہونے والی آلودگی ، درجہ حرارت میں روزافزوں اضافہ ، ماحولیات کی تباہی ، صنعتی فضلے اور شہروں کے کچروں کے عظیم الشان انبار ، بڑے شہر بسانے کی ترقیاتی حکمت عملی اپنے برگ و بار لانے لگی ہے اسی وجہ سے کوئی مغربی دانشوربھی ترقی کواپنانے کے لئے تیار نہیں ۔ ترقی کا یہی تصور امریکہ کو کیو ٹو کانفرنس میںمنظورہونے والی صنعتی عمل کو محدود کرنے کی قراردادوں پر عمل کرنے سے روکے ہوئے ہے اور منطق اس کی یہ ہے کہ اس طرح تو امریکی ترقی کا پہیہ سست پڑجائے گا !!!!
ع گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے
دنیا بھر کی دانش ترقی کے جنون میں مبتلا ہونے کے نقصانات کی طرف اشارہ کررہی ہے ۔ مگر یہ جنون ہے کہ کسی حد کا پابند نہیں ۔ ملاحظہ ہو ماحولیات پر تحقیق کرنے والے ادارے کی گواہی :
As developing countries become more industrialized, they also produce more air pollution. The leaders of most developing countries believe they must become industrialized rapidly in order to be economically competitive. Environmental quality is usually a low priority in the race to develop.
http://www.wwfpak.org

ترجمہ : ”جےسے جےسے ترقی پذیر ممالک صنعتی ممالک میں تبدیل ہورہے ہیں اسی طرح یہ ممالک آلودگی پیدا کرنے میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں ۔ بیشتر ترقی پذیر ممالک کے قائدین جلد سے جلد صنعتی ممالک میں شامل ہونا چاہتے ہیں تاکہ معاشی استحکام حاصل کرسکیں ۔ترقی کی اس دوڑ میں ماحولیات جےسے مسائل ثانوی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں ۔“
قربان جایئے اس ترقی کے کہ انسانوںاور ماحول کی تباہی کے باوجود صنعتی ترقی زیادہ محترم اور عزیز ہے ۔کیوٹو کانفرنس کے متفقہ فیصلوں کو ترقی کے پیش نظر رد کرنے کا فیصلہ افریقہ کے کسی غیر ترقی یافتہ اور جاہل قبیلے کے سردار نے نہیں کیا بلکہ دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کے امام ، جمہوریت اور انسانی حقوق کے چمپئن اور سوفی صد تعلیم یافتہ آبادی کے حامل ملک امریکہ نے کیا ہے۔ذرا ماہرین سے پوچھئے تو دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پیدا کرنے والے بجلی گھر جنہیں دنیا کے تیس گندے (Thirty Dirties) کہاں ہیں ؟دنیا میں سب سے زیادہ زہریلی گیسوں کا اخراج کس ملک کے کارخانے کررہے ہیں ؟ ان سوالات کے جوابات غوروفکر کے بہت سے دروازے کھول سکتے ہےں ۔
ترقی کے اثرات :
