KHOON E MUSLIM BURMA MEIN

http://www.hibapress.com/upload/1341588188-51531.jpg

سیکولرزم اور اسلام: چندبنیادی سوالات

نیازسواتی
niaz.swati.71@gmail.com
سیکولرزم اور اسلام: چندبنیادی سوالات
جدیددور میں نت نئے نظریات مختلف رنگوںسامنے آرہے ہیں۔یہ نیرنگی بسا اوقات نگاہوں کو خیرہ کردیتی ہے مگریہ جدید نظریات آپس میں خواہ کتنا بھی اختلاف رکھتے ہوں ان کے ڈانڈے بلاواسطہ یا بالواسطہ سیکولرزم سے ہی جا ملتے ہیں ۔ سرمایہ داری،کمیونزم ، قوم پرستی اور فاشزم نیز تمام جدید و قدیم پردوں میں نہاں تمام تر ازم اسی بنیادی نظریے کے مرہون ِمنت ہیں ۔اس نظریے کے بنیادی نکات مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ ریاست سمیت تمام معاشرتی اداروں کو مذہب سے لاتعلق ہونا چاہیے ۔ (۱)
۲۔ انسانوں کے آپس میں تعلقات کی تنظیم کس طرح ہو،انسانوں کے باہمی تعلقات اجتماعی سطح پر کس طرح تشکیل دیے جائیں مذہب کا اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے ۔
۳۔ مذہب کواس بات سے بھی لاتعلق رہنا چاہیے کہ معاشرتی اداروں کی باہمی ترتیب (HIRARCHI) کیا ہوگی۔

اگر ان تمام اصولوں کو مان لیا جائے تو مذہب کسی فرد کا نجی معاملہ رہ جاتا ہے ۔ اس طرح ہماری زندگی دوبڑے حصوں میںتقسیم ہو جا تی ہے ۔ایک نجی زندگی(Private Life) اور دوسری اجتماعی زندگی(Public Life) ۔نجی زندگی میں ہر فرد کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے کری۔ چاہے تو کوئی جوا کھیلے ،زنا کرے یا اپنے رب کی عبادت کرے یہ اس کا ذاتی معاملہ ہوگا۔اس زندگی میں انسان کی ہر قسم کی سرگرمی کو یکساں سمجھا جائے گا۔اس کے مقابلے میں پبلک لائف سے مراد انسان کی زندگی کا وہ حصہ ہے جو وہ دوسروں کے ساتھ گزارتا ہے ۔ واضح رہے کہ ایک خاندان کے افراد کی باہمی زندگی بھی پبلک لائف سمجھی جائے گی کیونکہ ان کے تعلقات کو منضبط کرنے کے لیے جس قانون کی ضرورت پڑے گی وہ تو پبلک لاء ہوگالہٰذا میاں بیوی ،والدین اور اولادکے تعلقات بھی پبلک لائف کا ہی حصہ قرار پائیں گی۔
سیکولرزم سے وابستہ افراد کے خیال میں فردکی ذاتی یا گھریلو زندگی مذہبی معاشرے میں پابندیوں کا شکار ہوتی ہے مگر سیکولر معاشروں میںفرد کی نجی زندگی پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی ۔یہ بات سراسر خلافِ واقعہ ہے ۔کسی بھی انسانی معاشرے میں ایسے گھر کی تعمیرکی اجازت نہیں دی جاتی جس میں ایک منزل سے اترکردوسری منزل پرجانے کے لیے سیڑھیوں کے ساتھ ساتھ گڑھے بھی رکھے جائیں تاکہ گھر کا ہر فرد اپنی مرضی کے حساب سے چاہے تو سیڑھیاں استعمال کرلے اور چاہے تو گڑھے کے ذریعے کودکر نچلی منزلوں کی طرف رواں دواں ہو
جا ئے اور نہ ہی بجلی کے بورڈ کے ساتھ کرنٹ کے تارکھلے چھوڑے جاتے ہیں کہ افراد خانہ میں سے کوئی چاہے تو بجلی کا بٹن دباکر پنکھا چلا لے یا چاہے تو بجلی کے کھلے تاروں سے کھیل کر تازہ تازہ کرنٹ کے مزے اڑائے ۔ دنیا کی کوئی معاشرت کسی فرد کو اپنے گھر میں کچرا ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی ، اس لیے کہ معاشرے میں فرد کی ذاتی زندگی ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی ہوتی ہے ۔افراد کی نجی زندگی ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی ہی۔
ایسا شخص جسے کسی قسم کی پابندی قبول نہ ہو جنگل میں جاکر رہنا چاہیے ۔معاشرہ انسانی تعلقات کا نام ہے جو برابرایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے اثر قبول بھی کرتے ہیں ۔سیکولر معاشروں میں بھی خودکشی پرقانونی پابندی عائد ہوتی ہی۔ اگر نجی معاملات فرد کی مرضی پر منحصر ہیں تو خودکشی کو تو سرے سے ممنوع ہونا ہی نہیںہونابلکہ ایسے زبردست عمل کو تو سراہنا چاہیے کہ اس طرح ایک انسان نے اپنی ذاتی آزادی کو صحیح معنوں میں استعمال کرکے تمام غموں سے نجات پالیتا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مذہبی و سیکولر کسی معاشرے میں بھی خودکشی کی اجازت نہیں دی جاتی۔آج پوری سیکولر دنیا میں واحد سوئٹزر لینڈایک ایسا ملک ہے جہاں خودکشی کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ ملکی و غیر ملکی عوام کو خود کشی میں مدددینے حتیٰ کہ اپنی چاردیواری میں خودکشی کروانے کے باقاعدہ اسپتال موجود ہیں۔(1)
دوسری بات یہ ہے کہ یہ خیال عین اسلام کی ضدہے کہ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہے ۔ اسلام نے مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار نہیں دیا ۔مسلمان کو ذاتی زندگی میں بھی اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جسے اللہ نے منع کردیا ہو۔اسلامی ریاست لوگوں کی رضا کی مکلف نہیں بلکہ وہ صرف احکامات ِ الٰہی کی پابند ہی۔ اسی لیے اسلامی معاشرت اور ریاست میں زنا بالرضا کی بھی اسی طرح ممانعت ہے جیسی کہ زنا بالجبر کی حالاں کہ سیکولر نقطہ نگا ہ سے زنا بالرضا دو افراد کا ذاتی معاملہ ہی۔
* تیسری بات یہ ہے کہ سیکولر زم نے ریاستی سطح پردوصورتوں میں اپنا ظہور کیا ہے ۔ایک سرمایہ دارانہ ریاست اور دوسری سوشلسٹ ریاست ۔حقیقی اور عظیم سوشلسٹ ریاستیں روس اور چین سرمایہ دارانہ نظام کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بعد سوشلسٹ نظام ِ زندگی پر خود کش حملہ کرنے کے بعد اپنا اور اس نظام کا خاتمہ کرکے سرمایہ دارانہ ریاستوں میں تبدیل ہوچکی ہیںدوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت کا غالب نظریہ (Dominant Discourse) بلاشبہ سرمایہ داری ہے لہٰذا یہاں کمیونسٹ سیکولر ریاستوں سے صرف ِ نظر کرتے ہوئے محض سرمایہ دارانہ سیکولر ریاستوں کو ہی زیر بحث لایا جائے گا۔
r سرمایہ دارانہ سیکولر ریاستوں میں ایسا نہیں ہوتا کہ ریاست اپنا کوئی نظریہ زندگی نہیں رکھتی ۔سیکولرزم ،آزادی، سرمایہ داری ، جمہوریت اور مارکیٹ اکانومی وہ پانچ بنیادی ستون ہیںجن پر سرمایہ دارانہ ریاست کی عمارت کھڑی ہوتی ہی۔ یہی سرمایہ دارانہ مذہب کے وہ چار بنیادی ارکان ہیں جن کی خلاف ورزی جرم ہی۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ سرمایہ دارانہ سیکولر نظام بھی ایک مذہب ہے جس کے ہوتے ہوئے سیکولر ریاست کسی اور مذہب کا چراغ جلنے نہیں دیتی۔ سرمایہ داری کے علاوہ باقی تمام مذاہب کو فرد کا نجی معاملہ قرار دے کر سرمایہ داری کے واحد مذہب کو سرکاری مذہب کے طورپر پرورش کیا جاتا ہی۔
امریکہ میں آنے والے تازہ ترین معاشی بحران کے دوران امریکی ریاست نے ناکام ہونے والے بینکوںکویا تو قومی ملکیت میں لے لیایعنی (Nationalized)کر لیا یا انہیں فراخ دلانہ امداد دے کر سرمایہ دارانہ نظام کو سہارا دینے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ایک طرف تو نظریات و مذاہب کے ضمن میں اپنی غیرجانب داری کا پردہ چاک کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کو ریاستی مذہب قراردے دیااور دوسری طرف فری مارکیٹ اکانومی کی’’ فری ‘‘ ہونے کا بھرم بھی کھول دیا ۔اگرامریکہ کی ریاست نظریات اور مذاہب کے معاملے میں غیر جانب دارہوتی تویقینا معاشی بحران میں غیر جانب دار رہ کر فری مارکیٹ اور اس کے اداروں کو اپنے قدموں پر خود کھڑا ہونے کا موقع دیتی ۔اس کے بجائے امریکی ریاست نے نہ صرف خود امریکی اسٹاک ایکس چینج اور بینکوں کو سہارا دیا بلکہ چین اور سعودی عرب جیسے ممالک کو بھی مجبور کیا کہ وہ امریکی معیشت کو بحران سے نکالنے کی ناکام کوشش میں مالی امدادفراہم کریں۔
اب یورپ کے معاشی بحران نے اسپین ،یونان کے بعد جس طرح اٹلی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اس نے سرمایہ دارانہ نظام کے متعلق بنیادی مباحث کو دوبارہ جنم دے کر اس کی افادیت کو مشکوک بنا دیا ہے ۔ سرما یہ دارانہ نظام کی اس کھلی ناکامی کے باوجودان ریاستوں کے اسی نظام پر اصرار نے ثابت کردیا کہ سرمایہ دارانہ نظام سیکولر نظام ریاست میں ایمان کا درجہ رکھتا ہے نہ کہ اختیار (ption)کا۔ دوسری طرف اس بحران میں غیر جانب دار رہنے کے بجائے فرانس اور جرمنی کی سیکولرریاستوں نے ہزاروں ارب یورو کی امداد دے کر ان ممالک کو بحران سے نکلنے میں مدد دینے کی ناکام کوشش کی ۔اگر جرمنی اور فرانس کی سرمایہ دارانہ ریاستیں نظریاتی حدود میں غیر جانب دارہیں تو انہیں سرمایہ داری کی اس شکست و ریخت سے لاتعلق رہنا چاہیے ۔ ان ریاستوں کی اس مربّیانہ نہ مداخلت نے ثابت کیا کہ سرمایہ دارانہ سیکولر ریاست غیر جانب دار نہیں بلکہ ایک خاص مذہب یعنی سرمایہ داری پرپختہ یقین رکھتی ہیں جس کا خدا صرف اور صرف سرمایہ (Capital) ہوتا ہی۔
چوتھی بات یہ ہے کہ اگر اس کائنات کا کوئی خالق اور مالک ہے یا نہیں ؟ اگر اس کائنات کا کوئی فرماں رواں اور حقیقی حاکم ِ ہے ہی نہیں تو اس سے نجی زندگی میں بھی تعلق رکھنے کا کیا فائدہ ؟ اور اگر واقعی کوئی ایسا خالق ،مالک ،فرماں رواں اور حاکم ِحقیقی موجود ہے تویہ اس حاکم سے کھلی بغاوت ہوگی کہ ہم اس اسے صرف اپنی ذاتی زندگی تک محدود کرکے باقی تمام زندگی سرمائے کی پرستش اور اور سرمایہ دارانہ اداروں کی پرورش میں لگا دیں۔دنیا کی دیگر اقوام سے قطع نظرکیا ایک مسلم کا یہ طرز عمل منطقی ہوگا کہ وہ ایمان تو قادر مطلق اور رب العالمین پر رکھے مگر اسے اجتماعی زندگی کے تمام اداروںسے خارج کرکے گھر کے ایک کونے میں بند کردی۔اس طرز عمل سے توصاف ظاہر ہورہا ہے کہ سیکولر نظریہ خود انسان کو’’ خدا‘‘ قرار دینے کا مذہب ہے نہ کہ ذاتی زندگی میں خدا پر یقین رکھنے والانظریہ۔ایسے بے اختیار خدا کوجس کی حدود اور قیود بھی بندے طے کریں گھر کے اندر بھی کوئی کیوں مانے گا؟
اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ذاتی اور اجتماعی زندگی کی یہ تقسیم کس نے کی ہی؟اگر خود مالکِ کائنات نے یہ تقسیم کی ہے تو اس امر کی اطلاع سیکولر حضرات کو کیسے ہوئی؟ایک کروڑ کا یہ سوال ذریعہ علم (Epistemology) کا ہے ۔ اس اہم ترین معاملے کی کوئی سندتو ہونی چاہیے ۔اور اگر یہ تقسیم محض مغربی تہذیب کی عطا کردہ ہے تو ہمیں صاف صاف بتادیا جائے کہ سیکولرزم کا پرچار کرنے والے در اصل مغربی تہذیب پر ایمان لانے والے ہیں اور اس قدر اہم معاملے میں بھی آزادی سے اپنی راہ منتخب کرنے کے بجائے مغربی تہذیب اور سرمایہ داری کے غلام ہیں۔
آخری اور اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ فرد اپنی ذاتی زندگی میں تو اللہ کا بندہ ہو مگر ایسے سب افراد مل کر معاشرہ اور معاشرتی ادارے (مثلاََ حکومت ) تشکیل دیں اور قانون بنائیں تو اللہ کے بندے نہ رہیں بلکہ سرمایہ داری کے بندے بن جائیں ۔یہ اسی طرح ہے کہ ایک سائنس دان کسی کیمیائی تجربہ گاہ کے ایک جار میں مالیکیولز تو جمع کرے آکسیجن کے مگر وہ سب مالیکیول مل کر گندھک کا تیزاب تشکیل دے دیں ۔یہ تو انگور کی بیل سے تربوز ملنے کی توقع ہے جو محض دیوانہ ہی کرسکتا ہی۔ ایک ایسا خداجو مجھے محلے ،شہر،تعلیمی ادارے ،حکومت اور اس کے اداروںجنگ و امن غرض کسی معاملے میں میری رہنمائی نہیں کرسکتا اس کی مجھے صرف ذاتی زندگی میں بھی کیا
ضرورت ہی؟ نعوذ باللہ کیا ایک قادرمطلق خدااس طرح کی رہنمائی فراہم نہیں کرتا یا مجھے اس کی رہنمائی پر اعتبار نہیں دونوں صورتیںہی بعید از عقل ہیں۔
سیکولرز م کے منطقی نتائج
سیکولرزم کی جنم بھومی یورپ اور اس سے متائثرہ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ مندرجہ ذیل نتائج سیکولرزم کے نفاذ کا لازمی ردّعمل ہیں۔

