زمانہ بدل چکا ہے !



نیازسواتی
niazhussain.swati@yahoo.com
زمانہ بدل چکا ہے !
”زمانہ بدل چکا ہے۔ “ ”آپ کی بات درست ہے مگر ۔۔۔ وقت آگے جاچکاہے۔“ ”آپ بھی کس زمانے کی بات کرتے ہیں ۔ “ ”ٹھیک ہے کہ یہ سب حرام ہے مگر اب تو زمانے کا چلن یہی ہے۔“ یہ جملے دعوت دین کا کام کرنے والوں کے لیے نئے نہیں ہیں۔ برصغیر میں مغلیہ سلطنت کے زوال اور خاص طورپر ۷۵۸۱ءکی جنگ آزادی کی ناکامی نے ہماری مجموعی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہےں۔ آج ابن الوقتی کی جس روش کا ہم مشاہدہ کررہے ہیں اس کے اثرات ہمارے زوال کی داستان میں موجود ہیں۔ابن الوقتی کی یہ ذہنیت علی گڑھ تحریک سے آج تک مسلمانوں میں استعمار اور مغربی تہذیب سے سمجھوتے کے لیے کوشاں ہے۔
سرسیدتحریک کی پیدا کردہ اس بیمار انہ ذہنیت کی بہتر ین عکاسی ڈپٹی نذیر احمد نے اپنے ناول ”ابن الوقت“ میں کی ہے۔اس ناول کے ہر قاری نے ابن الوقت کے کردار میں سرسید کی جھلک دیکھ لی۔ سرسید کے کردار کی یہ منظر کشی اس قدر بھرپور تھی کہ خود سرسید کے فرزند نے ڈپٹی نذیر سے اس بات کا گلہ کیا کہ انہوں نے سرسید کے کردار کے اس پہلو کواس طرح کیوں نمایاںکیا کہ ان کی ابن الوقتی ضرب المثل بن گئی ، اگرچہ ڈپٹی صاحب نے وضاحتوں پر وضاحتےںپیش کیں مگرایک واضح حقیقت کے سامنے سب رائیگاں گئیں ۔ آیئے اس ذہنیت کا ناقدانہ جائزہ لیں ۔
اس سلسلے سب سے پہلی بات یہ کہ کیا زمانہ واقعی ایک ایسی کسوٹی ہے کہ جس کی مدد سے ہر چیز کی خوبی و خامی ناپی جاسکتی ہے یا پیمانہ کچھ اور ہے ؟ اگر زمانہ خود پیمانہ ہے تو فی زمانہ ہونے والی ہر برائی کو اپنالینا چاہیے اور اخلاقیات کے تمام تصورات کو ترک کردینا چاہیے ۔ اس زمانے کو پیمانہ مان لیا جائے تو قتل ، چوری ، جھوٹ ،ظلم اور دہشت گردی غرض کس جرم کی سزا دی جاسکے گی ۔ اگر زمانہ کوئی پیمانہ نہیں تو پھر یہ بات غلط ہے کہ زمانہ بدل گیاہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ کیا ماضی کی ہر چیز زمانے کے ساتھ بدل جانی چاہیے ؟ اگر ایسا ہی ہے تو وقت کے ساتھ خاندان ،محبت ، صداقت ،تعاون اور والدین کا احترام ،مسکراہٹ اور خوب صورتی سمیت تمام انسانی خصوصیات کا خاتمہ ہوجانا چاہیے تھا کیوں کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سب انسانی خصوصیات بھی تو پرانی ہوچکی ہیں۔ مگر ابھی پچھلے دنوں ۵۱ مئی کو دنیا بھر میں خاندان کے احیاءکا دن منایا گیا، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ زمانے کے آگے بڑھ جانے کا نہیں بلکہ اصل اہمیت خاندان جیسے معاشرتی ادارے کی افادیت کی ہے جو ہر گزرتے روزشب کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر ماضی کی ہر چیز قابل تبدل ہے تو خود ابن الوقتی کی یہ روش بھی بدل جانی چاہیے مگر سب جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے گزشتہ ایک صدی سے ابن الوقتوں کی ایک ہی گردان جاری ہے کہ ز مانے کی روش ان ا بدی صداقتوں کے خلاف ہے۔ سود اگرچہ حرام ہے مگر زمانے میں چلن تو سود کا ہے لہٰذا سود ،اگر مستقل نہیں تو وقتی طور پر تو درست اور حلال ہونا چاہیے تاکہ مسلمان زمانے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکیں۔حقیقت کی پہلی کرن نمودار ہوتے ہی یہ بودی دلیل خود ہی تحلیل ہونے لگتی ہے ۔ اب یہ بات کہنے کا وقت آگیا ہے کہ ابن الوقتی کی اس روش کو بھی خداحافظ کہہ دینا چاہیے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ کیا زمانے کے ساتھ ساتھ انسان کی فطرت بھی بدل گئی ہے ؟ انسانی تاریخ نے اس سوال کا جواب نفی میں دیا ہے ۔ دنیا میں روزاوّل سے جنگوں کا سلسلہ جاری ہے اور دور جدید میں بھی اس رجحان میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ دنیا کی مہذب ترین ترقی کی بلندیوں پر فائزاور جدید تعلیم یافتہ اقوام کے مسکن یورپ کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ صرف جنگ عظیم اول اور دوم میں ہلاک ہونے والے انسانوں کی تعدا د چھ کروڑ سے متجاوز ہے…. صرف چھ کروڑ ! معلوم ہوتا ہے کہ جنگ کے حوالے سے یو ر پ کے انسان کی ذہنیت میں صلیبی جنگوں سے آج تک کوئی فرق نہیں پڑا۔ ہاں فرق پڑا ہے تو صرف یہ کہ اب ٹیکنالوجی کی ترقی کے نتیجے میں جنگوں میں ہلاکتوں کی تعدا د لاکھوں تک پہنچ جاناکوئی مسئلہ ہی نہیں رہا ۔صرف ہیروشیما اور ناگاساکی میں لاکھوں انسان چشم زدن میں فنا کے گھاٹ اتاردیے گئے اور جو باقی بچے ان کی نسلیں آج تک اپاہج پیدا ہورہی ہیں۔
ع آج بھی زخموں سے گلنار ہے جسم ِتہذیب
آج بھی شہ رگِ اخلاق کا قاتل ہے بشر
صاف ظاہر ہے زمانہ آگے بڑھتا ہے مگر انسانی فطرت کے بنیادی جذبات یعنی محبت ،نفرت ،رحم اور انسانی خواہشات وغیرہ میں کوئی تبدیلی نہیںہوتی ، اس لیے انسانی رہنمائی کے لیے انبیاءعلیہم السلام کے ذریعے دی جانے والے ابدی تصورات کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ ان تصورا ت کے لیے زمانے کی تبدیلی کوئی اہمیت نہیں رکھتی اسی لیے آپ ﷺ کے دور کو خیر القرون یعنی ہر زمانے سے بہتر زمانہ قراردیا گیا ہے کہ بعد کے زمانے میں ہونے والی ہر تبدیلی کو اس خیرالقرون یعنی بہترین زمانے سے پرکھا جائے گا نہ کہ بعد میں آنے والے کسی زمانے سے خیرالقرون کو پرکھا جائے ۔
دور جدید میں رواج پانے والے عیسوی تقویم (کیلنڈر) کے مطابق دنیا بھرکی تاریخ کو دو زمانوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ایک عیسیٰ علیہ سلام کی پیدائش سے قبل کا زمانہ جسے قبل مسیح ((Before Christیا B.C کہا جاتا ہے اور دوسرا (After The Death) یا A.Dکہلاتا ہے ےعنی عےسیٰ علےہ اسلام کے بعد کا زمانہ۔ جب کہ عیسیٰ علیہ سلام کی زندگی کازمانہ (A Temporal) یعنی زمان و مکان سے ماوراءدور سمجھا جاتا ہے ۔ اسی لئے حضرت عےسیٰ علےہ اسلام کی زندگی کے واقعات مہےنوں اور سال کے تعےن کے ساتھ نہےں ملتے کےونکہ عےسیٰ علےہ اسلام کی زندگی کا دور تارےخ سے ماوراءاور اےک آئےڈےل دور کے طور پر لےا جاتا ہے۔ اس طرح عیسوی تقویم کے مطابق بھی ایک نبی ؑ کا دور زمان و مکان سے ماوراءہوتا ہے ۔ یہی تصور اسلام میں خیرالقرون کے طور پر موجود ہے ، اسی لیے آپ ﷺ کی تعلیمات زمان و مکان سے ماوراءاور ہر زمانے کے لیے ہےں۔ آپ ﷺ خاتم النبےےن ہےں اور اسلام کے احکامات قےامت تک کے لئے ہےں ۔اس لیے اسلامی احکامات کو یہ کہہ کر ٹھکرانا کہ زمانہ بدل گیا ہے ،عقلی طور پر بھی کوئی مناسب روش معلوم نہیں ہوتی۔
زمانے کے آگے بڑھ جانے کا ایک عملی مظہر ےہ ہونا چاہیے تھا کہ دنیا سے کاسمیٹکس کی مصنوعات اور بال رنگنے والے کیمیکل کی پیداوار کا خاتمہ ہو جاتا کیوں کہ کاسمیٹکس کی مصنوعات اور بال سیاہ کرنے والے کیمیکل کا استعمال آگے بڑھتے ہوئے زمانے کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کے بجائے انسان کو عمر رفتہ کی طرف پلٹانے کی اےک کوشش ہے۔ کیا یہ روش ترقی پسندانہ ہے اور کیا اس روش میں زمانے کے بدل جانے سے کوئی تبدیلی آئی ہے۔