اس وقت دنیا کی حالت یہ ہے کہ مادی و صنعتی ترقی کے حوالے سے چند (جی ایٹ)ممالک دنیا میں دیگر تمام ممالک سے آگے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترقی کے لحاظ سے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک بھی اگر ترقی یافتہ ممالک کے برابر آگئے تو کارخانوں کا فضلہ پھینکنے کے لئے (زمین کے حجم کے برابر) مزید چھ سیاروں کی ضرورت پڑے گی۔ ابھی ہماری محبوبہ ترقی کے مبارک قدم تمام خطہ ہائے زمین تک برابر پہنچ ہی نہیں سکے اور صنعتی ترقی (Industrialization) کے عمل سے تمام دنیا یکساں فیض یاب بھی نہیں ہوسکی اس کے باوجود ماہرین کا محتاط اندازہ ہے کہ زیرزمین تیل وگیس کی جو مقداربننے کے فطری عمل میں دس لاکھ سال لگے وہ صرف ایک سال میں استعمال ہوجاتی ہے ۔واضح رہے کہ تیل و گیس کے ذخائر ایک بار ختم ہوجانے کے بعد دوبارہ پیدا (Regenerate) ہونے والی چیز نہیں جیسا کہ آبی چکر (Water Cycle) کے نتیجے میں دنیا میں پانی کا تناسب فطری طور پر یکساں رہتا ہے ۔ یہی حال دیگر معدنیات کا بھی ہے۔ اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ انسان کی جہالت یا نادانی بھی لائق تحسین ہے کہ ایک طرف تو زمین کے اندر سے فطری اشیاءمسلسل نکال رہا ہے اور دوسری طرف کبھی حل نہ ہونے والا صنعتی زہریلا فضلہ اس میں داخل کرتا چلاجارہا ہے، یا بدیع العجائب۔ترقی اگر تیل و گیس کے ذخائر کا یہ طوفانی استعمال بند کردیا جائے تو شاید اسی لمحے ترقی کی چکاچوند اور شان دار عمارت دھڑام سے گر جائے گی ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ صنعتی ترقی کے منحوس اثرات(یعنی دھوئےں اور زہریلی گیسوں ) کی شکل میں جو مواد فضاءمیں ڈالا جارہا ہے وہ سالانہ دس لاکھ افراد کو دمہ اور سانس کی دیگر بیماریوں کی شکل میں موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے۔ (ملاحظہ ہو پہلی عالمی وزارتی کانفرنس میں سیکریٹری جنرل کا خطاب ) اس سے زیادہ ہوش ربا تفصیلات ، ترقی کی خوب صورت ترین اور ناگزیر شکل یعنی موٹر کارسے ہونے والی تباہی کی ہیں ۔ ان تفصیلا ت کے مطابق سالانہ بارہ ۲۱ لاکھ انسان سڑک کے حادثات کے نتیجے میں موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور کم و بیش دو کروڑ افرادانہی حاد ثات میں زخمی ہوتے ہیں ،ان زخمیوں میں سے پچاس لاکھ افراد شدید زخمی ہوکراسپتالوں میں پہنچائے جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے۷ اپریل ۹۰۰۲ءکوماسکو میں ہونے والی پہلی عالمی وزارتی کانفرنس میں اپنے پیغام میں موٹرگاڑیوں کے حادثات اور متعلقہ اموات کو ۹۰۰۲ء کا عالمی بحران قرار دیا ہے۔ مگر یہ بحران محض اس سال کا نہیں بلکہ سدابہار ہے ، پچھلی ایک دہائی کا جائزہ لیں تو یہ بحران ہر سال لاکھو ں اموات کا ذمہ دار قرار پاتاہے۔
“Each year, more than one million people are killed in traffic accidents — more than deaths from malaria or diabetes. This conference is long overdue,” UN secretary-general Ban Ki-moon said in a message at the First Global Ministerial Conference on Road Safety in Moscow.