۱) مشرقی و مغربی یورپ سے مذہب کا معاشرے کے بعد ذاتی زندگیوں سے بھی اخراج
۳) خاندان کا زوال
ٍ ۲) مذہب کے اجتماعی زندگی سے اخراج کے بعدانسانی قتل عام، جرائم اور خودکشی کی شرح میں حیرت انگیز اضافہ
۴) مذہب کے زوال کے بعد مغربی معاشروں میں انسان کی تنہائی
1. http://www.thefreedictionary.com/secularism
2. http://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/europe/switzerland/5369613/Swiss-suicide-clinic-helped
sed-man-die.html
.http://www.youtube.com/watch?v=52fJRnhDjmo&feature=related

قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند


نیاز سواتی
niaz.swati.71@gmail.com

۳جولائی ۲۱۰۲ء پاکستان کی تاریخ کا تاریک ترین دن ہی۔ٹی وی چینلز چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ قوم،فوج اور ملت کے وقارکو ایک بار پھر بیچ دیا گیاہی۔ یہ بین الاقوامی تاریخ کا عجیب ترین سودا ہے جس میں ۶۲ جوانوں کی لاشوں کو محض ایک لفظ ’’سوری‘‘ کے عوض بیچنے کے بعد بے شرمی کی یہ اطلاع وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے خودامریکی وزیر خارجہ کودیتے ہوئے مزید خوش خبری یہ دی کہ اس دلالی کے عوض پاکستان امریکی حکومت سے کوئی معاوضہ تک طلب نہیں کرے گابلکہ یہ خدمت فی سبیل اللہ انجام دی جائے گی جس کے لیے حنا ربانی کھر اور دیگر حکومتی ذمہ داران عنداللہ ماجور ہوں گے ۔اس ثواب ِ دارین اور صدقہ جاریہ کے لیے اور لوگوں کے علاوہ ہماری وزیر خارجہ کی بے تابی دیدنی تھی ۔ ع یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے
ملکی و غیر ملکی چینلز نے واضح طور پربتایا کہ پاکستان وزیر خارجہ نے نیٹو سپلائی مفت میں بحال کرنے کی بات خود امریکی وزیر خارجہ سے کی ۔اس طرح کی فراخ دلانہ پیش کش کے اسرار و رموز سے محترمہ کے علاوہ کون واقف ہو سکتا ہی۔ایسے ہی ایک موقع پرجب پاکستان نے رمزی یوسف اور ایمل کانسی کو امریکہ کے حوالے کیا تھا تو نذیر نا جی کام کی بات بتا چکے ہیںمگر نقار خانے میں طوطی کی آواز بھلا کون سنتا ہے ۔دیکھیں ناجی نے کیا پرحکمت اور آفاقی بات بتائی کہ اس وقت بھی سب انگشت بدنداں رہ گئے ۔
ع امور ِ خسرواں ،خسرواں دانند
اس موقع پر قارئین سے التماس ہے کہ اس موقع پر ’’مفلسی میں آٹا گیلا‘‘، ’’مدعی سست ،گواہ چست‘‘، ’’وہی کرے قتل ،وہی لے ثواب الٹا ‘ ‘ جیسے فرسودہ محاوروں کو بھول جائیں ۔دنیا چاند پر پہنچ چکی ہی۔ دنیا کے مقروض ترین ملک کی وزیر نے یہ سخاوت چاند پر بیٹھ کر ہی کی ہی۔ چلیں محاوروں کو جانے دیں اب کچھ آجائیں گے جو کہیں گے کہ کیا برا تھا اگر ڈرون حملوں کو رکوانے کی شرط ہی منوالی جاتی ۔ کچھ کہیں گے کہ اگر قومی قرضوں کے کچھ حصے کو ہی معاف کروالیا جاتا ۔ کچھ اور بھی ستم ظریف ہیں جو اس سپلائی کے عوض عافیہ صدیقی کو یاد کرنے بیٹھ جائیں گی۔ کوئی ہے ان بے وقوفوں کو سمجھائے ایسے باتوں سے پسینہ آنے لگتا ہے جس سے میک اپ کی خرابی کا اندیشہ ہے ۔
سو نے پر سہاگہ یہ ہواکہ ہمیشہ سے استعمار کی’’ خدائی خدمت گار‘‘ یعنی خیبر پختون خواہ کے وزیر اطلاعات میاں افتخار نے امریکی استعمار کے لیے اپنی لازوال خدمات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو سپلائی کے بحالی ہوئی تو وہ اسے مکمل تحفظ فراہم کریں گی۔ یہ کراچی اور پختوان خواہ میں پٹھانوں کی غم گسارجماعت کے بجائے کسی پختون دشمن بیان معلوم ہوتا ہے ۔مگر استعمار کے لیے اے این پی کی جاں نثاری نصف صدی کا قصہ ہے کوئی دوچار برس کی بات نہیں ۔اس سے قبل جب روس افغانستان میں پختونوں کے قتل عام میں مصروف تھا تو یہی اے این پی سرخ استعمار کی کاسہ لیسی میں مصروف تھی ۔آج صرف آقا کا نام بدلا ہے البتہ اے این پی استعمار دوستی اور پختون دشمنی کی رو ش پر مستقل مزاجی سے کاربند ہی۔لیکن آج یہ ہمارا موضوع نہیں۔
نیٹو سپلائی سے لاپرواہ ریاست کے تمام ستونوں نے اس کے سنگین مضمرات پر غور نہیں کیا۔نیٹو سپلائی کاروٹ صوبہ خیبراور بلوچستان کے علاقوں پر مشتمل ہے ۔ یہ دونوں صوبے شدید بدامنی کی لپیٹ میں ہیں لہٰذا نیٹو سپلائی نہ پہلے کبھی محفوظ تھی نہ آئندہ محفوظ ہوسکے گی۔اس کی بحالی کے فیصلے کے نتیجے میں جب بھی نیٹو کے ٹرالرز پر حملے ہوں گے تو امریکہ ان کے تحفظ کے لیے اپنے انتظام پر زور دے گا۔اس طرح ارض پاک میں امریکی پنجے مزید مضبوط ہوں گی۔جو حکومتی کارپردازقومی سلامتی کے ادارے اس وقت نیٹو سپلائی پر خاموش ہیں وہ نیٹو سپلائی کے تحفظ کے لیے امریکی فوجوں کی آمد بھی کچھ نہ کرسکیں گی۔یہ چیز ہمارے ملک میں خود کش حملہ آوروں کی نئی کھیپ تیار کرے گی اور عدم استحکام سے دوچار پاکستان مشکلات کے نئے گرداب میں پھنس جائے گا۔
@ پرویز مشرف سے آج تک مغرب کے سامنے ہمارا ’’سوفٹ امیج ‘‘بنانے کی کوششوں کا وہی نتیجہ نکلا جو یورپی یونین میں داخلے کے لیے ترکی کی جدجہد کا ، دونوں کوششیں واضح ناکامی سے دوچارہوگئیں ۔حالانکہ اس سوفٹ امیج کے لیے ہم نے یو ٹرن لے کر پوری افغان ملت کو اپنا دشمن بنالیا ۔دنیا کے سفارتی آداب کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغان سفیر عبدالسلام ضعیف کے امریکا کے حوالے کردیا پورے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کردیا ۔ لو ڈشیڈنگ کی شکار قوم تک چائنا اور ایران کی بجلی محض امریکی خوش نودی کی خاطر نہ جانے دی ۔ مگر ہمارے سوفٹ امیج کی بحالی کی بات ہنوز دلی دوراست ۔
ایک ایسے وقت میں جب افغانستان میں امریکی حکمت عملی ناکامی سے دوچار ہی۔ افغانستان پر حملہ آور ہونے والی ہر سپر طاقت کی طرح امریکہ خوداس دلدل سے نجات کا راستہ تلاش کررہا ہے نیٹو سپلائی کی بحالی امریکی افواج کے لیے آکسیجن سلنڈر کا کام کرے گی۔ اگرچہ جاں بلب امریکی مریض افواج تادیر اس سلنڈر کے سہارے جی نہیں سکیں گی تاہم تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرانے والی ہے ۔ افغانستان سے شکست کھانے والی سپر طاقتیں تادیر اپنی حیثیت برقرار نہ رکھ سکیں ۔ تاریخ کے اس عمل کو تادیر روکا نہیں جاسکے گا مگرامریکی بوٹوں کی ٹو چاٹنے کے باوجود ہمیں دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ملکی عدم استحکام ،انفرااسٹرکچر کی تباہی ،دہشت گردی اور اخراجات میں بے پناہ اضافے کے علاوہ کچھ نہ ملا ۔ نیٹو سپلائی کی بحالی ریاستِ پاکستان کو امت ِ مسلمہ اور خود اپنی قوم کی نظروں میں گرادے گی اور معصوم مغرب بھی خوش نہ ہوسکے گا۔
ع وہ بھی کہتے ہیں کہ بے ننگ و نام ہے

