” قوم اور ہجوم“‘



نیازسواتی
niazhussain.swati@yahoo.com
” قوم اور ہجوم“‘

جاپانی ایٹمی پلانٹ تباہی کے قریب تھا ،سب نے پلانٹ کے سائنس دانوں سے کہا کہ وہ اپنی جان بچاکر چلے جائیں مگر سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ اگر وہ بھی اس پلانٹ کو چھوڑ کر چلے گئے تو تابکاری کوپھیلنے سے روکنا ناممکن ہوجائے گا لہٰذا وہ حتی الوسع اس بات کی کوشش کریں گے کہ ایٹمی تابکاری کی سطح کم سے کم ہوسکے ۔اس سلسلے میں وہ اپنی جان کی پرواہ نہیں کریں گے۔ یہ تصویر ایک قوم کی ہے جس کاکوئی فرد تنہا فرد نہیں اور نہ وہ کوئی افراد کاہجوم ہیں ۔ یہ تصویر جاپان کی تھی ۔اب دوسری تصویر ملاحظہ کیجیے ۔ پڑوسی ملک افغانستان میں انفرااسٹرکچر تباہ حال ہے ۔ ملکی خزانے کی حالت یہ ہے کہ ملک کے سربراہ کے لیے بھی پیٹ بھر کر کھانے کے لیے خوراک موجود نہیں تھی۔ پوری دنیا میں ہیروئن کا خام مال یعنی افیون کی کاشت اس ملک میں جاری تھی۔ اتنے میں ملک کے سربراہ کی جانب سے حکم جاری ہوتا ہے کہ پورے ملک میں افیون کی کاشت بند کردی جائے کیوں کہ اس طرح کی نشہ آور چیز یں اسلام میں حرام ہیں۔ لہذاافغان طالبان کے زیر انتظام علاقوں میں پوست کی کاشت کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ آج دنیا کی مہذب ، جمہوری اور تعلیم یافتہ قوم امریکا یہاں قابض ہے مگر اعداد و شمار بتارہے ہیں کہ اس سال ۵۶ ہزار ایکڑ کے رقبے پر افیون کی کاشت کی گئی ہے ۔
آئینہ ایام کی یہ دو تصاویر کیا بتا رہی ہیں۔ ان تصاویر کا کہنا ہے کہ جرمنی اور جاپان قومیں ہیں اور پاکستانی محض ہجوم! مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم روز اول سے ہی افراد کا ہجوم ہیں یا کبھی ہم قوم بھی تھے۔ ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ قیام پاکستان کے وقت ہم ایک قوم تھے، ہم نے ایک ایسے ملک کو سنبھالا دیا اور مشکلات سے نکالا جس کے بارے میں دشمنوں نے پورے یقین سے کہہ دیا تھا کہ یہ ملک زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کا مہمان ہے اس کے بعد یہ ملک خود ہی بھارت میں ضم ہونے کی درخواست لیے کھڑا ہوگا۔اگر ہم ہجوم ہوتے تو مشکلات کی اس گھڑی میں تتر بتر ہو جاتے مگر اس کے برعکس ہوا ۔ مملکت خدادا پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک مستحکم ملک بن کر ابھرا۔جاپان اور جرمنی کی یہ دونوں تصاویردنیا کے دو ایسے ممالک کی ہیں جہاں قومیں بستی ہیں نہ کہ ہجوم ۔ پہلی قوم یعنی جاپانی اپنی مشترکہ زبان ،نسل ،تمدن اور وطن سے وجود میں آئی ہے اور دوسری قوم ایک عقیدے، ثقافت اور مشترکہ اقدارکے نتیجے میں بنی ہے ۔ دنیا میں قوموں کی تشکیل کے دو ہی طریقے ہیں ۔ایک مشترکہ زبان ،علاقہ اور نسل کے ذریعے قوم بننا اور دوسرا کسی عقیدے یا نظریے کی بناءپر قوم کی تشکیل ۔
پاکستان اور اسرائیل کی تشکیل بہرحال ان دونوں قوموں کے عقائد کی بناءپر ہی ہوئی ہے۔ قیام پاکستان تو ایک نظریے کی بناءپر ہوا تھا مگر آہستہ آہستہ نظریہ ¿ پاکستان پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ نظریہ ¿ پاکستان وہ واحد بنیا د ہے جو گلگت سے لے کر کراچی تک مختلف زبانوں اور ثقافتوں کی حامل قومیتوں کو ایک قوم بناسکتی ہے۔قیام پاکستان کے وقت بھی ایک کلمے نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک کر دیا تھا۔ اس کے باوجود کے ہندوستان زبان ، ثقافت اور نسل کے اعتبار سے ایک رنگا رنگ ملک ہے ۔ قیام پاکستان کی جدو جہد میں بر صغیر کے ان علاقوں کے مسلمان بھی شریک ہوئے جنہیں معلوم تھا کہ ان کے علاقے کبھی پاکستان کا حصہ نہیں بن سکیں گے ، مگر اسلامی نظام کے قیام کے نعرے نے سب کو ایک کر دیا ۔
آج پھر مشکل گھڑی ہے ایک وقت تھا کہ ہم ایک قوم کے طور پر برصغیر میں موجود تھے لیکن ہمارا کوئی ملک نہ تھا آج ہمارا ایک ملک موجود ہے مگر قوم موجود نہیں۔ اک ہجوم ہے جسے جو چاہے جہاں چاہے ہانک کر لے جائے۔ جس کا دل چاہے ایبٹ آباد پر حملہ آور ہو۔ جس کا جی چاہے پی این ایس مہران کو تہہ وبالا کر دے۔ کبھی کوئی چاہے تو دبئی میں بیٹھ کر ہزاروں ویزے جاری کروالے اور کبھی چاہے تو ڈاکٹرعافیہ کو۸۶سال کی سزا دے دے اور کبھی ان دل چاہے تو دن دہاڑے ہمارے ۲ شہریوں کو قتل کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر لے جائے۔اور کبھی کسی کا دل مانے تو ہمارے قبائلی علاقوں پر میزائلوں کی بارش کر دے۔آج اگر ہم نے اپنے آپ کو ایک قوم کے قالب میں نہ ڈھالا تو ڈرون حملوں سے لے کر پی این ایس مہران تک یہ سب کچھ ایسے ہی چلتا رہے گا۔
اگر ہم نے قیام پاکستان کے فوراَ بعد اسی نظام کی طرف پیش رفت کی ہوتی کہ جس کا نعرہ لگایا گیا تھا تو شاید ہم آج ایک قوم ہوتے اور سقوط ڈھاکہ جیسا سانحہ بھی نہ پیش آتا ۔ مگر یہ ہو نہ سکا اور اب یہ عالم ہے کہ گلگت سے کراچی تک بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والا ایک ہجوم ہے نہ کہ قوم۔ آج اس امر کی ضرورت کہ گلگت سے کراچی تک تمام قومیتوں کو خلافت راشدہ کے احیاءکے پیغام پر جمع کیا جائے تاکہ امن، انصاف اور یکساں عقیدے کی بنیاد پر ہم دوبارہ ایک قوم بن سکیں۔ پاکستان کو بچانے کا واحد راستہ یہی ہے۔

About these ads

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.