ترجمہ : ”ہرسال دنیا میں دس لاکھ سے زیادہ انسان ٹریفک کے حادثات میں ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ مرنے والوں کی یہ تعداد ہر سال ملیریا اور ذیابیطس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ اس معاملے میں یہ کانفرنس پہلے تاخیر کا شکار ہوچکی ہے۔ “
ترقی اور گھر :
ترقی کا سب سے زیادہ فائدہ ہمارے گھروں میں نظر آتا ہے ۔ آج کے گھر ماضی کے گھروں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط،آرام دہ ، خوب صورت اور باسہولت نظر آتے ہیں ۔ مگر ان گھروں کی مضبوطی اور سہولت جس قسم کی صنعتوں کی محتاج ہے وہ خود آلودگی کا بڑا سبب ہیں ۔ انٹر نیٹ کے کسی بھی سرچ انجن پر (In house pollution ( کے الفاظ ٹائپ کرکے دیکھئے اور جانئے کہ ترقی ہمارے گھروں میں آسائش کا سامان ہے یا سانس کی بیماریوں سمیت کئی امراض کاسبب۔
ترقی اور استحصال :
ترقی کے نعرے نے ترقی پذیر ممالک کی حالت نہیں بدلی بلکہ امیر و غریب ممالک کے درمیان فرق کو مزید گہرا کردیا ہے ۔ آئیے اب دیکھیں کہ ترقی کے مینارئہ نور کی جانب گامزن اقوام ترقی پذیر اقوام کے ساتھ ترقی کے نام پر کیا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔ ۰۶۹۱ءمیں مغربی ممالک مشرقی ممالک سے ۰۲ گنا زیادہ امیر تھے جب کہ ۰۸۹۱ء میں مغربی ممالک مشرقی ممالک سے ۶۴ گنا زیادہ دولت مند ہوگئے ۔ ترقی یافتہ ممالک کی دولت کا یہ فرق پرانے شکاریوں کے نئے جال مثلا آزاد تجارت کے عالمی معاہدوں ، عالمی مالیاتی اداروں ، عالم گیریت وراقوام متحدہ کے ذریعے بڑھتا جارہاہے۔ ترقی کا نصب العین دے کر مغربی ممالک نے مشرقی اقوام کے استحصال کی شکل میں نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
ہمارے ہاں ترقی پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے والے دانش ور بڑھتی ہوئی آلودگی ، جرائم ،غریب اقوام کے استحصال پرمبنی تجارت اور ماحولیات کی تباہی پر مسلسل خاموش ہیں اور ان مسائل کی نشان دہی پر محض کندھے اچکاکر رہ جاتے ہیں ۔ اس مشرقی اقوام کو اس اندھی ترقی کی نہیں بلکہ اس احتیاط کی ضرورت ہے جو ہماری تہذیب ، ثقافت، زبان ، روایات، ماحول ، خام مال اور وسائل کوگھاگ مغربی شکاریوں سے محفوظ رکھے ۔ مادی ترقی کو زندگی کی معراج سمجھنے اور سمجھانے والے بقراط آج ترقی کے ثمرات کے طور پر سامنے آنے والی روزافزوں آلودگی ، بڑھتے ہوئے جرائم اور مشرقی ممالک کے استحصال کے بارے میں مسلسل خاموش ہیں ۔ یہ خاموشی بتارہی ہے کہ ترقی کی بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دے رہی۔ افکار تازہ اور تنقیدی نظر سے محروم ذہنوں نے ہمیشہ مرعوب کردینے والے ظاہر پر نگاہ رکھی مگر مغربی تہذیب کے شناسا نے پہلے ہی خبر دار کردیا تھا :
آتجھ کو بتاتا ہوں رمز آیہ ان الملوک
سلطنت اقوام عالم کی ہے اک جادوگری
ذر ا بیدار ہوتا ہے محکوم اگر
پھر سلادیتی اسے حکمراں کی ساحری
ترقی اور ابہام :