’’ مغرب سے مکالمہ ‘‘



اسلام اور مغرب کے مابین تہذیبی اختلافات نے تصادم کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس جنگ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے انسانی جانوں کے اتلاف کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔ جنگ میں زندہ بچ جانے والے افراد پر پڑنے والے مضر نفسیاتی اثرات اور ہجرت کی صعوبتیں اس پر مستزاد ہیں۔ اس صورتحال نے جنگ کے دونوں فریقوں یعنی اسلام و مغربی معاشروں کے سنجیدہ اذہان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس تصادم سے مسلم امہ زخم زخم ہے تو مغربی معاشرے بھی محفوظ نہیں رہے۔ عراق اور افغانستان سے واپس جانے والے فوجیوں کے تابوت، زخمی فوجی اور پر بڑھتے ہوئے جنگی ا خراجات نے مغربی معاشروں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ مغربی معاشروں میں پائی جانے والی آزادانہ فضا اب ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔ مشہور امریکی مصنف اور صحافی امریکہ کو پولیس اسٹیٹ قرار دے رہے ہیں ۔ ان جنگوں کی طوالت اور جنگی اخراجات کے نتیجے میں مغربی عوام کی سہولتوں میں کمی نے ان جنگوں سے بیزاری کو جنم دیا ہے۔ دوسری طرف مسلم معاشرے چوں کے ان جنگوں کے اصل متاثرین میں سے ہیں لہذا یہاں مکالمے کی اہمیت پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔
اسلام اور مغرب کے مابین مکالمے کی شدید ضرورت اور بظاہر ہموار فضا کے باوجود اس مکالمے کی عدم موجودگی حیران کن محسوس ہوتی ہے مگر معاملے کا بغور جائزہ لیا جائے تو صورت ھال سمجھ میں آنے لگتی ہے اور اس مکالمے کی رکاوٹوں کا ادراک ممکن ہو جاتا ہے۔ اس مکالمے کے ضمن میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ مکالمہ وہاں ممکن ہوتا ہے جہاں دونوں فریقوں کے مابین بنیادی امور مشترکہ ہوں اور اختلافات کی بنیادیں گہری نہ ہوں۔ اسلام اور مغرب کے درمیان بنیادی تصورات یعنی تصورِ انسان، تصور کائنات اور تہذیبی اقدار میں اس قدر اختلاف ہے کہ یہ دونوں شجر اپنی جڑوں سے شاخوں تک ایک دوسرے کی مکمل ضد ہیں۔ اس لئے یہاں دو طرفہ بات چیت(Dialogue)ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے البتہ یک طرفہ گفتگو (Monologue) یعنی دعوت کی کامیابی کا امکان ضرور موجود ہے کہ یا تو مسلمان مغربی تہذیب اور اقدار کو اپنالیں یا پھر مغربی معاشرے دعوت کے نتیجے میں اسلام قبول کر لیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ جب جدید مسلم دانش وروں نے مغرب کی بنیادی آدرشوں کو نہ صرف یہ کہ اپنا لیا ہے بلکہ”آئیڈیا لائزڈ”بھی کر لیا ہے تو مغرب اسلام سے کیوں مذاکرات کرے جب کہ عالم اسلام نے مادر پدر آزادی (Freedom)، انسانی حقوق (Human Rights)، جمہوریت(Democracy)، سرمایہ داری(Capitalism)، ترقی (Development) اور مساوات (Equality)کے مغربی تصورات کو قبول کر لیا ہے تو مغرب اسلام سے مکالمہ کرنے کے بجائے اپنی تہذیبی اقدار کو مسلم معاشروں پر پربہ زور بازو کیوں نہ نافذ کرے اور مغرب اس وقت یہی کر رہا ہے۔افغانستان جیسے ممالک میں یہ کام جنگ کے ذریعے ہو رہا ہے تو پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک میں دوستی کے پر دے میں اور پردہ بھی وہ جس کے متعلق شاعر نے کہا:
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
مغرب ایسے گروہوں سے مکالمے کا قائل ہے جومغرب کی عسکری طاقت کو اپنے نظرئیے ، طرز زندگی اور ایمانی جذبے کے ذریعے چیلنج کردے اور مغرب اپنی ٹیکنالوجیکل برتری کے باوجود اس گروہ کے مقابلے میں شکست سے دو چار ہوجائے۔ حالہ تاریخ میں یہ صورت حال افغانستان میں موجود ہے۔ افغان قوم نے مغرب کی تین مختلف سپر پاورزیعنی برطانیہ، روس اور امریکہ کو جنگ کے میدان میں شکست دے کر یا تو مکالمے پر مجبور کر دیا یا پھر علی الاعلان شکست تسلیم کرنے کی راہ دکھا دی۔
معرکہ خیر و شر کی تاریخ ازل تا امروز یہی ثابت کرتی ہے کہ جب بھی طاقت کسی ایسے شخص یا نظام کے ہاتھ میں مرتکز ہو جائے جو وحی الٰہی کا پابند نہ ہو تو زمین پر فساد برپا ہوتا ہے ایسی صورت میں طاقت ور فریق دلیل، مکالمے اور معقولیت کے بجانے نہ صرف اپنی طاقت پر بھروسہ کرتا ہے بلکہ اپنے موقف کے غلط ثابت ہوجانے کے باوجود ہر دلیل کا جواب طاقت سے دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں لہٰذا تاریخ سے چند مثالیں پیش کرنے پر اکتفا کروں گا۔ موسٰی علیہ السلام نے فرعون کو دلیل کے میدان میں شکست دے دی تو فرعون نے معقولیت اور استدلال کے بجائے طاقت استعمال کی مگر بالاخر اپنے بد انجام کو پہنچ کروہ رہتی دنیا کے لئے عبرت کا سامان بن گیا۔ ابراہیم علیہ السلام نے دلیل اور مکالمے کے ذریعے نمرود کو غلط ثابت کر دیا تو اس نے اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے الاؤ میں پھینک دیا مگر نصرت الٰہی نے انہیں وہاں سے بھی بحفاظت باہر نکال کر ایک بار پھر ابراہیم علیہ السلام کی اخلاقی برتری ثابت کردی تب بھی نمرود نے دلیل ماننے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ہی بہتر جانا۔
یورپ کی تاریخ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قرون وسطیٰ تک یورپ بڑی حد تک عیسائیت کی تعلیمات کے ماتحت تھا۔ اس دور میں معقولیت، مکالمے اور دلیل کو کبھی رد نہیں کیا گیا مگر عیسائیت کے بتدریج زوال کے نتیجے میں یورپ مکمل طور پر سیکولر ہوگیا تو یورپی قوموں نے آپس میں بھی مکالمہ کرنا پسند نہ کیا بلکہ طاقت کو اپنا بہترین ہتھیار جانا۔ اس صورت حال نے دنیا کو یکے بعد دیگرے دو عالم گیر جنگوں سے دو چار کیا۔
مشرق وسطیٰ میں مغرب نے دلیل اور مکالمے کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کے وطن سے بے دخل کر دیا اور دنیا بھر کے یہودیوں کو دنیا بھر سے فلسطین میں جمع کر کے اسرائیل کی ناجائز ریاست کو بزور بازو قائم کر دیا۔ مغرب نے فلسطینی مقبوضہ علاقوں یعنی مغربی کنارے اور غزہ کی تحریک مزاحمت “حماس”کو پوری دنیا سے کاٹ کر دنیا کی سب سے بڑی انسانی جیل تشکیل دی۔ اس”انسانی جیل “پر اسرائیل نے سترہ دن تک بارود اور آہن کی بارش کی مگر حماس کی استقامت اور اسرائیل پر راکٹ حملوں سے بوکھلا کر مذاکرات کی میز سجائی گئی مگر شروع میں دلیل اور مکالمے کو سختی سے رد کر دیا گیا۔
9/11کے بعد امریکہ نے افغانستان کی طالبان انتظامیہ اور شیخ اسامہ کو ٹوئن ٹاور پر حملے کا مجرم گردانتے ہوئے حملے کا ارادہ ظاہر کیا تو طالبان انتظامیہ نے شیخ اسامہ کے خلاف ثبوت مانگے اور شیخ اسامہ کو کسی غیر جانب دار ملک کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی۔ اس معقول استدلال کو رد کرتے ہوئے افغانستان کو خاک و خون میں نہلا دیا گیا۔ گزشتہ گیارہ سال سے یہ خونی کھیل جاری ہے۔ ڈیزی کٹر بموں، کارپٹ بمبنگ اور قرآن کی توہین جیسے ہتھکنڈوں کی ناکامی اور مجاہدین کی مسلسل استقامت کے بعد امریکہ نے طالبان سے مذاکرات کے لئے بے چینی کا اظہار کیا مگر شاید تاریخ ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرانے والی ہے کہ سپر پاور افغانستان میں شکست کھانے کے بعد دنیا کے نقشے سے سویت یونین اور عظیم سلطنت برطانیہ کی طرح غائب ہو جاتی ہے اب ریاست ہائے امریکہ کا یہی انجام قریب ہے۔
تقدیر امم کیا ہے کچھ کہہ نہیں سکتا مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ
بر صغیر کی طرف نگاہ دوڑائیں تو کشمیر کا انسانی المیہ مکالمے اور دلیل کی عدم موجودگی اور طاقت پر بھروسے کی بہتر سے بہتر تفسیر پیش کر رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو مسئلہ کشمیر کو خود اقوام متحدہ میں لے کر گئے جہاں سے کشمیر میں استواب رائے کا فیصلہ ہوا مگر آج تک معقولیت پر مبنی اس فیصلے کو بھارت جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے فوجی طاقت کے بل پر کشمیر میں اپنا قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ کشمیر کے موضوع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی تاریخ نے مکالمے اور دلیل کے بجائے طاقت پر بھروسے کی داستان بیان کی ہے۔ پاکستان کی ملکیت قرار پانے والے دریاؤں پر بہنے والے بھارتی ڈیم، فلسطین میں جبر اََ آباد کی جانے والی ہر یہودی بستی ، افغانستان میں دم توڑتی ہر معصوم بچی ،عافیہ صدیقی کیس،گوانٹا ناموبے کا اذیت کدہ اور کشمیر سے بلند ہونے والی بہنوں کی آہ و بکا اس مکالمے کی ناکامی کا اعلان کر رہی ہے۔مغرب سے مکالمہ جرم نہیں مگر اس مکالمے کی کسی پائیدار بنیاد کا ہونا ضروری ہے۔ اس وقت مغرب مکالمے کے بجائے تصادم کی راہ پرگامزن ہے۔ یہ گھڑی فضول مکالمے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے عمل کی طلب گار ہے۔
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں پیش کر غافل کوئی عمل اگر دفتر میں ہے
تہذیبی تصادم کی اس فضامیں ایک اور قابل غور غلط فہمی یہ ہے کہ چونکہ دنیا بھر میں ہونے والے قتل و غارت گری میں مختلف مذاہب کے ماننے والے باہم برسرپیکار ہیں لہٰذا ایک عالمی بین المذاہب مکالمے (INTER FAITH DIALOGUE ) کی ضرورت ہے تاکہ بین المذاہب مفاہمت کے نتیجے میں دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔ اس خیال کی بنیا دی خامی یہ ہے کہ یہ بات حقائق بر سرزمین کے خلاف ہے۔ اس وقت دنیا کے تقریبا تمام ممالک میں حکومتوں کا ڈھانچہ سیکولر ہے اور زمام کار بھی سیکولر قوتوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس وقت دنیا میں کہیں بھی ایسی اسلامی ،عیسائی اور یہودی ریاست موجود نہیں جس نے اپنے مذہب کے ریاستی و معاشرتی سطح پر احیاء کو ممکن بنایا ہو۔ اور تو اور دنیا نظریاتی مملکت کہلانے والے دو ممالک پاکستان اور اسرائیل بھی اپنی چند مذہبی رنگ کی حامل دستوری شقوں کے باوجود عملامحض سیکولر ریاستیں ہیں ۔ ایسی صورت میں جب دنیا کے متحارب گروہ مسلم عیسائی اور یہودی بنیادوں پر متصادم ہی نہیں(بلکہ اصل جنگ سیکولر مغربی اور اسلامی تہذیب کے درمیان جاری ہے)تو بین المذاہب مکالمہ محض ایک لاحاسل ذہنی عیاشی ہی کہلاسکتا ہے۔ 
مغربی دانش ہر قسم کی مذہبی قوت اور ملامت کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین نے اپنے مشیروں میں ہیبر ماس جیسے فلسفی کو شامل کیا مگر عیسائیت کی سب سے بڑی شخصیت یعنی پوپ کو شامل نہیں کیا۔ اس پر پوپ نے سخت احتجاج کیا مگر یہ احتجاج حقارت کی نگاہ سے ٹھکرا دیا گیا۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مغرب کے پس پشت کار فرما ذہن لبرل ازم یعنی مغربی تہذیب کے مخالفوں سے مذاکرات کے بجائے ان کا صفایا کرنے کا قائل ہے۔رالز کے نزدیک لبرل سرمایہ داری کے انکاری معاشرے کے لیے ایک بیماری کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کواسی طرح کچل دینا چاہیے جس طرح ہم مضر کیڑے مکوڑوں کو کچل دیتے ہیں۔ ایک اور لبرل مفکر ڈربن کے مطابق۔۔۔
”I am ready to agree any one who is liberal, if he is not liberal,
I am not going to agree with him, I am going to shoot him,”
اس وقت جب کہ امریکہ مکالمے ،امن اور مذاکرات نام کی ہر چیز کو روندتا ہوا نہ صرف عراق،افغانستان لاکھوں مسلمانوں کو قتل اور ان سے زیادہ کو اپاہج بنا رہاہے۔ اسی امریکہ نے عراق کے اسپتالوں میں دوائیوں کی رسد منقطع کرکے دولاکھ سے عراقی بچوں کو تڑ پ تڑپ کر مرنے پر مجبور کردیا ۔ اسی مغرب کے ٹھیکیدار کی طفیلی ریاست اسرائیل نے غزہ شہر کا محاصرہ کرکے آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شعب ابی طالب میں محصورکرنے کی یاد تازہ کردی ۔کہاں گئے بین المذاہب مذاکرات ،کہاں ہے نام نہاد مکالمہ۔ اس مکالمے 
کی حقیقت معلوم کرنی ہو تو غزہ میں شہداء کی ماؤں سے ملیے جن کے معصوم بچوں کے جسموں کے چیتھڑے بتارہے ہیں کہ یہ مکالمہ محض فریب اور امت مسلمہ کی رہی سہی غیرت اور مزاحمت کے خاتمے کا عنوان ہے۔ امن کا درس محض جہا دکے خاتمے کی ناآسودہ خواہش کا نام ہے۔ امریکہ کے ہاتھوں امت مسلمہ پر ظلم کی داستان میں کہیں بارود کی بو ہے تو کہیں معصوم بچوں کے لہو کی بوندیں ہیں ،کہیں ہچکیوں اور سسکیوں کی گھٹی ہوئی آوازیں ہیں تو کہیں شہیدوں کی بیواؤں کے بہتے آنسوؤں کی نمکینی ہے۔ کہیں ان باحیا عورتوں کی برہنہ لاشیں ہیں جنہیں آفتاب و ماہتاب کی کرنوں کے سوا کسی غیر نے نہ دیکھا تھا ۔یہ داستاں ایک خوں چکاں تحریر ہی نہیں آتش فشاں تاریخ بھی ہے جو امریکی دہشت اور وحشت کے ہتھیاروں سے امت مسلمہ کے افق پر تحریر کی جارہی ہے۔
مکالمے کے ضمن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مکالمہ کہاں ممکن اور اس کی ضرورت کہاں ہے۔ غور سے دیکھاجائے تو زیر نظر مکالمے کے ضمن میں ہمارا رویہ مضحکہ خیز ہے۔ ہم مغرب سے ایک غیر منطقی اور بے نتیجہ مکالمے کے لیے بے چین ہیں جب کہ امت مسلمہ کے مختلف مکاتب فکر سے مکالمے کے سرے سے انکاری ہیں۔جس قدر تگ و دو اسلام و مغرب کے مکالمے ک لیے کی جارہی ہے اگر اس کا عشر عشیر بھی عالم اسلام کی تحریکات اور مزاحمتی گروہوں کے درمیان مکالمے کے لیے کی جائے تو امت مقابلے اور مکالمے دونوں کے لحاظ سے ایک بہتر پوزیشن میں آسکتی ہے۔ امت مسلمہ کے راسخ العقیدہ مکاتب فکر کے جتنے بھی فروعی اختلافات پائے جاتے ہوں، بہر حال وہ سب اللہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،قرآن و سنت ،خلافت راشدہ ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اسلامی طرززندگی کے احیاء پر متفق ہیں۔ ایسی صورت میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مشترکہ امور کی بنیاد پر امت کے مختلف مکاتب فکر ، تحریکات اسلامی اور مزاحمتی گروہ باہم مکالمے کا آغاز کریں تاکہ ان سب کے درمیان پائے جانے والے جزوی اختلافات کے باوجود یہ ایک دوسرے کے معاون و مددگار بنیں ۔تحریکات اسلامی کی مشترکہ حکمت عملی مغرب مربوط ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ مغرب کی ذہنی مرعوبیت ختم کرنے میں بھی مددگار ہوگی۔اسی طرح مغربی استعمار کے گماشتوں یعنی اسرائیل اوربھارت وغیرہ کے خلاف برسرپیکار مزاحمت کاروں کے درمیان مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر عالمی استعمار کے مقابلے کی لیے مربوط عسکری حکمت عملی ترتیب جاسکے ۔
اس وقت مغرب کی طرف سے امت مسلمہ مغرب کی طرف سے سیاسی ،علمی اور عسکری ہر سطح پر چیلنج سے دوچار ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ امت اور اس کی تہذیبی اقدار کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تیار مغرب کے خلاف دنیا بھر کی اسلامی تحریکات ،مزاحمتی گروہ اور دین کے اصل وارث یعنی علماء کرام باہمی مکالمے کے ذریعے ایک دوسرے کے مددگار اور پشتی بان بنیں اور امت کو تاریخ کے اس نازک ترین دور سے نکال کر آگے لے کر جائیں ۔یہ دور اپنے تمام تر چیلنجز کے ساتھ ساتھ امکانات کی ایک لامحدود کائنات بھی رکھتا ہے۔ 