اس تناظر مےں اہم ترےن بات ےہ ہے کہ “زمانہ بدلنے”سے کےا مراد ہے؟؟ اگر زمانہ بدل جانے سے مراد سائنس اور ٹےکنالوجی مےں ہونے والی ترقی ہے تو اس ترقی کے اثرات نے دنےا بھر کے ماہرےن کو نئے بحرانوںسے دو چار کر دےا ہے ۔ ان نتائج و اثرات نے دنےا کو تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کےا ہے۔ ماحولےات کی تباہی کی موجودہ صوررتحال کا انسانی تارےخ نے کبھی مشاہدہ نہےں کےا۔ ماہرےن کا کہنا ہے کہ جس طرح مغربی ممالک مےں سائنسی ترقی ہوچکی ہے اگر اسی طرح تمام مشرقی ممالک مےں بھی صنعتی ترقی ہوگئی تو صرف ان صنعتوں کا کچرا پھےنکنے کے لئے زمےن کے برابر چھ مزےد سےارے درکار ہوں گے۔ ان حقائق کے اعداد و شمار جاننے کے لئے ۹۰۰۲ءکے دوران کوپن ہےگن مےں ہونے والی عالمی ماحولےاتی کانفرنس کی ہوش رباءدستاوےزات کا مطالعہ کافی ہوگا۔ اگر زمانہ بدل جانے سے مراد انسان کا بدل جانا ہے تو جرائم اور خود کشےوں کے دستےاب اعداد و شمار بتا رہے ہےں کہ انسان بے شک بدل گےا ہے……مگرےہ تبدےلی منفی ہے۔ موجودہ دور مےں تہذےب و تعلےم کا گہوارہ سمجھے جانے والے امرےکہ ،ےورپ، روس اور چےن جےسے ممالک نے جرائم اور خودکشی مےں دنےا بھر کو پےچھے چھوڑ دےا ہے ۔ ےہ ترقی ¿ معکوس بتا رہی ہے کہ انسانی نفس تو بالکل بھی نہےں بدلا۔ اگر واقعی انسان بدل چکا ہوتا تو کم از کم ترقی ےافتہ ممالک مےں پولےس اور قانون نافذ کرنے والے دےگر اداروں کا خاتمہ ہو جاتا اور راوی ہر طرف چےن ہی چےن لکھتا مگر وائے تمنائے خام۔
آخری بات ےہ ہے کہ زمانہ بے شک آگے بڑھتا رہتا ہے مگر کائنات کے بارے مےں انسانی علم بہر حال ادھورا ہی رہتا ہے۔ اسی لئے علوم اور خاص طور پر سائنس اور ٹےکنالوجی مےں نت نئی چےزےں درےافت ہوتی رہتی ہےں ۔ ترقی کے دوران بعض اوقات انسان پر ےہ حقےقت منکشف ہوتی ہے کہ ترقی کے اس عمل مےں کوئی اہم غلطی ہو چکی ہے جس کہ ازالہ کے لئے ماضی کی طرف پلٹنا ضروری ہے، مثلاََ وقت کے ساتھ ساتھ سائنسدانوں کو معلوم ہوا کہ مسلسل اور تےز رفتار ترقی کے دوران ماحولےات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے اور دنےا کا وجود خطرے مےں ہے۔ اس کے تلافی کے لئے دنےا بھر مےں سبزے کو فروغ دےا گےا، سخت ماحولےاتی قوانےن نافذکےے گئے اور فطری طرز زندگی پر زور دےا جانے لگا۔ اس امر کی بہترےن مثال جرمنی کے حوالے سے مشہور ہونے والا مستقبل کا شہر”The Future City” ہے۔ Vauban نامی مستقبل کے اس شہر مےں موٹرگاڑےوں ، کارخانوں غرض ضرر رساںدھواں خارج کرنے والی تمام اشےاءکا داخلہ ممنوع ہے۔ حرارت اور نقصان دہ گےسوں کے کم سے کم اخراج اور فطری زندگی کی وجہ سے Vaubanشہر کو مستقبل کا شہر کہا گےا ہے۔ غور سے دےکھےں مستقبل کا ےہ شہر ماضی کے ےورپی شہروں سے کس قدر متماثل ہے ۔ اسی لےے شہروں کے بارے مےں آپ ﷺ نے ارشاد فرماےا”شہروں کو بڑا مت ہونے دو، اگر شہر بڑے ہونے لگےں تو نئے شہر آباد کرو۔” آج جرمنی مےں مستقبل کے اس شہر Vauban کا وجود مےرے آقا صلوٰة سلام کے اس قول مبارک کو ہر زمانے کے لئے ےکساں طور پر نافذالعمل ثابت کر رہا ہے۔ اےسا نہ ہو کہ صنعتی ترقی کے منزل پا لےنے کے بعد معلوم ہو کہ انسانی فلاح کی منزل تو کہےں پےچھے رہ گئی ہے۔ سلےم کوثر سچ کہتے ہےں :
ع وہ لوٹ آئےں تو پوچھنا نہےں ،دےکھنا انہےں غور سے
جنہےں راستے مےں خبر ہوئی کہ ےہ راستہ کوئی اور ہے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s