آج مغربی ممالک کے عوام چرچ اورپوپ کی دہری غلامی سے آزاد ہو کر سرمائے کے غلام بن کر رہ گئے ہیں ۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی منظم لوٹ مار ترقی کا یک الم ناک باب ہے۔ ہر ترقی یافتہ ملک میں ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی ترقی یافتہ ہیں اور ان ممالک کے اندر اور بقیہ دنیا میں ان کی باقاعدہ و بے قاعدہ لوٹ مار کی تفصیلات اس موضوع پر چھپنے والی لاتعداد کتابوں میں بھر ی پڑی ہیں ۔ترقی اور خوش حالی کے نعروں کے زیر اثر پرانے طریقے مغرب میں متروک قراردے دیئے گئے اور نئے طریقے اب ناقابل عمل بلکہ تباہ کن ثابت ہوتے جارہے ہیں ۔ہمارے جدید تعلیم کے فرےب نے سرسید سے اب تک کے ترقی پسند بقراطیوں کو اسلامی روایت سے بے گانہ کیا مگر اب جدیدیت اور ترقی کی دانش گاہ نے بھی دادرسی سے معذوری کا اظہار کردیا ہے گویا ع جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
مشرق و مغرب میں عوام و دانش ور اسی ذہنی و عملی کشمکش کا شکار ہیں ۔ مذہب تو مادی ترقی کے سفر میں سب سے پہلے ہا تھ سے گیا ،اس کے بعد مادی ترقی بھی سراب ثابت ہوئی ۔
ع اہل شوق اب کہو کدھر جائیں
ابہام کا عالم یہ ہے کہ آج مشرق و مغرب کا کوئی دانش ور مثالی ترقی یافتہ ملک کی تعریف و مثال بیان کرنے سے قاصر ہے۔ البتہ جرمنی نے اس معاملے میں حسب روایت اپنی سبقت برقرار رکھتے ہوئے ”مستقبل کے شہر “ کا تصور اور عملی نمونہ پیش کیا ہے۔ مستقبل کے اس شہر میں سادہ طرز زندگی کو فروغ دیتے ہوئے شہر میں آلودگی پیدا کرنے والی کسی بھی چیز مثلا موٹر گاڑی ، مشینی کارخانے اور سگریٹ نوشی وغیر ہ سختی سے ممنوع ہیں ۔مستقبل کے شہر کے اس تصور نے ترقی کے مروجہ تصورکے بجائے سوچ کے نئے در وا کئے ہیں ۔چلئے ترقی کی کہانی تو ہوا ہوئی اور ترقی، مشینی صنعتوں ، بڑے پیمانے پر پیداوار (Mass Production) جیسے پیمانے انسانی فطرت کے سامنے ہار گئے ۔ کسی نے کہا تھا ع مشرق ہار گیا ہے
اب کہنا پڑے گا کہ ع مغرب بھی ہار گیا ہے
حقیقت تو یہ ہے کہ مادی ترقی ہماری بلکہ ہرکسی بھی فطری معاشرت کا مقصد زندگی نہیں رہی بلکہ اسلامی طرز زندگی کی اپنی اقدار ہیں جو خیروالقرون کی فطری اور مبارک ماحول میں ہی پنپ سکتی ہیں ۔ بہر جن لوگوں نے مادی ترقی کونصب العین بناکر دنیا کو ارضی جنت بنانے کا حسین خواب دکھایا تھا اس کی تعبیر تو بہت بھیا نک نکلی۔ آج کا اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیاآج جب مغرب خود ترقی کے تصور سے بے زار ہے اور اس کے حساس اور سوچنے والے اہل علم کسی متبادل نظام کی تلاش میں ہیں تو دنیا کو روشنی دکھانے والا مسلمان کیا آج اپنا فریضہ سرانجام دینے کے لئے تیار ہے یا اسی ترقی کے فریب نظر کا شکار رہے گا .
آخری بات یہ ہے کہ ترقی کا نعرہ خود مغرب میں اپنی بنیادوں سے محروم ہو چکا ہے اور مادی ترقی کے سراب نے مادی لحاظ سے بھی اپنی ناکامی کو واضح کردیا ہے ۔ بحیثیت مسلم مادی ترقی سے قطع نظر ہمارا اصل مقصود تو رضائے الہی کا حصول ہے ۔ ہماری زیادہ سے زیادہ ترقی دراصل اس دور سے زیادہ سے زیادہ قریب ہونے کا نام ہے جس کے بارے میں رہتی دنیا کے ہادی اعظم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
”خیرالقرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم “
(ترجمہ ) : ”بہترین دور میر ا دور ہے ۔ پھر اس کے بعد آنے والا اور پھراس کے بعد آنے والا “۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s