ترقی کیاہے؟



نیازسواتی
niazhussain.swati@yahoo.com

تاریخی پس منظر :
ترقی ایک ایسی وسیع اصطلاح ہے جو اپنے اند ر کئی پہلو رکھتی ہے ، روحانی ترقی ، اخلاقی ترقی ، معاشرتی ترقی ،علمی ترقی اور مادی ترقی اس اصطلاح کے اہم پہلو ہیں ۔ ترقی ویسے تو ماضی، حال اور مستقبل ہر زمانے اور ہر تہذیب اور معاشرے کاموضوع رہاہے مگرہر تہذیب نے اپنی اپنی مابعدالطبیعیات کے مطابق ترقی کے کسی میدان کو اپنا یا ۔اسلامی تاریخ میں مادی ترقی کو زیادہ جگہ نہ مل سکی ۔ یہی حال دیگر انبیاءعلیہ السلام کی تہذیبوںکی بھی رہا البتہ یورپ میں عیسائیت کے زوال یورپی نشاة ثانیہ کے بعد مادی ترقی کو مقصد زندگی کی حیثیت حاصل ہوئی۔ اسی مادی ترقی کی خاطر یورپی اقوام دنیا بھر میں زیادہ سے زیادہ مادی ترقی سے مالامال ہونے کی خاطر نکل کھڑے ہوئیں۔دیگر اقوام کی لوٹ مار پر مشتمل اس ترقی کی دوڑ نے یورپی اقوام کو باہمی حسد میں مبتلا کیا جس کا نتیجہ دو عالم گیر جنگوں کی صورت میں نکلا ۔ یہ تھا ترقی کا پہلازینہ جس پر قدم رکھتے ہی کروڑوں افراد موت کے منہ میں چلے گئے اور ایک ایسے انسانی المیے نے جنم لیاجو گزشتہ تمام انسانی تہذیبوں میں ناپید رہا۔ اسی لئے مورخین ان عالمی جنگوں سے پہلے اور بعد کے یورپ کی تاریخ کو دو الگ الگ ادوار میں تقسیم کرتے ہیں ۔
برصغیر کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انگریزوں کے مکمل تسلط(۷۵۸۱ئ) تک مادی ترقی مسلم اور ہندو دونوں تہذیبوں میں بار نہ پاسکی۔ البتہ انگریزوں کے تسلط کا دائرہ مکمل ہونے کے بعد ہندوﺅں میں راج رام موہن رائے اور مسلمانوں میں سرسید ما دی ترقی کے علم بردار قرار پائے (ڈاکٹر انور سدید ، اردو ادب کی تحریکیں صفحہ نمبر ۰۶۲)۔ برصغیر میں انگریزوں کے نوآبادیاتی تسلط نے ہمہ جہت تبدیلیاںاور مسائل پیدا کئے مگر اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ان انگریزی قابضین سے ہمارے تعلق کی صورت کیاہو۔ برصغیر کے علما ءنے اس پرفتن دور میںاسلامی علمیت کو بچانے میں کامیاب رہے اوراور براہ راست تصادم سے بھی گریزاں رہے ، اس کے برخلاف سرسید اور ان کے رفقاءنے برطانوی آقاﺅں کے تسلط کی تکمیل اور ۷۵۸۱ ءکی جنگ آزادی کی ناکامی سے یہ سبق لیا کہ اب انگریز سرکار برصغیر سے جانے والی نہیں لہذااس سے زیادہ سے زیادہ تعاون کرکے اسے اپنے حق میں رام کرلیا جائے تاکہ مسلمانوں کے مادی مفادات محفوظ رہیں اور ترقی کی دوڑ میں مسلمانان ہند کہیں پیچھے نہ رہ جائیں ۔ اس ترقی کو پانے کے لئے سب سے موئثرراستہ یہ تجویز کیا گیا کہ مسلمانان ہند مغربی علوم اور انگریزی تعلیم زیادہ زیادہ حاصل کریں تاکہ ترقی کی دوڑمیں ہم دیگر اقوام کو پیچھے چھوڑدیں ۔سرسید نے اپنے ان خیالات کو کبھی راز نہیں رکھا ۔ سرسید نے کہا :
”جو شخص قومی ہمدردی سے اور دور اندیشی سے غور کرے گا وہ جانے گا کہ ہندوستان کی ترقی ، کیا علمی اور کیا اخلاقی ، صرف مغربی علوم میں اعلی درجہ کی ترقی حاصل کرنے پر منحصر ہے۔ اگر ہم اپنی اصلی ترقی چاہتے ہیں ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی مادری زبان تک بھول جائےں ، تمام مشرقی علوم کو نسیامنسیا کردیں ، ہماری زبان یورپ کی اعلی زبانوں میں سے انگلش یا فرنچ ہوجائے، یورپ ہی کے ترقی یافتہ علوم دن رات ہمارے دست و پا ہوں ، ہمارے دماغ یورپین خیالات سے (بجز مذہب کے ) لبریز ہوں ، ہم اپنی قدر ، اپنی عزت کی قدر خود آپ کرنی سیکھیں ، ہم گورنمنٹ انگریزی کے ہمیشہ خیر خواہ رہیں اور اس اپنامحسن و مربی سمجھیں “۔ (مقالات سرسید جلد ۵، صفحہ ۶۶)
سرسید جن دو بڑی غلط فہمیوں کا شکار رہے ان میں سے ایک یہ تھی کہ تاج برطانیہ کا اقتدار ہمیشہ ہندوستان میں قائم رہے گا ۔اس پہلے مغالطے کاابطال تو تقسیم ہند سے ہی ظاہر ہوگیا ۔ مگر دوسری غلط فہمی کہ ”مادی ترقی ہی ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔“ آج بھی ازالہ چاہتی ہے۔ آئیے اس غلط فہمی کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ترقی کے اس تصور کی بنیادیں کہاں ہیں ۔یہ تصو ربہر حال دین حنیف کا نصب العین نہیں ، اگر مادی ترقی دین کا مقصود ہوتی اسلامی تاریخ میں اس کی بین مثالیں ملتیں او ر علماءحق سب سے زیادہ اس کے شناسااور معتقدہوتے مگر عملی صورت حال یہ ہے کہ اسی مادی ترقی میں رکاوٹ کی بناءپر جدیدیت زدہ طبقہ علماءکو رجعت پسند قرار دیتا ہے اور علماءکے ہاں بھی مادی ترقی کے بجائے قناعت ، فکر آخرت ، دنیا کو حقیر جاننا اور الفقر کو فخر سمجھنے کی روش اور مضامین تو ملتے ہیں مگر مادی ترقی کے مضامین نہیں ملتے ،خیر القرون کی روشن مثالیں توبلاشبہ ابدی مینارہ نورہیں مگر برصغیر کے اکابرعلماءکی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے توبھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ عارف بااللہ حضرت اشرف علی تھانوی رحمةاللہ علیہ اپنے وظیفے میں اضافہ شدہ رقم یہ کہہ کر واپس لوٹادیتے ہیں کہ مجھ سے پہلی والی تنخواہ خرچ نہیں ہوتی تو میں اضافی تنخواہ لے کر کیا کروں گا ۔پس ثا بت ہوا کہ اس غیر فطری مادی ترقی کی ہماری علمیت میں گنجائش موجود نہیں ۔ دنیا کی تاریخ میں اولین اور بھرپور سائنسی ومادی ترقی پہلے مسلم اسپین ( اندلس) اور پھر مغربی یورپ میں ہوئی ۔یورپ کی ترقی کے نتائج و عواقب کی ایک جھلک تو نوآباتی نظام اور دو عالم گیر جنگوں کی صور ت تو دنیا نے دیکھ لی اب اندلس مسلم اسپین میں ہونے والی مادی ترقی کا جائزہ لیں ۔اندلس میں مسلمانوں کی آمد اور فتح اپنے اندر مادی اسباب و ترقی سے بے نیازی کی روشن تاریخ رکھتی ہے ۔ طارق بن زیادنے اپنی تمام تر مادی کم زوری کے باوجود توکل الی اللہ کے اسلحے سے ہسپانیہ کو فتح کرلیا مگر بعد کے مسلم حکمران اور عوام سائنسی و مادی ترقی کا عروج پانے کی دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑنے لگے ۔ مگر یہ سائنسی و مادی ترقی اپنی تمام تر شان و شوکت کے باوجود اندلس کے زوال کو نہ روک سکی اور آٹھ سو سال کی حکومت کے بعد مسلمان اسی ترقی یافتہ اندلس کو چھوڑ کر فرار پر مجبور ہوئے۔ آخر کیوں ؟ کیا انہوں اس وقت تک کی مادی ترقی کے عروج کو چھونہیں لیا تھا ؟ اگر مادی ترقی اسپین کی عظیم الشان سلطنت کو آٹھ سو سالہ اقتدار کے باوجود نہ روک سکے تو معلوم ہوتا ہے کہ قوموں کا عروج وزوال مادی ترقی سے قطع نظر اپنے جدا قوانین رکھتا ہے۔
ترقی اور قتل عام :
یورپ میں ہونے والی بے مثال ترقی کے بارے میں یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ اس ترقی کی عمارت نوآبادیاتی لوٹ مار اور محکوم اقوام کے قتل عام پر تعمیر کی گئی۔ اس ترقی کی سیڑھی یعنی نوآبادیاتی لوٹ مار میں دیگر یورپی ممالک برطانیہ ، فرانس اور ہالینڈ سے پیچھے رہ جانے والی اقوام(جرمنی اور اٹلی وغیرہ) میں حسد کا جذبہ ابھرا جو دو عالم گیر جنگوں کا باعث بنا جس میں کم از کم چارکروڑ افراد لقمہ اجل بنے ۔ یہ چارکروڑ افراد ترقی پانے والے تھے یا اس کا شکار ہونے والے ؟؟ اس سوال کے جواب پر بہت سے دیگر جوابات کا انحصار ہے ۔مشہور مغربی مفکر مائیکل مین اپنی تصنیف The Dark side of Democracy میں لکھتا ہے کہ ترقی کا براہ راست تعلق جمہوریت سے اور جمہوریت دنیا میں قتل عام کے بغیر نہیں پنپ سکتی ۔ ایک اور نازک معاملہ یہ ہے کہ مغرب مادی ترقی حاصل کرنے کے فریب میں اپنے مذہب اور علمیت کا سودا کرنے یا اسے ٹھکرانے کے بعد مادی ترقی کی اس شکل کو پاسکا اس کے علاوہ مذہب کو نجی معاملہ قرار دینے کے بعد یہ منزل حاصل کی گئی۔ کیا ہم مادی ترقی کے لئے دین فطرت کی قربانی ، عالمی پیمانے پر لوٹ مار اورمحکوم اقوام کے قتل عام کے لئے تیار ہیں؟؟۔اب سوال یہ بھی ہے کہ اس لوٹ مار کے لئے ہمیں کوئی اجاز ت بھی دے گا یا نہیں ؟ ؟ جن لوگوں کو اس ترقی کے تاریخ کا علم نہیں ان کے لئے عرض ہے کہ صرف امریکہ میں نوکروڑ ریڈ انڈینز کا قتل عام اسی ترقی کو ممکن بنانے کے لئے کیا گیا، آسٹریلیا کے اصلی باشندوں (Aborginies) کو اپنے ہی ملک میں اجنبی بنا دیا گیا ،جنوبی افریقہ کے ہوٹلوں میں کتوں اور سیاہ فام انسانوں کا داخلہ ممنوع قرار پایا ۔ کروڑوں افریقی باشندوں کو غلام بنا کر یورپ اور امریکہ کی زراعت اور صنعت کابے دام کارکن بنا دیا گیا ۔ امریکہ ، افریقہ اور ایشیاءکی دولت اور خام مال کویورپ منتقل کردیا گیا ۔ اس عظیم قتل عام اور استحصال کی بنیادیں اور تاریخی حقائق عام طور پرنگاہوںسے مستور ر ہتے ہیں ۔
