ترجمہ کاری : فن، اہمیت اور مسائل



نیازسواتی
niazhussain.swati@yahoo.com
ترجمہ کاری : فن، اہمیت اور مسائل
انسانی تاریخ کے ہر دور میں ایک نہ ایک قوم نے زندگی کے مختلف شعبوں میں دیگر اقوام کی قیادت کی ہے۔ یونانی دور سے ا ب تک کی تاریخ یہی بتاتی ہے ۔ اپنے دور عروج میں مسلمانوں نے یونان اور سلطنت رومہ کا علمی سرمایہ ترجمے کے ذریعے عربی میں منتقل کیااور اس سے بیش بہا فائدہ اٹھایا۔ تاریخ نے ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرایا اور مغربی یورپ کی اقوام نے عربی سے یہ تمام علمی سرمایہ اپنی اپنی زبانوں میں ترجمہ کردیا ۔ آج سماجی و سائنسی علوم کا بیشتر علمی سرمایہ انگریزی اور دیگر یورپی زبانوں میں موجود ہے ۔ ترجمہ کاری کی اہمیت کا احساس بین الاقوامی طور پر بڑھ رہاہے ۔ ایسے میں ہمارے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم ترجمے کے فن کو پوری مہارت اور اس کی نزاکتوں کو سامنے رکھتے ہوئے استعمال کریں اور اس علمی سرمایہ کو جو دیگر زبانوں میں موجود ہے اردو میں منتقل کیا جائے ۔ یہ وہی راستہ ہے جس پرچل کر جاپان، چین اور کوریا اقوام عالم سے صنعت و تجارت میں آگے بڑھ چکے ہیں اور اب ایران ترجمہ کاری پر بھرپور توجہ دے کر نت نئی علمی تبدیلیوں سے اپنے آپ کو آگاہ رکھے ہوئے ہے۔
دنیا بھر میں تقریباََ ہر بڑی زبان میں ترجمہ کرنے کے لیے سوفٹ وئیر موجود ہیں ۔ ان سوفٹ وئیرزکے ذریعے کسی نہ کسی حدتک ترجمے میں مدد تو مل سکتی مگر ترجمہ نہیں ہوسکتا۔ کمپیوٹر کی ترجمہ کاری اس لیے بھی ناکام ثابت ہوئی کہ زبان دو اور دو چار کی طرح کوئی حسابی فارمولہ بہرحال نہیں ہے ، اس طرح کے حسابی عمل میں کمپیوٹر کی مہارت اور سبک رفتاری واضح ہے ۔ترجمہ کاری کے دوران دو قسم کے مواد سے وابستہ پڑتا ہے ۔ ایک سادہ نثر اور دوسری نظریاتی ،ادبی ،تہذیبی اور تاریخ پس منظر ر کھنے والا نثری سرمایہ ۔ ادبی تخلیقات کی زبان میں معانی سادہ اور واضح نہیں بلکہ بین السطور (Between The Lines) ہوتے ہیں۔ایسے میں کمپیوٹر کی بے بسی واضح ہے۔ بہر حال ان سوفٹ وئیرز کا وجود اس بات کی غمازی کرتاہے کہ دنیا بھر میں ترجمے کی اہمیت اجاگر ہورہی ہے۔ آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہمارے ہاں ایسے ماہر مترجمین تیار کیے جائیں جو بیک وقت اردو اور دیگر زبانوں کی وسیع تفہیم رکھتے ہوں ،اپنی اور دوسری زبان کے علمی ، ادبی اور تہذیبی پس منظر سے واقف ہوں تاکہ دوران ترجمہ دونوں زبانوں کے پس منظرسے واقف رہ کر ترجمہ کاری کی نزاکتوں سے عہدہ برآءہوںتاکہ ہم دیگر زبانوں میں ہونے والے علمی کام سے اپنے آپ کو ہم آہنگ رکھ سکیں۔
اپنی اس قدر اہمیت و افادیت کے باوجود ترجمہ کاری کا فن بڑی نزاکت،دقتِ نظر اور باریک بینی کا متقاضی ہے،یہ کام میکانیکی انداز میں نہیں کیا جاسکتا۔ترجمہ کاری کے دوران مترجم کو دونوں زبانوں کی اصطلاحات (Terms)سے واسطہ پڑتا ہے ۔والٹئیرنے کہا تھا ”اگر مجھ سے گفتگو کرنا چاہتے ہو تو پہلے اپنی اصطلاحات کی تعریف کرو۔“اصطلاحات کی وضاحت کے بغیر خاص سیاق و سباق کے حامل مواد کا ترجمہ گمراہ کن ثابت ہوتا ہے۔ ہر اصطلا ح اپنا مخصوص تہذیبی پس منظر رکھتی ہے ۔سادہ ترجمہ کاری اس پس منظر کو منتقل نہیں کرسکتی لہٰذا اس طرح نامکمل اور غلط ترجمہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔
سادہ ترجمہ اس وقت اور بھی مشکل ہوجاتا ہے جب کسی جملے کی ایک سے زیادہ تشریحات ممکن ہوں ۔ اصطلاحات کی بہت بڑی تعدا د ایسی ہے جو بظاہر یکساں نظر آنے کے باوجود ہر تہذیب و زبان میں مختلف معانی کی حامل ہوتی ہے ۔ایسی اصطلاحات کے معانی ہر زبان کے تہذیبی پس منظر سے واضح ہوتے ہیںمثلاََ انصاف کا لفظ تقریبََاہر زبان میں موجودہے مگر اسلامی اور مغربی تہذیب میں انصاف کا تصورمختلف معانی رکھتا ہے۔ اسلامی تہذیب میں قاتل کی سزا معاف کی جاسکتی ہے اگر مقتول کے ورثاءاس کی اجازت دیں مگر مغربی تصو ر عدل کے تحت قاتل کو ہر حال میں سزا دی جائے گی خواہ اسے مقتول کے ورثاءمعاف ہی کیوں نہ کردیں ۔ اس طرح اسلامی تہذیب کی حامل زبانوں مثلاََ عربی ،فارسی اور اردو وغیرہ میں انصاف کا مطلب ہوگا ایک مجرم کو رہا کردینا(بعد از معافی ورثائ) اور مغربی تہذیب و قوانین کا پس منظر رکھنے والی زبانوں میں انصاف کامطلب ہوگا متعلقہ مجرم کو پھانسی یا عمر قیدکی سزا ۔ آگے بڑھیں تو صورت حال اور واضح ہوجائے گی ۔ اسلامی اثرات کی حامل زبان میں شریک حیات / شریکہ حیات منتخب کرنے کی آزادی کا مطلب ہوگاکہ ہر لڑکے یا لڑکی کو اپنی پسند کے / پسندکی مسلمان یا اہل کتاب لڑکے یا لڑکی سے شادی کرنے کی آزادی مگر یورپ کے تہذیبی پس منظر میں اس آزادی کا مطلب ہے ہر لڑکی اور لڑکے کواپنی صنف مخالف سے شادی کی اجازت کے ساتھ ساتھ اپنے ہم جنس سے بھی شادی کی آزادی ۔ ان مثالوں سے واضح ہوا کہ ہر اصطلاح کے معانی صرف اس کے تہذیبی پس منظرکو سامنے رکھ کر ہی سمجھے جاسکتے ہیںورنہ سادہ ترجمے کے نتیجے میں قارئین کے گمراہ ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔
بعض ایسی اصطلاحات ہوتی ہیں جو نہ صرف ایک خاص تہذیب کے پیش کردہ تصور کا اظہار کرتی ہیںبلکہ ان کے ساتھ ساتھ ان سے وابستہ دیگر اصطلاحات کے پورے جال سے واقفیت ضروری ہوتی ہے مثلاََ عدّت محض ایک لفظ ہے مگر یہ ایک لفظ اپنی پشت پر اپنے آپ سے جڑے ہوئے کئی تصورات رکھتا ہے مثلاََنطفہ ، نکاح،طلاق ، نان نفقہ اور حیاءوغیرہ۔ اس طرح کے الفاظ کا سادہ ترجمہ ناممکن ہے ۔ اسلامی تہذیب اور معاشرے میں زندگی بسر کرنے والاان پڑھ کسان بھی عدّت کا لفظ سامنے آتے ہی تمام تفصیلات جان لیتا ہے کیوں کہ وہ
اسی تہذیب میں زندہ ہے جہاں اس اصطلاح نے جنم لیا ہے ۔اس کے مقابلے میں مغربی تہذیب کی حامل کسی زبان کے پروفیسر کو بھی اس تصور کو سمجھنے کے لیے کئی صفحات درکار ہوں گے۔
ترجمہ کاری کے ضمن میں ایک رکاوٹ یہ بھی ہے کہ مترجم ،ترجمہ کرتے ہوئے اپنی ذات ،اورخیالات کو الگ نہیں رکھ سکتا ۔ دو زبانوں کے بیچ مترجم کی اپنی ذات بھی اپنا اظہار کرتی ہے ۔ اس طرح عبارت کی تفہیم میں بعض اوقات مترجم خود ایک رکاوٹ بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔مترجم اپنی ذہنی صلاحیت ، رجحانات ، ماحول اور تہذیبی پس منظر کے لحاظ سے عبارت کا مفہوم سمجھتا ہے اور اسی طرح عبارت کا ترجمہ بھی کرتا ہے۔ تراجم کی تاریخ میں مترجمین حضرات کی غلطیوں نے نہ صرف سادہ نثر بلکہ بڑے مفکرین کی عبارات کا مفہوم بھی کچھ کا کچھ کردیا اور کافی عرصے کے بعد ان غلطیوں کی اصلاح ممکن ہوسکی ۔
ہمارے ملک میں ترجمے کا کام سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں بڑے پیمانے پر شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ترجمے کے مسائل کا حل یہ ہے کہ سادہ اور روزمرّہ کی نثر کے ترجمے کے لیے بھی مترجمین کو تربیت کے عمل سے گزاراجائے۔ مخصوص سیاق و سباق اور گہرے علمی مضامین کے ترجمے کا کام متعلقہ مضمون میں مہارت رکھنے والے ان ماہرین کے سپرد کیا جائے جو اپنے شعبے میں علمی درک رکھنے کے ساتھ ساتھ دونوں زبانوں کے تہذیبی ،تاریخی اور لسانی پس منظر سے آگاہ ہوں ۔

        

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s