ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں



غلام مصطفی
bakhabarkhan@yahoo.com

یادش بخیر ! یہ چند دہائیاں ادھر کی بات ہے کہ کہ 1965کی جنگ کے بعد ہونے والے شرم ناک معاہدہ تاشقند نے محب وطن پاکستانیوں اوربھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری دونوں کو حیران کردیا۔ پاکستانی عوام میدان جنگ میں جیتی ہوئی بازی مذاکرات کی میز پر ہارنے کا منظر دیکھ کر شدید صدمے سے دوچار ہوگئے اور آنجہانی لال بہادر شاستری خوشی کے مارے سورگھ باشی ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ۔ بس سمجھیں ایسا ہی ہوا ۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول اپنے ہمراہ کئی درجن تجاویز لے کر آئے تاکہ ان میں چند کو پاکستانی حکومت کی منظوری حاصل ہوجائے۔ کولن پاﺅل رنگ کے کالے مگر قسمت کے دھنی تھے ۔جنرل پرویز مشرف نے ان پاﺅ ل کی تمام تجاویز کوبغیر کم وکاست کے شرف قبولیت بخشا۔کولن پاﺅل کا خوشی کے مارے ہارٹ اٹیک ہوتے ہوتے بچا ۔ امریکی وزیر محبت پاش نظروں سے جنرل مشرف کی طرف دیکھتے ہوئے گنگنائے ۔

ع آپ کی نظروں نے سمجھااقرار کے قابل مجھے
مشرف صاحب بھی جواب آں غزل کے طور پرگویا ہوئے

ع دل میں ہو تم، آنکھوں میں تم ،بولو تمہیں کیسے چاہوں
پوجا کروں ، سجدہ کروں ، جیسے کہو ویسے چاہوں
کشمیر پالیسی اور اپنے ایٹمی اثاثوں کو بچالینے کا مسرت بھرا اعلان کر کے درباری وزراءکو نہال کردیا گیا۔ وزراءکی طرف سے مبارک سلامت کا وہ شورو غلغلہ بلندہوا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اس پرمسرت موقع پر قوم کو بتایا گیا کہ افغانستان میں پاکستان دوست کے علاوہ ہم نے کچھ بھی نہیں کھویا۔اس کے بعد انکل سام نے ڈاکٹر قدیر خان کے گرد گھیرا تنگ کیا تو وقت کے بہادر جرنیل نے پوری قوم کے سامنے ڈاکٹر قدیر کو ان کے ناکردہ گناہوں کے معافی مانگنے پر مجبور کردیا۔ ڈاکٹر صاحب کو ان کے تمام عہدوں سے معزول کرکے قید کرلیا گیا اور ملک کے دیگر انمول ایٹمی سائنس دانوں اور ٹیکنیشنز کو غائب کردیا گیا ۔ اس صورت حال نے ڈاکٹر قدیر خان کو شدید صدمے اور پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا کردیا۔ ان کے علاوہ دیگر غائب کردہ ایٹمی سائنس دانو ں اور ٹیکنیشنزحضرات کے بارے میں قوم آج تک لاعلم ہے۔ عین اس وقت دوبارہ من پسند راگ الاپا گیا
” ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں ”
تازہ منظر نامہ یہ ہے کہ 2 مئی 2011ءکو امریکی ہیلی کاپٹرمیں سوار امریکی کمانڈوز نے کاکول اکیڈمی کے قریب ایبٹ آباد کے ایک گھر پر حملہ کرکے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کو قتل کردیا ۔ آج 14 مئی کے اخبارات میں عسکری حلقوں کی طرف یہ وضاحت پیش کی گئی ہے کہ امریکی ہیلی کاپٹرپے چیدہ ٹیکنالوجی استعمال کررہے تھے لہٰذا انہیں ٹریس نہیں کیا جاسکا ۔ اس موقع پر مزیدوضاحت پیش کی گئی کہ ان ہیلی
کاپٹر ز کی آمد کا علم ہوتے ہی ان کے خلاف کارروائی کا ارادہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان ہیلی کاپٹرز کی حفاظت کے لیے افغان فضاﺅں میں دس امریکی لڑاکا طیارے حملے کے لیے تیار تھے ۔ چیف آف ایئر اسٹاف نے واضح طورپربتایا کہ امریکہ مستقبل میں اسی طرح کا حملہ کرے تو ہمارے پاس اسے روکنے کے کوئی بندوبست موجود نہیں ۔ قصہ مختصر یہ کہ ایسے ہر حملے کے موقع پر ہماری مسلح افواج ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہیں گی ۔ یہاں دو سوال جنم لیتے ہیں۔
۱)اگر اسی طرح کے امریکی ہیلی کاپٹر ہماری ایٹمی تنصیبات پر حملہ آور ہوں تو کیا ان خلاف بھی کوئی کارروائی محض اس بہانے سے نہیں کی جائے گی کہ ان کی حفاظت کے لیے دس لڑاکا تیارے فضاﺅں میں ہیں؟؟
۲)اگر امریکا دوستی کا روایتی کردار نبھا تے ہوئے یہ ہیلی کاپٹر اور یہ ٹیکنالوجی بھارت کو دیدے تو ہم بھارتی افواج کو پاکستان اور اس کی ایٹمی تنصیبات پر حملے سے کیسے روک سکیں گے؟؟

مگر چھوڑیں ان سب باتوں کو اور صرف ایک بات یاد رکھیں
” ہمارے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں ”

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s