ترقی اور تہذیب و ثقافت :
ترقی کی کہانی کا دردناک پہلو یہ ہے کہ اس کے تصور اور عمل نے دنیا سے مختلف تہذیبوں کی رنگارنگی چھین لی ہے۔ ترقی کا یہ عمل دراصل مختلف اقوام عالم کی خوب صورت ، بھرپور اور زندہ زبانوں ، ان کی تاریخ ، ان کی ثقافت اور سب سے بڑھ کر ان کے مذہب پر
ایک حملہ ہے ۔ سوچنے سمجھنے اور تخلیق کا عمل مغربی سانچوں کا غلام ہوکر رہ گیا ہے۔ترقی کے پرچم تلے مختلف جغرافیے ، تمدن اورتہذیبوںکے افراد کو اپنے پس منظر سے کاٹ کریکساں تہذیب و ذہنیت میں ڈھالنے کا عمل بے حد خطرناک ثابت ہوا ہے۔ اس عمل نے متباد ل نظام ہائے زندگی اور ان کے تخلیقی عمل کے لامحدود امکانات سے ہمیں محروم کردیا ہے ۔المیہ یہ ہے کہ ترقی کے التباس کے نتیجے میں مغرب کائنات کی تقدیر نظر آنے لگتا ہے جس کے آئینے میں ہر تہذیب اپنی صورت گری کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے ۔ یہ تصور ترقی پذیر اقوام کو یہ یاد دلاتا ہے کہ چاہے وہ اخلاقی وتہذیبی اعتبار سے جس قدر شان دار ماضی و حال رکھتی ہوں ،وہ بہرحال ایک کم تر حالت میں موجود ہیں اور ان پیمانوں پر پورا نہیں اترتیں جو مغرب نے ان کے لئے طے کردئیے ہیں ۔ یہ احساس کمتری ان اقوام کو ایک ایسی حالت میں لے جاتا ہے جہاں نہ منزلیں ان کی اپنی ہوتی ہیں اور نہ خواب اپنے ۔ ترقی کے اس تصور کی چکاچوندسے آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہےں جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا کہ
ع یہ صناعی مگرجھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
اس طرح اس پری پیکر حسینہ کے خبث باطن کا اندازہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ سرسید کی کوتاہ نظری تھی کہ وہ اپنے رفقاءسمیت باجماعت اس مادی ترقی اور ظاہری دنیا کے فریب کا شکار ہوئے کاش ایسا نہ ہوا ہوتا !! خیر سرسید تو عقلیت کی گمراہی کے اس گڑھے میں جاگرے جہاں سے انہیں قرآن مجید بھی کلام الہی کی جگہ کلام محمد ﷺ نظر آنے لگا معاذاللہ ۔بہرحال مسلمانان ہند کی بڑی تعداد سرسید کے نظریات سے اتفاق نہ رکھنے کے باوجود ان کے پیش کردہ ”ترقی“ کے نظریہ سے ضرور مسحور ہوئی۔
ع ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
سب اسی زلف کے اسیر ہوئے
ترقی کے اس نعرے نے بیک جنبش لب دنیا کے عوام کی اکثریت کو غیر ترقی یافتہ ، پسماندہ اور جاہل قرار دےدیا۔ اس ”غیر ترقی یافتہ “دنیا کے عوام اپنی رنگارنگ ثقافت ، زبان ، جغرافیہ، تاریخی پس منظر اور مذاہب کے باوجود ایک ہی لاٹھی سے ہانک دئیے گئے ۔ اپنے طے کردہ اہداف کے بجائے دنیا کی اقوام اب مغربی دنیا کے طے کردہ ہدف ”ترقی“کی طرف گامزن ہوئی ۔
ترقی اور استحصال :
اب آیئے ترقی کا حالیہ تاریخ میں جائزہ لیں ۔ مادی ترقی کے تصور نے اپنی قدامت کے باوجود ”ترقی یافتہ“ او ر ”ترقی پذیر“ کی اصطلاحات ایک نئے اور استحصالی روپ میں ۹۴۹۱ءمیں نومنتخب امیرکی صدر ایس ٹرومین کی بحیثیت صدر پہلی تقریر سے برآمد ہوئےں ۔ اس تقریر کے بہت دوررس اثرات مرتب ہوئے ۔ اپنی اس تقریر میں صدر ٹرومین نے واضح طور پر اعلان کیا کہ امریک کو ئی نوآبادیاتی ارادے نہیں رکھتا مگر ہوا یہ کہ مشرقی اقوام نوآبادیاتی استحصال سے کسی حد تک آزاد ہوکر بھی غلامی کے نئے مغربی جال کا شکار ربنی اور اب دنیا نئے نوآبادیاتی نظام کا منظر دیکھنے لگی ۔ اس وقت یورپی اقوام دنیا کی تاریخ کی دوبدترین جنگیں لڑنے کے بعد بے حال ہوچکی تھیں جبکہ امریکہ ان جنگوں میں سب سے کم متائثر ہوا تھا ۔ ترقی کو بنیادی نصب العین قرار دیتے ہوئے امریکی صدر نے دنیا کو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دو اقسام میں تقسیم کرکے دراصل امریکی بالادستی کی راہ ہموار کردی ۔ امریکی برتری اس قدر واضح تھی کہ یورپ کے صنعتی ممالک امریکہ سے ترقی کی دوڑمیں بہت پیچھے تھے۔ بہرحال اب وقت نے ثابت کیا کہ یہ دوڑ دنیا کو تباہی کے کنارے پہنچاچکی ہے۔ امریکی و یورپی اقوام اور اقوامتحدہ اپنے دعوﺅں کے باوجود غریب ممالک کی حالت میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرسکیں بلکہ مغربی اقوام کی لوٹ مار اور تسلط کو نت نئے بہانوں سے وسعت دینے میں کامیاب رہیں ۔خود اقوام متحدہ کی رپورٹیں بھی مشرقی ممالک کی حالت میں کسی بنیادی تبدیلی کی نشان دہی نہ کرسکیں البتہ ترقی کے روزافزوں تباہ کن اثرات کی کہا نی تو ماحولیات کی تباہی اور جانوروں کی انواع کے معدوم ہونے سے صاف ظاہر ہوگئی ہے اور ہر دیدئہ بینا اس تباہی کا مشاہدہ کررہی ہے ۔ حد یہ ہے کہ اس ترقی کے ثمرات سمیٹنے کا وقت آیا تو مغرب میں اس ترقی کی وجہ سے ہونے والی آلودگی ، درجہ حرارت میں روزافزوں اضافہ ، ماحولیات کی تباہی ، صنعتی فضلے اور شہروں کے کچروں کے عظیم الشان انبار ، بڑے شہر بسانے کی ترقیاتی حکمت عملی اپنے برگ و بار لانے لگی ہے اسی وجہ سے کوئی مغربی دانشوربھی ترقی کواپنانے کے لئے تیار نہیں ۔ ترقی کا یہی تصور امریکہ کو کیو ٹو کانفرنس میںمنظورہونے والی صنعتی عمل کو محدود کرنے کی قراردادوں پر عمل کرنے سے روکے ہوئے ہے اور منطق اس کی یہ ہے کہ اس طرح تو امریکی ترقی کا پہیہ سست پڑجائے گا !!!!
ع گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے
دنیا بھر کی دانش ترقی کے جنون میں مبتلا ہونے کے نقصانات کی طرف اشارہ کررہی ہے ۔ مگر یہ جنون ہے کہ کسی حد کا پابند نہیں ۔ ملاحظہ ہو ماحولیات پر تحقیق کرنے والے ادارے کی گواہی :
As developing countries become more industrialized, they also produce more air pollution. The leaders of most developing countries believe they must become industrialized rapidly in order to be economically competitive. Environmental quality is usually a low priority in the race to develop.
http://www.wwfpak.org
ترجمہ : ”جےسے جےسے ترقی پذیر ممالک صنعتی ممالک میں تبدیل ہورہے ہیں اسی طرح یہ ممالک آلودگی پیدا کرنے میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں ۔ بیشتر ترقی پذیر ممالک کے قائدین جلد سے جلد صنعتی ممالک میں شامل ہونا چاہتے ہیں تاکہ معاشی استحکام حاصل کرسکیں ۔ترقی کی اس دوڑ میں ماحولیات جےسے مسائل ثانوی حیثیت اختیار کرلیتے ہیں ۔“
قربان جایئے اس ترقی کے کہ انسانوںاور ماحول کی تباہی کے باوجود صنعتی ترقی زیادہ محترم اور عزیز ہے ۔کیوٹو کانفرنس کے متفقہ فیصلوں کو ترقی کے پیش نظر رد کرنے کا فیصلہ افریقہ کے کسی غیر ترقی یافتہ اور جاہل قبیلے کے سردار نے نہیں کیا بلکہ دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کے امام ، جمہوریت اور انسانی حقوق کے چمپئن اور سوفی صد تعلیم یافتہ آبادی کے حامل ملک امریکہ نے کیا ہے۔ذرا ماہرین سے پوچھئے تو دنیا میں سب سے زیادہ آلودگی پیدا کرنے والے بجلی گھر جنہیں دنیا کے تیس گندے (Thirty Dirties) کہاں ہیں ؟دنیا میں سب سے زیادہ زہریلی گیسوں کا اخراج کس ملک کے کارخانے کررہے ہیں ؟ ان سوالات کے جوابات غوروفکر کے بہت سے دروازے کھول سکتے ہےں ۔
ترقی کے اثرات :
اس وقت دنیا کی حالت یہ ہے کہ مادی و صنعتی ترقی کے حوالے سے چند (جی ایٹ)ممالک دنیا میں دیگر تمام ممالک سے آگے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ترقی کے لحاظ سے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک بھی اگر ترقی یافتہ ممالک کے برابر آگئے تو کارخانوں کا فضلہ پھینکنے کے لئے (زمین کے حجم کے برابر) مزید چھ سیاروں کی ضرورت پڑے گی۔ ابھی ہماری محبوبہ ترقی کے مبارک قدم تمام خطہ ہائے زمین تک برابر پہنچ ہی نہیں سکے اور صنعتی ترقی (Industrialization) کے عمل سے تمام دنیا یکساں فیض یاب بھی نہیں ہوسکی اس کے باوجود ماہرین کا محتاط اندازہ ہے کہ زیرزمین تیل وگیس کی جو مقداربننے کے فطری عمل میں دس لاکھ سال لگے وہ صرف ایک سال میں استعمال ہوجاتی ہے ۔واضح رہے کہ تیل و گیس کے ذخائر ایک بار ختم ہوجانے کے بعد دوبارہ پیدا (Regenerate) ہونے والی چیز نہیں جیسا کہ آبی چکر (Water Cycle) کے نتیجے میں دنیا میں پانی کا تناسب فطری طور پر یکساں رہتا ہے ۔ یہی حال دیگر معدنیات کا بھی ہے۔ اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ انسان کی جہالت یا نادانی بھی لائق تحسین ہے کہ ایک طرف تو زمین کے اندر سے فطری اشیاءمسلسل نکال رہا ہے اور دوسری طرف کبھی حل نہ ہونے والا صنعتی زہریلا فضلہ اس میں داخل کرتا چلاجارہا ہے، یا بدیع العجائب۔ترقی اگر تیل و گیس کے ذخائر کا یہ طوفانی استعمال بند کردیا جائے تو شاید اسی لمحے ترقی کی چکاچوند اور شان دار عمارت دھڑام سے گر جائے گی ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ صنعتی ترقی کے منحوس اثرات(یعنی دھوئےں اور زہریلی گیسوں ) کی شکل میں جو مواد فضاءمیں ڈالا جارہا ہے وہ سالانہ دس لاکھ افراد کو دمہ اور سانس کی دیگر بیماریوں کی شکل میں موت کے منہ میں دھکیل رہا ہے۔ (ملاحظہ ہو پہلی عالمی وزارتی کانفرنس میں سیکریٹری جنرل کا خطاب ) اس سے زیادہ ہوش ربا تفصیلات ، ترقی کی خوب صورت ترین اور ناگزیر شکل یعنی موٹر کارسے ہونے والی تباہی کی ہیں ۔ ان تفصیلا ت کے مطابق سالانہ بارہ ۲۱ لاکھ انسان سڑک کے حادثات کے نتیجے میں موت کا شکار ہوجاتے ہیں اور کم و بیش دو کروڑ افرادانہی حاد ثات میں زخمی ہوتے ہیں ،ان زخمیوں میں سے پچاس لاکھ افراد شدید زخمی ہوکراسپتالوں میں پہنچائے جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے۷ اپریل ۹۰۰۲ءکوماسکو میں ہونے والی پہلی عالمی وزارتی کانفرنس میں اپنے پیغام میں موٹرگاڑیوں کے حادثات اور متعلقہ اموات کو ۹۰۰۲ء کا عالمی بحران قرار دیا ہے۔ مگر یہ بحران محض اس سال کا نہیں بلکہ سدابہار ہے ، پچھلی ایک دہائی کا جائزہ لیں تو یہ بحران ہر سال لاکھو ں اموات کا ذمہ دار قرار پاتاہے۔
“Each year, more than one million people are killed in traffic accidents — more than deaths from malaria or diabetes. This conference is long overdue,” UN secretary-general Ban Ki-moon said in a message at the First Global Ministerial Conference on Road Safety in Moscow.
ترجمہ : ”ہرسال دنیا میں دس لاکھ سے زیادہ انسان ٹریفک کے حادثات میں ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ مرنے والوں کی یہ تعداد ہر سال ملیریا اور ذیابیطس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔ اس معاملے میں یہ کانفرنس پہلے تاخیر کا شکار ہوچکی ہے۔ “
ترقی اور گھر :
ترقی کا سب سے زیادہ فائدہ ہمارے گھروں میں نظر آتا ہے ۔ آج کے گھر ماضی کے گھروں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط،آرام دہ ، خوب صورت اور باسہولت نظر آتے ہیں ۔ مگر ان گھروں کی مضبوطی اور سہولت جس قسم کی صنعتوں کی محتاج ہے وہ خود آلودگی کا بڑا سبب ہیں ۔ انٹر نیٹ کے کسی بھی سرچ انجن پر (In house pollution ( کے الفاظ ٹائپ کرکے دیکھئے اور جانئے کہ ترقی ہمارے گھروں میں آسائش کا سامان ہے یا سانس کی بیماریوں سمیت کئی امراض کاسبب۔
ترقی اور استحصال :
ترقی کے نعرے نے ترقی پذیر ممالک کی حالت نہیں بدلی بلکہ امیر و غریب ممالک کے درمیان فرق کو مزید گہرا کردیا ہے ۔ آئیے اب دیکھیں کہ ترقی کے مینارئہ نور کی جانب گامزن اقوام ترقی پذیر اقوام کے ساتھ ترقی کے نام پر کیا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔ ۰۶۹۱ءمیں مغربی ممالک مشرقی ممالک سے ۰۲ گنا زیادہ امیر تھے جب کہ ۰۸۹۱ء میں مغربی ممالک مشرقی ممالک سے ۶۴ گنا زیادہ دولت مند ہوگئے ۔ ترقی یافتہ ممالک کی دولت کا یہ فرق پرانے شکاریوں کے نئے جال مثلا آزاد تجارت کے عالمی معاہدوں ، عالمی مالیاتی اداروں ، عالم گیریت وراقوام متحدہ کے ذریعے بڑھتا جارہاہے۔ ترقی کا نصب العین دے کر مغربی ممالک نے مشرقی اقوام کے استحصال کی شکل میں نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
ہمارے ہاں ترقی پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے والے دانش ور بڑھتی ہوئی آلودگی ، جرائم ،غریب اقوام کے استحصال پرمبنی تجارت اور ماحولیات کی تباہی پر مسلسل خاموش ہیں اور ان مسائل کی نشان دہی پر محض کندھے اچکاکر رہ جاتے ہیں ۔ اس مشرقی اقوام کو اس اندھی ترقی کی نہیں بلکہ اس احتیاط کی ضرورت ہے جو ہماری تہذیب ، ثقافت، زبان ، روایات، ماحول ، خام مال اور وسائل کوگھاگ مغربی شکاریوں سے محفوظ رکھے ۔ مادی ترقی کو زندگی کی معراج سمجھنے اور سمجھانے والے بقراط آج ترقی کے ثمرات کے طور پر سامنے آنے والی روزافزوں آلودگی ، بڑھتے ہوئے جرائم اور مشرقی ممالک کے استحصال کے بارے میں مسلسل خاموش ہیں ۔ یہ خاموشی بتارہی ہے کہ ترقی کی بیل منڈھے چڑھتی دکھائی نہیں دے رہی۔ افکار تازہ اور تنقیدی نظر سے محروم ذہنوں نے ہمیشہ مرعوب کردینے والے ظاہر پر نگاہ رکھی مگر مغربی تہذیب کے شناسا نے پہلے ہی خبر دار کردیا تھا :
آتجھ کو بتاتا ہوں رمز آیہ ان الملوک
سلطنت اقوام عالم کی ہے اک جادوگری
ذر ا بیدار ہوتا ہے محکوم اگر
پھر سلادیتی اسے حکمراں کی ساحری
ترقی اور ابہام :
آج مغربی ممالک کے عوام چرچ اورپوپ کی دہری غلامی سے آزاد ہو کر سرمائے کے غلام بن کر رہ گئے ہیں ۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی منظم لوٹ مار ترقی کا یک الم ناک باب ہے۔ ہر ترقی یافتہ ملک میں ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی ترقی یافتہ ہیں اور ان ممالک کے اندر اور بقیہ دنیا میں ان کی باقاعدہ و بے قاعدہ لوٹ مار کی تفصیلات اس موضوع پر چھپنے والی لاتعداد کتابوں میں بھر ی پڑی ہیں ۔ترقی اور خوش حالی کے نعروں کے زیر اثر پرانے طریقے مغرب میں متروک قراردے دیئے گئے اور نئے طریقے اب ناقابل عمل بلکہ تباہ کن ثابت ہوتے جارہے ہیں ۔ہمارے جدید تعلیم کے فرےب نے سرسید سے اب تک کے ترقی پسند بقراطیوں کو اسلامی روایت سے بے گانہ کیا مگر اب جدیدیت اور ترقی کی دانش گاہ نے بھی دادرسی سے معذوری کا اظہار کردیا ہے گویا ع جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
مشرق و مغرب میں عوام و دانش ور اسی ذہنی و عملی کشمکش کا شکار ہیں ۔ مذہب تو مادی ترقی کے سفر میں سب سے پہلے ہا تھ سے گیا ،اس کے بعد مادی ترقی بھی سراب ثابت ہوئی ۔
ع اہل شوق اب کہو کدھر جائیں
ابہام کا عالم یہ ہے کہ آج مشرق و مغرب کا کوئی دانش ور مثالی ترقی یافتہ ملک کی تعریف و مثال بیان کرنے سے قاصر ہے۔ البتہ جرمنی نے اس معاملے میں حسب روایت اپنی سبقت برقرار رکھتے ہوئے ”مستقبل کے شہر “ کا تصور اور عملی نمونہ پیش کیا ہے۔ مستقبل کے اس شہر میں سادہ طرز زندگی کو فروغ دیتے ہوئے شہر میں آلودگی پیدا کرنے والی کسی بھی چیز مثلا موٹر گاڑی ، مشینی کارخانے اور سگریٹ نوشی وغیر ہ سختی سے ممنوع ہیں ۔مستقبل کے شہر کے اس تصور نے ترقی کے مروجہ تصورکے بجائے سوچ کے نئے در وا کئے ہیں ۔چلئے ترقی کی کہانی تو ہوا ہوئی اور ترقی، مشینی صنعتوں ، بڑے پیمانے پر پیداوار (Mass Production) جیسے پیمانے انسانی فطرت کے سامنے ہار گئے ۔ کسی نے کہا تھا ع مشرق ہار گیا ہے
اب کہنا پڑے گا کہ ع مغرب بھی ہار گیا ہے
حقیقت تو یہ ہے کہ مادی ترقی ہماری بلکہ ہرکسی بھی فطری معاشرت کا مقصد زندگی نہیں رہی بلکہ اسلامی طرز زندگی کی اپنی اقدار ہیں جو خیروالقرون کی فطری اور مبارک ماحول میں ہی پنپ سکتی ہیں ۔ بہر جن لوگوں نے مادی ترقی کونصب العین بناکر دنیا کو ارضی جنت بنانے کا حسین خواب دکھایا تھا اس کی تعبیر تو بہت بھیا نک نکلی۔ آج کا اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیاآج جب مغرب خود ترقی کے تصور سے بے زار ہے اور اس کے حساس اور سوچنے والے اہل علم کسی متبادل نظام کی تلاش میں ہیں تو دنیا کو روشنی دکھانے والا مسلمان کیا آج اپنا فریضہ سرانجام دینے کے لئے تیار ہے یا اسی ترقی کے فریب نظر کا شکار رہے گا .
آخری بات یہ ہے کہ ترقی کا نعرہ خود مغرب میں اپنی بنیادوں سے محروم ہو چکا ہے اور مادی ترقی کے سراب نے مادی لحاظ سے بھی اپنی ناکامی کو واضح کردیا ہے ۔ بحیثیت مسلم مادی ترقی سے قطع نظر ہمارا اصل مقصود تو رضائے الہی کا حصول ہے ۔ ہماری زیادہ سے زیادہ ترقی دراصل اس دور سے زیادہ سے زیادہ قریب ہونے کا نام ہے جس کے بارے میں رہتی دنیا کے ہادی اعظم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
”خیرالقرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم “
(ترجمہ ) : ”بہترین دور میر ا دور ہے ۔ پھر اس کے بعد آنے والا اور پھراس کے بعد آنے والا “۔

تہذیب اور تہذیبوں کا تصادم



نیازسواتی
niazhussain.swati@yahoo.com
”تہذیبوں کا تصادم“ کی اصطلاح نے پروفیسر سیموئیل ہن ٹنگٹن کی مشہور زمانہ کتاب The Clash of Civilizationکے ذریعے دنیا بھر کو متوجہ کر لیا مگر اہل نظر جانتے ہیں کہ ہن ٹنگٹن سے تقریبا َگیارہ برس قبل مشہور یہودی مورّخ برنارڈ لیوس اپنی کتابA Middle East Mosaic میں اسلام اور مغربی تہذیب کے درمیان ٹکراﺅ کا تجزیہ کر چکا تھا۔ برنارڈ لیوس بھی اس میدان میں پہلا مفکر نہ تھا ۔ برنارڈ لیوس سے قبل برطانوی مفکر آرنلڈ ٹائن بی کے لیکچرز پر مشتمل کتابThe World And The Westاس موضوع کا احا طہ کر چکی تھی۔ فرق صرف یہ ہے کہ برنارڈ لیوس اور ٹائن بی کی زبان علمی ہے اور سیموئیل ہن ٹنگٹن کا انداز نسبتا عام فہم ہے۔”تہذیبوں کا تصادم” وہ حقیقت ہے جس کا وجود سیموئیل ہن ٹنگٹن کی شہرہ آفاق تصنیف The Clash of Civilizationکی رونمائی سے صدےوں قبل تا امروز موجود ہے اور مستقبل میں بھی اس جنگ کے خاتمے کے امکانات ناپید ہیں۔ اس تہذیبی تصادم کے ابتدائی نشانات یورپی نو آبادیات کے قیام اور صلیبی جنگوں کی تاریخ میں موجود ہیں۔ اس سے پہلے کہ تہذیب اور اس کی بنیادوں کے متعلق ابتدائی گفتگو کا آغاز کیا جائے زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ تہذیبی تصادم کی موجود صورت حال کا اجمالی جائزہ لے لیا جا ئے ۔
اس وقت تہذیبی تصادم کی صورت محض یہ نہیں کہ مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے چند ممالک باہم بر سر پیکار ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر معاملہ یہ ہے کہ مشرق و مغرب کے ممالک اپنی جغرافیائی حدود میں تہذیبی تصادم سے دو چار ہیں۔ مسلم ممالک کے اندر مغربی و اسلامی تہذیب کے علم بردار سیکولر اور اسلامی گروہوں کی شکل میں آمنے سامنے ہیں تو یورپی ممالک اپنی آبادی میں موجو د ایسی مسلم برادی کے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں جو اپنی تہذیب و ثقافت اور اقدار پر اصرار کر رہی ہے اور یورپی تہذیب ،اس کی اقدار اور معاشرے میں مکمل ادغام سے عملاََ انکار کر رہی ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ نہ صرف عام یورپی باشندے بلکہ یورپی دانش وروں اور طبقہ اشرافیہ کی بھی ایک مخصوص تعداداسلامی تہذیب کی نہ صرف ہمنوائی کر رہے بلکہ اس نظریئے کو عملا قبول بھی کر رہی ہے۔ برطانوی خاتون صحافی ایوون رڈلی، سابق برطانوی وزیراعظم ایسکوتھ کا پوتا جوناتھن برٹ (موجودہ یحییٰ جو بی بی سی کے سابق ڈائریکٹر بھی رہے ہیں) ، مشہور برطانوی صحافی ٹونی بلیئرکی سالی Lauren Booth اور ان جیسے دیگر نو مسلم اب یورپ کے کسی ملک میں اجنبی نہیں رہے۔
یورپی ممالک کے اندر تیزی سے کم ہوتی ہوئی مقامی آبادی اور ان ممالک میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے ڈیوز بری اور بلیک برن جیسے بے شمار مسلم اکثریتی شہروں کو جنم دیا ہے جہاں مسلم ثقافت مغربی تہذیب پر غالب نظر آتی ہے۔یورپ میں پیدا ہونے والی مسلمانوں کی نئی نسل ایشیاءاور افریقہ سے آنے والے اپنے آباءکی طرح معذرت خواہانہ رویّے کی حامل نہیں بلکہ اپنی تہذیبی اقدار پر اصرار کرتے ہوئے اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتی ہے۔ فرانس میں جن دو ہزار خواتین نے پردے پر پابندی کے بعد بھی نقاب پہننے پر اصرار کیا ہے وہ مقامی فرنچ نو مسلم خواتین ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اب مغربی دنیا نے اسلامی تہذیب کو حقارت سے دیکھنے کی روش ترک کرکے ایک زندہ چیلنج کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ پردہ کرنا یا نہ کرنا اب تک کسی عورت کا ذاتی فیصلہ سمجھا جاتا تھا مگر اب اس مسئلے کو فرانس کی پارلیمنٹ طے کر رہی ہے۔ کسی عبادت گاہ کی عمارت کیسی ہونی چاہئے اور کیسی نہیں ہونی چاہئے اس طرح کے مسائل ہر جگہ ہر مذہب کے ماننے والے خود طے کر تے ہیں مگر سوئزرلینڈ کی پارلیمنٹ نے یہ مسئلہ بھی ریفرنڈم کے زریعے طے کرکے سوئزرلینڈ میں مساجد کے میناروں پر پابندی لگادی ہے۔ کسی ریاست میں کون سا قانونی اور معاشرتی ڈھانچہ بہتر رہے گا یہ سوال ہر دور میں ہر ریاست نے خود طے کیا ہے مگر آج امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں نے ان مسائل کا حل اپنے ذمے لے لیا ہے۔
دوسری طرف دنیا بھر میں اسلامی تہذیب کے علم بردار،مسلم دانش وراور خود مغربی ممالک میں موجود مقامی اور غیر مقامی مسلم اپنی تہذیب اور اس کی اقدار پر زور دے کر مغربی تہذیب کو چیلنج کر رہے ہیں۔اس صورت حال نے سوچنے سمجھنے والے افراد کے ذہنوں میں تہذیبی تصادم کے بارے میں چند بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ تہذیب کیا ہوتی ہے؟ ایک تہذیب کس طرح دوسری تہذیب سے مختلف ہوتی ہے؟ دنیا میں موجود تہذیبیں کس طرح ایک دوسرے سے معاون یا متصادم ہیں؟ کیا تہذیبی تصادم ایک وقتی صورت حال ہے؟ اس تہذیبی جنگ میں کون کس ہتھیار سے مسلح ہے؟ تہذیبوں کے تصادم کے اہم ترین کردار کون کون ہیں؟ کس تہذیب کی جیت کے امکانات ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس تہذیبی تصادم کا انجام کیا ہوگا؟آئیے سب سے پہلے اس بنیادی سوال کا جائزہ لیں کہ تہذیب ہوتی کیاہے؟
تہذیب کے ضمن میںایک غلط فہمی یہ ہے کہ کچھ لوگ تہذیب اور تہذیب کے مظاہر میں فرق نہیں سمجھتے اور تہذیبوں کے مظاہر مثلا رسم رواج ،لباس اور رہن سہن کے معاملات کے فرق کو تہذیبی اختلاف قرار دیتے ہیں ۔یہ لوگ تہذیبی اختلاف کو شلوار یا پینٹ اور میز یا دستر خوان کے اختلاف سے پہچانتے ہیں مگر یہ ایک سطحی موازنہ ہے۔ یہ سب تہذیب کے مظاہر اور تفصیلات ہیں۔ تہذیب کی بنیاد اس کے چند اساسی نظریات ہوا کرتے ہیں۔ تہذیب اپنے تصور کائنات (World View)اور تصور خالق اور تصور انسان سے پہچانی جاتی ہے۔ یہ تصورات اور ان پر مشتمل تہذیب ،ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ عقیدہ جب فکرو عمل میں ڈھلتا ہے تو چند مظاہر سامنے آتے ہیں۔ یہی مظاہر “تہذیب” کہلا تے ہیں۔ عقائد کی درستی یا خرابی کا اندازہ تہذیبی مظاہر سے ہوتا ہے۔ اس لئے تہذیب ایک اعتبار سے عقائد کا اظہارہے اور عقائد تہذیب کا باطن ہیں ۔ عقائد اور تہذیب میں بیج اور درخت کا تعلق ہے ۔ تہذیب اپنے بنیادی عقائد اور ان کے مظاہر پر مشتمل ہوتی ہے۔
خالق کائنات، کائنات ، انسان اور علم کے بارے میں مختلف نظریات و عقائد تہذیبی اختلاف کا باعث بنتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں سیکولر مغربی تہذیب، اسلامی تہذیب، ہندو تہذیب، عیسائی تہذیب، چینی تہذیب اور بدھ تہذیب سمیت کئی بڑی بڑی تہذیبیں موجود ہیں۔ اسلامی تہذیب کے علاوہ دیگر تمام تہذیبیںاپنی مخصوص ترکیب کی بنا ءپر سیکولر مغربی تہذیب سے مفاہمت اور تعاون کی راہ اپناچکی ہیں۔ عیسائیت چند صدی پیشتر ابتدائی تصادم کے بعد ہار مان چکی ہے۔ ہندو تہذیب بوجوہ ایک مکمل نظام زندگی دینے کی صلاحیت سے معذور ہے ،اس پر مستزاد یہ کہ ہندو اپنی تہذیبی اقدار پر اصرار کے بجائے مغربی اقدار کو اپنا نے میں سبقت لے جانے میں مصروف ہیں ۔ بدھ تہذیب کونظام زندگی سے کوئی سروکار نہیں ۔ البتہ چینی تہذیب میں موجود تاﺅ ازم اور کنفیوشس ازم کی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ ان تہذیبوں کے بنیاد پر آئندہ چین اور مغرب میں ٹکراﺅ ہوگا ۔ مگر یہ ممکنہ ٹکراﺅ محض مادی مفادات کی جنگ ہوگا جس کا تہذیبی اختلاف سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ خود تاﺅ ازم اور کنفیوشس ازم چند اخلاقی تعلیمات کا مجموعہ ہیں۔ اس وقت ہم جس تہذیبی تصادم کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ صرف مغربی سیکولر تہذیب اور اسلامی تہذیب کے درمیان ہے۔ مگر ایسا کیوں ہے؟ سیکولر جدید مغربی تہذیب اور اسلامی تہذیب میں مفاہمت کیوں ممکن نہیں؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔
مغربی تہذیب کے ساتھ جن قوموں کا تصادم ہوا ان میں سے تو بعض وہ تھیں جن کا کوئی مستقل تہذیب نہ تھی اور اگر تھی تو اس قدر مضبوط نہ تھی کہ کسی دوسری تہذیب کے مقابلے میں ٹھہر سکتی۔ بعض تہذیبیں مغربی تہذیب سے ہم آہنگ تھیں۔ اس صورت حال میں زیادہ تر قومیں بہت آسانی سے مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگ گئیں۔ لیکن اس ضمن میں اسلامی تہذیب کا معاملہ بالکل مختلف رہا۔ دنیا کی ہر تہذیب چار بنیادی اصولوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔ مغربی تہذیب کے یہ چار بنیادی اصول مکمل طور پر اسلامی تہذیب کے مخالف واقع ہوئے ہیں ۔اس اختلاف کی وجہ سے دنیا میں اصل تہذیبی تصادم اسلامی تہذیب اور مغرب کی جدید سیکولر تہذیب کے درمیان برپا ہوا۔
دنیا کی ہر تہذیب کائنات کی تخلیق کے متعلق اپنا ایک نظریہ رکھتی ہے۔ یہ نظریہ تہذیب کی دیگر تمام تفصیلات کے طے کر دیتا ہے۔ اسی لئے دنیا کی ہر تہذیب اپنا ایک بنیادی تصوریعنی”تصور الٰہ”رکھتی ہے ۔ عیسائیت میں تین خداﺅں کا ذکر ہے تو اسلام میں واحد الٰہ کا۔ جو لوگ کسی خدا کو نہیں مانتے وہ بھی ما د ّے (Matter) انسان(Human)، فطرت(Nature)یا سرمائے (Capital) کی خدائی کے قائل ضرور ہیں۔ مختصر یہ کہ دنیا کی کوئی تہذیب تصور خدا سے خالی نہیں ۔ یہ تہذیب کا پہلا اصول ہے۔ کسی بھی تہذیب کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ کائنات کیا ہے ، انسان کی یہاں کیا حیثیت ہے جس کے لحاظ سے اس کے کردار کا تعین کیا جائے ۔انسان اس کائنات میں خدا ہے یا خدا کا بندہ ہے ،اس اصول کو خالصتاََ علمی زبان میں الٰہیات (Ontology) کا اصول کہا جاتا ہے اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب میں بھی بنیادی فرق اسی”تصور الٰہ”ہی کا ہے۔ اسلامی تہذیب میں ایک واحد الٰہ در اصل اللہ ہی کی ذات ہے جو کہ کائنات کی تخلیق کرنے والا اور اسے چلانے والا ہے۔ مغربی تہذیب کے تصور کے مطابق یہ کائنات خود بخود بغیر کسی خالق کے وجود میں آئی ہے اور کائنات نے بتدریج اور خودکار عمل کے ذریعے اپنی پیدائش اور موجودہ شکل اختیار کی ہے۔مغربی تہذیب کے مطابق انسان خود ہی پوری کائنات کا مقصود اور محور ہے جو کسی بالاتر ہستی کا پابند نہیں ہے۔
تہذیبوں کی شناخت کا دوسرا اصول یہ ہے کہ دنیا کی ہر تہذیب یقینی اور حتمی علم کا کوئی نہ کوئی شعور ضرور رکھتی ہے۔ یہ شعور بتاتا ہے کہ یقینی علم علم کہاں سے حاصل ہوتا ہے۔ اسلامی تہذیب کا ماننا ہے کہ یقینی اور حتمی علم صرف وحی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، بقیہ ذرائع سے حاصل ہونے والا علم”وحی”کی میزان پر پرکھا جائے گا۔ جدید مغربی تہذیب کا نظریہ علم یہ ہے کہ علم حتمی اور یقینی ذریعہ صرف”سائنس “ہے اور سائنس ہی ہر علم کی قدر و قیمت کا تعین کرے گا۔ علمی زبان میں اس اصول کو ذریعہ علم یاEpstimologyکہا جاتا ہے۔
تہذیب کے ضمن میں تیسرا اہم سوال یہ ہے کہ زندگی اور کائنات کیسے وجود میں آئی؟ یہEfficient Causeکا اصول کہلاتا ہے۔ یہاں اسلامی تہذیب بتاتی ہے کہ کائنات اور اس میں موجود زندگی کے وجود میں آنے کی واحد وجہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہے۔ خالق کائنات نے “کُن” کہا اور کائنات اور اس میں موجود زندگی جلوہ گر ہو گئے۔ آدم علیہ اسلام پہلے دن بھی آدم ہی تھے اور آج بھی انسان اپنی ابتدائی شکل کے مطابق آدم ہی ہے۔ اس کے مقابلے میں جدید تہذیب کا اعلان ہے کہ انسان ڈارون کی تھیوری کے مطابق ایک کیڑے سے ارتقائی مراحل طے کرتا ہوا آدمی بن گیا ہے۔
دنیا کی ہر تہذیب نے انسانی تگ و دو کے نصب العین کاتعین ضرور کیاہے۔ انسان کے سامنے یہ سوال ہمیشہ اہم رہا ہے کہ اس کی ساری تگ و دو کا حاصل کیا ہے۔ وہ کو ن سا مقصد ہے جس کے لئے انسان اپنی تمام صلاحیتیں اور وقت صرف کردے۔ اسے حتمی سبب یاFinal Causeکا اصول کہا جاتا ہے۔اسلامی تہذیب اللہ کی رضااور آخرت میں نجات کو انسانی کاوشوں کا محور قرار دیتی ہے۔جدید تہذیب کے مطابق انسانی کاوشوں کا واحد مقصود مادی ترقی Progress ہے۔
جس طرح انسان اپنی خوبیوں پر اصرار کرتے ہیں اسی طرح ہر تہذیب نہ صرف خیر و شر کا اپنا نظام رکھتی ہے بلکہ اس پر اصرار بھی کرتی ہے۔ مختلف تہذیبوں کا اپنی اقدار پر یہ اصرار کسی نہ کسی مرحلے میں تہذیبی تصادم کو جنم دیتا ہے۔فرانس میں مسلم خواتین کو زبردستی پردہ کرنے سے روکا جارہاہے،اسکولوں میں طالبات کو اسکارف پہننے سے منع کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف مسلم خواتین پردہ کرنے کے حق سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ چھوٹا سا معا ملہ اس تہذیبی تصادم کاصرف ایک پہلو ہے۔ صاف نظر آرہا ہے کہ اسلامی اور مغربی دونوں تہذیبیں اپنے تصورکائنات اوراقدارترک کرنے پر تیار نہیں ۔ اپنی اپنی اقدار پر یہ اصرار تہذیبوں کے تصادم کو جنم دے رہا ہے۔

حیرت انگیز امریکی ”آمش قوم“



نیازسواتی
niazhussain.swati@yahoo.com
حیرت انگیز امریکی ”آمش قوم“
ایک ایسے وقت میں جب دنیا کے کئے ممالک میں بجلی کابحران عوام کو سڑکوں پر لے آیا ہے، ہر قسم کی ٹیکنالوجی اور بجلی سے بے نیاز ایک امریکی گروہ کا وجود ناقابل یقین معلوم ہوتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے ۔ اس امریکی فرقہ کے پیرو کاربڑی تعداد میں پنسلوانیا کی ریاست میں رہائش پذیر ہیں ۔ آمش کے نام سے مشہور اس فرقے کے عقائد اور طرز زندگی اپنے اندر حیرت کے نت نئے باب رکھتی ہے۔ 1972میں آمش قوم کا معا ملہ اس وقت سامنے آیا جب اس قوم نے اپنے نوجوانوں لڑکوں اور لڑکیوں کو آٹھویںجماعت کے بعد اسکول جانے سے روک دیا۔ یہ لازمی تعلیم کے امریکی قانون کی خلاف ورزی تھی۔پنسلوانیا ریاست کی اعلی ٰ ترین عدالت نے آمش قوم کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے آمش طلبہ و طالبات کے والدین کو 5ڈالر فی کس جرمانے کی سزا دی ۔ آمش قوم کے بزرگوں نے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ۔سپریم کورٹ نے مقدمے کی تفصیلی سماعت کے بعد آمش قوم کو درست قرار دیا۔
اس عدالتی فیصلے کے اہم نکات آمش لوگوں کے طرز زندگی اور ان کے عقائد کی بہتر ین تفسیرہیں۔ اس فیصلے میں کہا گیا کہ
٭ آمش لوگ امریکہ میں مقیم سوئزر لینڈ سے تعلق رکھنے والا وہ عیسائی فرقہ ہے جو عیسیٰ ؑ کے دور کی سادہ اور فطر ت سے قریب طرز زندگی کونہ صرف مثالی قرار دیتا ہے بلکہ اس طرز زندگی کو عملی طور اپناتے ہوئے بھی ہے۔عیسائیت پر پختہ یقین، فطر ی اور سادہ زندگی، زراعت،ڈیری فارمنگ اور اس سے متعلقہ کاروبار پر انحصار ان کی زندگی کا بنیادی نقطہ ہے۔
٭ اسکول کی تعلیم سائنسی کامیابیوں، ذاتی خواہشات کی تسکین ، مقابلے کی فضاءاور دیگر طلبہ و طالبات کے ساتھ میل جول پر مشتمل ہے ۔ اس کے مقابلے میں آمش برادری غیر رسمی اور عملی تعلیم کے ذریعے چالاکی کے بجائے اچھائی، تکنیکی علوم کے بجائے دانش،ذاتی ترقی کے بجائے برادری کی ترقی اور دنیا سے جڑنے کے بجائے دنیا سے بے رغبتی کی روش پر عمل پیرا ہے۔
٭ ایک مرتبہ جب آمش بچے بنیادی تعلیم کی اہم مہارتیں یعنی مطالعہ، لکھنا اور بنیادی حساب سیکھ لیتے ہیں تو آمش برادری اپنے بچوں کو یہ سب مہارتیں عملی زندگی میں آزمانے کا موقع دیتی ہے۔ اسی دوران آمش بچے اپنے برادری اور عقیدے سے گہری وابستگی اختیار کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ رضاکارانہ بنیادوں پر ہوتا ہے۔ اگر عمر کے اس حصے میں آمش نوجوان اپنی برادری کا طرز زندگی ترک کرنا چاہیں تو وہ ایسا بھی کرسکتے ہیں مگر نوے90فیصد سے زیادہ آمش نوجوان لڑکیا ں اور لڑکے اپنے آمش طر ز زندگی کو ہی اختیار کرتے ہیں۔
٭ امریکی عدالت نے قراردیا کہ اسکول کی تعلیم کے دوران غیر آمش اساتذہ اور جدید طرز تعلیم، آمش طلبہ اور ان کی برادری کے درمیان ایک رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
آمش امور کے ماہرجون ہوسٹ ٹیٹلرJohn Hostetlerنے عدالت کو بتایا کہ امریکی اسکول نصاب، ماحول اور اپنے طریقہ کار کے لحاظ سے آمش تعلیمات سے متضاد ہیں۔ ان اسکولوں میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں مقابلے کی فضاءاور طلبہ و طالبات کا اکٹھا رہنا آمش تعلیمات کے خلاف ہے ۔ آمش قوم کے افراد دنیاوی معاملات میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے بجائے ایک دوسرے کی مدد پر یقین رکھتے ہیں۔ آمش ابتدائی تعلیم پر اس لئے اعتراض نہیں کرتے کہ اس طرح بچے بائبل کی تعلیمات، زراعت اور کاروبار کے بارے آسانی سے جاننے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ اس ابتدائی تعلیم کے ذریعے وہ ایک اچھے پر امن شہری بننے کے علاوہ غیر آمش لوگوں سے برتاﺅکرنا بھی سیکھتے ہیں۔ یہ ابتدائی تعلیم انہیں دنیاوی مستقبل(Career) کے سہانے خوابوں سے وابستہ نہیں کرتی۔ اس ابتدائی تعلیم کے بعد آمش طرز زندگی قبول کرنے والے نوجوان لڑکیاں اور لڑکے اپنے مذہبی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آمش قوم کا خیال ہے کہ اعلیٰ تعلیم ،بلند معیار زندگی اورحرص و ہوس کی عمومی فضاءکو جنم دیتی ہے جو برادرانہ اخوت اور بھائی چارے کے خلاف ہے۔
عام عیسائی فرقوں کے برعکس آمش فرقے کے لوگ اپنے بچوں کو پیدائش کے وقت بپتسمہ دینے کے بجائے سولہ سال کی عمر میں بپتسمہ دیتے ہیں۔ اس رسم کی وجہ سے بھی آمش دیگر عیسائی فرقوں سے منفرد ہیں ۔بپتسمہ دینے کے مختلف طریقے اور دیگر چند اختلافات کے سبب یورپ میں یہ عیسائی فرقہ دیگر فرقوں کے عتاب کا شکار رہا۔ یہ لوگ یورپ کے ایک شہر سے دوسرے شہر دربدر پھرتے رہے مگر انجیل سے مضبوط تعلق اور عیسیٰ ؑ اور ان کے دور سے شدید محبت کی زنجیر نے انہیں باہم متحد رکھا۔
اٹھارہویں صدی کے دوران ولیم پین William Penn کی دعوت پر بےش تر آمش سوئزر لینڈ سے امریکی ریاست پنسلوانیامنتقل ہوگئے جہاں انہیں اپنے عقیدے اور طرز زندگی کو بروئے کار لانے کی مکمل آزادی نصیب ہوئی۔
آمش قوم اطاعت، عاجزی اور سادہ طرز زندگی کوا پنے مذہبی شعار میں شامل سمجھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عقیدہ آپ کی عملی زندگی میں نظر آنا چاہے نہ محض پروپیگنڈہ میں۔ آمش اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عقیدے کا اظہار نہ صرف عبادات بلکہ روزمرّہ کی زندگی میں ہوتا ہے۔
یہ لوگ محض جدید دنیا کے دباﺅ پر اپنا طرز زندگی بدلنے کو تیار نہیں۔امریکی سپریم کورٹ کی طرح دیگر ریاستی ادارے بھی یہ بات ماننے پر مجبور ہوگئے کہ آمش طرز زندگی کے تمام پہلو نہ صرف باہم ایک دوسرے سے منسلک ہیں بلکہ یہ سب مرکزی طور پر اپنے اس عقیدے سے منسلک ہیں کہ پیغمبر ؑ کا طرز زندگی بعد میں آنے والے کسی بھی طرز زندگی سے بہتر ہے اور ہر زمانے میںقابل عمل بھی ہے۔آمش قوم گھوڑوں اور بگھیوں کے ذریعے سفر کرتی ہے اور جدید گاڑیوں سے مکمل پرہیزکرتی ہے اگرچہ پنسلوانیا کے آمش علاقوں میں جدید گاڑیوں کے داخلے کی ممانعت کوئی باقاعدہ قانون موجود نہیں مگر مقامی پولیس افسران گھوڑوں اور بگھیوں کے علاوہ دیگر گاڑیوں کو ان علاقوں میں داخل نہیںہونے دیتے۔
آمش قوم انہی خصوصیات سے مالا مال ہے جو ماضی میں ہر مذہبی اور فطری معاشرہ کا حصہ رہی ہےں۔ سخت محنت، سادگی، بڑے خاندان، مضبوط خاندانی اکائی، ہمہ وقت گھر میں موجود رہے والی مائیں، بزرگوں کااحترام ،زراعت پر انحصار، پڑوسیوں سے گہرے خوش گوارتعلقات اورعمر بھر کامیاب ازدواجی زندگی وغیرہ ۔دور جدید کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس نے ان میں سے بیش تر اقدار کا خاتمہ کردیا ہے۔
سادہ طرز زندگی گزارنے کی روش آمش قوم کی ترجیحات سے منسلک ہے۔ ان کی ترجیحات میں مضبوط خاندانی نظام زبردست اہمیت رکھتا ہے۔ ہر فطری معاشرے کی طرح آمش معاشرہ بڑی خاندانی اکائی کا حامل ہے۔ آمش خاندان میں آنے والا ہر بچہ مبارک سمجھا جاتا ہے ۔دوسری طرف کوئی آمش بچہ( دیگر امریکی بچوں کی طرح) اس خوف کا شکار نہیں ہوتا کہ کہیں اس کے ماں باپ کی راہیں جدا نہ ہوجائیں اور نہ ہی کوئی آمش بچہ تربیت کے لیے ڈے کئیر سینٹریا نوکرانیوں کے سپرد کیا جاتا ہے۔ روایتی معاشروں کے طرح یہاں بھی گھر کا انتظام اور بچوں کی تربیت کا بڑا حصہ ماﺅں کے سپرد ہے ۔ اور باپ کماکر لانے کا ذمہ دارہے۔ یہاں مرد اور خواتین کی زندگی ایک دوسرے پر منحصر اور وابستہ ہے۔ آمش خاندان کی زرعی اراضی اور مویشیوں کی دیکھ بھال کے لئے مردوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ مشینری ،بجلی اورٹیکنالوجی کے بغیر زراعت اور ڈیر فارمنگ کی جاتی ہے۔اسی طرح آمش مرد سخت محنت اور مصروفیات کی بناءپر اپنے گھر کی ذ مہ داری کے لئے ہمہ وقت گھر میں موجود رہنے والی بیوی چاہتے ہیں تاکہ گھر داری اور بچوں کی تربیت کی طرف سے مطمئن رہ سکیں۔ آمش مرد اور عورت کی یہ مجبوری بھی انہیں ایک دوسرے سے مضبوط بندھن میں باندھ کر رکھتی ہے جبکہ بڑا خاندان اور مذہبی تعلیمات اس پر مستزاد ہیں۔ ایسا نہیں کہ آمش میاں بیوی ازواجی جھگڑوں اور اختلافات سے ناآشنا ہیں بلکہ جدید طرز زندگی کی خاندان شکن وجوہات سے دور رہنے کے سبب ان کی زندگی میں عورت اور مرد تنازعات کو خاندان کے اندر حل کرنے کا رحجان رکھتے ہیں۔
آمش خاندان جدید ٹیکنالوجی سے گریز کی وجہ سے زراعت، ڈیری فارمنگ اور ان سے وابستہ دیگر پیشوں سے منسلک ہیں۔ آمش خاندان کا ہرفرد زندگی کی جدوجہد کا شریک ہے۔ آمش گھر کے لڑکے باپ کے کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ لڑکیاں امور خانہ داری میں ماں کی مدد کرتی ہیں یہ ہمہ وقتی مشغولیت آمش معاشرے کو ذہنی امراض، جرائم اور خود کشی جیسے ان نتائج سے محفوظ رکھتی ہے جو امریکہ ، یورپ اور چین میں گھمبیر شکل اختیار کر چکے ہیں۔
امریکہ کے بیچوں بیچ آباد اس قوم کی ایک خصوصیت پیدائش سے موت تک کا اجتماعی تحفظ ہے ۔ آمش قوم کا ہر فرد اپنے آپ کو محفوظ خیال کرتا ہے ۔ اس کے باوجود کے آمش قوم ہر قسم کی سرکاری سر پرستی، تحفظ یا فلاح و بہبود اور انشورنس کو رد کرتی ہے۔ مگر ان سب باتوں کے باوجود آمش لوگوں کی املاک، جان و مال اور صحت دیگر امریکی شہریوں سے بدر جہا بہتر اور محفوظ ہیں۔ آمش قوم کا موقف یہ ہے کہ ضرورت مند افراد کو ضروریات زندگی کی فراہمی، شہریوں کا تحفظ اور فلاح و بہبود کا کام نہ تو دفتری مزاج رکھنے والے حکومتی اداروں کے سپرد کیا جاسکتا ہے اورنہ کاروباری اداروں کے بلکہ ہر فرد کو پر امن، ذمہ دار اور معاون شخصیت میں ڈھال کر معاشرتی تحفظ اور فرد کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اپنے اس موقف کو آمش قوم نے اپنے پر امن، ذمہ دار اور ایک دوسرے کے مددکار شہریوں پر مشتمل معاشرے کی تشکیل دے کر ثابت کر دیا ہے ، البتہ ایک ادارہ ایسا ہے جو آمش شہریوں کے فلاح ہ بہبود کا کام کر سکتا ہے۔ اور وہ ہے ان کا اپنا چرچ۔ آمش قوم کو انشورنس کی ضرورت اس لیے بھی ضرورت نہیں پڑتی کہ کسی بھی نقصان کی صورت میں آمش شہری کا وسیع خاندان اور چرچ اس کی مدد اس کی مدد کے لیے موجود ہے۔ آمش قوم کی خاندانی اقدار اس قدر مظبوط ہیں کہ ان کے ہاں بزرگ شہریوں کے لئے (دنیا بھر میں مروجہ) اولڈ پیپلز ہومز کی ضرورت نہیں پڑتی کیونکہ خاندان کے تمام افراد بزرگوں کی خدمت کرتے اور در حقیقت انہیں احساس دلاتے ہیں کہ خاندا ن کو ان کی ضرورت ہے۔ جس طرح آمش خاندان میں آنے والا ہر بچہ مطلوب اور محبوب ہوتا ہے۔ اسی طرح آمش قوم کی تمام برادریوں میں بزرگوں کا احترام اور گھر میں ان کی نمایاں شخصیت ایک مشترکہ خصوصیت ہے۔
چرچ وہ سب سے اہم ادارہ ہے جس میں آمش قوم کو اپنی روایات، قومی خصوصیات اور سادہ طرز زندگی سے جوڑ رکھا ہے۔ اگر آمش قوم کا چرچ اس قدر فعال اور محترم نہ ہوتا تو ایک آمش فرد کے لئے اپنی تہذیب، تاریخ اور روایات سے منسلک رہنا اتنا آسان نہ ہوتا۔ آج آمش قوم اپنی منفرد خصوصیات اور انوکھے طرز زندگی کے سبب امریکہ میں اجنبی ہے ۔ امریکہ میں آمش قوم کے افراد ہراساں کرنے ،قتل کرنے اور ان کی بگھیوں پر پتھراﺅ جیسے واقعات ہوتے رہتے ہیں مگر ان سب کے باوجود آمش قوم اپنے عقیدے ،طرز زندگی اورتہذیب کو اپنائے ہوئے ہے۔